کرکٹر بننا تھا ایکٹر بن گیا ۔ عرفان خان

عرفان خان کہتے ہیں کہ میں بچپن سے کرکٹ کا دیوانہ تھا مگر ہمارے زمیندار گھرانے میں سپورٹس کے حوالے سے عام تاثر یہی تھا کہ کھیل کود کرنا کون سی بڑی بات ہے؟اس لئے حادثاتی طور پر اداکار بن گیا۔

پیر دسمبر

Irfan Khan
زارا مصطفی:
بالی ووڈ کے معروف ایکٹر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر عرفان خان کا اصل نام صاحبزادے عرفان علی خان ہے مگر جب وہ فلم نگری میں آئے تو اپنا نام بدلنے کی بجائے محض مختصر کرلیا اور 1998 میں عرفان خان کے نام سے شہرت پائی وہ پہلی مرتبہ فلم”اسلام بمبئی“میں جلوہ گر ہوئے اور انہیں اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کرلیا گیا ان کی مشہور زمانہ فلموں میں ”لائف ان اے میٹرو روگ لنچ بکس ،حاصل ،پیکو،تلوار،جذبہ،مقبول،ہندی میڈیم،سلم ڈاگ ملینئر، لائف آف اے پائی،دی ڈار جیلنگ لمیٹڈ اور دی نیم سیک شامل ہیں پاکستانی اداکار عدنان صدیقی کہتے ہیں میں نے اور عرفان نے فلم”اے مائٹی ہارٹ“سے ایک ساتھ ہالی ووڈ میں قدم رکھا مگر بھارتی میڈیا نے عرفان کا اس قدر بول بالا کیا کہ آج وہ ہالی ووڈ میں بھی چھائے ہوئے ہیں،عرفان نے نہ صرف فلموں بلکہ مشہور زمانہ سیریز میں بھی کام کیا جن میں ”سپرش بھارت ایک کھوج سارا جہان اپنا اور بنے گی اپنی بات“شامل ہیں 2012 میں انہیں بھارت کا چوتھا بڑا سرکاری اعزاز پدم شری دیا گیا انہیں بطور بہترین اداکار فلم فئیر اور ایشین فلم ایوارڈ سے بھی نواز ا گیا عرفان کو کئی بین الاقوامی اعزازت سے بھی نوازا جاچکاہے وہ 80 سے زائد فلموں اور ان گنت ٹی وی اشتہارات میں بھی کام کرچکے ہیں ان کی بیوی سٹاپہ سکدر بتاتی ہیں عرفان اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی نہیں بلکہ آج بھی گھر آتے ہیں سیدھا اپنے کمرے میں جانے کی بجائے فرش پر بیٹھ کر کتابیں پڑھنے لگتے ہیں ہر ہفتے کم از کم ایک نیا بالی ووڈ سکرپٹ عرفان خان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور اپنے کردار کو سمجھنے کے لیے وہ رات گئے تک کام کرتے ہیں عرفان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ کم از کم وہ دہ فلموں کے سکرپٹ مسترد کرتے ہیں کہا جاتا ہے عرفان خان ایک ہالی ووڈ کے بدلے چار ملین ڈالر سے زائد کا معاوضہ وصول کرنے والے پہلے بھارتی اداکار ہیں وہ ایک ٹی وی اشتہار کا معاوضہ تین سے پانچ کروڑ روپے وصول کرتے ہیں ان کے اثاثوں کی کل مالیت 50 ملین ڈالر یعنی 82 کروڑ روپے ہیں وہ سالانہ کم و بیش 12 کروڑ روپے کماتے ہیں ان کے پاس ممبئی میں اڑھائی کروڑ روپے کی مالیت کا گھر 7 کروڑ روپے مالیت کی چار شاندرا کاریں ہیں عرفان خان نے 2016 میں 14 کروڑ روپے انکم ٹیکس دیا جو گذشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں 170 فیصد زیادہ ہیں عرفان نے7 جنوری 1967 کو راجھستان کے جاگیردار پٹھان گھرانے میں آنکھ کھولی ان کے والد ٹائروں کا کاروبار کرتے تھے عرفان زمانہ طالب علمی سے ہی کرکٹ کے دلدادہ تھے کہتے ہیں جن دنوں کرکٹ میچ ہوتے مجھے کوئی خبر نہیں ہوتی تھی کہ کلاس میں ٹیچر نے کیا پڑھایا ہے؟بس میں سپورٹس سٹار بننا چاہتا تھا مگر میرے زمیندار گھرانے میں سپورٹس کیرئیر کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا ان کا خیال تھا کہ کھیل کود کرنا کون سی بری بات ہے ؟بہر حال وہ تو اداکاری کو بھی کیرئیر نہیں سمجھتے تھے بالآخر میں نے انہیں منا ہی لیا عرفان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ فلموں میں جس قدر سنجیدہ کردار نبھاتے ہیں حقیقی زندگی میں اتنے ہی خوش مزاج انسان ہیں اور ان کی حسِ مزاح بہت اچھی ہے عرفان کہتے ہیں میں ہمیشہ سے شرارتی بچہ تھااور آخری بینچ پر بیٹھا کرتا تھامگر جونہی سکول کی گھنٹی بجتی میں سب سے پہلے کلاس سے باہر نکل جاتا عرفان خان نے 1984 میں ماسٹرز کے دوران دہلی کے نیشنل سکول آف ڈرامہ سے سکالرشپ پر تین سالہ ایکٹنگ ڈپلومہ کیااس وقت عرفان نے اداکاری میں کیرئیر کے حوالے سے سنجیدگی سے فیصلہ نہیں کیا تھا مگرپھر بھی وہ انٹر ویو دینے چلے گے اور انٹر ویو پینل کے سامنے جھوٹ بولاکہ ماضی میں تھیٹر پر اداکاری کرتا رہا ہوں اور پینل ممبران کو یقین بھی آگیا شاید اسی کو اداکاری کہتے ہیں اس انٹرویو کے فوراً بعد پینل نے کہا آپ جلد از جلد کلاسز میں حاضر ہوں اور کورس کا آغاز کریں بہرحال جب عرفان نے اپنی والدہ کو بتایا کہ وہ ایکٹنگ سکول میں جارہے ہیں تو وہ بہت پریشان ہوگئیں کہ اب نوکری کہاں ملے گی؟تو عرفان نے ایک مرتبہ پھر انہیں جھوٹ بول کر یقین دلایا کہ وہ ڈپلومہ لینے کے بعد کالج میں لیکچر کی نوکری کریں گے۔

(جاری ہے)

پڑھائی کے دوران ہی میرا نائیر نے عرفان کو فلم”سلام ممبئی“کی پیشکش کردی۔
کلاس فیلو سے شادی!
ایکٹنگ سکول میں عرفان کی دوستی اپنی کلاس فیلو سٹاپہ سکدر سے ہوگئی جو کہانی نویس اور سکرین پلے رائٹر بننا چاہتی تھی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی دوستی گہری ہوتی گئی کہ ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلیا اور اپنے کیرئیر بنانے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہوگئے۔

بالآخر جب عرفان خان بطور ادکار مشہور ہوگئے تو 23 فروری 1995 کو انہوں نے سٹاپہ سکدر سے شادی کرلی چونکہ سٹاپہ ہندو اور عرفان مسلمان ہیں اس لئے دونوں نے سادگی سے کورٹ میرج کی ان کے دو بیٹے بابل اور آیان ہیں عرفان اور سٹاپہ نے 1993 سے 1997 تک ٹی وی شوز کے لئے ایک ساتھ کام بھی کیا ہے جن میں سے ایک مشہور ترین بھارتی سٹ کام“بنے گی اپنی بات جسے سٹاپہ نے تحریر کیا اورعرفان نے ادکاری کے ساتھ ساتھ اسے ڈائریکٹ بھی کیا 2015 میں عرفان نے سٹاپہ کی پروڈیوس کی ہوئی فلم” مداری“میں کام کیا عرفان کا کہنا ہے میری بیوی میری سب سے بڑی ناقد ہیں بعض اوقات وہ اتنی معمولی غلطیاں پکڑتی ہیں کہ مجھے خود بھی ان کا ادراک نہیں ہوتا اس لئے میں ان کی تنقید پر بہت توجہ دیتا ہوں۔


سونو نگم کو آڑے ہاتھوں لیا!
2017 کے آغاز میں بھارتی گلوکار سونو نگم نے بھارتی مسجدوں میں اذان کی آوازوں کے بارے میں سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے شدید تنقید کی جس پر ہر کسی نے اپنے اپنے انداز میں سونو نگم کے خلاف ردعمل ظاہر کیا ان دنوں عرفان پاکستان ادکارہ صبا قمر کے ساتھ نئی آنے والی فلم”ہندی میڈیم“کی تشہیر میں مصروف تھے کہ صحافی نے ان سے اس موضوع پر رائے پوچھی تو انہوں نے ایسا جواب دیا کہ مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ ہندو سکھ اوردیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے بھی دل جیت لئے انہوں نے کہا کیا”بحیثیت“معاشرہ ہم اتنے حساس لوگ ہیں کہ پسندیدہ آوازیں ہمارے سکون میں خلل کا باعث بن رہی ہی؟اور اگر واقعی ایسا ہے تو کچھ لوگوں کے لیے صرف مسجدوں کے لاؤڈ سپیکر کی آوازیں ہی کیوں ایک برا مسئلہ ہیں؟کیا اس سے پہلے کبھی کسی نے آواز اٹھائی کہ ہسپتالوں کے سامنے سے گزرتی گاڑیاں اور ہارن کی آوازیں مریضوں کے لیے کس قدر تکلیف کا باعث ہوتی ہیں؟اس لئے سب سے پہلے یہ پتا لگانا ضروری ہے کہ اس شخص کو صرف اذان کی آواز سے مسئلہ ہے یا دیگر ناپسندیدہ آوازوں سے بھی،،،،،اور اگر یہ پتا چل جائے تو شاید مسئلے کا حل نکالنا آسان ہوجائے گا عرفان ہمیشہ سے ہی اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے بالی ووڈ میں خاصے مشہور ہیں انہوں نے سونونگم ہی کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ مسلمانوں کو بھی مشورہ دیا کہ رمضان میں صرف روزے رکھنے کی بجائے خود احتسانی سے بھی کام لینا چاہیے انہوں نے عید قربان محرم کے موقعہ پر بھی مسلمانوں پر تنقیدکرتے ہوئے کہا محرم ایک عظیم سوگ کا مہنیہ ہے مگر مسلمان اسے بھی کسی تہوار کی طرح مناتے ہیں بلکہ ہم نے مذہبی رسومات کو تماشا بنا رکھا ہے جس پر بھارتی مسلمان علماء نے انہیں تنبیہہ کی کہ وہ اپنی اداکاری پر توجہ دیں نہ کہ دینی معاملات میں متنازعہ بیان بازی کریں،،کیون کہ اس سے دیگر مسلمانوں کی دل آزاری ہورہی ہے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments