روزی روٹی کی خاطر بہت جوتے کھائے۔ آغا ماجد

نامور کامیڈین آغاماجد کہتے ہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ساتھی فنکار انہیں گینڈا یا آڑو گرنیڈ کے نام سے پکاریں بچوں کی روزی روٹی اور کردار کی خاطر یہ سب سہنا پڑتا ہے

منگل 19 دسمبر 2017

محمد اظہر:
”خبر ناک“سے بطور کامیڈین بے پناہ شہرت اور پذیرائی سمیٹنے والے آغا ماجد نے گوالمنڈی میں آنکھ کھولی لیکن چونکہ ان کے والد صاحب کام کاج کے سلسلے میں ملتان منتقل ہوگئے تھے اس لئے آغا ماجد بھی وہیں پلے بڑھے،ٹیلرنگ کے پیشے سے وابستہ آغا ماجد نوے کے عشرے اوائل میں دوستوں کے پرزور فرمائش پر ملتان کے تھیٹر کا حصہ بنے حادثاتی طور پر فن اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے والے آغا ماجد کو آج اس شعبے میں سے وابستہ ہوئے کم و بیش25 بر س بیت چکے ہیں اس دوران انہوں نے ملتان کے تھیٹر پر فن کے جوہر دکھائے چند اسرائیکی فلموں میں اداکاری کی اور وقتاً فوقتاً لاہور کے سٹیج ڈراموں میں بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے نظر آئے،2010 میں جیونیوز حالات حاضرہ اور سیاسی و سماجی معاملات پر ایک کامیڈی شو کا اجرأ ہوا تو آغا ماجد اس ٹیم کا حصہ بن گئے اور بہت جلد بطور ایک ایکٹر اور کامیڈین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا آگا ماجد سے گفتگو کا احوال پیش ہے،،،،
سوال:کیا خاندان میں کامیڈی کے جراثیم پہلے سے موجود تھے؟
آغا ماجد:جہاں تک ددھیال کی بات ہے تو ہمارے ہاں اداکاری کی جانب آنے کا سوچا بھی نہیں جاتا تھا البتہ ننھیال میں میرے سگے ماموں محمود خان(مرحوم) ایک عرصے سے تھیٹر کام کررہے تھے لیکن وہ میری انسپریشن ہرگز نہیں تھے بلکہ اُس زمانے میں مجھے انسپریشن کا مطلب ہی نہیں پتا تھا میری جوانی ایک عام انسان کی طرح گزری پہلے میں نے ٹیلرنگ سیکھی اور پھر خود ٹیلر ماسٹر بن گیا دن بھر کپڑوں کی سلائی میں مصروف رہنے کے بعد یاروں دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور ہنسی مذاق میں کچھ وقت بتاکر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے اوریونہی زندگی آگے بڑھتی رہی کبھی تھیٹر پر کام کرنے کا سوچا ہی نہ تھا۔

(جاری ہے)


سوال:اچانک تھیٹر کی جانب کیونکر نکل آئے؟
آغا ماجد:بات دراصل یہ ہے کہ میں بڑا ہنس مکھ اور چھیڑ چھاڑ والی طبیعت کا مالک ہوں شروع سے ہی دوستوں کی محفل میں جگت بازی اور بظلہ سنجی کا مظاہرہ کرنے کی عادت تھی اس لئے اکثر اوقات دوست احباب مشورہ دیتے تھے کہ سٹیج پر کام کروں لیکن میں ہمیشہ یہ کہہ کر مشورے کو رد کردیتا کہ تھڑے پر بیٹھ کر یاروں دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور بات ہے لیکن سٹیج پر سینکڑوں لوگوں کے سامنے پرفارمنس دینا بہت مشکل ہے جو کم از کم میرے بس کی بات نہیں،
سوال:پھر کس طرح سٹیج پر قدم رکھا؟
آغا ماجد:یہ غالباً1992 کی بات ہے کہ ملتان میں تھیٹر پر کام کرنے والے چند دوستوں کے بھرپور اصرار پر پہلی مرتبہ میں نے ملتان میں سٹیج پر پرفارم کیا ،یہاں میں سہیل صاحب کا ذکر کروں گا جنہوں نے نہ صرف مجھے سٹیج پر آنے کا حوصلہ دیا بلکہ میری تربیت کی ان کی رہنمائی کے بغیر شاید میرے اندر کا کامیڈین باہر نہ آتا جب میں مستقل طورپر سٹیج کرنے لگا تو مجھے آغا خان(مرحوم) کی اداکاری اور کامیڈی نے بہت متاثر کیا میں انہیں اپنا روحانی استاد کا درجہ دیتا ہوں بلکہ آج بھی بے شمار لوگ کہتے ہیں کہ آغا ماجد میں عابد خان کی جھلک نظر آتی ہیں میری خوش قسمتی ہے کہ نوے کی دہائی میں جب میں نے لاہور میں کام شروع کیا تو عابد خان صاحب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور میں نے ان کا انداز کوکاپی کرنا شروع کردیا لیکن ان کے ساتھ زیادہ کام کرنے کا موقع نہ مل سکا ،جب میں سہیل احمد،ببوبرال،مستانہ اور امان اللہ صاحب جیسے سپر سٹارز کے ساتھ کام کرتا تھا تویہ کہتے تھے کہ عابد خان مرا نہیں بلکہ آغا ماجد کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہیں یہ جملے میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔


سوال:آپ کو کامیڈی کے دوران مختلف مزاحیہ نام دئیے جاتے ہیں کیا بیوی یا بچوں کو اعتراض نہیں ہوتا؟
آغا ماجد:میں نے اپنی نجی اور فنی زندگی کو الگ الگ خانوں میں بانٹ رکھا ہے کام کے دوران میں ایک مکمل پروفیشنل آرٹسٹ کی طرح کام کرتا ہوں جبکہ کام کے بعد فیملی کو بھرپور وقت دیتا ہوں لیکن اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ وہ میرے کام کے حوالے سے کوئی نکتہ چینی کریں،اکثر اوقات میری جسمانی ہیئت کا مذاق اُڑایا جاتاہے کبھی کوئی آڑو گرنیڈ کہتا ہے تو کبھی کچھ اورنام دیے جاتے ہیں میں نے کبھی ان باتوں کو دل پر نہیں لیا کیونکہ یہ سب سکرپٹ کا حصہ ہوتا ہیں اور ایک آرٹسٹ ہونے کے ناطے مجھے اپنے حصے کا کام ہر صورت کرنا ہوتا ہے اکثر اوقات کریکٹر کی ڈیمانڈ کے مطابق مجھے جوتے بھی پڑتے ہیں یہاں ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ ملتان میں میرا سٹیج ڈرامہ”شہنشاہ“ کم و بیش آٹھ ماہ تک چلتا رہا یہ ڈرامہ کہانی اور کرداروں کی پرفارمنس کے اعتبار سے بہترین تھا لیکن اس ڈرامے میں مجھے بے پناہ جوتے پڑے اور جس کسی نے بھی یہ ڈرامہ دیکھا اس نے ڈرامے کے دیگر پہلوؤں یکسر نظر انداز کرتے ہوئے یہی کہا”یارا!اس ڈرامے وچ توں جتیاں بڑیاں کھادیاں نیں،،،،،”اگر بطورآرٹسٹ میں یہ سب خوشدلی سے برداشت کرتا ہوں تو میری فیملی کی جانب سے کسی اعتراض کا سوال پیدا نہیں ہوتا روزی روٹی کی خاطر بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔


سوال:ٹی وی پر کام کرنے سے پہلے آپ لاہور کے تھیٹر پر کبھی کبھار ہی نظر آتے تھے اس کی کوئی خاص وجہ؟
آغا ماجد:دراصل میں ملتان کے سٹیج ڈراموں میں زیادہ مصروف تھا اور چونکہ فیملی بھی ملتان میں ہی مقیم تھی اس لئے میں وانستہ طور پر پر لاہور کم ہی آیا کرتا تھا حالانکہ یہاں بھی لوگ میری پرفارمنس کو بے حد پسند کرتے تھے”کالی چادر پارٹ ٹو“ سے مجھے پذیرائی ملی پھر جب جیو نیوز پر ”خبر ناک“شروع ہوا تو آفتاب اقبال صاحب نے میری سی ڈیز دیکھ کر مجھے بلوایااس طرح مجھے بطور کامیڈین ایک نئی پہچان ملی،
سوال:آپ کے خیال میں آپکی کون سی نیکی کام آئی؟
آغا ماجد:میں نہیں سمجھتا کہ میں نے اپنی زندگی میں بڑی نیکیاں کمائی ہیں البتہ مجھے یقین ہے کہ آج میں جس مقام پر ہوں اس میں میرے والدین کی دعاؤں کا بڑا کردار ہے والدین کی خدمت کا حق تو کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا لیکن الحمد اللہ میں نے ہر ممکن حد تک ان کی فرمانبرداری اور تابعداری کی ہے اور یقینا انہی کی دعاؤں کے طفیل آج میں لوگوں کے دل میں بستا ہوں اس کے علاوہ میں نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی بہت اچھا نباہ کیا بلکہ آج ہم والد صاحب کے زیر سایہ جوائنٹ فیملی سسٹم کے تحت ایک ہی گھر میں خوش و خرم رہ رہے ہیں آج بھی میری فیملی ملتان میں مقیم ہے میری دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ملتان میں میرا بوتیک بھی چل رہا ہے کیونکہ یہ میرا ہنر ہے اور میں کا میڈی کے شوق میں اپنے ہنر کو کبھی ترک نہیں کروں گا ویسے بھی میں نے شوبز میں اپنے کئی سنئیر کو کسمپری کی حالت میں ایڑھیاں رگڑتے دیکھا ہے اس لئے صرف کامیڈی کی روزی پر اکتفا کرنے کی بجائے ٹیلر نگ بزنس بھی چلا رہا ہوں۔


سوال:آپ کا تعلق سرائیکی خطے سے ہے اس قدر ٹھیٹھ پنجابی کیسے بول لیتے ہوں؟
آغا ماجد:دراصل میرا بنیادی تعلق لاہور سے ہیں اور میری پیدائش لاہور کے معروف علاقے گوالمنڈی کی ہے والد صاحب کی ملازمت کی وجہ سے ہمیں ملتان شفٹ ہونا پڑا اہل خانہ لاہوری یا فیصل آبادی لہجے کی پنجابی بولتے ہیں جبکہ سرائیکی بولنا خودبخود آگیا اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ میں اُردو کے علاوہ پنجابی اسرائیکی بھی نہ صرف روانی سے بولتا ہوں بلکہ کردار کی ڈیمانڈ کے مطابق سرائیکی کردار بھی آسانی سے نبھا سکتا ہوں ان دنوں میں لاہور اور ملتان کے درمیان شٹل کاک بنا ہوا ہوں کبھی ملتان میں ہوتا ہوں تو کبھی لاہور میں دراصل گذشتہ دو برسوں کے دوران ٹی وی پر مصروفیات کافی بڑھ چکی ہے۔


سوال:تھیٹراور ٹیلی ویژن دونوں بہت مختلف چیزیں ہیں آپ کو کس میڈیم میں کام کرنا زیادہ اچھا لگا؟
آغا ماجد:نجی ٹی وی پرآنے کے بعد احساس ہوتاہے کہ مجھے تھیٹر پر کام کرنا نہیں چاہیے تھا میں نہیں سمجھتا کہ تھیٹر پر فحاشی ہے یا یہ برائی کا اڈہ ہے البتہ ایک مافیا ماضی میں تھیٹر پر کام کرتا رہا ہے بلکہ آج بھی کررہا ہے بہر حال سچ یہی ہے کہ تھیٹر کے مقابلے میں ٹی وی سے مجھے کئی ہزار گنا زیادہ شہرت ملی اس لئے میں ٹی وی کی ترجیح دیتا ہوں اور مستقبل میں بھی ٹی وی کے زیادہ سے زیادہ پراجیکٹس کرنا چاہوں گا۔


سوال:آپ اچھی کامیڈین ہونے کے ساتھ ساتھ خوش گلو بھی ہیں کیا باقاعدہ کہیں سے سیکھا ہے؟
آغا ماجد:اچھی آواز قدرت کا تحفہ ہے لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ گانا تو مجھے آج بھی نہیں آتا میں نے موسیقی کا باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی بس ایک”باتھ روم“سنگر کی طرح یاروں دوستوں کی محفل میں ضرور گاتا رہا ہوں۔

اُستاد مہدی حسن خاں،ریشماں جی،غلام عباس اور ان جیسے دیگر بڑے ناموں کے گائے ہوئے گیتوں کو گنگنانے کی اپنی سی کوشش کرتا ہوں ناظرین پسند کرتے ہیں تو یہ ان کی محبت ہے،
سوال:تھیٹر کے اکثر فنکار ذو معنی جگتیں کرتے ہیں ٹی وی پر آپ کس طرح”سیلف سنسر شپ“ کے اصول کو اپنی ذات پر لاگو کرتے ہیں؟
آغا ماجد:بہت ہی سادہ سا اُصول ہے جو بات میں اپنی بہن یا بیٹی کے سامنے نہیں کرسکتا وہ مجھے سٹیج یا ٹی وی پر بھی نہیں کرنی چاہیے یہی”سیلف سنسر شپ“ ہے ٹی وی پر ویسے بھی اکثر ریکارڈ پروگرام چلتا ہے اس لئے یہاں زیادہ تر کامیڈین تھیٹر والی حرکات سے باز ہی رہتے ہیں۔


سوال:آپ لاہور اور ملتان دونوں جگہوں پر رہتے ہیں کہیں لاہور میں بھی فیملی تو نہیں رکھی کیونکہ شوبز میں دو شادیوں کا رواج بڑا عام ہیں؟
آغا ماجد:شوبز میں دوشادیوں کا رواج ہے بلکہ کئی لوگ تو اسے آرٹسٹ نہیں مانتے جس کی ایک ہی بیوی ہولیکن میرے ساتھ ایسا معاملہ نہیں میری اہلیہ اور بچے ملتان میں ہیں اور میں چند دن لاہور میں پروگرام ریکارڈ کرواکر واپس ملتان چلا جاتا ہوں اورویسے بھی اس دور میں بندہ ایک ہی بیوی سنبھال لے تو بڑی بات ہے۔


سوال:کیا گھر پر بھی چھوٹی چھوٹی باتوں میں کامیڈی کرتے ہیں؟
آغا ماجد:ایسا بالکل نہیں کہ ایک ایسا کامیڈین ہر جگہ جگتیں مارتا پھرے یہ صرف میرا پروفیشن ہے اور میرا ماننا ہے کہ موقع محل دیکھے بغیر بے لاگ کامیڈی کرنے والے کو اکثر جوتے ہی پڑتے ہیں اور لئے میں گھر پر بالکل کامیڈی نہیں کرتا کیونکہ یہ خاصی مہنگی پڑسکتی ہے یعنی بیوی بچے کنڑول سے باہر ہوسکتے ہیں میں گھر میں چنگیز خان ٹائپ انسان ہوں۔


سوال:یہاں تک پہنچنے میں کتنے پاپڑ بیلنا پڑے؟
آغا ماجد:میں حلفاً کہتا ہوں کہ مجھے کامیابی کے لئے محنت نہیں کرنا پڑی نہ کسی کی منت سماجت کرنے کی نوبت آئی اور نہ ہی کسی قسم کے پاپڑ بیلے اللہ نے والدین کی دعاؤں کے طفیل میری کامیابی کی راہیں کشادہ کردیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :