سچی محبت کی تلاش

”ریمبو“کے کردار سے عالمگیر شہرت پانے والے ایکشن ہیروسلوسٹر سٹیون نے بھی ہالی ووڈ کے دیگر اداکاراوں کی طرح کئی شادیاں کیں مگر تیسری شادی کے بعد ان کی یہ تلاش ختم ہوگئی کیونکہ اب وہ مزید”رسک“نہیں لے سکتے۔

منگل 12 دسمبر 2017

زارا مصطفی:
”ریمبو“کے کردار سے عالمگیر شہرت پانے والے امریکی اداکار ہدایتکار فلمی کہانی نویس اور فلمساز مائیکل سلوسٹر گرڈنزیو سٹیلون اپنے ایکشن کرداروں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتے ہیں انہوں نے 1970 میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔1976 میں ان کی عالمگیریت کا آغاز بطور اداکار لکھاری اورہدایتکار فلم”راکی“سے ہوا اسی برس انہیں پہلی مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ سلوسٹر دنیا کے نامور باکسنگ چیمپئن محمد علی کا باکسنگ میچ دیکھنے گئے اور وہ اس قدر متاثرہوئے کہ اس کے تین دن بعد ہی فلم”راکی“کی کہانی لکھنا شروع کردی اور لگاتار بیس گھنٹوں میں مکمل کہانی لکھ ڈالی اس کہانی کو بیچنے کے لئے انہوں نے کئی پروڈکشن ہاؤسز کے چکر کاٹے مگر کہیں بات نہ بن سکی دراصل کردار بھی وہ خود ہی ادا کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کردار ان سے بہتر کوئی اور نہیں کرسکتا پھر ایک پروڈکشن ہاؤس کو سلوسٹر کی کہانی اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے فلم کی کہانی کے ساتھ ساتھ مرکزی کردار خریدنے کے لئے سلوسٹر کو ساڑھے تین لاکھ امریکی ڈالر کی پیشکش کی جسے انہوں نے مسترد کردیا کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پر مرکزی کردار بیچنے کو تیار نہ تھے ۔

(جاری ہے)

ہالی ووڈ کی تاریخ میں چارلی چپلن اورسن ویلز کے بعد سلوسٹر وہ تیسرے اداکار ہیں جنہوں نے ایک ہی فلم میں اوریجنل سکرین پلے بہترین ہدایتکاری او ربہترین اداکاری کے لئے بیک وقت تین اعزازت سے نوازا گیا اور ”راکی“کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں نہ صرف نیشنل فلم رجسٹری میں شامل کیا گیا بلکہ ان فلموں میں سلوسٹر نے جو علامتی اشیاء استعمال کیں انہیں بھی سمتھسونین میوزیم میں رکھاگیا انہوں نے 2015 تک راکی کی سیریز پر مبنی سات فلموں سے باکس آفس پرکئی نئے ریکارڈ بنائے جس کے بعد انہیں پہلی مرتبہ گولڈن گلوب ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور تیسری مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا۔

اسی طرح انہوں نے 1982 سے 2008 کے دوران”ریمبو سیریز“کی چار فلمیں اپنے نام کیں۔”دی ایکسپینڈیبلز“سیریز کی تین فلمیں 2010 سے2014 تک منظر عام پر آئیں جن کی نہ صرف کہانیاں سلوسٹر نے خود لکھیں بلکہ ہدایتکاری بھی کی۔سلوسٹر ہالی ووڈ کے وہ اداکار ہیں جنہیں اپنے کرداروں کی وجہ سے دنیا بھر میں پذیرائی ملی بلکہ آج بھی دنیا بھر میں زیادہ تر لوگ انہیں اپنے نام کی بجائے”ریمبو“ کے نام سے پہچانتے ہیں ۔

ریمبو کی شہرت کا اس سے اندازہ لگالیں کہ 1990 کی دہائی میں پی ٹی وی پر ’گیسٹ ہاؤس‘ کے نام سے ایک مزاحیہ کھیل پیش کیا گیا جس میں گیسٹ ہاؤس میں کام کرنے والے ایک’ریمبو‘نامی ملازم کردار بے حد پسند کیا گیا اسے ٹی وی اور فلم کے مزاحیہ اداکار افضل خان نے ادا کیا تھا افضل کو بھی پاکستان میں ’ریمبو‘ سے اس قدر شہرت ملی کہ آج ان کے پرستاروں کی اکثریت انہیں اپنے نام سے نہیں بلکہ”ریمبو“کے نام سے پکارتی ہے انہوں نے نہ صرف ریمبو کی طرح سر پر سرخ پٹی باندھی بلکہ بالوں کا انداز بھی ہو بہو ویسا ہی رکھا چنانچہ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں اداکار ریمبو کو بھی وہی شہرت ملی جو دنیا پھر میں ایکشن ہیرو کو ملی تھی تو غلط نہ ہوگا سلوسٹر ہالی ووڈ کے ان اداکاروں میں سے ہیں جو ری پبلکن پارٹی کے حامل ہیں انہوں نے ماضی میں کئی صدارتی امیدواروں کی انتخابی مہمات میں مالی امداد کی مگر گذشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جوریپبلکن پارٹی کے امیدوارتھے انتخابی امداد میں مددنہ کرنے کی وجہ شاید ٹرمپ کا غیر معمولی حد تک دولتمند ہونا تھا سلوسٹر نیو یارک میں فرینک سٹیلون اور جیکلین(جیکی) سٹیلون کے ہاں 6 جولائی1946 کو پیدا ہوئے ان کے والد حجام اور بیوٹیشن جبکہ والدہ ماہر علم نجوم اور قاصد ہونے کے علاوہ امریکہ میں عورتوں کی کُشتی کے حوالے سے ترقی پسند خیالات کی حامی تھیں سلوسٹر کے والد کا تعلق چونکہ اٹلی سے تھا چنانچہ 1930 کے عشرے میں امریکہ منتقل ہونے کے باوجود انہیں اطالوی اداکار ہی سمجھا جاتا ہے سلوسٹر کے چھوٹے بھائی کا نام بھی فرینک سٹیلون ہے جو بطوراداکار اور موسیقار خاصے مشہور ہیں سلوسٹر کی ایک سوتیلی بہن این فلیٹی بھی تھیں جنہوں نے سلوسٹر پر الزام لگایا کہ وہ کئی سالوں سے اسے بدسلوکی کا نشانہ بنارہے ہیں 1980 کی دہائی میں جب ٹونی ثبوتوں کے ساتھ میڈیا میں آئیں تو سلوسٹر نے بدنامی کے ڈر سے انہیں کم و بیش تین ملین برطانوی پاؤنڈ دے کر ان کا منہ بند کردیا اتنا ہی نہیں انہوں نے تاحیات ساڑھے دس ہزار برطانوی پاؤنڈماہانہ اخراجات دینے کا معاہدہ کیا،کہا جاتا ہے کہ سلوسٹر کی پیدائش کے دوران حادثاتی طور پر ڈاکٹر نے قینچی سے سلوسٹر کی ایک رگ کاٹ دی تھی جس کے نتیجے میں ان کے چہرے کا نچلا حصہ اعصابی طور پر معذور ہوگیا جو ان کے چہرے پر نمایاں دیکھا جاسکتا ہے انہیں بول چال میں بھی دقت ہوتی تھی مگر وقت کے ساتھ ساتھ سلوسٹر نے اپنی اس کمزوری پر قابو پالیا،پاکستان کے فاسٹ باؤلر شعیب اخترکئی طرح سلوسٹر کے پاؤں بھی چپٹے ہیں جس کی وجہ سے ان کی والدہ نے انہیں چار سال کی عمر میں ”ٹیپ ڈانس“ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ سکول میں داخل کروادیا۔

1950 کی دہائی کے آغاز میں سلوسٹر کے والد اپنے خاندان کو لے کر واشنگٹن ڈی سی منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے اپنا بیوٹی سکول کھول لیا جبکہ ان کی والدہ نے 1950 میں ”باربیلا“کے نام سے اپنا جم کھول لیا جب سلوسٹر 9 برس کے ہوئے تو ان کے والدین میں طلاق ہوگئی اور وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگے 16 برس کی عمر تک پہنچے اور پڑھائی میں ان کی دلچسپی کم ہونے لگی تو ان کی والدہ نے سزا کے طو ر پر انہیں والد کے بیوٹی سلون پر نوکری دلوادی ان کی والدہ کا خیال ہے کہ جب سلوسٹر کو محنت سے پیسے کمانے پڑیں گے تو احساس ہوگا کہ پڑھنا کس قدر آسان کام ہے اس کے بعد سلوسٹر نے میامی یونیورسٹی سے گریجوایشن کیا،
کتنے زخم آئے؟
گذشتہ پانچ دہائیوں سے ہالی ووڈ پر راج کرنے والے سلوسٹر نے اپنی اداکاری کو حقیقت کے قریب ترلانے کے لیے جسم پر کئی گھاؤ کھائے،ان کے بارے میں مشہور ہیں انہوں نے اپنی ایکشن فلموں کے زیادہ تر”سٹنٹس“ پیشہ ور ماہروں کی بجائے خود عکسبند کروائے جس کی وجہ سے انہیں اصلی چوٹیں بھی کھانا پڑیں،ان کے جسم پر لگے گھاؤ کے نشانات آج بھی موجود ہیں”اسکیپ ٹو وکٹری“ کے دوران سلوسٹر کی انگلی ٹوٹ گئی۔

”راکی فور“ میں لڑائی کا ایک منظر عکسبند کرواتے ہوئے سلوسٹر نے اپنے مدمقابل اداکار لف لنگرین سے کہا۔میرے سینے میں جتنا زور سے مکا مارنا چاہتے ہوں مارو۔۔۔بعد میں سلوسٹر نے تسلیم کیا یہ محض میری بے وقوفی تھی اس سین کو حقیقت کے قریب تر دکھانے کے لیے مجھے اگلے چار دن ہسپتال میں گزارنا پڑے۔اس کے بعد سلوسٹر فلم”دی ایکسپینڈیبلز“ میں سلوسٹر اداکار پروفیشنل ریسلر سٹیو آسٹن کے ہاتھوں اپنی گردن تڑوا بیٹھے جس کے نتیجے میں ان کی گردن میں دھات سے بنی پلیٹ ڈالی گئی۔

جسم پر لگے نشانوں کو چھپانے کے لیے انہوں نے اپنے جسم پر جا بجا ٹیٹو بنوا رکھے ہیں جن میں سے ایک ان کی بیوی جینیفر کا پورٹریٹ ہے جس کے اردگرد تین پھول بنے ہوئے ہیں جو علامتی طور پر ان کی تین بیٹیوں کا ظاہر کرتے ہیں ان ٹیٹوز کو پہلی مرتبہ فلم”دی ایکسپینڈیبلز“میں دیکھا گیا اور ان کی اپنی بیوی اور بیٹیوں سے والہانی محبت کا خوب چرچا ہوا۔


شادی پہ شادی: سلوسٹر نے ہالی ووڈ کے کئی اداکاروں کی طرح ایک سے زائد شادیاں کیں مگر شاید سچی محبت کی تلاش تیسری شادی کے بعد ہی ختم ہوچکی ہیں ،کیونکہ اب وہ مزید ”رسک“نہیں لے سکتے۔پہلی مرتبہ سلوسٹر نے 28 برس کی عمر میں پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والی ساشازیک سے 1974 میں شادی کی جن سے ان کے دو بیٹے ہیں بڑا بیٹا دل کے عارضے کے باعث 36 برس کی عمر میں انتقال کرگیا جبکہ چھوٹا بیٹا بچپن سے ہی”آٹزم“کا شکار ہے سلوسٹر اور ساشا کے مابین 11 برس کے بعد 1985 میں طلاق ہوگئی اور اسی برس انہوں نے امریکی اداکارہ ماڈل بریگیٹ نیلسن سے دوسری شادی کرلی جو محض دو برس بعد ہی طلاق میں بدل گئی چونکہ سلوسٹر اور بریگیٹ ہالی ووڈکے شہرت یافتہ اداکار تھے اس لئے ان کی طلاق کے حوالے سے مختلف خبریں طویل عرصے تک گردش کرتی رہیں مگر طلاق کی اصل وجہ معلوم نہ ہوسکی تیسری شادی کے معاملے میں سلوسٹر کافی محتاط تھے اور دو ناکام شادیوں کے بعد وہ کوئی فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہتے تھے کافی عرصہ سوچ سمجھ کر 1997 میں انہوں نے جینیفز فلاون سے تیسری شادی کی جن سے ان کی تین بیٹیاں صوفیا،سسٹائن اورسکارلٹ ہیں کہا جاتا ہے کہ گولڈن گلاب ایوارڈ کی چوہترویں تقریب کے موقع پر سلوسٹر کی تینوں بیٹیوں کو مس گولڈن گلوب بننے کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔


خدا یاد آیا: سلوسٹر کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئے اور چار برس کی عمر میں اپنے والد ین کے ہمراہ گرجا گھر جانے لگے لیکن جب ہالی ووڈ میں کامیابیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تو گرجا گھر جانا چھوڑ دیا۔کیرئیر میں کامیابیوں کے دوران ایک وقت ایسا آیا کہ ان کی بیٹی شدید بیمار ہوگئی اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں جھولنے لگی تو سلوسٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے سوچا کہ شاید خدا ان سے روٹھ گیا ہے ان لئے انہیں آزمارہا ہے چنانچہ انہوں نے دوبارہ گرجا گھر جانا شروع کردیا اور اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود سرگرم کیتھولک پیروکار بن گئے۔

2006 میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ جب میری فلمیں کامیاب ہونے لگی تو میں بٹک گیا مگر پھر ایک وقت ایسا آیا کہ میں نے اپنے آپ کو خدا کے ہاتھ میں دے دیا۔مگر جوں جوں ان کی عمر بڑھتی جارہی ہیں ان کی مذہبی عقائد ڈانواڈول ہوتے جارہے ہیں شاید انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ انہوں نے کب کیا کہا تھا؟جیسے 2010 میں سلوسٹر نے اپنے ایک اور انٹرویو میں کہا میں اپنے آپ کو ایک روحانی انسان سمجھتا ہوں مگر میں خود کو گرجا گھر یا ایسے کسی ادارے کا حصہ نہیں سمجھتا۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :