فضا علی: شوہروں کی کڑی نگرانی کریں

اداکارہ فضا علی کہتی ہیں آج کل لڑکیاں پیار میں اندھی ہوجاتی ہیں اور افیئرز چلاتے ہوئے یہ بھی نہیں دیکھتیں کہ کون شادی شدہ ہے یا کس کا گھر خراب ہورہا ہے؟

پیر 13 نومبر 2017

ہما میرحسن:
بڑی بڑی متکلم آنکھیں اور دلکش سراپے کے ساتھ اجلی صبح جیسی رنگت ہر کردار میں ایک انوکھا انداز لئے فضا علی پاکستانی ڈرامہ سکرین کا ایک نامور چہرہ ہے۔ ان کی رعنائی ان کے کرداروں سے عیاں ہوتی ہے ۔ حسین اداکارہ فضا پانچ اکتوبر 1980 کو بنگلہ دیش میں پیدا ہوئیں۔ 199 میں ا نہوں نے ماڈلنگ کا آغاز کیا اور اسی دوران ان کی پہلی شادی ہوئی ناکام رہی۔

کچھ برس بعد انہوں نے ڈرامہ سیریل ”مہندی“ سے باقاعدہ اداکاری کا آغاز کیااور دیکھتے ہی دیکھتے ڈرامہ انڈسٹری پر چھا گئیں۔ ان کے معروف ڈراموں میں ”لو لائف اور لاہور ،وہ صبح کب آئے گی، موم، سسرال گیندا پھول ، اپنے ہوئے پرائے، پیاری شمو، شیشے کے محل، یادیں ، کان پور سے کٹاس تک، دشتِ محبت زندگی کی راہ میں محبت وہم ہے ۔

(جاری ہے)

2007 میں انہوں نے لاہور کے ایک بزنس میں فواد حسن سے شادی کی اور کراچی سے لاہور منتقل ہوگئیں۔

فضا ماڈلنگ اور ایکٹنگ ، فیشن ڈیزائینگ کے علاوہ ٹی وی اینکر بھی ہیں۔ آج کل وہ ایک ٹی وی چینل پر گیم شو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
سوال : آپ شوبز کی دنیا میں کیسے آئیں؟
فضا علی: میں بچپن سے ہی شوبز اور فیشن انڈسٹری سے وابستہ ہونے کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ میں ابھی زیر تعلیم تھی کہ مجھے ایک ٹی وی کمرشل میں ماڈلنگ کی پیشکش ہوئی جو میں نے قبول کرلی۔

جب یہ کمرشل آن آئیر ہوا تو شوبز کے حلقوں میں بھی میرا تعارف ہوگیا اور مجھے پی ٹی وی کے سینئر پروڈیوسر کاظم پاشا نے اپنے ڈرامہ سیریل ”تھوڑاآسماں“ میں کاسٹ کرلیا۔ جب یہ ڈرامہ آن ائیر ہوا تو میری ماڈلنگ کی طرح میری اداکاری بھی لوگوں نے پسند کی اور مجھے مزید ڈراموں میں کام کی آفرز ہونے لگیں مگر میں نے دھڑا دھڑ ڈرامے سائن نہیں کئے بلکہ صرف ان ڈراموں میں کام کیا جن کے موضوعات اور ان میں میرے کردار اچھے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ میرے ٹیلی کاسٹ ہونے والے ڈراموں کی کامیابی کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ اب تک میرے 25 سے زائد ٹی وی ڈرامے آن ائیر جاچکے ہیں جن میں سے ”جل پری، میری بہن مایا، آرزو جینے کی تو نہیں ، دیا جلے، میری صبح کا ستارہ اور اشک، میں میری اداکاری بہت ہی پسند کی گئی۔
سوال: آپ نے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا، پذیرائی بھی ملی پھر ماڈلنگ چھوڑنے کی کیا وجہ بنی؟
فضا علی: میں سمجھتی ہوں کہ پہلے بہت اعلیٰ اور مہذب ملبوسات کو فیشن شوز کا حصہ بنایا جاتا تھا مگر اب ایسا نہیں رہا ۔

میں عریاں ملبوسات میں ماڈلنگ نہیں کرسکتی اور نہ مجھے اس میں کوئی پروفیشنل ازم دکھائی دیتا ہے۔ میں ڈیزائنر سے اپنے ملبوسات تبدیل کروانے کے لئے لڑ نہیں سکتی اور نہ ہی میں ان کی باتیں سن سکتی ہوں کہ میں نان پروفیشنل ماڈل ہوں۔ ریمپ پر واک کرنا میری زندگی کے خوشگوار لمحوں میں سے ایک ہے اور سچ پوچھیں تو میں فیشن شوز کو بہت یاد کرتی ہوں۔

میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا کہ میں مختصر لباس پہنوں لہٰذا ریمپ سے دور ہوگئی۔
سوال: فیشن ڈیزائننگ میں بھی آپ کا نام ہے ، کیا ڈریس ڈیزائننگ کی تربیت لی تھی؟
فضا علی: نہیں دراصل میری امی فیشن ڈیزائننگ کرتی تھیں اور انہیں دیکھ کر ہی مجھے ڈریس ڈیزائننگ کا شوق ہوا۔ میرا خیال ہے کہ فیشن ڈیزائننگ ایک آرٹ ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں چنانچہ میں باقاعدہ تربیت کے کر اس فیلڈ میں آئی ۔

میں نے اپنے کیرئیر میں بہت محنت اور لگن سے یہ مقام حاصل کیا ، کوئی شارٹ کٹ استعمال نہیں کیا البتہ ایکٹنگ ماڈلنگ، ایکٹنگ اور فیشن میں میرا سب سے پسندیدہ شعبہ ایکٹنگ ہی ہے ۔ میں ایک کامیاب اداکارہ بننا چاہتی ہوں۔
سوال : کیرئیر کے عروج پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا درست فیصلہ رہا؟
فضا علی:فواد سے شادی کا فیصلہ میری زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک ہے ۔

میں خوش قسمت ہوں مجھے فواد جیسا شوہر ملا۔ یہ میرے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں اور میری خواہشات کا احترام بھی کرتے ہیں۔
سوال : سنا ہے کہ انہوں نے آپ کو شوبز میں کام کرنے سے منع کیاتھا؟
فضا علی: یہ بات تو قصہ ماضی ہوگئی ۔ دراصل بیٹی کی پیدائش کے بعد فواد نے مجھے انڈسٹری چھوڑنے کے لئے کہا تھا جس پر میں نے انہیں کہا کہ اپنے زیر تکمیل پراجیکٹ مکمل کرنے کے بعد شوبز چھوڑدوں گی بعد ازاں انہوں نے مجھے کام کرنے کی اجازت دیدی۔

اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ میں شوبزچھوڑ رہی ہوں اور نہ میرا کوئی ایسا ارادہ ہے ۔ شوہر کی جانب سے مجھ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔
سوال : کیا آپ نے بھی خوبصورتی بڑھانے کیلئے سرجری کا سہارا لیا ہے؟
فضا علی: نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ درحقیقت میرے آگے کے دو دانت ڈبل تھے ، انہیں ٹھیک کروانے کی کوشش کی مگر مسائل بڑھ گئے کھانا کھاتے ہوئے بھی مجھے تکلیف ہونے لگی کیونکہ دانتوں میں بریسلز کم عمر میں لگائے جاتے ہیں اور میں نے کیریئر میں آنے کے بعد لگائے تھے۔

بہرکیف ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پھر مجھے دو دانت نکلوانا پڑے جس کے بعد میرا منہ بھی پتلا ہوگیا۔پہلے چہرہ کافی بڑا لگتا تھا اب چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔ اکثر اداکارائیں چہرے کی خوبصورتی کے لئے ایک دو دانت نکلوادیتی ہیں جس سے چہرے کے خدوخال میں واضح فرق پڑجاتا ہے۔ اداکارہ کرینہ کپور نے بھی اسی سرجری کا سہارالے رکھا ہے۔ میں مصنوعی خوبصورتی کی قائل نہیں ہوں۔

میں اپنے چہرے کی تروتازگی کے لئے سبزیاں کھانے کے علاوہ دودھ اور دن میں 15 گلاس پانی کے پیتی ہوں۔
سوال : اپنے ایک شو کی ریکارڈنگ کے دوران آپ نے چیخنا چلانا شروع کردیا تھا، کیا واقعہ تھا؟
فضا علی: واقعہ کچھ یوں تھا کہ میں اپنا شو ریکارڈ کروارہی تھی کہ میرے دانت میں سخت تکلیف ہوگئی اور میں درد سے چلا اٹھی۔

جس کے بعد فوری طور پر ڈاکٹر کو بلایا گیا جس نے ایک انجکشن کیا۔انجکشن کا نام سن کر ہی میری گھگی بندھ گئی۔ بالآخر ٹیم ممبر کے اصرار پر میں ٹیکہ لگوانے پر رضا مندہوئی۔ جب ڈاکٹر نے انجکشن لگانے کی کوشش کی تو میری چیخوں پر سارا سٹاف ہی قہقہے مارنے لگا،بیچارہ ڈاکٹر جب بھی ٹیکے کی سوئی آگے بڑھاتا تو اسے میری چیخ اور لمبی چھلانگ کا سامنا کرنا پڑتا جس پر ایک ٹیم ممبر نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی تو پاس ہی کھڑے سینئر ممبر نے اسے ایسا کرنے سے باز رکھا۔

قصہ مختصرباربار کی کوششوں کے باوجود ڈاکٹر انجکشن لگانے میں ناکام رہا۔ بس اس سارے قصے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
سوال : آپ کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے وہاں کن فنکاروں سے متاثر ہیں؟
فضا علی:شبنم اور رونا لیلیٰ ․․ جن کے نام فلم کی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے۔ میں ان کی تمام فلمیں اور گیت سن رکھے ہیں اور آج بھی یہی میرا سرمایہ ہیں۔

ان دونوں فنکاراؤں نے پاکستان سے نام کمایا، ان کی حقیقی شناخت پاکستان ہی ہے۔ انہیں کون فراموش کرسکتا ہے۔ یہاں میری پسندیدہ اداکاراؤں میں بشریٰ انصاری اور ثانیہ سعید سر فہرست ہیں اور پسندیدہ اداکاروں میں راحت کاظمی، طلعت حسین، ہمایوں سعید، فیصل قریشی اور عدنان صدیقی شامل ہیں۔
سوال:آپ کو اپنا کونسا ڈرامہ یا کردار زیادہ پسند ہے؟
فضا علی: مجھے اپنے تمام ڈرامے اور کردار ہی پسند ہیں تاہم ڈرامہ سیریل ”مہندی“ میں اپنا کردار مجھے بہت پسند ہے۔

میری کوشش ہوتی ہے کہ مجھے جو کردار دیا جائے خود کو اسی میں ڈھال لوں یہی وجہ ہے کہ لوگ میری اداکاری بہت پسند کرتے ہیں۔
سوال: کس فیشن آئیکون کو خود سے تشبیہ دیں گی؟
فضا علی: میرے خیال سے بالی ووڈ اداکارہ اور ماڈل سشمیتا سین سے میرا کچھ سٹائل ملتا ہے۔
سوال : غصے پر کتنا کنٹرول ہے؟
فضا علی: بالکل نہیں ہے، میں غصے میں زور سے چیخ مارتی ہوں اور پھر رونے لگ جاتی ہوں۔


سوال: آپ کے خیال میں کیا پاکستان کے ٹی وی ڈرامہ کا معیار بہتر ہوا ہے یاگرا ہے؟
فضا علی:ماضی میں پاکستان کا ٹی وی ڈرامہ بہت معیاری تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ڈراموں کے سکرپٹ مضبوط ہوتے تھے۔ اسی لئے میں پرانے ٹی وی ڈرامے شوق سے دیکھتی ہوں تاکہ اپنے کام میں بہتری لاسکوں ، پچھلے دنوں میں نے ایک پرانا ٹی وی ڈرامہ دیکھا، یہ ایک سیریل تھی جس کے رائٹر انور مقصود ہیں اور بابرہ شریف نے اس میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

یہ سیریل اس قدر دلچسپ ہے کہ میں نے پوری سیریل ایک ہی دن میں دیکھی۔ آج صورتحال مختلف ہے ، زیادہ تر ٹی وی ڈراموں کا موضوع رومانس ہوتا ہے۔ اکثر ڈراموں میں تو دو بہنوں کا ایک لڑکے کے ساتھ رومانس چل رہا ہوتا ہے۔ ایک ڈرامے میں تو ایک جوان لڑکی اپنے والد کے ساتھ بدتمیزی کررہی تھی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ٹی وی ڈراموں میں تفریح کے ساتھ ساتھ کوئی اچھا پیغام بھی ہونا چاہیے ۔ ایسی چیزیں نہیں دکھانی چاہئیں جو ہماری معاشرتی اقدار کے منافی ہوں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :