مومو کی کہانی

اداکارہ حنا دلپذیر کے مطابق ”میری اکثر فرینڈز مشورہ دیتی ہیں کہ اپنا سٹائل بدلو اور گلیمرس نظر آؤ میں کہتی ہوں ، لوگ میری آنکھوں کی سچائی دیکھتے ہیں ،،،،،، ان کی نظر میرے باتھ روم سلیپر پر نہیں جاتی “

بدھ 23 اگست 2017

زارا مصطفی:
لوگ کہتیں ہیں وہ آئیں اور چھاگئیں ،مومو کے کردار سے شہرت پانے والے حنا دلپذیر کا صرف نام ہی دلپذیر نہیں بلکہ ان کا ہر دلپذیر ہے ،حنا کی دلپذیرائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے کردار س ے پہچانی جاتی ہیں ۔ وہ محض ایک اداکارہ ہی نہیں بلکہ ایک بہترین لکھاری بھی افسانہ نگار ہدایتکارہ شاعرہ اور گلوکارہ بھی ہیں حنا اس وقت متحد عرب امارات میں مقیم تھیں ۔

جب انہوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے اور افسانے لکھنا شروع کیے زندگی کے کچھ تلخ تجربات کے بعد انہوں نے ٹی وی کے لیے بھی ڈرامہ نگاری کا آغاز کردیا اس دوران انہیں ٹی وی پر ایک معمولی کردارد ادا کرنے کا موقع ملا جسے حنا نے کمال مہارت سے ادا کرکے بڑے بڑے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کی توجہ حاص ل کرلیں اور 2006 میں ہنس روڈ کی نیلوفر سے نہ صرف باقاعدہ اداکاری کا آغاز کیا بلکہ کارا فلم فیسٹیول میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرلیا ۔

(جاری ہے)

حنا اب تک بلبلے قدوسی صاحب کی بیوہ یہ زندگی رونق جہاں کا نفسیاتی گھرانہ تم ہو کہ چپ عینی کی آئے گی بارات گو گلی محلہ جہیز ،محبت جائے بھاڑ میں ،فن خانہ، میٹھو اور آپا ، خاتون منزل ، اس خاموشی کا مطلب ، ہم سب عجیب سے ہیں ، لیڈیز پارک ، رنگ ، جب تک عشق نہیں ہوتا ، جیسے ان گنت ڈراموں میں درجنوں کردار وں سے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو منواچکی ہیں ، آج کل حنا ایک فلم کی تیاری میں مصروف ہے ۔


سوال:اگر حنا کو اپنے بارے میں ایک جملہ کہنے کا موقع مل ے تو وہ کیا کہہ گی؟
حنا دلپذیر خان: آپ کا سوال ایسا ہی ہے جیسے صفر پورا نہ ہوا ہوں اور کسی مسافر سے کہا جائے بتاؤ منزل کیسی ہے ؟اب جس نے منزل کو دیکھا ہی نہیں وہ کیا بتائے کے منزل کیسی ہے ؟ ہاں وہاں اپنے صفر کے بارئے میں ضرور بتا سکتا ہے ،،،، اور میرا صفر بہت مزے جا ہے اس میں دشواریاں بھی ہے لیکن جوں جوں گرہیں کھلتی جاتی ہیں توں توں احساس ہوتا ہے جسے حاصل سمجھ لیا تھا وہ تو بہت بے کار چیز ہے میر خیال ہے سفر ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا اللہ کے چند خاص لوگ ہوتے ہیں جن کے حصے میں سفر آتا ہے۔


سوال: مزے مزے کے دلچسپ کردار ادا کرنے والی حنا بچپن میں بھی ضرور شرارتی ہوگی؟
حنادلپذیر:(قہقہ لگاتے ہوئے)کوئی خاص شرارت تو یاد نہیں ۔ ہاں البتہ چھ بھائیوں اور بہنوں کی میں لیڈر ہوا کرتی تھی ۔ مجھ سے بڑی بہن تھی لیکج جہاں جانا ہوتا تھا کہہ دیا جاتا تھا حنا کو لے جائیں اس لیے ہر کام میں پیش پیش ہوتی تھی ۔

ہمارا گھرانہ خاصہ ادبی سا تھا گھر کہ ہر فرد کی الگ لائبریری تھی سب اپنی مرضی کی کتابیں پڑھتے مجھے بھی لکھنے پڑھنے سے زیادہ شعفت تھا ۔ چونکہ میرا والد پی آئی اے میں تھے اس لیے کافی گومتے پھرتے بچپن گزرا اس وقت ہم متحدعرب امارات میں رہتے تھے جب میں ریڈیو کے لیے ڈرامے اور افسانے لکھا کرتی تھی۔
سوال:آپ کی اداکاری کے اندر اور تعلیمی ڈگریوں میں کھلے تضاد کے پیچھے کیا راز ہے؟
حنادلپذیر:(ہنستے ہوئے)راز تو کوئی نہیں ہے بات صرف یہ ہے کہ میں شروع سے ہی خاصی متجسس طبعیت کی مالک ہوں ،میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ یہ بارش کیوں ہوتی ہیں بجلی کیسے کڑکتی ہے ؟ اس لیے میں نے کواٹم فزکس میں تعلیم حاصل کی۔

رہی بات میرے کرداروں کی تو سچ پوچھیں مجھے رونے دھونے والے کردار بالکل اچھے نہیں لگتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے کامیڈی کا انتخاب نہیں کیا بلکہ میرے لیے اپنے آپ ہی راستے بنتے گے۔
سوال :آپ اپنے کردار سے کتنی مختلف ہے۔حنادلپذیر(مسکراتے ہوئے)بہت مختلف ہوں ۔میرا کوئی بھی کردار ایسا نہیں جو میری شخصیت کے قریب تر ہوں ۔

میرا ہر کردار مجھ سے بہت مختلف ہے۔
سوال: لیکن کوئی ایسا کردار تو ہوگا جو آپ کے دل کے سب سے قریب تر ہوں ؟
حنادلپذیر: مجھے اپنے ہر کردار سے محبت ہے کیونکہ اگر اپنے کرداروں سے مجھے محبت نہیں ہوگی تو لوگ ان سے کیسے محبت کریں گے؟اور میں بعض اوقات لرز کر رہ جاتی ہوں کہ لوگ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں ۔


سوال:”مومو“کے کردار نے ”بلبلے“کو کامیابی دلائی باقی کاسٹ نے کبھی آپ سے حسد محسوس کیا؟
حنادلپذیر: میرے خیال ہے”بلبلے “کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم چاروں میں سے کوئی ا یک بھی ایسا نہیں جو دوسروں کے بارے میں کوئی منفی جذبہ رکھتا ہو۔
سوال:بہت کم عمری میں آپ کی شادی اور طلاق ہوگئی پہاڑ جیسی زندگی اور ایک بیٹے کی ذمہ داریاں مشکلات تو آئی ہوں گی؟
حنادلپذیر: مشکلات تو بہت تھیں مگر کبھی کسی مشکل کو پہاڑ نہیں سمجھا میرا ایمان تھا ہر ایک چیز کے ہونے کا ایک مقصد ضرور ہوتا ہے جو اس وقت سمجھ نہیں آ تا ، کچھ دیر بعد سمجھ آتا ہے۔

لوگ نصیب کو کوستے رہتے ہیں اللہ سے شکوہ شکوے شکاییتیں کرتے ہیں اور امتحان آتے رہتے ہیں میں سمجھتی ہوں آپ جونہی اللہ کے سامنے پسپائی اختیار کر لیتے یعنی اس کی رضا میں سر جھکا ہیں تو امتحان بھی ختم ہو جاتے ہیں ۔میں جانتی ہوں یہ آسان نہیں ہوتا بہت مشکل ہوتا ہیں ۔لیکن یہ بھی سچ ہے ۔ ہر مسلہ کا حل ہوتا ہے میرے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں حالات کے سامنے ڈٹ جاتی اور مقابلہ کرتی ۔

جب طلاق ہوئی تو میری تعلیم معض انٹر تھی مجھے کہی نوکری نہیں ملتی تھی ایک مرتبہ میں نے ریڈیو کے لیے ڈرامہ لکھا تھا اسی کہانی کا سکرپٹ ٹی وی کے لیے لکھ کر ٹی سٹیشن گی تو اسی تو میری زندگی کے دوسرے دور کا آغاز ہوا ایک مختصر سین کے بعد مجھے ڈائریکٹر نے ہنس روڈ کی نیلوفر کے لئے کاسٹ کرلیا پھر میں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھی۔


سوال:سنا ہے شوبز میں آنے کے پر خاندان کی طرف سے مخالفت پر آپ کے والد نے سپورٹ کیا؟
حنادلپذیر:مہرے اس سفر میں ابا کا کردار نہایت اہم رہا ہے، اگر اس وقت وہ مجھت سپورٹ نہ کرتے تو آج میں” مومو ‘ ‘ یا ”شگورن“بھی نہ ہوتی۔ (مسکراتے ہوئے )انہوں نے سب سے کہا کہ اسے کرنے دیں جو کرنا چاہتی ہے کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا ان کا خیال تھا کہ ٹی وی پر اداکاری کرنے کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ میں مشہور ہوجاؤں گی ،،، یوں ابا مان گے تو پھر اماں کو بھی ماننا پڑا ۔


سوال:آپ کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اکثر بشری انصاری سے موازنہ کیا جاتا ہے,آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے؟
حنادلپذیر:یہ لوگوں کی محبت ہے جو ایسا کہتے ہیں یہ میرے لیے تو باعث اعزاز ہے مگر بشری آپا کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ میرے ذاتی خیال سے بشری آپا نے پی ٹی وی کے زمانے سے لے کر اب تک بہت کام کیا ہے اور اس مشکل دور میں کام کیا جب عورت ہمت نہیں کرتی تھیں۔


ایسے میں میرے کام کی عمر تو محض دس برس ہے ۔لوگوں نے بشری آپا کا صرف کام دیکھا ہے لوگوں کو ان کے دل کا نہیں پتا جو بہت بڑا ہے وہ بہت بڑی انسان ہے میرا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ۔
سوال:آپ کو کامیڈی میں اس قدر شہرت ملی کسی نامور کامیڈین سے متاثر توں ہوگی ؟
حنادلپذیر:مجھے ہنسنا ہنسانا اچھا لگتا ہے لیکن مجھے ہنسانا قطعاََ آسان نہیں ہے ۔

مجھے شروع سے بشری آپا اور معین اختر بہت پسند تھے اور آج بھی ہیں ۔معین اختر میں یہ خوبی تھی کہ وہ لائیوہوں یا کسی ریکارڈ کیے گے پروگرام میں ،،،،، ان کی ہر پرفارمنس ہی لاجوواب تھی،،،،
سوال : سنا ہے آپ نے ڈائریکشن کا آغاز بھی کردیا ہے ، آگے کیا ارادہ ہیں؟
حنادلپذیر: میں نے چند ماہ قبل گدگدی کے نام سے ایک سسٹ کام ڈائریکٹ کیا تھا جس کے بعد اب ایک سیریل ڈائریکٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔

آج کل فلم کی ڈبنگ میں مصروف ہوں یہاں سے فرصت ملتی ہے تو پھر منصوبہ بندی کروں گی۔
سوال: بطور آرٹسٹ آپ آج کل بننے والے ڈرامے اور فلموں سے مطمن ہیں ؟
حنادلپذیر:میرا خیال ہے میڈیا میں بڑی طاقت ہیں فلم اور ڈرامہ ایسے میڈیم ہے جو لوگوں سوچ بدل سکتے ہیں لیکن اس کے لیے چینل کے مالکان کو باشعور ہونا چاہیے ۔

انہیں یہ احساس ہونا ضروری ہیں کہ وہ معاشرے کو کیا دے رہے ہیں ؟ کیونکہ اب ہم یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکتے کہ لوگ جو دیکھنا چاہتے ہے ہم وہی دکھاتے ہیں ،،،، ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو ہم ایسے چوری کرنے کی نی نی جہیتیں نہیں بتا سکتے ہمیں اصطلاحی پہلوں کو پر اثر اور پر کشش بنانا ہوگا تاکہ لوگ انہیں دیکھکے اور اپنائیں۔


سوال :کبھی اپنا ڈرامہ دیکھ کر یہ سوچا ہے کہ فلاں کردار یوں نہیں یوں کرلیتی تو زیادہ بہتر ہوتا؟
حنادلپذیر:سچ پوچھے تو میں اپنے ڈرامے نہیں دیکھتی ۔ہاں اگر کوئی تعریف کردئے تو تجسس میں د یکھ لیتی ہوں کہ میں نے ایسا کیا کیا تھا جسے لوگوں نے اتنا پسند کیا لیکن ایسا کبھی کبھا ر ہی ہوتا ہے۔
سوال:آپ کی کچھ کرداروں کے حوالے سے کہا جاتا ہے آپ کے ڈائیلاگ بولڈ ہوتے ہیں اس پر کیا رد عمل ہوتا ہے؟
حنادلپذیر:میرا خیال ہے اس حوالے سے میں خود بہت محتاط ہوتی ہوں ۔

قدوسی صاحب کی بیوہ میں ایک ہیجڑے کا کردار ہے جو بہت خوبصورتی سے لکھا گیا لیکن جہاں تک بولڈنس کا تعلق ہے اگر مجھے لگے کوئی ایسی چیزہے جس پر بات نہیں ہونی چاہیے تو میں فوراََ منع کردیتی ہوں بلکہ سکرپٹ ہی بدلواہ دیتی ہوں میں سمجھتی ہوں زندگی گزارنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں میرے نزدیک بھی ہر بات کہنے کی اجازت ہے بس کہنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔


سوال : سنا ہے آپ ہر کردار کا گیٹ اپ خود منتخب کرتی ہوں ؟
حنادلپذیر:جی بالکل میں خود سکریچ کرتی ہوں پہلے کردار کے بارے میں خود سوچتی ہوں کہ وہ سکرین پر کیسا نظر آئے گا اس کے مطابق ہی گیٹ اپ کرتی ہوں مجھے لگتا ہے میں کسی اور کو نہیں سمجھا سکتی مجھے کیا چاہیے اس لیے میں خود ڈائریکٹر کے ساتھ ڈسکس کرکے اپنا گیٹ رائنل کرتی ہوں اور لوگ ایسے پسند بھی کرلیتے ہیں ۔


سوال:دوبارہ شادی کا خیال نہیں آیا؟
حنادلپذیر:میں سوچتی تھی میرے کسی فیصلے سے میرے بیٹے کی زندگی متاثر نہ ہوں اور میری دوسری شادی یقناََ میرے بیٹے کی زندگی الٹ پلٹ دیتی ،، اس لئے کچھ لوگوں نے شادی کے لیے پروپوز کیا مگر میں اپنے بیٹے کو متاثر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ سب سے اہم بات خوش اور مطمن رہنا ہے اور میں پرسکون زندگی گزار رہی ہوں ۔


سوال :بیٹے کے حوالے سے کیا خواب دیکھتی ہیں ؟
میں اپنے بیٹے کو خوش اور مطمن دیکھنا چاہتی تھی جو وہ ہیں ،،ماشاء اللہ سے مصطفی 23 برس کے ہوگئے ہے،مجھے یہ سوچ کر بہت سکون ملتا ہے کہ مجھے ان کی تربیت کرتے ہوئے کسی بات کے لئے زور زبردستی نہیں کرنا پڑی۔
سوال : زندگی کا کوئی ایک ایسا لمحہ جس میں بہت شرمندگی اٹھانا پری ہو؟
حنادلپذیر:(قہقہ لگاتے ہوئے) ایسا کچھ بھی مجھے یاد نہیں پڑتا ۔

دراصل مجھے جھوٹ بولنے میں بہت ڈر لگتا ہے ،کیونکہ اگر میرا جھوٹ پکڑا گیا تو میں یہ شرمندگی کبھی برداشت نہیں کر پاؤگی ، اس لیے کوشش کرتی ہوں جو بات جیسی ہوں ویسے ہی بیان کروں ۔ جھوٹے لارے نہیں لگاتی ۔اگر کوئی کام نہ کرسکو تو منع کردیتی ہوں
سوال : زندگی میں کوئی ایسی غلطی کہ دل چاہا ہوکاش وقت واپس پلٹ جائے؟
حنادلپذیر:(ہنستے ہوئے)اس طرح تو ساری زندگی الٹ پلٹ ہوجائے گی۔

میں سمجھتی ہوں جب اللہ کہتا ہے ’کن “ تو وہ کام ہوجاتا ہے اور جب وہ کہتا ہے ’فیکون“ تو وہ ہوکر ختم ہوجاتا ہے ۔ اس وقت کی یہی خوبصورتی ہے کہ وہ گزر جاتا ہے ، انسان غلطی سے بھی کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے اس لئے غلطی کرنا بھی ضروری ہیں جب سدھارنے کا موقع ملے تو ضرور سدھارنی بھی چاہیں۔
سوال : سنا ہے آپ کو گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے۔


حنادلپذیر:واقعی مجھے ٹریولنگ کا بہت شوق ہے ،،،،میں پیدا تو کراچی میں ہوئی لیکن آبا کی جاب کی وجہ سے ”انڈونیشیا“ترکی“امریکہ “ انگلینڈ“کینیڈا “ مصر “ یمن “ اور تھائی لینڈ“ جیسے ملکون میں رہنے کا موقع ملا ، مجھے تفریحی مقامات سے زیادہ عام لوگوں طرز بودباش کے مشاہدہ کرنے کا زیادہ شوق ہے اس لیے میں وہاں مقامی لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے کو زیادہ پسند کرتی ہوں ۔

پاکستان کے شمالی علاقے قدرت کا حسین تحفہ ہیں ۔اس کے علاوہ سان فرانسییسکو مجھے بہت پسند ہے ۔ جب زندگی کی باغ دوڑ سے فراغت ملتی ہے تو میں ان جگہوں پرچلی جاتی ہوں۔
سوال :فارغ وقت کیسے گزارتی ہوں ؟
حنادلپذیر:فارغ وقت ملے تو لٹریچر اور سائیکالوجی پڑھتی ہوں ڈرامے اور افسانے لکھتی ہوں ،ہاں البتہ شاعری سے ذرا خاص لگاؤ ہے، اس کے علاوہ اپنے بیٹے مصطفی دلپذیر سے لائیو کلاسیکل میوزک سنتی ہوں۔

وہ کلاسیکل میوزک کی تربیت حاصل کررہا ہیں ،میری طرح وہ بھی کلاسیکل میوزک کے دیوانے ہے اس طرح ہمیں ایک ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔
سوال: آپ کے پسندیدہ گلوکار کون سے ہیں؟
حنادلپذیر:مجھے شور شرابے والے میوزک نہیں پسند البتہ کلاسیکل گلوکار میرے پسندیدہ ہیں جن میں استاد امانت علی روشن آراء بیگم اور بڑے غلام علی ساحب کو سننا اچھا لگتا ہے۔


سوال: عام زندگی میں کیسے کپڑے پہننا پسند کرتی ہیں ۔
حنادلپذیر:مجھے برانڈ کا کوئی شوق نہیں جس لباس میں ذہنی اور جسمانی طور پر آرام محسوس کروں پہن لیتی ہوں لیکن یہ بھی خیال کرتی ہوں کہ لباس مہذب ہوں ، پھول بھوٹوں والے پرنٹ کی بجائے سادہ کپڑے زیادہ اچھے لگتے ہیں ، ریشم کی بجائے کاٹن شوق سے پہنتی ہوں ۔

،میں اپنے لیے خود شاپنگ بھی نہیں کرتی بلکہ یہ کام میری امریکہ والی دونوں بہنیں کرتی ہیں ۔ ہر سال ان کے پاس جاتی ہوں تو سال بھر راشن لے کر آتی ہوں ۔ وہ جو بھی خرید کر دیتی ہے وہی پہن لیتی ہوں ۔ اکثر فرینڈز کہتی ہے حنا اپنا پروفائل بدلو دوسری اداکاروں کی طرح ذرا گلیمروس نظر آؤ ،،،،تو میں کہتی ہوں کہ لوگ میرے اس انداز سے محبت کرتے ہیں مجھے خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں ،،،،ہے لوگ جب مجھ سے ملتے ہیں تو میری آنکھوں کی سچائی دیکھتے ہیں اس کی نظر میرے باتھ روم سلپر ز پر نہیں جاتی ،،، حنا جیسی بھی ہے ٹھیک ہے وہ نہیں بدلے گی۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :