مجھے ریٹنگ کی پرواہ نہیں

معروف ٹی وی ہوسٹ ہما امیر شاہ کہتی ہیں اگر مجھے ریٹنگ کی پراہ ہوتی تو ماضی میں انگریزی زبان میں مارننگ شوز نہیں کرتی،،،،،ہاں البتہ چینل کے لئے ریٹنگ ہی سب سے اہم ہوتی ہے

جمعرات 21 دسمبر 2017

زارا مصطفی:
ابو ظہبی میں پلی بڑھی اور دنیا بھر میں صحافتی سرگرمیوں کے حوالے سے گھومنے پھرنے والی معروف صحافی اور مارننگ شوہوسٹ ہما امیر شاہ کو کم عمری سے ہی شعبہ صحافت سے گہری دلچسپی تھی،انٹر میڈیٹ کے بعد ہما اپنی فیملی کے ساتھ اسلام آباد منتقل ہوگئیں اور اور گریجوایشن کے بعد قائداعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈسٹریٹجک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا پھر دو سال تک اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نامی ایک”تھینک ٹینک“ کے ساتھ وابستہ رہیں 2002 میں پی ٹی وی ورلڈ سے بطور انگلش نیوز ایڈیٹر منسلک ہونے کے بعد انہیں انگلش نیوز کاسٹر منتخب کرلیا گیا اسی دوران انہوں نے ریڈیو پر بھی خبریں پڑھیں پھر مختلف چینلز پر پروگرام ہوسٹنگ کے علاوہ دیگر نمایاں عہدوں پر بھی صحافتی ذمہ داریاں نبھائیں۔

(جاری ہے)

”ہما نے“آج صبح“اور جیو پاکستان“ جیسے مارننگ شوز کے علاوہ ”دی مارننگ شووِد ہما امیر“ اور ”ٹائم ٹو ٹاک“کے نام سے انگریزی زبان میں بھی شوز کی ہوسٹنگ کی۔ہما کی یہی انفرادیت ہے کہ انہوں نے کبھی ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہوکر اوچھے ہتھکنڈے نہیں اپنائے بلکہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ معیاری مواد پیش کرکے صحافتی اقدار کی پاسداری کو یقینی بنایا ہما دنیا بھر میں مختلف کانفرسز اور سیمینار میں بھی شرکت کرتی رہی ہیں،آج کل وہ نجی ٹی وی پر نشر ہونے والے مارننگ شو”جیو پاکستان“ کی میزبانی کررہی ہیں۔


سوال:بطور میڈیا پرسن جانی جانے والی ہما اصل زندگی میں کیسی ہیں؟
ہما امیر شاہ(مسکراتے ہوئے): میرے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ جیسی تم اصل زندگی میں ہو ٹی وی پر بھی ویسی ہی نظر آتی ہوں ویسے بھی ہوسٹنگ میں اداکاری کی گنجائش نہیں ہوتی جو آپکی اصل شخصیت ہو وہی کھل کر سامنے آتی ہیں اور پھر لائیو شو میں تو آپ بناوٹ سے کام لے ہی نہیں سکتے اس کے علاوہ اصل زندگی میں ہی نہیں میں ٹی وی پر بھی ہر چیز کے بارے میں دھڑلے سے اپنی رائے دیتی ہوں میں فیملی اورفرینڈز کے ساتھ بہت مذاق کرتی ہوں مجھے سرپرائز دینا بہت اچھا لگتا ہے میں اکثر چھٹی پر بغیر بتائے گھر چلے جاتی ہوں ،مجھے دنیا گھومنے کا بہت شوق ہیں میرے قریبی دوست دو چار ہی ہیں تاہم آج بھی میری پکی سہیلیاں وہی ہیں جو سکول کے زمانے میں تھیں۔


سوال:اگر آپ کو بچپن کی گلیوں کی سیر کروائی جائے تو کیا یاد آتا ہے؟
ہما امیر شاہ(مسکراتے ہوئے):بہت کچھ یاد آتا ہے،،،،پہلے میرے والد پاکستان ائیر لائن میں پائلٹ تھے پھر وہ ابو ظہبی منتقل ہوگئے اس لئے میں وہیں پلی بڑھی ہم چار بہن بھائی ہیں بہنوں میں تیسرے نمبر پر جبکہ اکلوتے بھائی سے بڑی ہوں اور سب کی لاڈلی ہوں ہم سب بہن بھائی بچپن سے ہی ایک دوسرے کے بہت قریب تھے مجھے یاد ہے خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق دلچسپی مجھے اپنے والد کی وجہ سے ہوئی دراصل ابو کی غیر موجودگی میں اخبار جمع کرکے رکھنا میری ذمہ داری تھی اس لئے میں روزانہ اخبار پڑھتی تھی اور مجھے پتا ہوتا تھا کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے خصوصاً پاکستان میں سیاسی حالات کیسے ہیں میوزک کیسا ہے معاشرتی مسائل کیا ہیں؟شروع سے ہی میری متجسس فطرت تھی ویسے بھی ہم سب کو والدین کی طرف سے بولنے اور اظہار رائے کی آزادی تھی شاید اس لئے مجھے ہر بات پر اپنا نقطہ نظریہ پیش کرنے کی عادت تھی۔


سوال:تو پھر آپ پاکستان کیسے آئیں اور کیا تبدیلی محسوس کی؟
ہما امیر شاہ:1996 میں ہم نے اسلام آباد میں سکونت اختیار کی پہلے جب ہم چھٹیوں میں پاکستان آتے تھے تومجھے دادا،دادی ،نانا،نانی اور کزنز کے ساتھ بڑا مزا آتا تھا لیکن جب پاکستان میں مستقل رہنا پڑا تو دو تین سال تک کافی چیزیں سمجھنے میں مشکل ہوئی اور میرا خیال ہے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے چلے جائیں آپ کو ایک مرتبہ”کلچرل شاک“تو لگتاہے ویسے بھی جس پاکستان میں ہم چھٹیوں میں آیا کرتے تھے اب یہ وہ پاکستان نہیں لگتا تھا سکول کالج یونیورسٹی کا ماحول سب کچھ نیا تھا شام کے 6 بجے ہی ماں باپ کو فکر ہونے لگتی تھی کہ بچے اب تک گھر نہیں آئے سوچے شام کے 6 بجے تو باہر نکلنے کا وقت ہوتا تھا ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اچانک ہمارے ماں باپ کو کیا ہوگیا ہے؟کیونکہ جس ماحول سے ہم آئے تھے وہاں اتنی آزادی اور تحفظ تھا کہ والدین کو ہماری فکر نہیں ہوتی تھی لیکن پھر سمجھ آگیا کہ پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔


سوال:میڈیا میں کیسے آنا ہوا؟
ہما میر شاہ:میں نے گریجوایشن کے بعد قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اسی دوران ایک پروڈکشن کمپنی جو دنیا بھر کے لئے نیوز رپورٹس بناتی تھی میں نے ان کے ساتھ کچھ عرصہ کام کیا پھر ایک”تھِنک ٹینک“ کے ساتھ کام کیا انہی دنوں پی ٹی وی ورلڈ سے بطورانگلش نیوز ایڈیٹر پیشکش ہوئی اور تب سے آج تک جرنلزم اور میڈیا سے ہی تعلق ہے میں نے اب تک اردو اور انگریزی مارننگ شوز کے علاوہ بطور پروڈیوسر اور کانٹینٹ مینیجر بھی کام کیا ہے،
سوال:آپ دنیا بھر میں بطور صحافی پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں کیا آپ کے تجربے سے پاکستان خواتین کیسے مستفید ہوسکتی ہیں؟
ہما امیر شاہ(مسکراتے ہوئے):سب سے پہلے تو آپ کی ذات کو فائدہ ملتا ہے کیونکہ صحافت ایک ایسا شعبہ ہے اس میں آپ جتنا گھومتے پھرتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں اتنا ہی زیادہ سیکھتے ہیں لیکن اگر آپ اپنے گھر یا اس محلے سے باہر ہی نہیں گئیں تو خود سوچیں آپ کی سوچ کو دائرہ کس حد تک وسیع ہوسکتا ہے؟اس لئے جب آپ دنیا میں لوگوں کی متفرق رائے سنتے ہیں تو یقین کریں آپ کا دماغ کھل جاتا ہے آپ کو پتا چلتا ہے جو باتیں آپ نے خود سے فرض کی ہوئی ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟اس لئے جب میں واپس آکر ٹی وی پر بات کرتی ہوں تو یقینا لوگوں کو سیکھنے کے لئے کچھ اہم معلومات ملتی ہے،
سوال: ا ٓپ جرمنی میں مسلم خواتین جرنلسٹ پراجیکٹ کی رکن رہی ہیں آپ کو اپنے صحافتی کیرئیر میں اس سے کیا فائدہ ہوا؟
ہما امیر شاہ:یہ تقریباً دس سال پرانی بات ہے جب جرمنی کے ایک ٹی وی نے دس مسلمانوں ملکوں سے صحافتی خواتین کو بلایا رپورٹنگ اور نیوز کاسٹنگ میں میڈیا ٹریننگ کے حوالے سے ایک کورس کروایا جسے بعد میں پراجیکٹ کانام دیا گیاملکی حالات سے متعلق ہمیں مختلف لوگوں کے انٹرویو کرنے کا موقعہ بھی دیا گیا اس دوران ہمیں احساس ہوا اب تک ہم صرف پاکستان کے مسائل ہی جانتے تھے لیکن دنیا میں ہر جگہ بڑے بڑے مسائل ہوتے ہیں اور شاید ہم مل جل کر بھی انہیں حل کرسکتے ہیں آپ کو دنیا سے جڑے ہونے کا احساس ہوتا ہے میں اس وقت جن لوگوں سے ملی آج تک میری ان سے دوستی ہیں اگر مجھے دنیا کے کسی کونے سے خبر تصدیق کرتی ہو تو میں ان سے پوچھتی ہوں یہ بات ہم نے اس طرح پڑھی ہے کیا واقعی ایسا ہے؟
سوال:پاکستان کے دیگر مارننگ شوز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ہما امیر شاہ: میں دوسرے مار ننگ شوز بالکل نہیں دیکھتی کیونکہ وہ میرا سٹائل نہیں ہے اور دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ تمام شوز ایک ہی وقت میں ان ائیر ہوتے ہیں چونکہ میرے کیرئیر کا آغاز انگلش جرنلزم سے ہوا اور پاکستان میں انگریزی بولنے پڑھنے اور سمجھنے والے زیادہ نہیں ہیں اس لئے میں نے آج تک ریٹنگ کی پرواہ نہیں کی ویسے بھی اگر مجھے ریٹنگ کی پرواہ ہوتی تو میں ماضی میں کبھی انگلش زبان میں مارننگ شوز نہیں کرتی ہاں چینلز کے لئے ریٹنگ اہم ہوتی ہے لیکن الحمد اللہ میرے شوز سے انتظامیہ بھی مطمئن ہے۔


سوال:کیرئیر میں کامیابیاں سمیٹنے کے بعد شادی کب کی؟
ہماامیرشاہ(مسکراتے ہوئے):میری شادی 2011 مرتضیٰ افتاب سے ہوئی ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہی تھے پھر ہماری فیمیلز نے بھی ایک دوسرے کو قبول کرلیا تو لو میرج ارینج میرج میں تبدیل ہوگئی۔
سوال:آپ اپنی مصروفیات میں سے گھر داری کے لئے وقت کیسے نکالتی ہیں؟
ہما امیر شاہ: بہت آسانی سے وقت نکال لیتی ہوں کیونکہ میرے بچے نہیں ہیں میں اور میرے میاں مل کر کام کرسکتے ہیں دراصل ہم دونوں کے لئے ہمارا کام بہت اہم ہیں مگر ہمیں دوستوں سے ملنے اور گھومنے پھرنے کا بھی شوق ہیں اور جب سے کراچی آئے ہیں چھٹی پلان کرنا پڑتی ہیں۔


سوال:آپ نے اسلام آباد کراچی اور لاہور میں کافی وقت گزارا تینوں شہروں میں آپ کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟
ہما امیر شاہ:مجھے تو ہر شہر اپنے گھر جیسا ہی لگتا ہے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اسلام آباد کے لوگ زیادہ ملنسار نہیں ہوتے لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا لاہور کے لوگ جلد گھلنے ملنے والے ہوتے ہیں جبکہ کراچی کے لوگ کام کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں ان کے لئے دیگر معاملات زندگی ثانوی حیثیت رکھتے ہیں کراچی کے زندگی بہت تیز رفتار ہیں کراچی میں آپ کے دوست بہت بن جاتے ہیں مگر وہ آپ کی زندگی میں گھسنے کی کوشش نہیں کرتے شہر کوئی بھی ہو پاکستان لوگ دل کے بہت اچھے ہیں ہاں مگر کام کے معاملے میں پروفیشنلز کا معیار اونچا ہونا چاہیے اور اس معاملے میں کراچی نمبر لے جاتا ہے۔


سوال:آپ کے پہننے اوڑھنے کا انداز دیگر اینکرز سے بہت مختلف ہے آپ کے نزدیک سٹائل کی کیا اہمیت ہیں؟
ہما امیر شاہ:سب سے پہلی بات تو یہ کہ میں اپنا سٹائل خود تخلیق کرتی ہوں میرے نزدیک”سٹائل“وہ ہے جس میں آپ آرام دہ محسوس کریں میں فیشن ٹرینڈز کے پیچھے اندھا دھند نہیں بھاگتی مثلاً اگر مجھے پٹیالا شلوار سوٹ نہیں کرتی تو میں کبھی نہیں پہنوں گی کپڑوں کے کلرز اور کٹس میں خود ہی منتخب کرتی ہوں ویسے بھی ٹی وی پر ایسا کوئی جوڑا نہیں پہنتی کہ لوگ میری بات سے زیادہ میرے جوڑے پر توجہ دیں۔

البتہ میں ضرور چاہتی ہوں کہ لوگ مجھے دیکھ کر رک جائیں مگر پھر مجھے سنیں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں؟
سوال:آپ نے مطالعہ کے ساتھ کبھی لکھنے کے بارے میں نہیں سوچا؟
ہما امیر شاہ:مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے بلکہ میں کہوں گی کہ میں پاگلوں کی طرح پڑھتی ہوں کتابیں میگزین،آن لائن آرٹیکلز اگر مجھے کسی خاص کتاب کا پتا چلے تو مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی آرڈر کردیتی ہوں امی کو بھی پڑھنے کا بہت شوق ہیں اس لئے ان کے ساتھ بھی کتابوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو جب میں تھنک ٹینک میں کام کرتی تھی تو تب لکھتی تھی مگر جب سے ٹی وی پر کام کرنا شروع کیا ہے تو لکھنے کا رجحان نہیں رہا اب صرف اپنے شوز کی سکرپٹ رائٹنگ ہی کرتی ہوں ہاں شعیب منصور نے مجھے فلم”بول“کا سب ٹائٹل لکھنے کو کہا اور چونکہ ان کی فلمیں دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں اور یہی بات ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے بہت اچھے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سب ٹائٹل تحریر کیا جو شعیب صاحب کو بہت پسند آیا اور انہوں نے لکھنے کے حوالے سے میری بہت حوصلہ افزائی کی ویسے اب تک میں نے کچھ لکھا تو نہیں لیکن شاید ایک کتاب میرے اندر پھنسی ہوئی ہیں جو فی الحال بکھرے ہوئے خیالات کی شکل میں ہے جو پتا نہیں کبھی کتاب کی شکل میں آسکے گی یا نہیں؟
سوال:کیا آپ کی زندگی میں کبھی کسی شخصیت نے اتنا متاثر کیا کہ جس سے آپ کی شخصیت میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی ہو؟
ہما امیر شاہ:میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں سے زیادہ آپ کی زندگی کے تجربات آپ کو بہت کچھ سکھاتے ہیں یہ بھی سچ ہے آپ زندگی میں جتنے لوگوں سے ملتے ہیں وہ کسی نہ کسی انداز میں آپ پر کوئی نہ کوئی اثر تو چھوڑ ہی جاتے ہیں جیسے جیسے زندگی گزرتی ہیں آپ خود ہی تبدیل ہوتے جاتے ہیں بلکہ شاید آپ کی شخصیت ایک نئے انداز میں سامنے آتی ہے وقت کے ساتھ آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے پرانی غلطیوں سے سیکھتے ہیں دنیا بھر میں گھومنے کی وجہ سے میرے پاس معلومات کا ذخیرہ ہے میں سابق جنرل پرویز مشرف کے دور میں بیرون ملک سے آنے ولاے سرکاری وفود کی میزبانی کے حوالے سے بھی شوز کرتی تھی جو آن ائیر نہیں ہوتے تھے مثلاً ان میں سے ایک میں امریکی صدر جارج صدر ڈبلو بش کی پاکستان آمد پر پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ عہدیداران شامل تھے یہ میرے لئے بہت دلچسپ اور حوصلہ افزاتجربہ تھا جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا کیونکہ ٹی وی پر شو کرنا اور بات ہے اور اس طرح دنیا کے سپر پاور کے نمائندگان کے ساتھ براہ راست یگفتگو کرنا بالکل ایک الگ تجربہ تھا۔


سوال:آپ سوشل میڈیا کو اظہار رائے کے لیے کس حد تک موثر سمجھتی ہیں؟
ہما امیر شاہ:میرے شو کی تشہیر کے لئے باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیم موجود ہے اور میرے اپنے بھی فیس بک اور ٹوئٹر اکاونٹس ہیں مگر میں اپنی ذاتی رائے کے سوشل میڈیا پر اتنی سرگرم نہیں ہوں بلکہ میرے پاس ٹی وی میڈیم موجود ہیں اس لئے سوشل میڈیا کو ذاتی اظہار رائے کے لئے کچھ خاص اہمیت نہیں دیتی میرے نزدیک سوشل میڈیا بہت پیچیدہ ہے جہاں گمنام نقلی شناخت اور بغیر چہرے کے لوگ من گھرت باتیں کرتے رہتے ہیں ایسے میں ان سے سے کھپانے کی بھلا کیا ضرورت ہے البتہ میں ٹوئٹر کے ذریعے دنیا کے بارے میں معلومات لیتی رہتی ہوں کیونکہ ٹوئٹر دنیا بھر میں خبروں اور معلومات کے حصول کے لئے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا میڈیم ہے اور پھر صبح صبح دنیا بھر کی معلومات آپ کے پاس آجاتی ہے خبروں کے حصول کے لئے اس سے بہتر اور کچھ نہیں۔


سوال:پاکستان کے سیاسی حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہیں؟
ہما امیر شاہ:آج کل پاکستان کے سیاسی حالات کافی دشوار ہیں اور جہاں تک پاکستان سیاستدانوں کی بات ہے تو میں کسی کا نام نہیں لوں گی مگر میرے نزدیک کوئی بھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہے ان میں سے کسی کو بھی پاکستان کی فکر نہیں ہے،ویسے بھی جب تک پاکستان کا سیاسی نظام خاندانی سیاست کے زیرِتسلط رہے گا تب تک کسی بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی خاندانی سیاستدانوں کی پیروی میں ان کے کارکن اپنی زندگی برباد کردیتے ہیں مگر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے دنیا بھر کی سیاست میں یہی حالات ہوتے ہیں مگر وہ کسی نہ کسی لیول پر شفافیت ضرور ظاہر کرتے ہیں ان کی سیاسی جماعتوں کے اندر کے انتخابات ہوتے ہیں اور لوگ نچلے درجے سے اوپر آتے ہیں مگر ہمارے ہاں ہر جماعت کسی ایک شخص کے زیر اثر چلتی ہے یعنی وہی چار لوگ ان کے بچے اور پھر ان کے بچے اور جنہیں بچپن سے پتا ہوتا ہے پاکستان کی بھاگ دوڑ ان کے ہاتھ میں آنی ہے تو انہیں کیا ضرورت ہے کچھ اور کرنے کی،،،،،،
سوال:آپ نے اپنے ساتھی اینکرز کی طرح کبھی اداکاری کی بارے میں سوچا ہے؟
ہما امیر شاہ:ایک زمانے میں مجھے اداکاری کا تھوڑا بہت شوق تھا مگر اتنا کبھی نہیں رہا کہ میں اپنا کیرئیرچھوڑ کر اداکاری میں لگ جاؤ ں گی اور اگر سچ کہوں تو میں نے کبھی اتنی ادکاری بھی نہیں کہ سکول کالج کے سٹیج پر کوئی چھوٹا موٹا کردار ادا کرلوں میرے لئے میرا صحافتی کیرئیر بہت اہم ہے اور میں جو کام کررہی ہوں اس سے بہتر اور کچھ نہیں ہے ہاں میں نے ایک سیلولر نیٹ ورک کمپنی کے ٹی وی اشتہار میں کام کیا ہے مگر میری یہ شرط تھی کہ مجھے ڈاکٹر یا استانی نہ بنائیں میں جرنلسٹ ہماامیر شاہ ہوں تو مجھے اسی طرح دکھائیں کیونکہ نام اور پہچان بنانے کے لئے ہی تو انسان زندگی بھرپا پڑ بیلتا ہے اس لئے مجھے اپنا نام بدل کر کام کرنا بالکل پسند نہیں ہے میں نے ایک قریبی دوست کے لئے ڈائمنڈ جیولری کے اشتہار کے لئے ماڈلنگ بھی کی تھی۔


سوال:آپ کے پسندیدہ رنگ کون سے ہیں؟
ہما امیر شاہ:یہ بتانا مشکل ہے کیونکہ مجھے ہر رنگ اچھا لگتا ہے ہاں لیکن میں عام زندگی میں شوخ رنگ پہننا پسند نہیں کرتی بلیو بلیک وائٹ کو ترجیح دیتی ہوں ٹی وی کے علاوہ عام طور پر آپ مجھے ایک جینز اور ٹی شرٹ میں ہی دیکھیں گی(شرارتاً) جوکہ نہ ہی دیکھیں تو بہتر ہے۔


سوال:آپ کو گھومنے پھرنے کا شوق ہے تو آپ کی پسندیدہ جگہ کون سے ہے؟
ہما امیر شاہ:گھر،،،،،جو چاہے لاہور میں ہو اسلام آباد میں یا کراچی میں،،،،،،مجھے اپنے گھر سے بہت پیار ہے میں کوشش کرتی ہوں اگر کسی نے مجھ سے ملنا ہے تو میرے گھر پر آجائیں تا کہ مجھے کہیں نہ جانا پڑے مجھے گھرسجانے اور سنوارنے کا بھی بہت شوق ہے جس میں بہت سے پودے ہوں دنیا میں جہاں بھی میرا گھر ہو میرے لئے اس سے بہتر کوئی جگہ نہیں ہے۔


سوال:پاکستانی خواتین کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ہما امیر شاہ:آج کی پاکستانی عورت باشعور ہے وہ جانتی ہیں کہ ان کے وجود کی کیا اہمیت ہے خصوصاً آج کی عورت جانتی ہے کہ اس کا کسی سے موازنہ نہیں ہے اور نہ ہر عورت بینظیر بھٹو یا ہیلری کلنٹن بن سکتی ہے اس لئے وہ جو کام کررہی ہیں انہیں پتا ہے کہ وہ سب سے بہتر کام کرسکتی ہے یہ شعور اور صلاحیت معاشرتی ترقی کی علامت ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :