سٹیج ڈرامہ”نوٹنکی“بن چکا۔

نامور کامیڈین واجد خان کہتے ہیں کہ سٹیج ڈرامے میں ذو معنی جگتوں اور واہیات ڈانس کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سٹیج ڈرامہ کم جبکہ پرانے زمانے کی نوٹنکی زیادہ معلوم ہوتا ہے۔

جمعرات 14 دسمبر 2017

محمد اظہر:
لاہور میں تھیٹر کی تاریخ بہت پرانی ہیں ،یہاں قیام پاکستان سے پہلے بھی تھیٹر کا دور دورہ تھا جب کہ آداکار دیو انند اور بلراج ساہنی تھیٹر کیا کرتے تھے یہ فنکار بعد میں ممبئی فلم انڈسٹری کے سپر سٹار بنے قیام پاکستان کے بعد بھی سنجیدہ تھیٹر چلتا رہا اور یہاں سے قوی خان اور نعیم طاہر جیسے بڑے نام سامنے آئے۔

اس کے بعد مزاحیہ تھیٹر نے عروج دیکھا جب امان اللہ ،شوکی خان ،عابد خان،طارق جاوید،کوڈو،سہیل احمد،البیلا،ببو برال،مستانہ اور کئی دیگر اداکاروں نے اس نئی طرز کے فن کو جلا بخشی اور خوب نام کمایا ،نوے کے عشرے میں کمرشل تھیٹر کی پذیرائی اور بڑے کامیڈینز کی مقبولیت سے متاثر ہوکر مزید کئی نئے چہرے سٹیج پر آئے جن میں ایک نمایاں واجد خان کا ہے ۔

(جاری ہے)

لاہور سے تعلق رکھنے والے واجد نے اپنے نیچرل سٹائل میں شاندار کامیڈی کرکے جلد ہی سٹیج پر اپنا سکہ منوالیا آج کل وہ جیو کے پروگرام”خبرناک“سے وابستہ ہیں اور ٹیم کے مرکزی فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
تھیٹر سے ٹی وی تک کا فاصلہ کیسے طے کیا؟
واجد خان: یہ تقریباً1991 کا ذکر ہے جب میں نے پہلی مرتبہ الحمرا تھیٹر میں پرفارم کیا تھا۔

میں اور سلیم البیلا ایک ساتھ سٹیج پر کام کرتے رہے میں کھلے دل سے سلیم کو اپنا استاد مانتا ہوں کیونکہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔جب” سلیم البیلا“ صاحب خبر ناک کا حصہ بنے تو ایک دن آفتاب اقبال صاحب کے کہنے پر انہوں نے مجھے آڈیشن کے لئے بلوایا ہر فنکار کی خواہش ہوتی ہیں کہ وہ آگے بڑھے۔چند منٹ کے آڈیشن میں نہ صرف مجھے ”اوکے“سگنل ملا بلکہ پہلے ہی شو میں میری پرفارمنس کو بے حد سراہاگیا۔

مجھے بھی اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔
سوال:سٹیج کی نسبت ٹی وی نے یکایک آپ کو ملک بھر بلکہ ملک کے باہر بھی شہرت دی کیسا محسوس ہوتا ہے؟
واجد خان:اس بات میں کوئی شک نہیں ٹی وی کی بدولت مجھ جیسے فنکاروں کو ایک نئی شناخت ملی اور یقینا یہ ہمارے لئے انتہائی فخر کی بات ہے دراصل سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے لیے چند سو افراد ہی آتے ہیں اوت پھر سی ڈیز کے ذریعے اسے وہی لوگ دیکھیں گے جنہیں ڈرامے سے شغف ہے اس کے مقابلے میں ٹی وی ہر گھر میں دیکھا جاتا ہے چنانچہ ٹی وی میرے لئے راتوں رات شہرت کا ذریعہ بن گیا۔

نیوز چینلز پر اس طرز کے شو گھر کے سبھی افراددیکھتے ہیں جبکہ سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے لئے صرف مخصوص کلاس بلکہ زیادہ تر مرد حضرات ہی آتے ہیں۔
سوال:کب پتا چلا کہ آپ کے اندر اداکار چھپا بیٹھا ہے؟
واجد خان:میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں ایک اداکار ہوں ہاں روزی روٹی کے لئے اداکاری کی کوشش ضرور کررہا ہوں آج تک میں نے جتنی بھی پرفارمنسز دی ہیں وہ خداداد صلاحیت اور سینئرز کی سرپرستی کے ساتھ ممکن ہوئیں ویسے تو شروع سے ہی ہنس مکھ اور موج مستی کرنے والا انسان سکول کے زمانے میں بھی دوستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور جگت بازی چلتی رہتی تھی اور میں نے تنقید کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا تھا۔

یہاں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتا ہوں چلوں کہ سکول کے زمانے میں ایک مرتبہ جب استاد محترم کے بار بار تنبیہہ کے باوجود جب میں نے اپنی زلفیں کٹوانے میں عار محسوس کی تو انہوں نے قینچی منگوا کر میرے لمبے لمبے بال بھری کلاس کے سامنے اپنے ہاتھوں سے کاٹ دئیے۔
سوال:کیا محنت کی بدولت کوئی اچھا فنکار بن سکتا ہے؟
واجد خان:میں سمجھتا ہوں فنکار صرف پیدائشی ہوتا ہے البتہ بعد میں اس فن کو نکھارا ضرور جاسکتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں کہ کوئی ڈرامہ سکول ایکٹنگ اکیڈمی میں داخلہ لے کر فنکار بن جائے۔


سوال:ہمارے ہاں سٹیج پر کام کرنے والوں کو بھانڈ یا میراثی کیوں سمجھا جاتا ہے؟
واجد خان:مجھے اس حقیقت کوتسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں بڑے سے بڑا کامیڈین سٹیج اور ٹی وی پر بھانڈ اور میراثیوں کا کام ہی بیچتے ہیں اور میں بھی انہیں میں سے ہوں لیکن دکھ کی بات ہے کہ لوگ انہیں حقیر سمجھتے ہیں یہ انتہائی غلط طرز عمل ہے یہ ایک بھانڈ یا میراثی کا ہی ظرف ہے کہ خود اپنا مذاق اُڑا کر دوسروں کے چہروں پر قہقہے بکھیر دے۔


سوال:کیا سٹیج کے مقابلے میں ٹی وی پر کام کرنا زیادہ باعزت ہے؟
واجد خان:سچ بات کہوں گا کہ موجودہ تھیٹر شائقین کی بجائے تماش بینوں کے لئے چل رہا ہے جبکہ دوسری طرف ٹی وی ہمارے بیڈ رومز کا حصہ ہے یعنی بچہ بوڑھا عورت مرد پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ تقریباً سبھی افراد ٹی وی دیکھتے ہیں اس لئے یہاں کام کے معیار میں بھی فرق ہے اور عزت بھی زیادہ ہیں ۔

ہمارے ذہنو ں میں احساس ذمہ داری کی بدولت بھی ہمارا کام زیادہ نکھر جاتا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہماری کسی بات سے غلط پیغام جائے،سٹیج پر بعض اوقات میں بدک جاتاہوں کیونکہ وہاں سب چلتا ہے۔
سوال:میں سٹریم میڈیا میں مرکز نگاہ بننے پر کیسا محسوس کرتے ہیں؟
واجد خان:مجھے اندازہ ہی نہ تھا کہ میں ایک بڑے پلیٹ فارم پر اپنے کام سے انصاف کرپاؤں گا پروگرام میں بعض گیٹ اپ تو ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ اسے میرا حقیقی چہرہ سمجھ لیتے ہیں مثال کے طور پر جب میں پشتویا پوٹھاری لہجے میں بات کرتا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید میں پٹھان ہوں یا میرا تعلق پوٹھوہار سے ہے حالانکہ میں واجدخان ہوں لیکن پٹھان یا پوٹھوہاری نہیں۔


سوال:کیا آپ کی کامیابی سٹیج کی مرہون منت کہی جاسکتی ہیں؟
واجد خان:بلاشبہ حقیقت یہی ہے کہ میری بنیادی فنی تعلیم یعنی اداکاری سیکھنے کا عمل سٹیج سے ہی شروع ہوا تب اساتذہ یعنی ہمارے سینئر فنکار جن میں سہیل احمد،امان اللہ،سلیم البیلا،اور ان جیسے دیگر اداکار جنہیں لوگ حقیقی سپر سٹار کہتے ہیں ہمیں آگے بڑھنے کا موقعہ دیتے تھے ہم نے بھی ان کی دل سے عزت کی اور بدلے میں انہوں نے جو کچھ ہیں سکھایا اسی کی بدولت ہمیں پہچان ملی۔

بلکہ آج میرے دامن میں جوں بھی ہیں وہ انہیں سینئرز کے وسیلے سے ہے،سٹیج پرفارمنس کو میں اپنی فنی کامیابی کی بنیاد مانتا ہوں۔
سوال:ایک عجب بات مشاہدے میں آئی ہیں کہ نیوز چینلز کے کامیڈی شوز میں سٹیج کے فنکار کثرت سے پائے جاتے ہیں لیکن یہاں ان کی پرفارمنس سٹیج کے مقابلے میں قدرے سلجھی اور مہذب نظر آتی ہیں وجہ کیا ہے؟
واجد خان:یہ بات بالکل درست ہیں کہ ہمارے فنکار ٹی وی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پلیٹ فارم پر بہترین کام کررہے ہیں اس فرق کی بنیادی وجہ ٹی وی کا مختلف ماحول اور پروڈکشن ٹیم کی سرپرستی ہے جس طرح ہمارے کیرئیر کی شروعات میں سینئرز نے ہمیں صحیح غلط اورہماری خوبیوں خامیوں کے بار ے میں بتایا اس طرح اب ٹی وی ہمارے پروگرام اینکر اور ڈائریکٹر بھی مسلسل گائیڈ کرتے رہتے ہیں۔

اس کے برعکس سٹیج پر اکثر فنکار جو منہ میں آئے بول دیتے ہیں جبکہ یہاں ٹی وی ناظرین کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا کرنا کسی صورت موزوں نہیں۔
سوال:آپ کے نزدیک سٹیج کے زوال کے اسباب کیا ہیں؟
واجد خان:سٹیج کو اس کی نہج پر لانے کے ذمہ دارکئی عناصر ہیں حکومت سپانسر اور کسی حد تک فنکارخود بھی اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر جلانے کے جرم میں شریک ہیں۔

جب ڈرامہ کمرشل ہوا تو سٹیج کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہوگئیں ۔اب یہ جگتوں کا سرکس اور مجرے کی صورت میں نائٹ کلب بن کر رہ گیا ۔دوسری وجہ یہ ہے کہ سٹیج ڈراموں پر سرمایہ کاری کرنے والے دولت مند سپانسرز ہی پروڈیوسرز بن بیٹھے۔ان حالات میں بعض بڑے فنکاروں نے صاف ستھرا کام کرنے کی کوشش کی لیکن نام نہاد سپانسر کا مقابلہ نہ کرپائے ،ان سپانسرز نے ڈانسرز کو پروموٹ کیا کیونکہ یہ کم پیسوں میں سٹیج پر سب کچھ کرنے کو تیار تھیں ۔

آج کا سٹیج پرانے زمانے کی ”نوٹنکی “کی طرح ہے جہاں لڑکیاں تماشایوں کے قریب آکر ناچتی تھیں اور ساتھ ایک بیچارہ سا کامیڈین بھی ان تماشبینوں کو اپنی باتوں سے محفوظ کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہتا تھا۔
سوال:کیا آپ سٹیج پر رقص کے حق میں نہیں؟
واجد خان:میں سرے سے سٹیج پر رقص کا مخالف نہیں اگر ڈرامے کی کہانی اس بات کا تقاضا کرے اور تہذب کے دائرے میں رہ کر ڈانس کیا جائے تو مجھے سٹیج ڈرامے میں رقص ہر قطعاً کوئی اعتراض نہیں البتہ اعضا ء کے شاعری کے نام پربے ہنگم ڈانس اور طوائفوں کے انداز میں مجرا قطعاً اچھی روایت نہیں ۔

ہمارے سٹیج ڈرامے میں یہی فارمولا اپنا لیا گیا ہے کہ کامیڈینز آکر چند جگتیں کرتے ہیں اورپھر گرین روم سے بھڑ کیلے لباس میں ایک لڑکی نمودار ہوکر بے ہنگم ڈانس شروع کردیتی ہے حالانکہ اس کا کہانی سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا،
سوال:کیا دل نہیں کرتا کہ سٹیج کی بہتری کے لیے کچھ کیا جائے؟
واجد خان:میری خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے سٹیج کے لیے بہت کچھ اچھا کرجاؤں موجودہ تھیٹر کو بدلنا انتہائی مشکل ہے لہٰذا میری کوشش ہے کہ کسی دوسرے مقام سے فیملیز کے لئے صاف ستھرا سٹیج ڈامہ چلایا جائے۔


سوال:آپ کی بیوی نے کبھی شک نہیں کیا کہ سٹیج پر کسی ڈانسر یا ایکٹرس کے ساتھ کوئی چکر ہوسکتاہے؟
واجد خان:میری نظر میں تمام ساتھی فنکارائیں بہنوں ماؤں کی طرح ہیں لیکن پھر بھی میری بیوی کہتی ہے کہ چونکہ اس کا شوہر خوبصورت ہیں اس لئے شک کی گنجائش تو بنتی ہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :