خفیہ شادی نہیں کروں گی

اداکارہ سجل علی کہتی ہیں کہ فیروز خان کے ساتھ کام کیا ہے شادی نہیں اور ویسے بھی میں خفیہ شادی پر یقین نہیں رکھتی

منگل 6 فروری 2018

ہما میر حسن
بقول اشفاق احمد: قسمت گوندھی ہوئی مٹی کی مانند ہے کوئی اس سے اینٹیں بناتا ہے کوئی برتن اور کوئی گاڑھا بناتا ہے جہاں پھول اُگتے ہیں شوبز کے سٹارکی داستانیں بھی ایسی ہی ہے اپنی انتھک محنت کی بدولت بہت کم سٹار شہرت کے افق پر نمایاں مقام حاصل کرپاتے ہیں سجل علی بھی ان میں سے ایک ہے وہ حسین پرکشش ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں سے بھی بخوبی واقف ہیں سجل کو قدرت نے بڑی فیاضی سے حسین بنایا ہے خدوخال کی نزاکت کو سراہیں یا چہرے کی معصومیت پر فدا ہوجائیں یہی نہیں بلکہ ان کی آواز بھی اس قدر نغمگی ہے کہ جیسے کانوں میں رس گھل جائے سب سے بڑھ کر سجل کی اداکارنہ صلاحیتیں بھی بے مثال ہے کہ جن کے سبب وہ بے شمار دلوں میں بستی ہیںحسین و ذہانت کسی عورت میں یکجا ہوجائیں تو بلاشبہ وہ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرسکتی ہے اور سجل کا شمار انہیں گنی چنی ادکاراﺅں میں ہوتا ہے انہیں ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھے چند سال سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن اپنی جاندار پرفارمنس کی بدولت انہوں نے ناظرین کے ساتھ ساتھ ڈرامہ ڈائریکٹر کو بھی اپنا گرویدہ بنالیا ہے سجل علی 17 جنوری 1994 کو لاہور میں پیدا ہوئیں وہ اپنے تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ان کے والدین بھی تھیٹر پر اداکاری سے وابستہ رہے مگر شہرت سجل علی کے حصے میں آئی ان کے مقبول ڈراموں میں مستانہ ماہی،ساس چلی سسرال،چاندنی،ننھی آسمانوں پہ لکھا ہے،میری لاڈلی،یقین کا سفر اور رنگریزہ شامل ہیں جبکہ سجل ”زندگی کتنی حسین ہے“اور بالی ووڈ فلم”مام“ کے ذریعے فلمی دنیا میں بھی قدم رکھ چکی ہے،
سوال:آپ کی عمر میں لڑکیاں پڑھائی کرتی ہے آپ نے انڈسٹری میں قدم جمالئے؟
سجل علی:میں حادثاتی طور پر اس انڈسٹری میں آئی ہوں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اس انڈسٹری میں آﺅں گی البتہ میں اپنے سکول دور میں قومی سطح کی بہترین مقرررہ چکی ہوں میں لوگوں کی بات چیت اور حرکات و سکنات کی نقلیں بہت اتاراکرتی تھیں اس کے علاوہ میں نے بہترین نعت خواں کا ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا لیکن زندگی میں کچھ ایسے حادثات ہوتے ہیں جو پتا نہیں آپ کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں میری والدہ کا تعلق کراچی اور میرے والد کا تعلق لاہور سے ہیںوالدین کے درمیان کسی بات پر تنازع ہوا تو میں اپنی والدہ کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئی اس کے بعد میں نے سوچا کہ اب اپنی والدہ کے لئے کچھ کرنا ہے میں 16 برس کی تھی جب ملازمت شروع کی وہاں معلوم ہواقریب ہی ایک جگہ آڈیشنز ہورہے ہیں کسی نے مشورہ دیا کہ آپ وہاں جاﺅ میں نے ہامی بھر لی وہاں پہنچی تو دیکھا کہ وہاں ڈائیلاگ وغیرہ کا کوئی آڈیشن نہیں ہورہا تھا صرف باتیں چل رہی تھی وہاں اتفاق سے عبدالخالق صاحب بھی موجود تھے جو میری فلم” زندگی کتنی حسین ہے“کے رائٹر بھی ہیں عبدالخالق صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ گنگنالیتی ہیں؟میں نے کہا میں بہت اچھا گالیتی ہوں تو وہ میرا اعتماد دیکھ کر مسکرانے لگے مجھے بھی ہنسی آگئی اس طرح مجھے اس ڈرامے کے لیے منتخب کرلیا گیا۔

(جاری ہے)


سوال:آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے؟
سجل علی:میری سکولنگ لاہور سے ہوئی ہے ایجوکیٹرز سے میں نے12 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے مزید پڑھ نہ سکی کیلی گرافی اور آرٹ سے میرا بڑا تعلق ہے ویسے مجھے تعلیم حاصل کرنے کا زیادہ شوق بھی نہیں تھا البتہ میرے بہن بھائی پڑھائی میں بہت تیز ہیں۔
سوال:فیملی سے کوئی اور بھی شوبز سے تعلق رکھتا ہے؟
سجل علی:میری والدہ شادی سے قبل ریڈیو پر کام کرتی تھی اس کے علاوہ انہوں نے بہروز سبزواری،روبینہ اشرف جیسے نامور آرٹسٹوں کے ساتھ تھیٹر پر بھی کام کیا ہے والدہ کے علاوہ میری ایک چھوٹی بہن صبور علی بھی اسی انڈسٹری سے وابستہ ہے چھوٹا بھائی ابھی پڑھ رہا ہے لیکن اسے ابھی ادکاری کا کوئی شوق نہیں ۔
سوال:سب سے پہلے آپ کو ڈرامے کی آفر کس نے کی تھی؟
سجل علی:سب سے پہلے ہمایوں سعید نے مجھے اپنے ڈرامے”محمود آباد کی ملکائیں“کے لیے منتخب کیا تھا یہ میرا پہلا ڈرامہ تھا۔
سوال: آپ کو شہرت کس ڈرامے سے ملی؟
سجل علی:
میں سمجھتی ہوں کہ شہرت ملنا آسان ہے مگر شہرت برقرار رکھنا بہت مشکل ہے اور بہت کم اداکار اپنی شہرت ا ور کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھ پاتے ہیں مجھے پہلی بار”محمود آباد کی ملکائیں“ سے انڈسٹری میں پہچان ملی اس کے بعد میں نے” ننھی سناٹا“آسمانوں پہ لکھا“میری لاڈلی“جیسے مقبول ڈراموں میں کام کیا حال ہی میںمیرے ڈرامے یقین کا سفر اور ”اورنگریزہ“کو بھی بہت پذیرائی مل رہی ہے۔
سوال:
آپ شوخ و چنچل ہے مگر اپنے کیرئیر میں آپ نے بڑے رونے دھونے والے کردار کئے ہیں؟
سجل علی:آغاز میں آپ کو جو پراجیکٹ ملتے ہیں آپ فوراً لے لیتے ہیں اس کے بعد ہی پتا چلتا ہے کہ یہ چہرہ کس کردار کے لیے بہتر ہوگا مجھے لگتا ہے کہ صنم بلوچ کے بعد پروڈیوسرز کو میرے چہرے میں معصومیت نظر آئی اس لئے مجھے رونے دھونے والے کردار ملتے گئے لیکن میں نے صرف رونے دھونے والے ہی کردار نہیں کئے میں نے ایک نفسیاتی چھوٹی بچی اور منفی کرداروں سمیت کئی کردار کئے ہیں بہت چھوٹی عمر میں مجھے بہت مختلف کردار ادا کرنے کا موقع ملا ڈرامہ ”اورنگریزہ“ میں میرا کردار میرے تمام پچھلے کرداروں سے بالکل مختلف ہیں جس میں ایک باغی لڑکی بنی ہوں کو مردوں کے معاشرے میں اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتی ہے۔
سوال:فلموں میں آنے کا مشورہ کس نے دیا؟
سجل علی:مشورہ تو کسی نے نہیں دیا لیکن میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر اچھی کہانی اور اچھی آفر آئے گی تو ضرور فلموں میں کام کروں گی۔
سوال:آپ کی شادی کی افواہیں سرگرم رہتی ہے حقیقت کیا ہے؟
سجل علی:
اداکاراﺅں کے افئیرز اور شادی کی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہے تاہم میری شادی کی خبر میں کوئی سچائی نہیں انڈسٹری میں رہتے ہوئے کچھ دوست ضرور بنتے ہیں تاہم ضروری نہیں کہ ان سے ہماری شادی بھی ہوجائے اداکار فیروز خان میرا بہت اچھا دوست ہے کیونکہ ہم نے ایک ساتھ بہت کام کیا ہے ۔پہلے چپ رہو،پھر گل رعنا اور اب فلم بھی ساتھ کی میں نے احسن اور سمیع خان کے ساتھ بھی کام کیا ہے چونکہ وہ لوگ شادی شدہ ہیں اس لئے کوئی خبر نہیں بنی لیکن فیروز خان کے ساتھ کام کیا تو لوگوں نے افواہیں پھیلانا شروع کردیں کہ ان کے درمیان ضرور کوئی چکر چل رہا ہوگا۔
سوال:آپ کے پسندیدہ اداکار کون سے ہیں؟
سجل علی:
میں ثانیہ سعید کی ادکاری کے انداز سے بہت متاثر ہوں اور چاہتی ہوں کہ ان ہی کی طرح پہچانی جاﺅں ان کے علاوہ معین اختر،قوی خان،فواد خان اور سلمان خان میرے پسندیدہ اداکار ہیں میں فلمیں بھی بہت کم دیکھتی ہوں جو فلم مجھے اب تک پسند ہیں وہ فلم ”بلیک “ ہے۔
سوال:آپ نے اب تک کئی کردار نبھائے ہیں پسندیدہ کون سا ہے؟
سجل علی:
میرے لئے میرا ہر کردار پسندیدہ ہے میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ میں اپنے فنی سفر میں ایسا کوئی کمال کرچکی ہوں کہ لوگ ساری زندگی بھلا نہیں پائیں گے لیکن ایک خواہش ہے کہ ایساکام کروں جس کو لوگ ہمیشہ یاد رکھیں اس کوشش میں اپنے ہر کردار میں حقیقت کے رنگ بھرنے کی کوشش کرتی ہوں مجھے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن مجھے کوئی ایسی کامیابی ضرور ملے گی جس کو پانے کی ارزو میں لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر وہ اس مقام تک نہیں پہنچ پاتیں میں نے شوبز میں قدم رکھا تو ایک ہی بات کا ارادہ کیا تھا کہ اپنا کام نہایت ایمانداری سے کروں گی،میں سمجھتی ہوں کہ کامیابی تو ہر اس شخص کو ملتی ہے جو محنت سے کام کرتا ہوں مگر اس کامیابی کے بعد اصل ٹارگٹ نئی راہیں تلاش کرنا ہونا چاہیے جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو روکنا یا ان کے لئے رکاوٹیں کھڑی کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
سوال:پہلی فلم کی ناکامی پر افسوس تو ہوگا؟
سجل علی:فلم”زندگی کتنی حسین ہے“میں میری پرفارمنس کو بہت سراہا گیا بڑی سکرین کے انداز اور ہی ہوتے ہیں تاہم ضروری نہیں کہ ہر اداکار کی پہلی فلم کامیابی سے ہمکنار ہو میرے لئے فلم شاندار تھی جس پر ہم نے بہت محنت کی تاہم پاکستانی فلم کی صورتحال کے پیش نظر ہماری فلم کو کامیاب کہا جاسکتا ہے۔
سوال:بالی ووڈ فلم”مام“میں پذیرائی پر کیا احساسات ہیں؟
سجل علی:میں بالی ووڈ میں اپنی کامیابی لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی نواز الدین صدیقی اور سری دیوی کے ساتھ کام کرنا میرے لئے شاندار تجربہ رہا میری والدہ جو اب میرے ساتھ نہیں ہے کاش وہ میرے ساتھ ہوتیں اور میری کامیابی کا جشن مناپاتیں یہ صرف میری کامیابی نہیں بلکہ یہ پوری پاکستانی تفریحی صنعت کی کامیابی ہے ہم پاکستان اور پاکستان فلم انڈسٹری کی عزت کرتے ہیں خواہ ہم کہیں بھی رہیں یا کہیں بھی کام کریں فنکار امن اور محبت کے سفیر ہے نفرتوں اور کشیدگی کو اپنے فن اور محبت کے ذریعے کام کرنے کی کوشش ہمارا فرض ہے۔
سوال:آپ کو ادکارہ کرینہ کپور سے تشبیہ دی گئی؟آپ کیا سمجھتی ہیں؟
سجل علی:بالی ووڈ فلم کی ریلیز کے بعد وہاں سب نے میری اداکاری اور مشابہت کو اداکارہ کرینہ کپور کے ساتھ ملایا تاہم میں سمجھتی ہوں کہ میں سجل علی ہوں میری الگ پہچان ہے اور میں انڈسٹری میں اپنی منفرد پہچان بنانے آئی ہو۔
سوال:موسیقی سے کتنا لگاﺅ ہے؟
سجل علی:مجھے ہلکی پھلکی موسیقی کے علاوہ غزلیں سننا پسند ہے میرے پسندیدہ گلوکاروں میں کشور کمار،راحت فتح علی خان،اور شریا گھوشال ہیں۔
سوال:اگ آپ کو مزاحیہ یا رونے دھونے والا کردار دیا جائے تو آپ کس کردار کا انتخاب کریں گی؟
سجل علی:مجھے وہ کردار پسند ہیں جس میں جذبات دکھائے جاتے ہوں،جذباتی کہانیاں مجھے بہت پسند ہے مجھے سنجیدہ مزاح سے زیادہ کامیڈی پسند ہے جیسے فصیح باری کی کامیڈی مجھے بہت پسند ہے۔
سوال:آپ کی عمر چھوٹی ہے مگر ذمہ داریاں بڑی لے رکھی ہے اور اب تو والدہ کا سایہ بھی سر پر نہیں؟
سجل علی:میں سمجھتی ہوں انسان جتنی جلدی ذمہ دار بن جائیں اتنا ہی اچھا ہوتا ہے مام میری بہترین دوست اور ساتھی تھیں وہ دنیا میں میری پسندیدہ شخصیت رہیں گی اور میں ان کے سب سے زیادہ قریب بھی تھی میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اس لئے ماما بھی مجھے اپنے قریب رکھتی تھی ماما کے بغیر اب خود کو تنہا محسوس کرتی ہوں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :