نتاشہ علی : بیہودہ لباس نہیں پہن سکتی

میں اب تک اپنے آپ کو سنبھال کر چلی ہوں اس لئے 50 لاکھ یا ایک کروڑ روپے کی خاطر بیہودہ کپڑے نہیں پہنوں گی جو آج کل ہرفلم کی مانگ ہیں۔

جمعرات نومبر

Natasha ALi
زارا مصطفی:
”ڈولی“ کے کردار سے شہرت پانے والی نتاشہ علی نے 15 سال قبل کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا مگر دیکھتے ہی دیکھتے کئی ہٹ ڈرامہ سیریلز سے نہ صر ف نمایاں پہچان حاصل کی بلکہ ان کے کردار ان کی شناخت بھی بنتے گئے جن میں سب سے مشہور اور ہر دلعزیز ڈولی کا کردار ہے۔ ان کا کہنا ہے ”بشریٰ انصاری ، جاوید شیخ، صبا حمیداورثمینہ جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے درمیان ”ڈولی“ کا مقبولیت حاصل کرنا میری بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔

“ بہر حال ڈولی کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اب نتاشہ کے منچلے پرستار انہیں نتاشہ کی بجائے ”ڈولی“ ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ نتاشہ نے نصرت ٹھاکر کی پرائیوٹ پروڈکشن میں بننے والے ڈرامہ سیریل”جاڑے کا چاند“ میں پہلی مرتبہ اداکاری کے جوہر دکھائے۔

(جاری ہے)

اس کے بعدجیو ٹی وی کے پہلے ڈرامہ سیریل ”سفید پوش“ میں مرکزی کردار ادا کیا اور پھر”مس فٹ،دلہن،کریکٹر، ناٹک منڈی، شکن، کبھی پیار میں،مامتا،قرض، تیرے پیار میں، آذرکی آئے کی بارات،ڈولی کی آئی گی بارات، اور عینی کی آئے گی بارات جیسے مشہور زمانہ ڈراموں سے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔

دیگر مشہپوراداکاراؤں کی طرح نتاشہ نے ”روشن سویرا“ کے نام سے مارننگ شو کی میزبانی بھی کی مگر نتاشہ مسلسل ایک ہی کام کرنے سے اکتا جاتی ہیں اس لئے جلد ہی مارننگ شو کو خیر باد کہہ دیا۔
سوال: ویسے تو لوگ آپ کو اپنے نام سے کم اور کرداروں سے زیاہ پہچانتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے نتاشہ کیسی ہیں۔
نتاشہ علی: یہ بالکل سچ ہے لیکن ویسے نتاشہ ایک عام سی لڑکی ہوتی ہے۔

میں زیادہ دوست نہیں بناتی، سوشلائزنگ نہیں کرتی اس لئے جلد لوگوں سے گھلتی ملتی نہیں ہوں۔ سیٹ پر جن لوگوں کے ساتھ کام کرتی ہوں آہستہ آہستہ ان سے دوستی ہوجاتی ہے مگر جونہی پراجیکٹ ختم ہوتا ہے دوستی بھی گم ہوجاتی ہے۔ مجھے بچپن سے ہی دوستوں کے ساتھ گھومنے پھر نے کا شوق نہیں ہے۔ بچپن میں بھی صرف ایک دوست تھی اور کبھی کبھار اس کے ہاں چلی جاتی تھی۔

ابھی بھی چند ایک دوست ہی ہیں جن کے ساتھ میں ہلہ گلہ کرنا پسند کرتی ہوں اور شوبز میں تو میری کسی سے بھی قریبی دوستی نہیں ہے۔
سوال:اکلوتی اور لاڈلی بہن کابھائیوں کا کتنا رعب ہے؟
نتاشہ علی:رعب والی بات نہیں ، میں گھر بھر کی لاڈلی بھی ہوں اس لئے کبھی رعب جیسا ہتھیار پکڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
سوال : لاڈلے بچے من مانیاں بھی زیادہ کرتے ہیں؟ آپ کا بچپن کیسا گزار؟
نتاشہ علی:کیا یاد دلا دیا آپ نے․․․․․ میں کراچی میں پیدا ہوئی میرے ابو کاطارق روڈ پر گاڑیوں کا بزنس تھا جو ختم ہو ا تو انہوں نے ہاتھ کے بنے ہوئے قالین یوکے برآمد کرنا شروع کردیئے، پھر خود بھی وہاں چلے گئے ، میں گیارہ برس کی تھی جب ہمیں لاہور منتقل ہونا پڑا کیونکہ میرا ددھیال لاہور میں ہے، ابو کا خیال تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں باقی لوگ ہمارا خیال رکھے گے۔

بس اسی لے ابو کی غیر موجودگی کا میں نے خوب فائدہ اٹھایا اور امی کو خوب تنگ کیا۔ چونکہ میں بھائیوں کے ساتھ پلی بڑھی ہوں اس لئے اپنے آپ کو لڑکا ہی سمجھتی تھی۔نام بوائے تو نہیں تھا مگر لڑکوں کی طرح ہی باتیں کرتی تھیں۔میں یہ کھاؤں گا،جاؤں گا،میں کروں گا․․․․بھائیوں کے ساتھ سائیکلنگ کرتی تھی ، وقت بے وقت سائیکل لے کر نکل جاتی تھی۔ مجھے سائیکل چلانے کا اتنا شوق تھا کہ سائیکل چلانے کے شوق میں کھانا پینا بھول جاتی تھی۔

اس وجہ سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی کہ سائیکلنگ کا بھی وقت مقرر ہونا چاہیے لیکن خیر اسے میری من مانی کہہ سکتے ہیں۔
سوال: اتنی شرارتیں اور لاڈ پیار پڑھائی پر اثر اندا ز تو نہیں ہوا؟
نتاشہ علی: ایسی کوئی بات نہیں ہے، میں نے بیکن ہاؤس سے میٹرک پاس کے بعد لاہور کالج سے گریجوایشن کیا۔ مجھے پڑھائی کے وقت بھی اردگرد کی چیزوں میں زیادہ دلچسپی ہوتی تھی جب بھی سکول میں کوئی تقریب ہوتی، میں ڈانس اور ڈراموں میں ضرور حصہ لیتی تھی۔

میں اپنی ٹیچرز سے کہتی مجھے ہر سرگرمی میں شامل کریں۔ وہ جس چیز میں شامل نہ کرتیں، میں اس میں بھی ضد کرکے کود پڑتی تھی۔
سوال : اداکاری کا خیال کب آیا؟
نتاشہ علی: میں جب چھوٹی تھی تو سب سے کہا کرتی تھی کہ میں بڑی ہوکر ایکٹرس بنوں گی تو سب میری باتوں پر ہنستے تھے کیونکہ میں سید گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں ، اس لئے ہمارے ہاں لڑکی تو دور کی بات کوئی لڑکا بھی شوبز میں نہیں ہے۔

سکول کالج میں بھی یہی سوچ کر ایکٹنگ کرتی تھی کہ ایک دن ٹی وی پر کام کروں گی۔ فلموں کے بارے میں اس وقت بھی کبھی نہیں سوچا تھا اور ابھی بھی فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بہر حال ہوایوں کہ میں ٹین ایج کے زمانے میں مسز زیدی کے پارلر پر جایا کرتی تھی، وہ مجھے ہمیشہ کہتی تھی بیٹا اتنی پیاری ہو ماڈلنگ کیوں نہیں کرتی؟آہستہ آہستہ میں نے ان کی باتوں پرغور کرنا شروع کیا تو مجھے ان کا مشورہ اچھا لگا مگر امی نے صاف منع کردیا”یہ کیسے ہوسکتا ہے ہمارے خاندان کی کوئی لڑکی کیسے شوبز میں کام کرسکتی ہے، لوگ کیا کہیں گے “ وغیرہ وغیرہ․․․․ میں نے بھی ٹھان لی کہ میں ماڈلنگ کرکے ہی دم لوں گی، میں نے دودن تک کھانا پینا چھوڑ دیا ، خوب رونا دھونا ہوا․․․․ بالآخر ان کو اجازت دینا ہی پڑی۔

اس وقت میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ماڈلنگ جاری رکھوں گی، اس بات کو دو اڑھائی ہفتے گزرے تو پی ٹی وی کے سابق پروڈیوسر نصرت ٹھاکر کسی پرائیوٹ پروڈکشن کے لئے نئے چہروں کی تلاش میں تھے ، انہوں نے میرا شوٹ دیکھا اور سیلون سے میرا نمبر لیا اس وقت میرے پاس موبائل فون تو ہوتا نہیں تھا انہوں نے لینڈ لائن پر فون کی اور امی نے صاف منع کردیا۔ دوسری دفعہ پھر فون کیا تو اتفاقاََ مجھ سے بات ہوگئی اور میں نے جھٹ سے ہاں کہہ دیا۔

پھر وہی رونا دھونا ہوا اور اس بار بھی امی سے اجازت مل گئی۔ اس کے بعد تو سلسلہ شروع ہوا کہ مجھے اکیلے ہی کراچی منتقل ہونا پڑا۔
سوال : سنا ہے اجازت دینے کے باوجود آپ کی امی شوبز میں آنے سے خوش نہیں تھیں؟
نتاشہ علی: بالکل! شروع میں ایسا ہی تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ شوبز میں پتا نہیں کیسے لوگ ہوتے ہوں گے؟ کیسے کام ہوتا ہوگا؟ لیکن انہوں نے مجھے اپنی شرطوں پر کام کرتے دیکھا تو آہستہ آہستہ امی کو احساس ہوگیا میں واقعی اداکاری کے حوالے سے سنجیدہ ہوں ،اور اب پیچھے نہیں ہٹوں گی۔

اب مجھے شہرت بھی ملنے لگی تھی اس لئے امی نے واپس کراچی شفٹ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
سوال: جب ”ڈولی“ کا کردار ملا تو سوچا تھا اتنا مشہور ہوجائے گا؟
نتاشہ علی:نہیں۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ اتنا مشہور ہوجائے گا اور لوگ اصل زندگی میں بھی ”ڈولی“ ہی سمجھنے لگیں گے۔ مجھے جب ڈائریکٹر ندیم بیگ نے اس کردار کی پیشکش کی تو بتایا کہ فیصل آباد کی لڑکی کا کردار ہے اردو کو پنجابی کے انداز میں بولنا ہے، میں نے کردار کو سمجھا اور بول کر دکھایاکہ ”ڈولی کیسے بات کرے گی تو بیگ صاحب کو بہت پسند آیا۔


سوال : سنا ہے آپ کو دنیا دیکھنے اور گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے؟
نتاشہ علی: مجھے کام سے بریک نہ ملے تو میں ذہنی طور پر آؤٹ ہوجاتی ہوں حتیٰ کہ مسلسل 15 دن کام کرنا پڑے تو سمجھیں اگلے 15 دن تک بریک لوں گی اس لئے اڑھائی سے تین مہینے بعد ملک سے باہر چلی جاتی ہوں۔ ویسے تو گذشتہ 7,8 برسوں میں کافی دنیا گھوم لی ہے ۔

لیکن مجھے نیویارک بہت پسند ہے۔اس لئے بعض اوقات سال میں دو مرتبہ بھی نیویارک جانے کا موقع ملے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
سوال: شہرت پائی ، دنیا گھوم لی، شادی کے کیا ارادے ہیں؟
نتاشہ علی: فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے مگر گذشتہ کچھ عرصے سے گھر والوں نے شادی کے لئے زور دینا شروع کردیا ہے۔ میں ان سے کہتی ہوں ابھی تو میں 26 برس کی ہوں ، اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ میں نے شوبز میں اپنے آپ کو اتنا مصروف کرلیا ہے کہ یہ سب سوچنے کا مجھے وقت ہی نہیں ملتا۔


سوال: عام زندگی میں کیا لباس پسند کرتی ہیں؟
نتاشہ علی:میں ہر طرح کے کپڑے پہنتی ہوں لیکن ذاتی طور پر مجھے مغربی طرز کے ملبوسات زیادہ پسند نہیں ہیں۔ ویسے بھی بہت عرصہ ہوگیا میں نے کبھی پاکستان سے شاپنگ نہیں کی اور انٹرنیشنل برانڈز ہی لیتی ہوں،مجھے تمام برائٹ کلر ز یعنی شوخ رنگ پسند ہیں اور مجھے سوٹ بھی کرتے ہیں۔

ٹی وی پر میک اپ اگر کروں تو لپ کلر برائٹ ہی لگاتی ہوں، مجھے پھیکے اور دھیمے رنگ اچھے نہیں لگتے۔ اس کے ساتھ میں ڈیزائن اور کٹس کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتی۔
سوال: اپنی بیوٹی اور فٹنس برقرار رکھنے کے لئے کیا کرتی ہیں؟
نتاشہ علی:میں کبھی فیشل وغیرہ نہیں کروایا ہاں میں پانی بہت زیادہ پیتی ہوں۔ جب مجھے محسوس ہو کہ وزن بڑھ رہا ہے تو روٹی اور چاول چھور دیتی ہوں۔

ورک آؤٹ کے لئے فرصت نہیں ملتی، صرف ڈائیٹ کنٹرول کرکے وزن کم کرلیتی ہوں۔
سوال: کھانے کا شوق ہے یا بنانا بھی آتا ہے؟
نتاشہ علی: مجھے امی نے تمام روایتی کھانے بنانا سیکھائے ہیں اس لئے جب موڈ ہو کوکنگ بھی کرلیتی ہوں مگر بہت زیادہ نہیں۔
سوال: فلمیں اور میوزک تو پسند ہوگا؟
نتاشہ علی: مجھے میوزک کچھ خاص پسند نہیں ۔

میں صرف میوزک اس وقت سنتی ہوں جب میں خود گاڑی ڈرائیور کرتی ہوں، وہ بھی صرف لتا اور محمد رفیع کے پرانے گانے ہی سنتی ہوں۔ آپ کو حیرانی ہوگی میرے موبائل میں بھی کوئی نیا گانا موجود نہیں ہے۔ جہاں تک فلموں کی بات ہے میں پاکستانی فلمیں نہیں دیکھتی اس لئے بالی ووڈ میں ٹائی ٹینک، جمانجی جبکہ بالی ووڈ میں مادھوری اور سری دیوی کی ہر فلم میری فیورٹ ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments