سعود کی ہیروئن بننے کی تمنا ہے

اداکارہ میزبان جویریہ سعود کہتی ہیں میرا مزاج فلمی نہیں اور نہ ہی میں ہیروئن والی اچھل کود کرسکتی ہوں ہاں اگر کبھی موقع ملا تو سعود کی ہیروئن ضرور بنوں گی:

جمعہ 8 دسمبر 2017

ہمامیر حسن
وہ خوب رہ ہیں چمکتی دمکتی زندگی کے خواب ان کی آنکھوں میں ہویدا ہیں وہ ایک اداکار کی شریک حیات ہیں لیکن ان کی اپنی ایک الگ پہچان ہیں فن کی دنیا میں انہوں نے کئی ایک کردار داد کئے ہیں اورا ب وہ رنگوں اور روشنیوں کی دنیا میں خود ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے ان کی حقیقی نام جویریہ جلیل ہے وہ ٹیکسٹائل ڈیزائنر بھی ہیں وہ یکم جنوری 1972 کو پیدا ہوئیں۔

2005 میں انہوں نے اداکار سعود سے شادی کرلی اور جویریہ سعود ہوگئیں ان کی ایک بیٹی جنت اور بیٹا ابراہم ہے ان کے بہترین ڈراموں میں انا ،خدا اور محبت یہ زندگی ہے شامل ہیں۔وہ مارننگ شوز اور رمضان المبارک کے خصوصی پروگرام کرنے کے ساتھ ساتھ پلے بیک سنگر بھی ہیں ہنستی مسکراتی اداکارہ کے طور پر مشہور جویریہ ایکٹرس ہی نہیں ماڈل اور ٹی وی پروڈیوسر بھی ہیں اور آج دنیا بھی شوبز کی دنیا ہی متحرک ہیں۔

(جاری ہے)


سوال:بچپن کی میٹھی یادوں کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جویریہ سعود:میرا بچپن عام لڑکیوں جیسا تھا ہم تین بہنیں اور دو بھائی ہیں میں سب سے بڑی ہوں اس لئے بچپن میں ذرا رعب دار اور سنجیدہ مزاج تھیں لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ میں کھیلتی کودتی نہیں تھی ہاں البتہ ایسی شرارتی نہیں تھی کہ ڈانٹ ڈپٹ تک نوبت آئے۔

میں بہن بھائیوں کے ساتھ گڑیوں کی شادیاں بھی کرواتی تھیں میں اپنی عمر ک باقی لڑکیوں کی نسبت رکھ رکھاؤ والی بچی تھی۔پڑھائی میں اے پلس لیتی رہی ہوں پھر کالج میں بھی اے گریڈ ملا میں نے ٹیکسٹائل کی ڈئزائننگ میں گریجویشن میں ٹاپ کیا تھا۔
سوال:پھر اداکاری کی دنیا میں کیسے آمد ہوئی؟
جویریہ سعود:کبھی نہیں سوطوچا تھا کہ فن کی دنیا میں آؤں گی اور اسی دنیا کی ہوکر رہ جاؤں گی۔

میری زندگی میں بہت سے نشیب و فراز آئے۔میں گلاکار بننا چاہتی تھیں سکول کے زمانے میں نعتیں پڑھا کرتی تھیں اور میلاد کی محافل میں جایا کرتی تھیں ٹی وی پروڈیوسر ناہید حسن زیدی ہمارے پڑوس میں رہتی تھی۔ایک دن وہ ہمارے گھر آئیں۔انہوں نے وہ تمام ٹرافیاں اور میڈلز دیکھے جو میں نے نعت خوانی میں جیتے تھے انہوں نے میری والدہ سے کہا کہ وہ ٹی وی پر ایک میلا کروارہی ہیں جس میں وہ مجھے دعوت دینا چاہتی ہیں۔

میں پہلی بار ٹی وی سٹیشن گئی وہا ں افشاں احمد کے ساتھ نعت خوانی کی اس کے بعد 14 اگست کوایک خصوصی پروگرام میں کچھ اداکاری کا موقع ملاپھر ایک میوزیکل ڈرامہ کیا۔اسی دوران پرائیویٹ ٹی وی چینلز آچکے تھے مجھے پہلا سیریل”انہونی“میں کام کرنے کا موقع ملا ۔جس میں میرے ساتھ ہمایوں سعید ماہ نور بلوچ اور عدنان جیلانی تھے یہ زمانہ میری تربیت کا تھا۔

کچھ کمرشلز میں بھی کام ملنا شروع ہوگیا تھا میری والدہ ہمیشہ ایک دوست کی طرح میری مدد کرتی اور میرا حوصلہ بڑھاتی رہی۔جب میں اداکاری کی دنیا میں قدم جما چکی تھی تو ایک دن سیٹ پر مجھ سے کسی نے بدتمیزی کی جس کا مجھے بے حد افسوس ہوا آج اس شخص کا پاکستان میں بہت بڑا نام ہے اس لئے نام لینے کا فائدہ نہیں بہرحال میں نے گھر جاکر امی کو بتایا کہ اب میں یہ سب چھوڑدینا چاہتی ہوں مجھے کچھ اچھامحسوس نہیں ہورہا تو میری والدہ نے مشورہ دیا کہ پی ٹی وی اور پرائیویٹ پروڈکشنز کے ماحول میں بہت فرق ہیں لہٰذا گھر ہی بیٹھو اور پھر میں سات سال تک پی ٹی وی سے دور ہی۔

ویسے بھی میں اپنی عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
سوال:اپنے شریک حیات سعود سے پہلی ملاقات کب ہوئی؟
جویریہ سعود:میں ایک شادی کی تقریب پر گئی تھی وہاں سعود بھی آئے تھے انہوں نے مجھے دیکھا اور شاید پہلی ہی نظر میں پسند کرلیا تھا۔ان ہی کے ایماء پر ان کی بہن نے مجھ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ میں کہاں رہتی ہوں؟میں بہت حیران ہوئی البتہ میں نے انہیں نہیں بتایا۔

اگلے ہی دن سعود کی بہن بھتیجی اور کچھ اور لوگ ہمارے گھر آگئے اورایک رسمی پرپوزل دے گئے مگر میں کسی اداکار سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم سعود کے اصرار پر یہ رشتہ طے ہوا اور شادی ہوگئی میرا وہم بھی غلط ثابت ہوگیا اوراب میں ایک اچھی اور خوش و خرم زندگی بسر کررہی ہوں سعود بہت اچھے شوبز ہیں۔
سوال:اس وقت فلمی سعود فلمی ہیروتھے آپ کو ان کے ساتھی اداکاراؤں سے تعلقات پر شک تو ہوتا ہوگا؟
جویریہ سعود:ہماری لو میرج تو تھی نہیں کہ پہلے سے جان پہچان ہوتی اس لئے شادی کے وقت مجھے بہت سے خدشات تھے خبروں میں بھی ان کے افئیرز کی خبریں پڑھ چکی تھی مگر سعود نے مجھے یقین دلایا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے انہوں نے خود ہی اپنی عاشقی کی داستانیں مجھے سنادیں تو پھر شک کیا ہونا تھا؟البتہ شادی کے وقت شوبز سے وابستہ لوگوں نے مجھے سعود کے خلاف ورغلانے کی کوشش کی مجھے ایک شخص نے تویہاں تک کہہ دیا کہ ان کی موجودگی میں سعود اور ریما کا نکاح ہوا تھا،،،بہر کیف میں نے سعود پر اعتبار کیا اور ہماری شادی ہوگئی۔


سوال:آپ کے نزدیک سعود کیسے اداکار ہیں؟
جویریہ سعود:یہ سوال تو آپ کو ان کے مداحوں سے پوچھنا چاہیے سعود ایک ایسے زمانے میں فلمی دنیا میں آئے جب ایک فلم کا سنہری زمانہ گزرچکا تھا اور کچھ فنکار اور فلم میکر فلم کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو سنبھالنے کے لئے کوشاں تھے ایسے میں کچھ اداکار بہت متعارف ہوئے اورانہوں نے اپنے طور سے اچھا کام کیا میرے نزدیک دنیا میں تو آج بھی سنبھل نہیں سکی۔


سوال:آپ ایک اچھی میزبان ہیں یا اداکار؟
جویریہ سعود:مجھے ایک اچھی میزبان کہا جاتا ہے میں نے ایسے شوز کئے جن کی میزبانی کرتے ہوئے میرے پروگرام کی ریٹنگ میں بہت اضافہ ہوا تھا میرا خیال ہے کہ اداکاری کسی اچھے کردار کی محتاج ہوتی ہے اور میں کیسی اداکار ہوں یہ فیصلہ بھی ناظرین ہی کرسکتے ہیں ۔میں اپنے شوہر کے لئے اچھی بیوی اوران کے بچوں کی ایک اچھی ماں ہوں اور یہ میرے لئے ایک اعزاز ہے۔


سوال:کیا آپ اپنے بچوں کو بھی فن کی دنیا میں لانا چاہیں گی؟
جویریہ سعود:کچھ نہیں کہہ سکتے،،،،کیونکہ شاید ہمارے والدین نے بھی یہ نہیں چاہا تھا کہ ہم فن دنیا میں آئیں البتہ میں تو یہ چاہوں گی کہ میرے بچے جو چاہیں وہیں راستہ اختیار کریں ہم ان کی رہنمائی کرین گے۔
سوال:آپ کے شوہر فلمی ہیرو ہے کیا آپ کا دل نہیں کرتاہیروئین بننے کا؟
جویریہ سعود:میرا مزاج فلمی نہیں اور نہ ہی میں فلمی ہیروئین والی اچھی کود کرسکتی ہوں ہاں اگر کبھی موقع ملا تو سعود کی ہیروئین ضرور بنوں گی۔

فی الحال تو میری دنیا ٹی وی ہی ہے اکثرلوگ سمجھتے ہیں کہ مجھے سعود نے فلموں میں کام کرنے سے منع کیا ہے جبکہ سعود نے کبھی ایسا نہیں کہا وہ کوئی روایتی شوبز نہیں ہیں،میرے کام کو پسند کرتے ہیں ہم نے اپنا ایک پروڈکشن ہاؤس بنایا ہوا ہے اس کے لئے بھی مل کر کام کرتے ہیں۔
سوال:سعود کو کھانے میں کیا کچھ پسند ہے؟
جویریہ سعود:سعود کو میرے ہاتھ کا پکا ہوا سب کچھ پسند ہے کبھی کوئی خاص فرمائش نہیں کرتے ہیں۔


سوال:آپ کے پسندیدہ اداکار کون سے ہیں؟
جویریہ سعود:مجھے تمام سینیئر اداکار بہت پسند ہیں میرے ہم عصر بھی میرے پسندیدہ اداکار ہیں اور جنہوں نے فن کی دنیا میں بہت نام کمایاہے وہ سب مجھے بہت پسند ہیں چاہے وہ کسی بھی خطے میں رہتے ہیں میرا خیال ہے بہترین اداکار کے لئے اس کی موزوں شخصیت اس کا رجحان اور اس کی فنکارانہ سوچ ہونا بہت ضروری ہے ایک اداکارہ سے بہت زیادہ ڈیمانڈ کی جاتی ہیں اوراسے ہمیشہ ان تقاضوں کو سمجھنا چاہیے وقت کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے۔


سوال:ایک اداکارکو کس وقت ریٹائرڈ ہونا چاہیے؟
جویریہ سعود:فنکار کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا اس کی وجہ ہے کہ یہ دنیا بہت متنوع ہے جب تک آپ کی ضرورت رہتی ہے اور فن کی دنیا میں آپ رنگ بکھیرتے ہیں لوگ آپ کو قبول کرتے جاتے ہیں جیسے ہی آپ تھک جاتے ہیں لوگ اکتا جاتے ہیں اورا ٓپ آؤٹ ہوجاتے ہیں۔
سوال:پاکستان میں ثقافت کو کس طور سے دیکھتی ہیں؟
جویریہ سعود:ثقافت بہت دھند لاگئی ہے لیکن سیاست عروج پر ہے آج نہ تو کوئی اچھی فلم ہے اور نہ کوئی ثقافتی پروگرام کبھی کوئی فلم آتی ہیں تو بہت شور کیاجاتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ فلم ابھی کامیاب نہیں ہوئی ہمارے سینما ہاوسز غیر ملکی فلموں کے محتاج ہیں اور اس پر بھی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی کہ ان فلموں کی نمائش یہاں ہونا چاہیے یا نہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :