اچھے شوہر کے پاؤں دھوکر پینے چاہئیں

مارننگ شو ہوسٹ جگن کاظمی کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں عورتیں اچھے بھلے شوہر وں میں کیڑے نکالتی ہیں ۔ شوہر اچھا ہوتو اس کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ اچھے شوہر نصیبوں سے ملتا ہے

منگل اگست

Achy Sohar k Paoo Dhoo kr Penny Chahiye

زارا مصطفی۔
لاہور کی باسی اداکارہ ماڈل مارننگ شو ہوسٹ اور فیشن برانڈکی مالک جگن کاظمی کا اصل نام سید مہر بانو کاظم ہے۔کم عمر میں تھیٹر پر اداکاری کی وجہ سے مہر بانو بطور جگن کاظم مشہور ہوگئیں اور لڑتی بھِڑتی شرارتیں کرتی مہر بانو ماضی کی دھندلکوں میں کہی کھوگئی،،،،، اس کی جگہ اپنے آپ کو منواتی نڈر ، افلاطون جگن معروض وجود میں اگئی ۔ جگن ہمیشہ سے ہی اداکارہ بننا چاہتی تھیں ۔ بچپن سے ہی وہ اپنی گوری چٹی رنگت اوٹ پٹانگ حرکتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکھتی تھیں ۔ ان کے والد سید عباس کاظم نے بطور چائلڈ ماڈل آگے بڑھنے میں کافی حوصلہ افزائی کی۔ جگن جب کینیڈا میں بیچلر آف آرٹس اِن میڈیا کی ڈگرئی لینے گئیں تو تھیٹر پر اداکاری سے اپنے کیرئیر کا آغاز کردیا۔

(جاری ہے)

اور انگریزی فلموں سمیت کئی ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ۔ جگن چند ایک پاکستانی ڈراموں میں بھی کام کرچکی ہے۔اور 2010میں ڈرامہ سیریل ”میری اَن سنی کہانی “ میں بطور معاون اداکارہ جگن کو پاکستان میڈیا ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ پھر 2011 میں وہ فلمسٹار شان شاہد کے مدِمقابل فلم ”خاموش رہو“ میں دکھائی دیں ۔ گذشتہ چند سالوں سے وہ پی ٹی وی ہوم کے مارننگ شو کی میزبانی کررہی ہیں ۔ حال ہی میں جگن نے کپڑوں کا ایک برانڈ متعارف کروایا۔ 2013میں جگن نے سپریم کورٹ کے وکیل فیصل تقوی سے دوسری شادی کی جن سے ان کا چھ ماہ کا ایک بیٹا حسن نقوی ہے اور پہلے شوہر سے 11سالہ بیٹا حمزہ ان کے ساتھ رہتا ہے۔
سوال :
جگن کاظم اصل میں کون ہے؟
جگن کاظم:(مسکراتے ہوئے) کیا بتاؤں ۔ اصلی جگن کاظم کو لوگ جانتے ہی کہاں ہوں ،،، میں بہت خود اعتماد اور خواب دیکھنے والی لڑکی ہوں ۔ اب میں زندگی کے ہر معاملے میں بہت منصوبہ بندی سے اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرتی ہوں اس کے باوجود میں غیر معمولی حد تک حساس طبع ہوں ۔ اکثر لوگوں کا میرے بارے میں خیال ہوتا ہے ارے اسے کیا فرق پڑتا ہوگا۔ ارے اسے کیا پرواہ ،،،،؟ لیکن ایسا نہیں ہے مجھے اکثر چھوٹی چھوٹی باتیں بھی تکلیف دیتی ہیں ۔ مثلاََ اگر سوشل میڈیا پر ہی کوئی میرے بارے میں الٹی سیدھی بات کردے تو میں بھول نہیں باتیں۔۔۔
سوال:کیسے خواب اور کیسی منصوبہ بندی؟
جگن کاظم:
(ہنستے ہوئے) انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہونا چاہیے اور میں تو بچپن سے ہی بہت بے چین اور بہت بے صبری ہوں اس لیے زندگی کے بہت سے غلط فیصلے کئے اب غلطیاں دوہرانا نہیں چاہتی ۔ کسی ایک جگہ ٹھہرنا میری فطرت میں نہیں ایک خواہش پوری ہوئی تو دوسری کے پیچھے لگ جاتی ہوں ، ایکٹنگ کا جنون تھا۔ اداکاری ماڈلنگ اور مارننگ شو میں کامیابی کے بعد پریگننسی کے دوران مجھے خیال آیاکہ بچوں کی دیکھ بھال اور نشوونما کے لئے دیسی ماؤں خصوصاََ پاکستانی اور انڈین ماؤں کے لئے ایسا کوئی فارم نہیں ہے ہاں ایسی انگریزی ویب سائٹ تو ہیں ۔ مگر دیسی اور انگریزی اور ولایتی ماؤں کے بچے پالنے کے انداز میں فرق ہیں ۔ اس سے پہلے میں نے فیشن ڈیزائننگ کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ ایک انگلش فلم کی ہے۔ پتہ نہیں وہ ریلیز کب ہوگی؟ خیر آج کل تو میری ساری توجہ اپنا گھر بنانے میں لگی ہوئی ہے۔
سوال : اتنی مصروفیات میں جگن کو مہر بانو تو کبھی یاد نہیں آئی ہوگی؟
جگن کاظم:(مسکراتے ہوئے) بہت یاد آتی ہے،،،، دراصل مہر بانو ایک بہت ہی ہائپر جنگلی بچہ تھی،پتہ نہیں میرے والدین کی علیحدگی نے سب سے زیادہ مجھے ہی کیوں اتنا متاثر کیا جبکہ میری بڑی بہن اور چھوٹا بھائی بہت ہی سلجھے بچے تھے اور ایک میں تھی،،، ایک مرتبہ پڑوس میں کسی لڑکے سے میری لڑائی ہوگئی، میں اس سے بدلہ لینا چاہتی تھی،، میں نے بھائی سے کہا کہ میں اس لڑکے کو سبق سِکھانا چاہتی ہوں ۔ تو اس نے مجھے منع کیا کہ امی کو پتہ چل گیا تو بہت ڈانٹ پڑے گی مگر میں تو ایسے انتقامی موڈ میں تھی جیسے ٹی وی ڈراموں میں منفی کردار کرنے والی عورتیں ہوتی ہیں۔مینے کہی سے مٹی کا تیل ڈھونڈلیا اور اس لڑکے کے گھر کے دروازے پر پھینکنے لگی تو ان کی ملازمہ نے مجھے یہ سب کرتا دیکھ لیا مگر اپنے مالکان کو بتانے کی بجائے سیدھی میری امی کے پاس شکایت لے کر چلے گئی اور پھر میری امی مجھے ان کے دروازے سے گھسیٹتے ہوئے گھر لائیں۔
سوال: سنا ہے آپ بچپن میں اپنی نانی کے بہت قریب تھیں ان کی کوئی بات جو آپ کو یاد ہو؟
جگن کاظم:جب میرے والدین میں علیحدگی ہوئی تو امی نانو کے ہاں شفٹ ہوگئیں وہ سنگل مدر ہونے کی وجہ سے بہت مصروف ہوگئیں جس کی وجہ سے ہم تینوں بہن بھائی نانو کے پاس زیادہ وقت گزارتے تھے میں چونکہ زیادہ شرارتی تھی اس لئے نانو مجھے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں وہ سویٹر بنتے ہوئے فلمیں دیکھتی اور مجھے بھی فلمیں دیکھنے کی عادت ہوگئی اداکاری کا شوق بھی یہیں سے ہوا ۔ نانو کی دو باتیں آج بھی مجھے یاد آتی ہیں پہلی یہ کہ ”ایک چپ سو سُکھ“ جو میں اس وقت اپنے پلے باندھ لیتی تو اچھا تھا، اور دوسرا وہ کہتی تھی کہ کبھی جھوٹ نہیں بولنا اور میں واقعی اس حد تک جھوٹ نہیں بولتی کہ اس میں پھنستی چلی جاؤں جیسے میڈیا میں کئی لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور پھر خود ہی پکڑے جاتے ہیں ۔ میں کوشش کرتی ہوں سیدھی اور صاف بات کروں ۔ پھر چاہے جو انجام ہوں دیکھا جائے گا۔ میں 9سال کی تھی جب نانو انتقال کرگئیں میں اپنے ننھیال میں خالہ ریحانہ سہگل سے بہت مانوس تھی وہ ہمارے بہت لاڈ اٹھاتی تھیں۔
سوال : بچپن سے اداکاری کا شوق تھا تو پرھائی میں کیسی تھی؟
جگن کاظم:میں نے لاہور گرامر سکول سے او لیول کرنے کے بعد کنئیرڈ کالج میں داخلہ لیا اور پھر کنز یونیورسٹی (کینیڈا) چلی گئی ۔ جہاں میں نے بیچلرز آف آرٹس اِن میڈیا کی ڈگری مکمل کی ۔ اور اداکاری کا باقاعدہ آغاز بھی کینیڈا سے ہی کیا ۔ خود اعتمادی تو مجھ میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی اس لئے مجھے یقین تھا کہ اداکار ہ تو میں بن کر ہی رہوں گی ۔ بچپن میں فلموں ہیروئن کو برفیلے پہاڑوں کے درمیان شیفون کی ساڑھیاں پہن کر ناچتے دیکھتی تو میں بھی اپنی امی کے دو پٹوں سے ساڑھی باندھ کر ڈانس کیا کرتی ۔ میں بچپن سے ہی فلمی بچہ تھی ۔ اسی دوران ہوگئی حمزہ کی انٹری ہوئی اور طلاق بھی ۔
سوال: پہلی شادی میں ناکامی کے بعد دوسری شادی مین اتنی تاخیر کیوں کی؟
جگن کاظم:(مسکراتے ہوئے)پہلی شادی کا فیصلہ نادانی میں کیا تھا اس لئے دوبارہ تو سوچ سمجھ کر ہی کرنا تھا ۔ جب میں طلاق کے بعد لاہور منتقل ہوئی تو حمزہ صرف دو ماہ کے تھے۔ بہر حال دوسری شادی کا مطلب تھا مجھ سے اور حمزہ سے شادی کرنا۔ میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اپنے بیٹے کو نہیں چھوڑسکتی تھیں ۔ طلاق کے بعد بالکل اکیلی تھی۔فیملی سے ہی رشتے بھی آتے رہے۔ لوگ کہتے کہ تم ینگ ہوں شادی کر لو ہم بیٹے کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مجھے غصہ آتا کہ کیا یہ لوگ مجھ پر احسان کرنا چاہتا ہیں ۔ ایک جگہ میری بھی دلچسپی تھی مگر انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے حمزہ کو چھپانا پڑے گا یعنی میں کسی کو نہ بتاؤں کہ میں پہلے سے ایک بچے کی ماں ہوں اور مجھے یہ گواراا نہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کسی ایسے آدمی سے ہی شادی کرنا چاہتی تھی جسے اولاد کا درد ہو اور ایسا تب ہی ممکن تھا کہ وہ شخص طلاق یافتہ ہوں جس کی بیوی انتقال کرگئی ہو۔ فیصل تقوی سے میری ملاقات ایک دوست کے ذریعے ہوئی ان کی طلاق ہوچکی تھی ان کا ایک بیٹا اور بیٹی اپنی ماں کے ہمراہ دبئی میں مقیم ہیں ۔ میں اور فیصل چھ مہینے تک بات چیت کرتے رہے۔ میں نے حمزہ سے بھی فیصل کو ملوایا ، حمزہ بھی فیصل کے ساتھ گھل مل گئے فیصل ”دیر آیدرست آید“ ثابت ہوئے۔
سوال : اب تو خیر سے آپ کا اور فیصل کا بیٹا دنیا میں اگیا ہے اب فیصل حمزہ کو نظر انداز تو نہیں کرتے؟
جگن کاظم نے گورمے خواتین میگزین کو جواب دیتے ہوئے کہاوہ قطعاََ ایسا نہیں کرتے دونوں بچوں کی اپنی اپنی جگہ ہے ۔ حمزہ تو فیصل سے اس قدر مانوس ہیں کہ وہ اکثر باتیں مجھ سے بھی شیئر نہیں کرتے جو فیصل سے کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی آپس میں بہت دوستی ہے بلکہ اب تو وہ اپنا پورا نام حمزہ نقوی بتاتے ہیں ۔ فیصل بہت ذمہ دار پُر خلوص اور بہت محبت کرنے والے انسان ہیں ہم دونوں کی ترجیحات بہت مختلف ہیں ۔ وہ سپریم کورٹ میں وکالت کے علاوہ پاکستان کی سب سے بڑی لا ء فرم کے مالک ہیں ۔ فیصل کے لئے جو میری اہمیت ہے وہی حمزہ کی ہے۔
سوال: جب حمزہ پیدا ہوا تو آپ خود کم عمر تھیں حمزہ کی دیکھ بھال اور پرورش زیادہ مشکل تھی یا حسن کی؟
جگن کاظم:(مسکراہتے ہوئے)جب حمزہ پیدا ہوئے تو میں 21سال کی تھی اور حمزہ کے باپ کی موجودگی میں بھی تنہا تھی۔ کچھ بھی کہتے ہوئے خوفزدہ رہتی تھی کہ کہیں میرے ساتھ مارپیٹ نہ شروع کردے مگر جب حسن پیدا ہونے والے تھے تو فیصل نے میرا بہت خیال رکھا ، اپنے سارے کام چھوڑ کر میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتے ، اب چونکہ حسن کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس چل رہا ہے تو فیصل جہاں بھی ہوں جتنے بھی مصروف ہوں جس دن ٹیکہ لگوانا ہوتا ہے میرے ساتھ ہسپتال میں موجود ہوتے ہیں ۔ میں سوچتی ہوں فیصل جیسے شوہر کے پاؤں دھوکر پینے چاہئیں ۔ ہمارے ہاں عورتیں شوہروں کی برائیاں تو دل کھول کر کرتی ہیں مگر تعریف میں کنجوسی کرجاتی ہیں شوہر اچھا ہوتو اس کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ اچھا شوہر ملنا بڑے نصیب کی بات ہے۔ یقین کریں شوہر کے منہ سے پیار کے دو میٹھے بول سن کر بہت ہمت نلتی ہیں ساری تکلیف دور ہوجاتی ہے۔
سوال:اتنی مصروفیات کے ساتھ شوہر اور بچوں کے لئے وقت کیسے نکالتی ہیں ؟
جگن کاظم:میرا شوہر میرا سب سے بڑا سپورٹ سسٹم ہے۔ ہماری زندگی میں یہ مسئلے مسائل نہیں کہ شوہر گھر آئے تو اس کی راہ میں پلکے بچھاکر بیٹھنا ہے ۔ ہم سٹار پلس نہیں سٹار ورلڈ دیکھنے والے لوگ ہیں۔ فیصل کی فیملی بھی کافی بڑی ہیں تو ملنے ملانے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔جہاں تک بچوں کی بات ہیں تو میں کہتی ہوں پاکستان سے بہتر کوئی ملک نہیں کام کرنے والی عورتیں چاہے جہاں بھی کام کرتی ہوں بچہ اپنے ساتھ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ۔ میں جہاں کہیں جاتی ہوں حسن کو اپنے ساتھ لے جاتی ہوں اور حمزہ چونکہ اب بڑے ہورہے ہیں تو ان کی اپنی زندگی اور ٹائم ٹیبل ہے ۔ہاں ان کے کھانے پینے پڑھائی کھیلنے کودنے اور دوستوں کے ساتھ ملنے ملانے کے حوالے سے میں باخبر رہتی ہوں ۔
سوال :سنا ہے آپ اپنے بچوں کے لئے کھانا خود بناتی ہیں تو کیا شوہرِ نامدار بھی کبھی کھانے کی فرمائش کرتے ہیں ؟
جگن کاظم:(ہنستے ہوئے) میں سمجھتی ہوں ہم پاکستانی عورتیں چاہے جتنی بھی مصروف ہوں اگر ہم میں تھوڑی سی بھی انسانیت باقی ہے تو ہماری پہلی ترجیح بچے ہونے چاہئیں ۔ میں حسن کو بازاری کھانے نہیں کھلاتی بلکہ ان کے لئے میں خود کھانا بناتی ہوں ۔ اس طرح حمزہ کی بھی پسند ناپسند کے مطابق کھانا بناتی ہوں ۔حمزہ کے فرینڈز گھر آرہے ہوں تو ان کے لئے باہر سے کھانا منگوانے کی بجائے خود بناتی ہوں ۔ جہاں تک فیصل کی بات ہیں تو ان کی امی بہت اچھا کھانا بناتی ہیں میں بھی بنالیتی ہوں مگر وہ کبھی مجھ سے فرمائشیں نہیں کرتے۔
سوال :اپنی فٹنس کا خیال کیسے رکھتی ہیں؟
جگن کاظم:آج کل تو فٹنس رہی نہیں ،،،حسن کے پیدا ہونے کے بعد ابھی تک میرا وزن نہیں اترا جس کے لئے میں زیادہ فکر مند بھی نہیں ہوں ،،، ہاں مگر میں کھانے پینے میں ذرا احتیاط سے کام لے رہی ہوں ۔ ہلکا پھلکا ناشتہ کرتی ہوں ، اولیوآئل اور کوکونیٹ آئل میں بنے کھانے کھاتی ہوں تیل والے اچار کی بجائے سرکے والا اچار وائٹ رائس کی بجائے براؤن رائس اور شکر کی بجائے گُڑکھاتی ہوں ۔ دن میں کسی بھی وقت باقاعدہ ایک گھنٹہ ایکسزسائز کرتی ہوں ۔ سب سے اہم یہ کہ سات بجے کے بعد کچھ نہیں کھاتی اور 10بجے سوجاتی ہوں۔
سوال :شاپنگ کا شوق تو ہوگا؟
جگن کاظم:کچھ خاص نہیں میرے پاس اللہ کی دی ہوئی ہر چیز ہے سوٹ کیس اور الماریاں بھرنے کے لیے شاپنگ نہیں کرتی ۔ ایک ہی بیگ خرید کر لمبے عرصے تک استعمال کرسکتی ہوں مجھے جوتوں کا شوق ہے وہ بھی مناسب حد تک لیتی ہوں ۔

سوال:شوہر سے تحفے تحائف تو ملتے ہوں گے؟
جگن کاظم:
ہاں بالکل :فیصل نے حسن کے پیدا ہونے پر مجھے ڈائمنڈ کے ائیرز رنگز گفٹ کئے۔
سوال :کیا گھومنے پھرنے کا شوق بھی نہیں ہے؟
جگن کاظم:بچپن سے گھومتی پھرتی رہی ہوں اب میرے لئے کسی دوسرے ملک جانا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان میں کسی ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ۔ اکثر اداکارئیں ایسے پراجیکٹس کو ترجیح دیتی ہیں جن کے لیے بیرون ملک جانا پڑئے لیکن میں ایسا نہیں کرتی کیونکہ پروڈیوسرز وغیرہ سستے ہوٹلوں میں قیام کرواتے ہیں اور ہر طرح سے پیسے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے مجھے فیملی کے ساتھ جانا اچھا لگتا ہے۔
سوال :آپ زیادہ تر برانڈ ڈ کپڑے پہنتی ہیں آپ کے پسندیدہ ڈیزائنر کون ہیں؟
جگن کاظم:میں اپنی زندگی میں اس جگہ پر ہوں کہ ہر چیز افورڈ کرسکتی ہوں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں غیر معمولی حد تک برانڈ کے پیچھے بھاگتی ہوں ۔ میں بچپن سے ہی برانڈڈ کپڑے پہن رہی ہوں اب تو میرا اپنا برانڈ بھی اگیا ہے اور جہاں تک میرے پاکستانی پسندیدہ پاکستانی ڈیزائنرز کی بات ہے تو مجھے ریحانہ سہگل کامیاروکنی اور ایچ ایس وائے کا کام پسند ہے۔ میں ذرا مہذب لباس پہننا پسند کرتی ہوں جس کے گلے زیادہ بڑے نہ ہوں کپڑے زیادہ چھوٹے نہ ہوں یعنی ایسے کپڑے جو میں اپنی ماں کے سامنے پہن کر جاسکوں۔ ویسے میں زینب مارکیٹ سے خریدی ہوئی جینز اور شرٹ پہن کر بھی اتنی ہی خوشی محسوس کرتی ہوں جتنی کوئی برانڈڈ جوڑے میں ،،،،مجھے ”سیکسی“ لگنے کا شوق نہیں لوگ مجھے عزت سے اپنے گھروں میں بلاتے ہیں ورنہ میڈیا کے لوگوں کو عام لوگ پسند تو کرتے ہیں مگر کوئی اپنی فیملی متعارف کروانا پسند نہیں کرتا۔
سوال : کہتے ہیں بچپن میں جو بچے ضدی ہوں وہ بڑے ہوکر مستقل مزاج ہوجاتے ہیں ۔ا ٓپ کا کیا خیال ہے؟
جگن کاظم:شروع میں لوگوں نے کہا تمہارا قد چھوٹا ہے تم موٹی ہو،، میڈیا میں نہیں چل سکتی لیکن میں نے کسی کی پرواہ نہیں کی اور محنت سے اپنی جگہ بنائی۔ اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ امیر گھروں سے آنے والے لڑکے لڑکیوں کو کامیابی ٹرے میں رکھ کر پیش کردی جاتی ہیں لیکن میں نے بہت سالوں تک انتھک محنت سے کام کیا ۔ پہلی ناکام شادی کے بعد میری زندگی کا ہر فیصلہ اور ترجیح کا محور حمزہ رہا۔ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ شادی شدہ ہونے اور بچے کا تذکرہ نہ کرو تمہاری ”مارکیٹ ویلیو“ خراب ہوگئی، میں نے ایسا نہیں کیاسب نے کہا کراچی چلی جاؤ ساری انڈسٹری وہیں ہے لاہور میں کچھ نہیں ہے میں نے کہا اللہ نے مجھے رزق دینا ہے تو لاہور میں بھی مل کر رہے گا ۔
سوال:آپ چند سالوں سے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں عقیق پہن رہی ہوں کیا دست شناسی اور ماہر فلکیات کی باتوں پر یقین رکھتی ہیں؟
جگن کاظم:نہیں کوئی بتائے تو سن لیتی ہوں کبھی کبھار کسی اہم معاملے میں الجھن کا شکار ہوں تو ایک فرینڈ سے ضرور مشورہ کرتی ہوں جو پروفیشنل تو نہیں مگر یونہی کتابوں سے پڑھ پڑھا کر کچھ نہ کچھ بتادیتی ہے تو میں اس کی رائے کبھی کبھار مان بھی لیتی ہوں ۔ جہاں تک عقیق پہننے کی بات ہے تو مجھے یہ انگوٹھی بہت پسند ہے یوں سمجھیں میں نے شوقیہ پہن رکھی ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments