عائشہ عمر۔۔۔۔۔۔۔۔ کم ظرف مرد پسند نہیں

عائشہ عمر کہتی ہیں بیویوں پر ہاتھ اٹھانے اور بیوی کی شہرت اور کامیابی سے حسد کرنے والے مرد پسند نہیں ، میں تو ایسے کم ظرف انسان کے ساتھ رہ ہی نہیں سکتی․․․․․

جمعرات 26 اکتوبر 2017

ہما میرحسن:
عائشہ عمرخوبرہ ہیں،دلکش سراپا ، چہرے پر مسکراہٹ ،آواز میں کھنک اور انداز میں دھنک․․․․ وہ ایک جیتا جاگتا کردار ہیں۔ وہ اپنی ہی دھن میں مگن، اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لئے رنگوں اور روشنیوں کی دنیا میں آئیں۔پہل سوچا ریمپ پر چل کے دیکھوں ، سو وہ اپنے انداز میں ریمپ پر ماڈلنگ کرتی دکھائی دی پھر سوچا کے کوئی کردار کرکے دیکھو تو ڈراموں اور فلموں میں دکھائی دیں۔

پھر ان کا دل چاہا کچھ گنگنالیا جائے تو انہوں گلوکاری شروع کردی،بہت ہی چلبلی اور شوخ طبع عائشہ نے ڈرامہ سے فلم تک کئی کردار نبھائے ہیں۔ماڈل اداکارہ،گلوکارہ اور میزبان عائشہ کا کہنا ہے۔ ایک وقت آئے گا میرا نام فن کی دنیا میں جگمگاتے ہوئے ستاروں کی مانند ہوگا،عائشہ 12 اکتوبر 1981 کو پیدا ہوئی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے بیکن ہاؤس اور این سی اے لاہور میں تعلیم حاصل کی۔

عائشہ کی وجہ شہرت نجی ٹی وی کاکامیڈی ڈرامہ ”بلبلے“ بنا جس میں عائشہ نے خوبصورت کردار نبھایاان کے معروف ڈراموں میں ”زندگی گلزار ہے، ڈولی کی آئے گی بارات،دل کو منانا آیا نہیں،شامل ہیں، جبکہ ان کی فلمیں” فلم لو میں گم، میں شاہد آفریدی ہوں،کراچی سے لاہور اور یلغار بھی معروف ہوئیں عائشہ عمر لالی ووڈ کی ان چند اداکاراؤں میں شامل ہیں جو اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت آواز کی مالک بھی ہیں۔


سوال : شوبز کی دنیا میں کیسی آئی:
عائشہ عمر: مجھے دوران تعلیم ہی یہ جنون تھا کہ کچھ انوکھا کروں۔ اداکاری سے رغبت تھی، موقع ملنے کی دیر تھی، کسی پر وڈیوسر نے دیکھا ، جانچا اور کام کرنے کی پیشکش کردی اور پھر چل سو چل․․․․ مجھے یاد ہے کہ آٹھ سال کی عمر میں پی ٹی وی پر ”میرے بچپن کے دن “ شو کیا تھا اور پھر کچھ عرصے بعد ایک اورشو”یہ وقت ہے میرا“ کیا پھر ”ہاٹ چاکلیٹ“ کی میزبان بنی۔

میرا ماننا ہے کہ ہیرا تراشا جاتا ہے بنا بنایا نہیں ملتا۔شوبز کی دنیا میں بہت مقابلہ ہے۔اس میں خود کو منوانا کچھ آسان نہیں۔ میں نے شروع میں متعدد کمرشل بھی کئے۔بہت سارے برانڈز ایسے ہیں جو نئے چہروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسے ہی میں دریافت ہوئی۔ مجھے ماڈلنگ کی آفر ہوئی تو میں نے فوراََ ہی حامی بھر لی۔ماڈلنگ سے میری اداکاری کو بھی بہت تقویت ملی ہے۔


سوال:لیکن پھر یکا یک آپ ایک گلوکار بھی بن گئیں؟
عائشہ عمر: میں پھر کہوں گی کے شوبز کے تمام میڈیم یکساں نوعیت کے ہیں۔ میں باتھ روم سنگر تو نہیں تھی، اچھے گیت ہمیشہ گنگناتی تھی۔ شادی بیاہ کی تقاریب پر مجھ سے فرمائش کی جاتی کہ کچھ سناؤں، میں نور جہاں اور لتا کے گیت سناتی، بہت داد ملتی۔ اس لئے میں نے سوچا کہ آواز کا جادو بھی جگایا جائے اور یوں میں نے باقاعدہ گلوکاری شروع کردی۔

وقت کا پتہ ہی نہیں چلا آج میرے تین والیم آچکے ہیں۔ میری آواز کو پسند کیا جارہا ہے۔جس کی وجہ سے میں نے اداکاری ، ماڈلنگ اور کمپئیرنگ میں مصروفیت کے باوجود بھی گلوکاری کو نہیں چھوڑا۔
سوال: کسی بھی فنکار کے لئے کوئی نہ کوئی آئیڈئل اور استاد ہوتا ہے، آپ نے یہ سب کچھ کس سے سیکھا؟
عائشہ عمر: میرا ا ُستاد میرا ہر اسینئرفنکار ہے۔

میں بہت سارے فنکاروں سے متاثر ہوں ، جہاں کہیں میں رک جاتی تو کسی نہ کسی سے رہنمائی ضرور حاصل کر لیتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں فنکار ہمیشہ ایک طالب علم ہی رہتا ہے۔ میں نے اپنی اداکاری میں نکھار کے لئے بہت ساری فلمیں دیکھیں، بہت سارے گیت سنے، ان ہی جیسا کرنے کی کوشش میں بہت کچھ اچھا ہوجاتا ہے۔
سوال : شہرت اور پہچان اداکاری سے ملی یا گلوکاری سے؟
عائشہ عمر:میں سمجھتی ہوں کہ میری پہلی پہچان ڈرامہ ”بلبلے“ میں میرا کامیڈی کردار ہے۔

ہمارے ہاں کسی ٹی وی ڈرامہ کا یہ ریکارڈ جو اتنے برس سے اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہو۔ مجھے اکثر مزاحیہ ڈراموں کی آفر ہوتی رہی تاہم میں نے صرف وہی ڈرامہ سائن کیا جس کا کردار مجھے پسند آیا۔ٹی وہ میں میری پرفارمنس کو سراہتے ہوئے مجھے فلموں کی آفرز ہوئیں۔ تو بھی میں نے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔فلم ”کراچی سے لاہور “ میں میری اداکاری کے علاوہ میرے گانوں کو بھی سراہا گیا۔

مجھے اپنے ہی گائے ہوئے گانے ”ٹوٹی فروٹی“ پر پرفارم کرنا اچھا لگتا تھا، مستقل میں بھی میں اس سلسلے کو جاری رکھوں گی۔
سوال :انڈسٹری میں سکینڈلز تو بنتے ہی ہیں۔آپ کی بھی اداکار ظفر رحمان سے افئیر اور شادی کی خبریں خاصی سرگرم تھیں؟
عائشہ عمر: کوئی افئیر ہوتا تو میں آج ظفر کی بیوی ہوتی، ہم دونوں بہت اچھے دوست ہیں لیکن میڈیا بسا اوقات ہر بات کا بتنگڑ بنا دیتا ہے۔


سوال انڈسٹری میں رہتے ہوئے آپ کن باتوں سے چڑتی ہیں؟
عائشہ عمر: ایسی بہت سی باتیں ہیں تاہم بحیثیت سٹار سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔ البتہ ایک بات کہنا چاہوں گی کہ کسی بھی تقریب میں فوٹو گرافر کو اپنے آرٹسٹوں کی اچھی تصاویر بنانی چاہئیں۔ ہمارے فوٹو گرافرز انتظار ہی نہیں کرتے، چاہے آپ فون پر بات کررہے ہوں یا پھر کسی دوسرے کی بات پر ری ایکشن دے رہے ہوں، انہیں بس تصویر لینے سے مطلب ہے پھر خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ آئے؟ شاید اسی لئے اداکارائیں تصوریں بنوانے سے گریز کرتی ہیں۔

تاہم میں کبھی تصویر کے لئے منع نہیں کرتی مگر فوٹو گرافرز کو بھی بتا کر تصویر لینا چاہیے تاکہ بندہ تصویر کے لئے ریڈی ہوجائے۔
سوال : کوئی ایسا خوف جو بتانا چاہیں:
عائشہ عمر: میں اندرون سند ھ سفر کرنے سے ہمیشہ خائف رہی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میرا ایکسیڈنٹ ہوجائے گا یا مجھے اغوا کرلیا جائے گا۔ بدقسمتی سے دو سال قبل میرا ایکسیڈنٹ بھی ہوا بھی، اسی ڈرسے جب مجھے کسی سندھ کے کسی شہر سے کوئی دعوت ملتی ہے تو میں کبھی نہیں جاتی ہمیشہ معذرت کرلیتی ہوں۔

بس یہی ایک انجانا خوف ہے جو کسی دوسری جگہ کے حوالے سے نہیں ہے۔
سوال: لیکن کسی سے تو شادی کریں گی، کیسا لائف پارٹنر سوچ رکھا ہے۔
عائشہ عمر:میں نے شادی کے بارے میں کوئی خاص پلان نہیں بنا رکھا اور نہ ہی ایسا کچھ سوچتی ہوں۔ میں نہیں جانتی کب کس پر دل آجائے، ہوسکتا ہے کہ وہ میری شخصیت سے میرے خیالوں سے بالکل مختلف ہولیکن ہم جیون بھر ساتھ رہنے کا فیصلہ کرلیں۔

ایک بات ضرور ہے کہ مجھے عورتوں پر ہاتھ اٹھانے والے مرد بالکل پسند نہیں، میرا شوپر پر اعتماد ہونا چاہیے۔ اس میں کسی قسم کی احساس کمتری نہیں ہونی چاہیے۔خاص کر مجھے بے جا پابندیاں لگانے والے مردپسند نہیں،جیسے بعض شوہر اپنی بیوی کی شہرت اور کامیابی بھی برداشت نہیں کرتے،میں تو ایسے گھٹیا ظرف والے انسان کے ساتھ رہ ہی نہیں سکتی۔ میں کسی امیرکبیر شخص کا انتظار نہیں کررہی بس سمجھنے والا ہو چاہے کماتا بھی کم ہو․․․․ شادی کے بعد اگر ضرورت نہ رہی یا میرے شوہر نے اجازت نہ دی تو شوبز چھوڑ بھی سکتی ہوں۔

میں ان لڑکیوں کے بہت خلاف ہوں جو شادی کے بعد سسرال میں رہنا پسند نہیں کرتیں۔
سوال : حال ہی میں آپ کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں آپ نے کافی نازیبا لباس پہنا ہوا ہے، اس کے بارے میں کیا کہیں گی؟
عائشہ عمر:میں عائشہ عمر ہوں اور میں نے نہایت شائستہ لباس پہن رکھا ہے۔ دیکھنے والوں کی اپنی نظر میں فتور ہے، میں اس بارے میں کیا کہہ سکتی ہوں۔

اگر پرستار فلم میں اداکارہ کو مختصر لباس میں دیکھ سکتے ہیں تو میری ویڈیو میں ان سے یہ بات کیوں برداشت نہیں ہو رہی۔مجھے وہ مرد بالکل پسند نہیں جو اپنی عورتوں کو بہت ڈھانپ کر رکھتے ہیں مگر دوسری عورتوں کوآنکھیں پھار پھار کر دیکھتے ہیں۔یہاں منافقت کا کلچر عام ہے، لوگ کہتے کچھ ، کرتے کچھ ہیں،بہر حال میں اپنے گھر والوں کے رائے کو اہمیت دیتی ہوں۔

میری امی بھائی اور جن کے ساتھ میں فلیٹ میں رہتی ہوں،میری بچپن کی چھ سہلیاں، ان سب کی تنقید اور تعریف میرے لئے معنی رکھتی ہے، باقی سب باتوں پر میں مٹی ڈال دیتی ہوں․․․․
سوال : آپ اپنا فیورٹ اداکار کس کو مانتی ہیں:
عائشہ عمر:ایک طویل فہرست ہے نام کیا گنواؤں۔ٹی وی کے سینئر فنکار کسی بھی اداکار کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔

مجھے میڈم زیبا بہت پسند ہیں۔ بالی ووڈ میں اداکارہ وحیدہ رحمان اچھی لگتی ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہیروئن کے طور پر ایک اداکارہ کی زندگی بہت کم ہوتی ہے لیکن ہرفنکار کی زندگی کا ”پارٹ ٹو“ بھی ہوتا ہے۔ اس میں بھی وہ اپنے کام سے خود کو نمایاں رکھ سکتا ہے، مجھے تو بڑھاپے کے کردار ادا کرنے کا ویسے بھی بہت شوق ہے۔ دیکھیں چاندی کے بال کب ہویدا ہوتے ہیں۔


سوال : مستقبل کا کیا پلان ہے؟
عائشہ عمر : فنکار کبھی اپنی فیلڈ سے دور نہیں رہ سکتا۔ میں کسی نہ کسی روپ میں جلوہ گر ہوتی رہوں گی۔ میری آنے والی فلموں میں چند ایک زیر تکمیل ہیں۔ میں ہدایتکارامین اقبال کی فلم ”رہبرا“ میں کام کررہی ہوں جس میں میرے ساتھ احسن خان اور ماڈل سحرش خان بھی ہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :