ہمارے ڈرامے پھٹیچر ہیں

معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین کہتی ہیں فی زمانہ مزاحیہ ڈراموں کا انداز بالکل پھٹیچر ہے سکرپٹ میں بہت غلط جملے استعمال ہوتے ہیں حتیٰ کہ گالیاں بھی دی جاتی ہیں۔

پیر 4 دسمبر 2017

محمد اظہر
نامور ادیبہ زاہدہ حنا کے بقول حسینہ ہماری ان لکھنے والیوں میں ہیں جنہوں نے ٹیلی ویژن کے لیے ایسے مقبول سیریل لکھے جن کی ساری اُردو دنیا میں دھوم رہی اور آج بھی لوگ ان کے ڈراموں کو یاد کرتے ہیں پاکستان کی طرح وہ ہندوستان میں بھی بہت مشہور ہیں اور لوگ تحفے میں ان کے سیریل کی سی ڈی فرمائش کرتے ہیں۔ان کے اورآج کے بنیادی ڈراموں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حسینہ مرزا عظیم بیگ چغتائی کی شہروزی کا کردار اُبھارتی ہیں اور گھر سے نکالی جاتی ہیں پاکستان کے ممتاز مصنفہ مکالمہ نگار اور ڈرامہ نویس حسینہ معین 20 نومبر1941 کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں۔

حسینہ معین نے ابتدائی تعلیم بھارت سے حاصل کی۔تقسیم پاک و ہند کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان منتقل ہوگئیں۔

(جاری ہے)

جہاں سے انہوں نے جامعہ کراچی سے 1963 میں تاریخ ایم۔اے کیا گذشتہ چھ عشروں کے دوران حسینہ معین نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے انتہائی کامیاب ڈرامے لکھے ہیں بلکہ آج بھی ان کو سپر ہٹ ڈراموں کی علامت سمجھا جاتا ہے ان کے معروف ترین ڈراموں میں شہروزی،زیر زبر پیش،آنسو،بندش ،آئینہ جیسے مشہور ڈرامے شامل ہیں ڈرامہ نویسی کے ساتھ ساتھ حسینہ معین نے کئی فلموں کے مکالمات بھی لکھے ،انہوں نے راج کپور کی درخواست پرہندی فلم حنا کے مکالمات لکھے تھے۔

حسینہ معین” پل صراط کا سفر“کے نام سے ایک ناول بھی لکھ چکی ہیں۔حسینہ معین ایک پاکستانی فلم ”کہیں پیار نہ ہوجائے“ کی کہانی بھی لکھ چکی ہیں۔اس سے پہلے وہ پاکستانی فلم”نزدیکیاں “اور وحید مراد کی فلم ”یہاں سے وہاں تک“ کے مکالمات بھی لکھ چکی ہیں حسینہ معین کے پسندیدہ لکھاریوں میں خلیل جبران اور بہت سے انگلش رائٹرز شامل ہیں جبکہ ان کے پسندیدہ شاعرہ میں غالب ،میر درد میر،سودا،داغ،فراق،مجاز،احمد فراز،پروین شاکر،امجد اسلام امجد اور فیض شامل ہیں حسینہ معین کو موسیقی سے بے حد لگاؤ ہے وہ شہنشاہ غزل مہدی حسن خاں ،لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے کو پانے پسندیدہ گلوکار قرار دیتی ہیں،حسینہ معین کی فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں پاکستان حکومت کی طرف سے صدارتی اعزاز تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا ہے۔


سوال:آپ کا بچپن کیسا تھا؟
حسینہ معین: میرا بچپن عام بچوں کی طرح تھا۔ہم کل 5 بہنیں اور3 بھائی تھے،میں اپنے والدین کی چوتھی اولاد تھی میرے والد صاحب کو بیٹیوں سے بہت محبت تھی نانا،نانی،چچا،چچی،ماموں،خالائیں بھی بہت پیار کرنے والے لوگ تھے،میرے والد آرمی میں سویلین سائیڈ پر تھے قیام پاکستان کے موقعہ پر ان کو آپشن دیا گیا تھا کہ آپ پاکستان میں رہیں گے یا انڈیا میں؟تو میرے والد نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا ہمیں بذریعہ ٹرین بمبئی بھیجا گیا گارڈ ہمارے ساتھ تھے ہم لوگ چھوٹے چھوٹے تھے۔

بڑا مزا آرہا تھا ٹرین کی چھکا چھک کے ساتھ ہم بچوں کا جوش و خروش دینی تھا،ہم بھاگ کبھی ایک سیٹ پر جابیٹھتے اور کبھی دوسری پر۔ہمارے لبوں پر ایک ہی نعرہ تھا پاکستان زندہ باد جس کو سن کر ماں کی چھلکتی آنسو کے ساتھ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جاتی۔ماں کو اپنے عزیزوں سے بچھڑنے کا دکھ تھا اور ہمیں اپنے آزاد وطن پاکستان جانے کی خوشی میرا پہلا سفر میری پہلی ہجرت ،میری پہلی محبت میرا پاکستان ٹھہرا۔

خیر!پاکستان پہنچنے کے بعد والد صاحب کی ٹرانسفر پنڈی میں ہوئی تھی سارا شہر خالی تھا ہمیں ایڈمنسٹریشن نے کہاآپ جو مکان کہے گے ہم کھول دیں گے لیکن والد صاحب رضامند نہ ہوئے کیونکہ اس میں لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا تو شروع میں آکر ہوٹل میں رہے بعد میں گھر کرائے پر لے لیا یہاں جو پڑوسی بچے ملے ان کے ساتھ کھیل کود میں وقت اچھا گزر ا۔
سوال:تعلیمی سلسلہ کہاں سے شروع ہوا؟
حسینہ معین:میں نے پنڈی سکول میں جانا شروع کیا لیکن جب میرے والد صاحب کا تبادلہ لاہور میں ہوگیا تو میں بھی ان کے ساتھ یہاں منتقل ہوگئی سو میٹرک میں نے ماڈل ٹاؤن سکول لاہور سے کیا جس کے بعد ہم کراچی چلے گئے شروع سے ہی مجھے اُردو انگریزی لٹریچر میں دلچسپی تھی اس لیے ساتھ ساتھ ادبی ذوق بھی پروان چڑھتا رہا لیکن ماسٹر میں نے جنرل ہسٹری میں کیا اور ساتھ بی ایڈ بھی کرلیا۔

میں آج بھی سمجھتی ہوں کہ زمانہ طالب علمی میری زندگی کا بہترین دور تھا۔کالج میں ’میں بے حد شریر تھی بلکہ مجھے ڈیول یعنی شیطان کہا جاتا تھا ۔ہماری پرنسپل مسز رشید احمد بہت اعلیٰ ظرف خاتون تھیں اکثر میری شکایت ہوجاتی اور مجھے پرنسپل آفس میں بلالیا جاتا وہ مجھے دیکھ کر کہتی تم پھر آگئیں لیکن کوئی سزا نہ دیتی ۔وہ کہتی یہ بچی اتنی معصومیت سے شرارت کرتی ہے کہ کچھ کہنے کو جی نہیں کرتا۔


سوال:لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟
حسینہ معین:چونکہ ساٹھ کے عشروے کے انتدائی برسوں میں ٹی وی تو آیا تھا نہیں اس لیے ہم ریڈیو ہی سنا کرتے تھے ۔جہاں تک لکھنے کی بات ہیں تو کالج کے زمانے میں ہی لکھنے کا موقعہ ملا تب میں سیکنڈ ائیر کی طالبہ تھی خوش قسمتی سے معروف ادیب شان الحق کی بیگم سلمٰی آپا ہماری اُردو کی لیکچرار تھیں ا ور انہیں اندازہ تھا کہ میری اُردو بہت اچھی ہے۔

جب ریڈیو پاکستان سے طلبہ کا جشن ثمثیل ہوا تو ریڈیو حکام کی جانب سے ہمارے کالج سے 20 منٹ کا ایک ریڈیو مانگا گیا۔اسے میری خوش قسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ سلمیٰ آپا نے مجھے ڈرامہ لکھنے کو کہا۔پہلے پہل میں ممیائی کہ مجھے لکھنا ہی نہیں آتا لیکن سلمیٰ آپا کے اصرار پر قلم اُٹھا ہی لیا میں نے کالج میں بیٹھ کر ہی دو تین دن میں ایک کامیڈی ڈرامہ لکھ کر سلمیٰ آپا کے حوالے کردیا۔

جب معروف براڈ کاسٹر ناصر صاحب نے تحریر پڑھی تو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ وہ سکے انہوں نے اس ڈرامے کو خود پرڈیوس کیا اوریوں میرے پہلے ڈرامے کو ہی انعام مل گیا۔اس کے بعد سلسلہ چل نکلا اور بی اے تک میں ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے لکھتی رہی،یونیورسٹی جاکر یہ سلسلہ اس لیے رک گیا کے میں پوری توجہ ایم اے کی تعلیم پر مرکوز کرچکی تھی انہی دنوں میں جب ٹی وی آیا تو ریڈیو والوں نے مجھے ”بھول بھلیاں“کو ٹی وی ڈرامے میں ڈالنے کو کہا میرا لکھا ہوا یہ ڈرامہ ریڈیو پر بھی مقبول ہوا تھا اور جب یہ ٹی وی پر پیش کیا گیا تو لوگوں نے دوبارہ اسے پسند کیا۔

اس کے بعد میں نے عید کا خصوصی کھیل۔”ہیپی عید مبارک“ لکھا،یہ رومینٹک کامیڈی تھی اس میں نیلو فر،علیم اور شکیل تھے میری خوش قسمتی کہ یہ ڈرامہ بھی کامیاب رہا بلکہ ڈائزیکٹر نے مجھے 200 روپے بطور انعام بھی دئیے۔اس کے بعد مجھے عظیم بیگ چغتائی کی کتاب پر جدید دور کے مطابق سیریل لکھنے کو کہا گیا تو میں نے اسے شہروزی کے نام سے لکھا اس زمانے میں یہ ڈرامہ بہت مشہوراور کامیاب ہوا بلکہ شہروزی کا ایک جملہ”میں بہت برا آدمی ہوں“ آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے۔


سوال:آپ کے خیال میں پاکستانی ڈرامے کا بہترین دور کون سا تھا؟
حسینہ معین:میرے تجربے کے مطابق ٹی وی آنے سے لے کر90 کی دہائی کے کچھ سال تک سب ٹھیک چلتا رہا لیکن اس کے بعد حالات بگڑنا شروع ہوگئے میں نے ضیاء الحق کے دور میں ”پرچھائیاں“لکھا تھا لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ اگر آپ ڈھکی چھپی بات سلیقے سے کریں گے تو وہ بری نہیں لگتی۔


سوال:کامیابی کے حصول میں کبھی کوئی مشکل پیش آئی؟
حسینہ معین:میں صاف بات کہوں گی مجھے ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے کامیاب بنایا میں نے اس کے لیے کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔اپنے پورے کیرئر می کبھی کسی کے پاس سکرپٹ لے کر نہیں گئی اللہ کا بڑا کرم ہے کہ مواقع مجھے خود ہی ملتے چلے گئے جن دنوں میں کالج میں تھی تو ریڈیو کی طرف سے پیغام آگیا۔

یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تو ٹی وی والوں نے بلالیا اس طرح جب شہروزی ختم ہوئی تو مجھے ایک اور ناول کی ڈرامائی تشکیل کرنے کو کہا گیا میں نے کہا کہ میں ایک اور اوریجنل سٹوری لکھنا چاہتی ہوں۔سکرپٹ پروڈیوسر نے کہاکہ ٹی وی پر ہفتے میں ایک ڈرامہ لکھا جاتا ہے،وہی ریکارڈ ہوتا ہے اگر آپ درمیان میں رُک گئیں تو کیا ہوگا؟تو میں نے کہا انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا ۔

پھر میں نے ان کو” کرن کہانی“ لکھ کر دی جسے ناظرین نے خوب سراہا،اس کے بعد میں نے ڈرامہ سیریل”پرچھائیاں“ لکھا اور اس کی پہلی قسط دیکھی تو مجھے اس کی پروڈکشن اور کاسٹ بالکل پسند نہیں آئی ۔حالانکہ یہ ڈرامہ ایک نامور پروڈیوسر نے بنایا تھا بہر حال میں نے دل برداشتہ ہوکہ مزید لکھنے سے انکار کردیا۔پی ٹی وی کی مینیجمنٹ کے لیے میرا رد عمل غیر متوقع تھا لیکن اُس زمانے میں لوگ زبان اور اصولوں کے بڑئے پکے تھے انہوں نے مجھے صاف صاف بات کرنے کو کہاکیونکہ اس پراجیکٹ کا اعلان ہوچکا تھا اور پی ٹی وی کے لیے یہ ساکھ کا مسئلہ تھا لہٰذا میں نے ان کی مجبوری دیکھتے ہوئے شرط عائد کردی کہ اگر یہ ڈرامہ سیریل شیریں اور محسن بنائیں گے تو میں کہانی لکھنے کے لیے تیار ہوں میری یہ شرط مانتے ہوئے نہ صرف ان دونوں لوگوں کو یہ ٹاسک دیا گیا بلکہ اسلام آباد سے ساحرہ کاظمی اور راحت کاظمی کو بھی بلوایا گیا حالانکہ اس وقت ان کی بیٹی بمشکل چار یا پانچ مہینے کی تھی۔

اللہ کی مہربانی سے پرچھائیاں بہت کامیاب رہا مجموعی طور پر مجھے کام کے دوران کم ہی پریشانیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سوال:اُس دور میں کن ڈرائریکٹر اور پروڈیوسر کے ساتھ کام کرنا آپ کی ترجیح ہوا کرتا تھا؟
حسینہ معین:محسن اور شہری ،شہزاد خلیل،ساحرہ کاظمی اورعنا شیخ کے ساتھ مجھے کام کرنے میں بڑی آسانی ہوتی تھی شروع میں میں نے زیادہ کام محسن علی اور شیریں کے ساتھ زیادہ تر ڈرامے بنوائے۔

انکل عرفی،پرچھائیاں بندش اوردھند وغیرہ انہیں کے ساتھ بنائے گئے پھر بدقسمتی سے شیریں بیمار پڑگئی اسے کینسر ہوگیا جس کے بعد وہ لندن چلی گئی شیریں کی وفات کے بعد میں نے سال بھر کام نہیں کیا ۔ایک مرتبہ شعیب منصور نے مجھ سے کہا کہ میں ان کے لیے کچھ لکھوں۔لیکن مجھے فکر لاحق ہوگئی کہ یہ نو آموز لڑکا پتہ نہیں میری کہانی کے ساتھ انصاف بھی کرئے گا کہ نہیں؟بہر حال شعیب منصور کے پرزور اصرار پر میں نے لکھنے کی حامی بھری تو شعیب نے باقاعدہ سجدہ شکر ادا کیا پھر میں نے شعیب کے لیے ”ان کہی“لکھا جسے بنانے میں محسن صاحب بھی شعیب کے ساتھ شامل تھے۔

دراصل مجھے اندازہ تھا کہ شعیب منصور جیسے جونئیر ڈائریکٹر کا نما سن کر شہناز شیخ تذبذب کا شکار ہوجائیں گی لہٰذا ان کی تسلی کے لیے مجھے محسن صاحب کو بھی ساتھ رکھنا پڑا اور پھر میں نے شہزاد خلیل صاحب کے ساتھ ڈرامہ”تنہائیاں“کیا،اُس زمانے میں میرے ساتھ یہ بات بہت عجب رہی کہ میرے ساتھ دو ڈائریکٹر کام کرتے تھے اور میں اکیلی لکھتی تھی اتنا اتفاق ہونا بہت کم ہوتا ہے ”ان کہی“کو شعیب اور محسن نے ڈائریکٹ کیا پھر ان لوگوں کا تبادلہ ہوگیا” تنہائیاں“ شہزاد خلیل صاحب نے کیا پھر ساحرہ کے ساتھ” دھوپ کنارے“ اور ”آہٹ“ کیا۔

”آہٹ خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق تھا اور اس وقت اس اصطلاح کا استعمال کرنا آسان نہ تھا ایک تنظیم کی خواتین نے مجھ سے کہا کہ آپ نے فحش نگاری کی ہے۔جواباً میں نے کہا کہ اگر حاملہ خاتون کا دکھانا فحش نگاری ہے تو پھر پوری دنیا ہی فحش ہے۔اس کے بعد نجم الحسن کے ساتھ تاریخی کھیل ”تان سین“ کیا جو بہت کامیاب رہا۔
سوال:کہا جاتا ہے کہ آپ کے ڈراموں کے سپر ہٹ ہونے کی ایک وجہ کاسٹنگ بھی ہے کہاں سے آپ اپنی پسند کا ہیرو اور ہیروئین ڈھونڈلیا کرتی تھی؟
حسینہ معین:مجھے اس بات کا اندازہ بہت پہلے ہوچکا تھا کہ ڈرامے کہ مرکزی کرداروں کی شخصیت اگر کہانی سے میل نہ کھائے تو یہ کبھی ہٹ نہیں ہوتا آج بھی کئی اچھے ڈرامے”مس کاسٹنگ“یعنی غیر موزوں فنکاروں کی وجہ سے رد کردیے جاتے ہیں۔

میں اپنے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے ساتھ مل کر کہانی کی موزونیت کو دیکھتے ہوئے ہر بار ایک نئی لڑکی ڈھونڈ کر لاتے تھے۔یہ کام بہت مشکل تھا لیکن چونکہ ہمارے اندر کچھ نیا کرنے کی لگن ہوا کرتی تھی اس لیے ہم کسی طرح یہ کام کر ہی گزرتے تھے اس مقصد کے لیے ہم لڑکی کے گھر جاکر اس کے گھر والوں کی خوشامد کرکے ان کو رضامند کرکے لاتے تھے،شہناز شیخ کو میں نے دیکھا ہوا تھا وہ میر ی بیت بڑی فین تھی،میں اور شعیب منصور ان کے گھر پہنچ گئے ۔

جب میں نے ”ان کہی“کے لیے اسے کہا تو اس نے انکار کردیا ۔میں نے کہا کہ اگر تم یہ کریکٹر نہیں کروں گی تو ہم ”ان کہی“بنائیں گے ہی نہیں۔میرے بھرپور اصرار کرنے کے بعد شہناز نے ڈائریکٹرکا نام پوچھا تو میں نے شعیب کے ساتھ محسن علی کانام لے لیا اب شہناز کے لیے انکار کرنا مشکل ہوجائے گا۔دراصل محسن علی صاحب کا نام اور کام اتنا شاندار تھا کہ وہ فوراً راضی ہوگئی اس طرح شہلا احمد کو”انکل عرفی“ میں سامنے لائے شہلا ہمارے جاننے والوں کی بچی تھی لیکن اسے ٹی وی پر لانے کے لیے شہلا کے والد کی بہت خوشامد کرنا پڑی۔

اس طرح نادیہ خان کی امی کو میں نے ڈرامہ ”پل دو پل“ کے لیے فون کرکے راضی کیا،دراصل نادیہ کے ابو فوج میں افسر تھے ان کی امی تو جلد راضی ہوگئیں لیکن نادیہ کے والد کی اجازت کے بغیر ہاں نہ نہیں کہہ سکیں۔تاہم اس شام نادیہ کی امی کا فون آگیا کہ نادیہ کے والد کہہ رہے ہیں کہ اگر حسینہ کا ڈرامہ ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں خدا خدا کرکے اجازت ملی تو میں نے ان کے مان کو برقرار رکھنے کے لیے نادیہ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھا تاکہ اسے کوئی پریشانی نہ ہونے پائے تب ہم لوگ ایک فیملی کی طرح کام کرتے تھے اور آج کل پیسے اور سفارش کے زور پر کام چل رہا ہے ۔

اُس دور میں مجھے شہناز شیخ اور شہلا احمد بہت پسند تھیں۔
سوال:ڈرامہ سیریل”تنہائیاں نے سلسلے“ پر بہت تنقید ہوئی کیا اس سیکوئل کے انجام کا پہلے سے اندازہ نہیں تھا؟
حسینہ معین:اس ڈرامے کے سیکوئل کے حوالے سے مرینہ نے مجھ سے اجازت مانگی تھی پہلے تو میں اسے منع کرتی رہی کہ ایک دفعہ جو چیز ہٹ جائے اسے دوبارہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ وہ دوبارہ ایسی نہیں بنتی سیکوئلز کو ہمیشہ لوگ اسی تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہیں ا ور کڑے معیار پرپرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

خیر وہ بضدرہی کہ اسے ہر حال میں اس کا سیکوئل بنانا ہے۔مرینہ کے اصرار پر میں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ تم کرنا ہی چاہتی ہو تو اس کے لیے کوئی بہت اچھا ڈائریکٹر لو کیونکہ سلسلے کے ڈائریکٹر شہزاد خلیل صاحب نے اپنے دور کے بڑے ڈائریکٹر تھے۔انہوں نے بڑی مہارت سے اس ڈرامے کو سنبھالا لیکن تم اس کو سنبھال نہیں پاؤ گی۔خیر!انہیں دنوں مجھے ملک سے باہپر جانا تھا سو میں اس کو زیادہ وقت نہ دے پائی اور چند ابتدائی اقساط مرینہ کے حوالے کرکے باہر چلی گئی ۔

میری غیر موجودگی میں ان لوگوں نے ڈرامہ رائٹر محمد احمد سے باقی اقساط لکھوائیں اور خود ہی ڈائریکٹ بھی کرلیا۔بس پھر کیا ہونا تھا مجھے تو پہلے سے معلوم تھا کہ مرینہ اسے سنبھال نہیں پائے گی۔مجھے اپنا نام ڈوبتا دیکھ کرسخت پریشان ہوئی اور میں نے مرینہ سے کہا اس ڈرامے کے ساتھ میرا نام منسوب نہ کرے کیونکہ کسی کی نااہلی کو اپنے سر نہیں لینا چاہتی تھی،پہلے تو مرینہ مان گئی لیکن پھر نیا مسئل کھڑا ہوگیا کہ سپانسرز نے میرے نام کے بغیر ڈرامہ لینے سے انکار کردیا جب سخت پریشانی کے عالم میں مرینہ میرے پاس آکر رونے دھونے لگی تو میں نے کہا چلو جیسا بھی ہے جانے دو۔

۔۔۔میں نے آج تک یہ ڈرامہ نہیں دیکھا لیکن یہ معلوم ہے کہ اس کی وجہ سے ہماری ساکھ کو اُلٹا نقصان ہی پہنچا۔
سوال:آپ کے ڈراموں میں جو مزاح کا معیار نظر آتا تھا آج کل کے ڈراموں میں یہ نظر کیوں نہیں آتا؟
حسینہ معین:شیکسپئر کہتا ہے”ٹریجڈی اور کامیڈی کے درمیان ایک بہت باریک سی لکیر ہوتی ہیں اگر آپ اس لائن کو کراس کردیں گے تو ٹریجڈی کامیڈی بن جاتی ہے اور کامیڈی ٹریجڈی بن جاتی ہے۔

اس طرح میں سمجھتی ہوں کہ مزاح پھکڑ پن میں بھی ناریک سی لکیر ہوتی ہیں۔اگر آپ اس کو پار کرجائیں گے تو مزاح پھکڑپن بن جائے گا۔آج کل کے ڈراموں میں جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ مزاح ہرگز نہیں ۔فی زمانہ مزاحیہ ڈراموں کا انداز بالکل پھٹیچرہے سکرپٹ میں بہت غلط جملے استعمال ہوتے ہیں حتیٰ کہ گالیاں بھی دی جاتی ہیں اور حرکات و سکنات بھی انتہائی غیر مہذب ہوتی ہیں میں سمجھتی ہوں کہ مزاح لکھنا اور اسے نبھانا بہت مشکل اور محنت طلب کام ہے۔

بے وقوفی کی حرکات کر ادینے زبان کو توڑ مروڑ دینے اوت چال کو ٹیڑھا کردینے سے کامیڈی نہیں ہوجاتی۔
سوال:پاکستان کی اولین ڈرامہ نویس ہیں ابتدائی دور اور آج کے ڈراموں میں کتنا فرق آگیا ہے؟
حسینہ معین:پرانے زمانے اور آج کی مادی چیزوں میں جو فرق ہے وہی فرق ماضی اور حال کے ڈراموں میں بھی ہے سچ کہوں تو آجکل دیگرز ڈسپوزل چیزوں کی طرح ڈرامے بھی ڈسپوزل بن رہے ہیں آج کل درجنوں ڈرامہ چینلز پر بے تحاشہ ڈرامے بن رہے ہیں لیکن اِکا دوکا ڈراموں کو چھوڑ کر چند روز بعد نہ کسی کو ان کا نام دیا ہوتا ہے نہ ہی کردار ذہن میں نقش ہو پاتے ہیں۔

حقیقت حال یہی ہے کہ اس وقت اصل ٹی وی ڈرامہ گم ہوچکا ہے ۔ہمارے دور میں بہت ہی پروفیشنل انداز میں کام ہوتا تھا۔رائٹر کا لکھا ہوا ڈرامہ سکرپٹ ایڈیٹر پڑھا کرتا تھا۔جب تک وہ ”اوکے“نہیں کرتا تھا ڈرامہ نہیں بنتا تھا لیکن اب تو سکرپٹ ایڈیٹر کا تصور ہی ختم ہوکر رہ گیا۔میں نے اپنے کیرئیر میں پچاس سے ڈرامہ سیریل لکھی ہیں جو تمام کی تمام کامیابی سے ہمکنار ہوئیں ۔

اُس زمانے میں ڈائریکٹر اور رائٹر مل کر ڈرامہ کاسٹ مکمل کیا کرتے تھے۔اور سکرپٹ کے مطابق ہر کردار کے لیے موزوں ترین فنکاروں کو منتخب کیا جاتا تھا۔اس کے برعکس آج ڈرامے کی سلیکشن مارکیٹنگ کے لوگ کرتے ہیں اور یہی ڈرامے کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے اس وقت ٹی وی ڈرامے کی کئی ریہرسیلیں ہوتی تھیں اور ہر اداکار سکرپٹ کے مطابق اپنے ڈائیلاگ کو اچھے طریقے سے یاد کرنے کے بعد پافارم کرتا تھا مگر آج بننے والے ٹی وی ڈراموں میں ریہرسل تقریباً ناپید ہوچکی ہیں۔

سبھی ادکار اپنے سکرپٹ دیکھ کر اپنے جملے بول کر چلتے بنتے ہیں۔دراصل ڈرامے کو اب کوئی فن پارے کی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ اس ے کاروبار بنالیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ 50 چینلوں پر ایک جیسے ڈرامے ایک جیسے چہروں کے ساتھ نشر کیے جارہے ہیں۔
سوال:کیا آپ ڈرامے کے موضوعات سے مطمن ہیں؟
حسینہ معین:ایک دور ہوتا تھا جب نت نئے پہلوں پر ڈرامے تخلیق ہوتے تھے جبکہ آج درجنوں ڈرامہ چینلز ہیں لیکن سب پر نشر ہونے والے ڈراموں کی کہانیاں یکساں معلوم ہوتی ہیں ایک ڈرامہ کامیاب ہوتا ہے تو اسی طرز کے ڈراموں کی قطار لگ جاتی ہیں آج کل ڈراموں میں سب سے بری چیز یہ ہورہی ہیں کہ عورتوں کو مظلوم بنا کر پیش کیا جارہا ہے میں نے 40 سال تک کوشش کی کہ عورت مضبوط کرداروں میں دکھاؤں مجھے امید تھی کہ میری کہانیو ں کی بدولت ہمارء عورت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی اور اپنا مقام پیدا کرے گی لیکن آج کل ک ڈراموں میں عورت کی مظلومیت کی تصویر بنا کر پیش کیا جارہا ہے میں عورتوں پر تشدد میں نہیں دیکھ سکتی اس لیے میں نے تو اب ٹی وی دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

اگر اتفاقاً کبھی کسی ڈرامے پر نظر پڑجائے تو نظر آتا ہے کہ دو لڑکیاں ایک ہی آدمی کی محبت میں پاگل ہیں اس طرح ساس بہو کا جھگڑا،ماں بیٹی کا جھگڑا اور بہت سے دیگر معاملات اتنے کھلم کھلا دکھائے جارہے ہیں کہ لگتا ہے کہ ہر گھر میں ہی کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے،ایک ڈرامے میں لڑکی سکول سے بھاگ کر لڑکی کے ساتھ بائیک پر جارہی ہیں تو دوسرے میں سالی کو بہنوئی کی محبت میں پاگل دکھایا جاتا ہے ۔

کئی ڈراموں میں گھر پر کام کرنے والی ماسی اپنے مالک کے پیچھے پڑی دکھائی جارہی ہیں یعنی اگر ماسی ڈرامہ دیکھ رہی ہیں تو اس کو ڈرامے کے ذریعے ترغیب دی جارہی ہیں کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے مالک کو اپنے عشق میں گرفتار کرسکتی ہیں میں پوچھتی ہوں کہ آج کل کے بچوں میں آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ماں باپ بہن بھائی سب عشق کررہے ہیں چھپ چھپ کر ملاقاتیں کررہے ہیں گھروں سے بھاگ رہے ہیں اگر آپ اس قسم کی چیزیں دکھائے تو گے تو پھراس قوم کا کیا انجام ہوگا؟آج کل ایسی چیزیں بھی دکھائی جارہی ہیں کہ ڈرلگتاہے کہیں بچے اس کا مطلب یا استعمال ہی نہ پوچھ لیں؟اس کو صرف چینل والے کنٹرول کرسکتے ہیں لیکن ان کو صرف پیسہ بنانا ہے ان کو فکر نہیں ہے کہ یہ اخلاقی گراوٹ آگے چل کر کیا رنگ لائے گی؟
سوال:ہمارے ڈرامہ چینلز پر انڈین اور ٹرکش ڈرامے دھڑ دھرا کر دکھائے جارہے ہیں کیا ہم ان کی دیکھا دیکھی اپنا معیار خراب نہیں کررہے؟
حسینہ معین:یہ دراصل چینل مالکان کی ہوس کا نتیجہ ہے،ترکی اور انڈیاکے چلے ہوئے پرانے ڈرامے ان کو سستے مل جاتے ہیں اور یہ ڈبنگ کرکے انہیں یہاں چلا دیتے ہیں مجھے سبھی انڈین یا ٹرکش ڈراموں پر اعتراض نہیں کیونکہ ان میں بعض اچھے بھی ہوتے ہیں،یہاں میں ایک نکتہ اٹھانا چاہوں گی کہ انڈین ڈراموں میں خواتین اتنی بھاری ساڑھی اور زیور پہن کر کچن میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔

اس کا اثر اب بنائے جانے والے ڈراموں میں بھی ہیروئین فل میک اپ اور آئی شیڈ کے ساتھ نیند سے بیدار ہوتی دکھائی جاتی ہیں،بھارت کی نقالی میں ہماری شناخت بری طرح متاثرہوچکی ہے۔اب پاکستان ڈرامہ دیکھیں تو کبھی وہ انڈین لگتاہے کبھی ٹرکش۔میں نے خودڈرامہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ ڈرامے پر یہ وقت بھی آنا تھا اس وقت پیسے والے کاڈرامہ چل رہا ہے جو زیادہ پیسے ادا کرتا ہے اس کا ڈرامہ ہاتھوں ہاتھ لیا جارہا ہے ڈراموں کی کہانیاں ایسی ہیں کہ گھر کے آگے کیچڑ پھیلایا جارہا ہے لیکن اسے سمیٹنے کا بیڑہ اٹھانے کو کوئی بھی تیار نہیں،معاشرے میں بہت کچھ ٹھیک ہے اسے بھی دکھائیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ بولڈ موضوعات پر فلمیں بنائی جاسکتی ہیں تاکہ جس نے دیکھنی ہو ں وہ دیکھ لے لیکن ڈرامے کو اس کی اصل حالت میں رہنے دیں کیونکہ یہ ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے۔
سوال:آپ نے کئی گمنام لوگوں کو ستار کا درجہ دلوایا خود اداکاری کیوں نہیں کی۔
حسینہ معین:پہلی بات یہ ہے کہ مجھے اداکاری کا شوق نہیں تھا اور دوسری شاید میں کر بھی نہ پاتی کیونکہ میں فطرتاً بہت شرمیلی ہوں ویسے زمانے طالب علمی میں ایک بار سٹیج شو میں زبردستی پرفارم کرنا پڑگیا تھا قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے کالج کے پرنسپل بختاری صاحب نے کہا کہ چونکہ میری اُردو اچھی ہے اس لیے میں لڑکیوں کو ”انار کلی“ڈرامے کی ریہرسل کرواؤں لہٰذا میں اس کام میں لگ گئی مجھے اس کام میں مگن دیکھ کر اچانک انہوں نے کہا کہ انار کلی کا کردار مجھی کو ادا کرنا ہوگا ان کی بات سن کر میں ششدرہ رہ گئی اور سوچا کہ میرے گھر والے بھلا کب مجھے اسٹیج ڈرامے میں کام کرنے کی اجازت دیں گے لیکن پرنسپل صاحب کی حکم عدولی بھی ممکن نہ تھی۔

بڑی مشکل سے امی نے اجازت دی لیکن پرفارمنس غیر متوقع طور پر ایسی رہی مجھے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سوال:آپ کو پاکستان میں ادب کا مستقبل کیسا نظر آتا ہے؟
حسینہ معین:کسی زمانے میں ہمارے ملک کے فنون لطیفہ کا پوری دنیا میں چرچا تھا اب صورت حال پہلی جیسی نہیں ہے۔ماضی میں پاکستان میں بہت اچھا ادب تخلیق کیا گیا ہے اور اس سرزمین نے بہت اچھے ادیب اور شاعر پیدا کئے ہیں۔

ادب سے وابستہ کئی نامور شخصیات اس وقت دنیا میں نہیں لیکن ان کی وفات کے علاوہ ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ان کا خلا پر کرنے والے لوگ خال خال ہی نظر آرہے ہیں میرے خیال سے اس کی بنیادی وجہ فکر بدمعاش ہے نوجوان نسل کے اذہان بھی بڑے زرخیز ہیں لیکن روزی روٹی کی فکر انہیں ادھر کم ہی آنے دیتی ہے

مزید لالی ووڈ کے مضامین :