کیسے مٹاؤں شہرت کی بھوک؟

شوبز کے لوگ اپنی مارکیٹ ویلیو بڑھانے کے لئے کیا کیا حربے استعمال کرتے ہیں؟

منگل 16 جنوری 2018

زارا مصطفی:
کہتے ہے پردے کے آگے کی زندگی ایک دھوکے اور فریب سے زیادہ کچھ نہیں لیکن پردے کے آگے رہنے والے اس دلفریب دھوکے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پردے کے پیچھے بھی ان کی زندگی اسی کے گرد گھومنے لگتی ہے خصوصاً جن فنکاروں پر قسمت کی دیوی کچھ خاص مہربان نہیں ہوتی وہ نت نئے فریبوں اور بہانوں کا سہارا کچھ زیادہ ہی لیتے ہیں تاکہ اپنی جھوٹی شہرت کا بھرم رکھ سکیں ایسے میں آپ نے ٹی وی پر دیکھا ہوگا وہ اپنے انٹرویو میں کس قدر بناوٹی اور مصنوعی باتوں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح جب فنکار شوبزکیرئیر کے ابتدائی دور میں ہوتے ہیں تو صحافیوں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ کہیں کسی اخبار رسالے میں ان کا کوئی چھوٹا موٹا انٹرویو یا خبر چھپ جائے لیکن جونہی ذرا شہرت ملنے لگتی ہے تو انٹرویو دینے میں حیلے بہانے بنانے لگتے ہیں تاکہ یہ جتا سکیں کہ وہ کتنے بڑئے سٹار ہے۔

(جاری ہے)


پردے کے آگے اور پیچھے کا سچ،،،،،
نجی ٹی وی کی پروڈیوسر اُم طوبیٰ بتاتی ہیں میں گذشتہ چھ برسوں سے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہوں میں نے اپنے مختصر کیرئیر میں بہت سے ستاروں کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا ہے مگر پردے کے آگے اور پیچھے کی کہانی تقریباً سبھی ایک جیسی ہوتی ہے یعنی ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اور ہوتے ہیں اور یہ کہاوت تقریباً سبھی ستاروں پر صادق آتی ہے لیکن شاید شہرت کی بھوک ہے ہی اتنی ظالم چیز میں نے دیکھا ہے اگر کوئی ٹی وی شوز زیادہ مشہور ہوجائے تو بعض نامور فنکار بھی خود فرمائش کرتے ہیں کہ انہیں شوپر مدعو کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے بارے میں جانیں لیکن ایسے لوگ بھی نہیں ہے جنہیں ذرا سی شہرت مل جائے اور ہم انہیں کسی پروگرام میں مدعو کرلیں تو بے جا ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں تاکہ اپنا معاوضہ بڑھاسکیں ان فنکاروں کے ایسے نخرے جھیلنا بعض اوقات چینلز کی مجبوری بن جاتی ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ شوبز کے جس فنکار کو لوگ ٹی وی پر زیادہ دیکھتے ہیں وہ لوگوں میں جلد مقبول ہوجاتا ہے اس لئے بڑے میڈیا پروڈکشن ہاؤسز میں بھی ان کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور کسی فنکار کی لوگوں میں مانگ بڑھنے کا مطلب معاوضہ بڑھنا ہے بعض فنکار موضوع بحث بننے کے لیے اپنی مرضی کے سوال پوچھنے پر بھی اصرار کرتے ہیں بڑے فنکار تو اس بات پر بھی جھگڑا کرتے ہیں کہ ان کے مینیجر یا اسسٹنٹ کے بیٹھنے کی جگہ کون سی ہیں؟خصوصاً جب انہیں ایک شہر سے دوسرے شہر میں بلایا جاتا ہے تو اپنے نام نہاد مینیجر کے اخراجات کا مطالبہ کرتے ہیں میں اکثر دیکھتی ہوں جب کسی معروف اداکار،اداکارہ،گلوکار یا گلوکارہ کو انٹرویو کے لئے فون کیا جائے تو وہ وقت دینے میں ٹال مٹول سے کام لینا تو بہت عام سی بات ہے کیونکہ اگر وہ جلد انٹرویو کے لیے راضی ہوجائیں تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید ان کے پاس کوئی اور کام نہیں تھاجو فوراً انٹرویو کے لیے وقت دے دیا اس حوالے سے اکثر لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ بھئی آپ نے ایک مصروف فنکار سے انٹرویو کی فرمائش کی ہے(یہ الگ بات ہے کہ وہ واقعی مصروف ہیں بھی یا نہیں)اس لئے تھوڑا انتظار کریں اور چند دن بعد فون کرلیں پھر چند دن بعد بھی مختصراً جواب دے کر مصروفیت کا بہانہ بنادیا جاتا ہے تاکہ وہ تاثر دے سکیں کے ان کے پاس فون سننے کا بھی وقت نہیں بعض ایسے بھی ہے جو غلطی سے فون اٹھالیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت ریکارڈنگ میں ہے اس لئے آپ کچھ دیر بعد کال کریں اور پھر فون اٹھانے سے بھی عاری ہوجاتے ہیں ارے بھئی اگر واقعی شاٹ ریکارڈ کرواتے فون سن لیا ہے تو پوری بات بھی سن لیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو شارٹ کے درمیان فون سننے کی بھلا کیا ضرورت ہی کیا ہے؟حقیقت تو یہ ہے کہ اس دوران فون سننا تو دور فون دیکھنے کی گنجائش نہیں ہوتی تو پھر اپنی جھوٹی مصروفیت بتانے کے لئے یہ ڈرامے بازی کیوں؟اگر آج کل کے مارننگ شوز کی بات کی جائے تو ان میں بعض فنکار اپنے خاندان کی معروف شخصیت کا حوالہ دیتے ہیں تاکہ لوگ انہیں چاہ کر بھی نظر انداز نہ کرسکیں اس لئے وہ اپنے باپ دادا کی شہرت اور مقبولیت کا راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں لیکن جب انہیں یہ خدشہ ہو کہ وہ وراثتی شہرت کو سنبھال نہیں سکتے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کا نام استعمال نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنی الگ پہچان بنانا چاہتے ہیں اس قسم کی دوہری بیان بازی کرکے اپنے مارکیٹ ویلیو تو بڑھالیتے ہیں مگر جب ضرورت سے زیادہ شہرت ملنے لگے تو اپنے نام کے ساتھ ”سیلف میڈ“کا خود ساختہ خطاب بھی لگالیتے ہیں شوبز کے وہ ستارے جو قصہ پارینہ بن جاتے ہیں جب ان کے کام نہ کرنے کی وجہ پوچھی جائے تو کہتے ہیں کئی فلموں اور ڈراموں کے آسکرپٹ زیرِ غور ہیں مگر ابھی انتخاب سے متعلق فیصلہ نہیں کیا اور یہ انتخاب کبھی عمل میں آتا ہی نہیں دراصل ایسا کہنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کو یہ تاثر نہ جائے کہ ان کی مارکیٹ ویلیو گر گئی ہے پھر اگر کسی چھوٹے موٹے کردار میں نظرآجائیں تو کہتے ہیں فلاں کے کہنے پر کرلیا انکار نہیں کرسکتا تھا۔


پبلک ریلیشننگ کے گُر:
مارکیٹ ویلیو بڑھانے کے لیے بعض ابھرتے ہوئے فنکاروں نے مختلف پی آر کمپنیوں میں ممبر شپ لے رکھی ہے اس لئے ان سے براہ راست رابطہ کرنے کی بجائے ان کے پی آر مینیجر سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جو اپنی مرضی سے ان تک رسائی کرواتے ہیں پی آر کمپنیوں کے زیرِ اہتمام تقریبات میں ان ممبران کو بھی ضرور مدعو کیا جاتا ہے جس سے انہیں اخباروں اور رسالوں میں اچھی خاصی کوریج ملتی ہے اکثر فنکار اپنے بہن بھائی یا قریبی دوستوں کو میڈیا میں بطور مینیجر متعارف کرواتے ہیں تاکہ یہ تاثر دے سکے کہ وہ اپنی مصروفیات کے باعث براہِ راست لوگوں سے رابطے میں نہیں رہ سکتے بلکہ یہ عام بات ہے کہ اگر کسی کا فون نہ اٹھانا چاہیں تو اپنے قریب بیٹھے کسی دوست رشتے دار بہن بھائی کو فون تھما کر یہ بہانہ بنانے کو کہتے ہیں کہ فون کرنے والے سے کہہ دو وہ شوٹ پر ہے اور بات نہیں کرسکتے۔

ہمارے ہاں انگریزی پڑھنے اور بولنے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے اس کے باوجود شہرت کے بھوکے فنکاروں کو انگریزی اخبار اور رسالوں میں اپنی تصویر چھپوانے کا اتنا ہی شوق ہوتا ہے جتنا فلمساز میرا کو انگریزی پر عبور نہ ہوتے ہوئے بھی انگریزی بولنے کا جنون ہے۔
سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا اہم ذریعہ:
ایک نجی ٹی وی کی سوشل میڈیا ایکسپرٹ زینب طور کہتی ہیں شہرت کے بھوکے بعض فنکار اپنا معاوضہ بڑھانے اور لوگوں کی نظروں میں رہنے کے لئے اپنی ہر چھوٹی موٹی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فیس بک انسٹاگرام،سنیپ چیٹ اور ٹوئٹر پر کبھی مختلف ویڈیو پیغامات شئیر کرتے ہیں تو کبھی کسی مشہور فنکار کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز بناکر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں پاکستان کی بہت سی معروف اداکارائیں سوشل میڈیا پر اپنی ہر معمولی سرگرمی سے متعلق ہی نہیں بلکہ ایسے متنازعہ سیاسی اور سماجی موضوعات چھیر بیٹھتی ہے کہ ان کے لائیکس اور کمنٹس بڑھتے رہتے ہیں ان حربوں کی وجہ سے انہیں میڈیا میں رائے عامہ کی نمائندگی کے لیے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور ان کی مارکیٹ ویلیو بڑھ جاتی ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :