خوبصورت کیوں نہ لگوں؟

اداکارہ اور ماڈل سعدیہ خان کہتی ہے مانتی ہوں کہ میں نے خوبصورت نظر آنے کے لیے”بوٹو کس“ کروایا ہے لیکن اتنا کہ جس سے میری خوبصورتی میں اضافہ ہونہ کہ میں بدشکل لگنے لگوں

منگل جنوری

khobsorat kyun na lago

زارا مصطفی:
ڈرامہ سیریل ”خدا اور محبت“ سے شہرت پانے والی بھولی بھالی دھیمے لہجے اور خاموش نگاہوں سے ہنسنے والی خوبرو حسینہ سعدیہ خان کی پہلی پہچان بطور فیشن ماڈل ہے وہ حادثاتی طور پر فیشن کی دنیا کا حصہ بنیں مگر پھر انہوں نے کبھی پیچھے مُڑکر نہیں دیکھا قسمت کی دیوی شاید سعدیہ پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھی کہ انہیں شوبز کی بے رحم دنیا میں جوتیاں گھسیٹتے بغیر ہی نمایاں شہرت مل گئی حادثاتی طور پر ان کی تصویریں سڑکوں اور چوراہوں پر لگے بل بورڈ پر آویزاں کردی گئیں اور وہ ایک معروف سیلولر نیٹ ورک کمپنی کا نمایاں چہر ہ بن گئیں اس حسین حادثے پر سعدیہ نے ہر جانے کی خاطر واویلا مچانے کی بجائے راتوں رات بغیر محنت کئے ملنے والی شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماڈلنگ کا فیصلہ کرلیا سعدیہ پاکستان کی ان اکادکا ماڈلز میں سے ایک ہیں جو پیسہ اور شہرت پانے کے لیے اپنی خاندانی اور معاشرتی حدود میں رہتی ہے اور غیر مہذب ملبوسات پہننے سے انکار کردیتی ہیں اس کے باوجود سعدیہ پاکستان کے تمام بڑے ڈیزائنرز،برانڈز فوٹو گرافر اور میک آرٹسٹوں کی پسندیدہ ماڈل سمجھی جاتی ہے سعدیہ کے ریمپ پر کیٹ واک نہ کرنے کی بھی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ریمپ پر اکثر نیم عریاں لباس پہننا پڑتے ہیں چنانچہ سعدیہ نے ریمپ ماڈلنگ سے کنارہ کشی اختیار کرلی سعدیہ اداکاری میں دلچسپی نہیں لیتی تھی اس لیے”خدا اور محبت“ جیسے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل سے شہرت پانے کے باوجود ان کا اداکاری کی جانب رجحان نہ ہوسکا مگر آج کل سعدیہ ڈرامہ انڈسٹری کے کئی بڑے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے ساتھ کام کررہی ہے ان کے مشہور ڈرامہ سیریلز میں ”لا مشرک،خدا اور محبت یاریاں اور شاید شامل ہے،
سوال:آپ کو بچپن کی سیر کروائی جائے تو کیا یاد آتا ہے؟
سعدیہ خان:میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئی میں اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہوں دو بڑئے بھائی اور ایک بہن ہے مجھ سے بڑے بھائی فوت ہوچکے ہیں چھوٹی ہونے کی وجہ سے میں بچپن سے ہی گھر بھر کی کچھ زیادہ ہی لاڈلی اور امی کے قریب رہی ہوں مجھے کھلونوں سے کھیلنے کا شوق نہیں تھامیں کہتی تھی مجھے کچھ نہیں چاہیے بس مجھ امی چاہیئں وہ جہاں جاتیں میں ان کے ساتھ جاتیں خاندان بھر میں سبھی مجھے امی کی دم کہہ کر چراتے تھے مگر مجھے کسی کی پرواہ نہیںہوتی تھی میں بڑے ہونے کے باوجود امی کے بغیر ایک رات بھی نہیں گزارسکتی تھی ان کی گود میں سر رکھتی تھی انہی کے ساتھ سوتی تھی کبھی امی کو کسی ایسی جگہ جانا پڑتا تھا کہ جہاں بچوں کو نہیں لے جاسکتے ایسی صورت میں میرے ابو اوربھائی میری ٹانگیں اور بازو پکڑتے اور مجھے جانے سے روکتے لیکن میں بھی ہاتھ پاﺅں مار کر پوری کوشش کرتی کہ کس طرح ابو اور بھائی کے ہاتھوں سے نکل کر امی کے ساتھ چلی جاﺅں بس امی کے ساتھ رہنے کے علاوہ کبھی کسی کو تنگ نہیں کیا کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا ،رات کو امی عشاءکی نماز پڑھ کر سوتی تھیں گھر کے کام کاج کرتے کبھی دیر ہوجاتی تھی تو میری ضد ہوتی تھی کہ بس امی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر میرے پاس آجائیں۔

(جاری ہے)


سوال:آپ امی کے زیادہ قریب تھیں تو ان کی جدائی کا صدمہ جھیلنا مشکل تو ہوا ہوگا؟
سعدیہ خان:میں اس وقت انگلینڈ پڑھنے گئی ہوئی تھی جب اچانک امی کے انتقال کی خبر آئی تو سب چھوڑ چھاڑ کر واپس آگئی میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا میں امی کے بغیر کیسے رہوں گی؟یہی خیالات ذہنی دباﺅ کی وجہ بن گئے اور میرے لیے گھر میں رہنا مشکل ہوگیا کیونکہ گھر کے درودیوار سے امی کے وجود کا احساس ہوتا تھااس لئے میں سیالکوٹ سے اسلام آباد منتقل ہوگئی اب امی کی وفات کو بھی تیرہ سال ہوچکے ہیں کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ مجھے ان کے بغیر بھی اتنا عرصہ رہنا پڑے گا لوگ کہتے تو ہیں کہ جانے والوں کی وجہ سے زندگی نہیں رکتی مگر حقیقت یہ ہے کہ جانے والوں کے ساتھ آپ کا دل بھی چلے جاتا ہے امی اور بھائی کے بغیر مجھے ہر خوشی نامکمل محسوس ہوتی ہے۔
سوال:کہتے ہے بیٹیاں اپنے باپ کے زیادہ قریب ہوتی ہے آپ کا اپنے والد کے ساتھ کیسا رشتہ ہے؟
سعدیہ خان:میں آج جو بھی ہوںاپنے والد کی بدولت ہوں میرے ددھیال میں کم عمری میں شادی کا رواج عام ہے ہمارے ہاں لڑکیوں کی تعلیم کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی مگر میرے والد خاصے روشن خیال انسان ہے انہوں نے خاندانی مخالفت کے باوجود ہم دونوں بہنوں کو بیرون ملک تعلیم دلائی اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا ہمیں اتنی آزادی دی کے ہم اپنے من پسند کیرئیر کا انتخاب کرسکیں جب امی حیات تھی تو امی کے علاوہ مجھے اور کوئی نظر نہیں آتا تھا لیکن اب ابو کے ساتھ میرا بہت پیارا رشتہ ہے میں دعا کرتی ہوں ابو ہمیشہ میرے ساتھ رہیں اب وہیں میرے لیے باپ بھی ہیں اور ماں بھی،،،،
سوال:تو تعلیمی سلسلہ کہاں تک رہا؟
سعدیہ خان:پہلے میں نے سیالکوٹ ڈگری کالج سے سائیکالوجی میں بیچلرز کیا پھر جرنلزم میں ماسٹرز کے لیے انگلینڈ چلی گئی لیکن امی کی اچانک وفات نے مجھے اندر سے توڑ دیا اور میں اپنی ڈگری مکمل نہیں کرسکی میں ہر وقت افسردہ رہتی تھی کہیں کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا روتی رہتی تھی ذہنی طور پر مستحکم نہیں تھی مجھے نیند نہیں آتی تھی ڈاکٹرز بڑی کوششوں سے مجھے دوبارہ زندگی کی طرف لے کر آئے۔
سوال:ان حالات میں ”اینجلینا جولی“ کے مشابہ ہونے کا احساس کیسے ہوا؟
سعدیہ خان:یہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا مجھے سکول کالج کے زمانے سے ہی میڈیا کے مختلف شعبوں میں دلچسپی تھی چونکہ مجھے گانے کا شوق بھی تھا اس لئے اکثر میری ٹیچرز مجھے نور جہاں کہہ کر پکارتی تھیں ویسے میڈیا میں آنے کے لیے میں کسی کے پاس کام مانگنے نہیں گئی لیکن یہ میری زندگی میں ایک معجزہ ہی سمجھ لیں میں نے اسلام آباد میں جمال شاہ کا آرٹ سکول ”ہنر کدہ“جوائن کررکھا تھا ایک دن وہاں ایک معروف سیلولر نیٹ کمپنی کے کچھ لوگ آئے تب میں وہاں ایک مجسمہ بنارہی تھی میرے ہاتھ مٹی سے بھرئے ہوئے تھے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اپنافون کان سے لگائیں ہم مجسمہ بناتے ہوئے آپ کی تصویریں لینا چاہتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم سکول کے تمام لوگوں کی تصویریں بنارہے ہیں اس لیے میں راضی ہوگئی لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس لئے تصویر لے رہے ہیں؟پھر پندرہ بیس دن گزرگئے اور میں بھی اس بات کو بھول چکی تھی لیکن ایک دن اچانک ایک دوست نے فون کرکے بتایا کہ پورے اسلام آباد میں ایک نیٹ ورک کمپنی کے بل بورڈ پر تمہاری تصویریں لگی ہوئی ہیںمیں نے اسے بڑے یقین سے کہا کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میری شکل سے مشابہ کسی اور لڑکی کی تصویریں ہوں گی کیونکہ میں نے تو کبھی کوئی شوٹ نہیں کروایا تو اس نے کہا نہیں وہ تمہاری ہی تصویریں ہیں اور یہ واقعی سچ تھا اب دوسرے لوگ بھی مجھے کہنے لگے کہ ہمارے لئے بھی شوٹ کریں اور میں کہتی کہ نہیں میں ماڈل نہیں ہوں تب ہی اکثر لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اینجلینا جولی سے میری مشابہت ہے کچھ لوگوں نے مجھے اکسایا کہ تم اس کمپنی کے خلاف کسی کرو انہوں نے تمہاری مرضی کے خلاف تصویریں کیوں استعمال کیں ؟تو میں نے کہا کہ میں کیوں کروں میں تو اپنے آپ مشہور ہوگئی ہوں مجھے کیا ضرورت ہے ایسا کرنے کی اور مجھے کوئی جاب کرنی ہی تھی تو پھر یہ کام کیوں نہیں جبکہ مجھے اس میں دلچسپی بھی تھی۔
سوال:خاور ریاض سے کیسے ملاقات ہوئی؟
سعدیہ خان:اکثر لوگ مجھے فون کرکے ماڈلنگ کی پیشکش کرنے لگے میں نے اسلام آباد میں چند ایک شوٹس کئے بھی اسی دوران خاور نے بھی مجھ سے رابطہ کیا اور پھر میں لاہور آگئی بطور ماڈل پہلی مرتبہ مجھے خاور نے ہی متعارف کروایا اور پھر خاور نے ہی مجھے کسی اور سیلولر نیٹ ورک کمپنی کا ٹی وی کمرشل دلایا جس کے بعد میں نے کئی دوسرے برانڈ کے تعارفی شوٹس کئے اور بطور ماڈل میری شہرت کا سلسلہ شروع ہوگیا ماڈلنگ میں شہرت ملی تو ڈراموں کی پیشکش بھی ہونے لگی مجھے ایکٹنگ کا شوق بھی تھا لیکن میں یہی سمجھتی تھی کہ مجھے ایکٹنگ نہیں آتی ماڈلنگ بھی خاور ریاض کی وجہ سے ہی کررہی ہوں لیکن پھر جس چیز کا شوق ہوں اور پیسے بھی اچھے مل رہے ہوں تو آپ آہستہ آہستہ سیکھ جاتے ہوں سب سے پہلے میں نے ڈرامہ سیریل یاریاں میں اداکاری کی اسی دوران مجھے خدا اور محبت کی پیشکش ہوگئی اور سوچ سے بڑھ کر مجھے شہرت ملی۔
سوال:دوسری ادکا راﺅں کی طرح آپ بھی انکار کریں گی کہ آپ نے ”بوٹو کس“وغیرہ نہیں کروایا؟
سعدیہ خان:میں انکار نہیں کروں گی لیکن کچھ چیزیں وقت کی ضرورت بن جاتی ہیں اور تقریباً سبھی اداکارائیں خوبصورتی کے لیے تھوڑی بہت سرجری کرواتی ہیںکبھی گورا ہونے کے لیے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں میں نے بھی”بوٹوکس“کروایاہے لیکن میں نے کوشش کی ہے کہ اتنا ہی کروں جس سے میری خوبصورتی میں اضافہ ہوں نہ کہ میں بدشکل لگنے لگوں۔
سوال:آپ بہت جلدی سٹار بن گئیں لوگ حسد تو کرتے ہوں گے؟
سعدیہ خان: ہماری چھوٹی سی فیشن انڈسٹری ہیں چند ایک لوگ ہی اپنے نام کی وجہ سے اوپر آتے ہیں اس لئے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جاتاہے لیکن مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی کون کیا کہہ رہا ہے میں بس اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں اور جو لوگ مجھے پسند کرتے ہیں وہ میرے کام کی وجہ سے ہی کرتے ہیں ،میں رشتوں کا بہت اہمیت دیتی ہوں شہرت کو کبھی میں نے سر پر سوار نہیں کیابڑئی بڑئی باتیں نہیں کرتی کیونکہ بنانے والا اللہ ہی ہے اور مٹانے والا بھی اللہ ہی اور جو یہ یاد رکھتا ہے اس کی زندگی بہت آسان ہوجاتی ہیں میں نماز کے بعد ہمیشہ یہی دعا کرتی ہوں کہ اللہ مجھے اتنی شہرت دے کہ میں سنبھال سکوں اور میں اپنی اوقات نہ بھولوں،،،،،
سوال:لیکن جب کوئی بلاو جہ غصہ دلانے کی کوشش کرتا ہے تو کیا کرتی ہوں؟
سعدیہ خان:میں صرف”اگنور“کرتی ہوں ہاں کبھی کبھی لوگ آپ کا صبر بہت آزماتے ہیں لیکن جو لوگ آپ کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے آپ ان کے لیے اپنا مزاج کیوں بگاڑیں۔
سوال:شاپنگ کا شوق بھی ضرور ہوگا؟
سعدیہ خان:مجھے شاپنگ کا بھی بہت زیادہ شوق ہے اکثر ملک سے باہر جاتی ہوں تو وہیں سے ساری شاپنگ کرتی ہوں مجھے برانڈز کا کوئی خاص شوق نہیں جہاں جو کپڑا جوتا اچھا مل جائے ل لیتی ہوں۔
سوال:گھومنے پھرنے کے لیے کون سے جگہ پسند ہے؟
سعدیہ خان:پاکستان سے باہر گھومنا پھرنا اچھا لگتا ہے جیسے نیو یارک لیکن وہاں ہجوم اور گہما گہمی بہت ہے ترکی بھی پسند ہے خصوصاً وہاں کی مسجدوں کا فن تعمیر بہت ہی آرٹسٹک ہیں۔
سوال:آپ کی منگنی کے بارے میں کافی عرصے سے خبریں گردش کررہی ہیں مگر کس سے ہوئی ہے کب ہوئی آپ چھپاتی کیوں ہیں؟
سعدیہ خان:میری کوئی منگنی نہیں ہوئی میرا کوئی افئیر نہیں ہے میں ایک مرتبہ پھر واضع کردوں کہ ابھی تک میں سنگل ہوں۔
سوال:آپ کے نزدیک” آئیڈیل لائف پارٹنر“ کوئی تو ہوگا؟
سعدیہ خان:میں کبھی ان باتوں کے بارے میں سوچتی ہی نہیں کیونکہ آئیڈیل کچھ نہیں ہوتا ہوسکتا ہے آپ جسے آئیڈیل سمجھیں وہ کل کو کچھ اور نکلے بہتر ہے اللہ پے چھوڑدیں وہ آپ کے لیے بہتر فیصلے ہی کریں کرے گا میں اللہ سے یہی دعا کرتی ہوں کہ جو بھی میری زندگی میں آئے وہ اچھا ہوں اور جب اچھے کی دعا کرتی ہوں تو اس میں سب کچھ آجاتا ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments