کون کرے گا مجھ سے شادی؟

اداکارہ اشنا شاہ کہتی ہیں کہ میں بالکل پھوہڑ ہوں مجھے کچھ نہیں آتا ماما تو اکثر کہتی ہے کہ کون کرے گا تم سے شادی؟

منگل 13 فروری 2018

زارا مصطفی
بیباک لب ولہجے معصوم مسکراہٹ اور چلبلے انداز کی مالک معروف اداکارہ عصمت طاہرہ کی بیٹی اور ارسہ غزل کی بہن اشنا شاہ نے چھ سال کی عمر سے بطور آرجے فنی سفر کا آغاز کیا شوبز کی چکا چوند اور شہرت یافتہ لوگوں کے درمیان پلی بڑھی اشنا شاہ کا اداکارہ بننے کا خواب کوئی اچنبھے کی بات تو نہ تھی کیونکہ انہیں بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا مگر جب ان کی والدہ انہیں کسی معروف شخصیت کی نقل کرنے کو کہتیں تو اشنا اپنا معاوضہ وصول کرنا نہ بھولتیں وہ فلمی اور ڈرامائی کرداروں کا بغور مشاہدہ کرتیں اور کھیل کھیل میں انہی کی طرح اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتیں اشنا بتاتی ہیں میری عمر گیارہ بارہ برس تھی جب میں ایک انڈین فلم میں نوکرانی کے پہننے اوڑھنے اور چال ڈھال سے اس قدر متاثر ہوئی کہ میرا دل چاہا میں اسی کی طرح بن جاﺅں انہی دنوں ہمارے گھر میں مہمان آئے جن میں ٹی وی کے معروف پروڈیوسر اور ڈائریکٹرز بھی شامل تھے ان کے سامنے جانے سے پہلے اسی نوکرانی کے انداز میں امی کے دوپٹے کو ساڑھی کی طرح اپنے جسم پر لپیٹا اور مہمانوں کے سامنے چائے کی میز سجانے لگی پھر اپنے کھانے پینے کی چیزیں لے کر ان کے پاس ہی فرش پر بیٹھ کر کھانے لگی مہمان میری حرکتوں سے محفوظ تو ہورہے تھے مگر ماما نے انہیں کہا کہ اس پر دھیان نہ دیں تاکہ ایسی الٹکی سیدھی حرکتوں پر اس کی حوصلہ افزائی نہ ہوسکے بہر حال ایکٹنگ کہا کیڑا بچپن سے ہی اشنا کو بے قرار کئے ہوا تھا جو آج بھی انہیں منفرد اور اچھوتے کرداروں کی تلاش میں سرگرداں رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ ڈرامہ سیریل ”الف اللہ اور انسان“میں اشنا نے فقیرنی رانی سے نامور طوائف اور فلمی اداکارہ رینا بیگم تک کا سفر جس خوبصورتی سے نبھایا یہ ان کی فنکارانہ صلاحتیتوں کا مبہ بولتا ثبوت ہے وہ کینیڈا میں پلے بڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے خوابوں کی تعبیر ڈھونڈنے پاکستان آئیں تو یہیں کی ہوکر رہ گئیں ابتدائی دور میں انہوں نے پردے پر کوئی معاون کردار ادا کئے مگر اشنا کی خاص وجہ شہرت ڈرامہ سیریل بشر مومن سے ہوئی جس کے بعد انہوں نے دعا نیلم کنارے اب کر میری رفو گری تھوڑا سا آسمان بھیگی پلکیں اور پیا من بھائے جیسے معروف ڈرامہ سیریلز میں اپنے منفرد کرداروں سے خوب داد وصول کی اشنا تیری میری لو سٹوری اور اوئے کچھ کر گزر جیسی فلموں میں بھی جلوہ گرہوچکی ہیں اور کئی اہم اعزازات بھی اپنے نام کرچکے ہیں،
سوال:اپنے کرداروں سے جانی جانے والی اشنا اصل زندگی میں کسی ہیں؟
اشنا شاہ(مسکراتے ہوئے):بالکل ایک عام انسان ایک ایسی لڑکی جو چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بڑی بڑی خوشیاں ڈھونڈلیتی ہے چونکہ مجھے خوش رہنا اچھا لگتا ہے اس لئے میں چیزوں کے پیچھے نہیں بلکہ خوشیوں کے پیچھے بھاگنے والی لڑکی ہوں۔

(جاری ہے)


سوال:آپ اپنی بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں لاڈلی تو خوب ہوں گی؟
اشنا شاہ:ہم چار بہنیں اور دو بھائی ہیں میں گھر میں سب سے چھوٹی تو ہوں مگر میری اور بڑئے بھائی بہنوں کی عمروں میں بہت زیادہ فرق ہے وہ مجھے چھوٹی نہیں بلکہ بیٹی سمجھتی ہے میں نے کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھا مگر بڑے بھائیوں نے باپ کی طرح میرے لاڈ اٹھائے ہیں ویسے بھی چھوٹے ہونے کی وجہ سے سب نے اتنا لاڈ پیاردیا ہے کہ مجھے اپنی ہر بات منوانے کی عادت ہوگئی ہے ماما کی زبان میں میں ضدی ہوگئی ہوں ۔
سوال:دوسری اداکاروں کی طرح آپ تو یہ نہیں کہتیں کہ حادثاتی طور پر اداکار بن گئیں؟
اشنا شاہ(سنجیدگی سے):نہیں میں ایسا نہیں کہتی کیونکہ میں ہمیشہ سے اداکارہ ہی بننا چاہتی تھی میں بچپن ہی سے ماما کے ساتھ ڈراموں کے سیٹ پر جایا کرتی تھی اس لیے بچپن سے ہی کھیل کود کی بجائے زندگی کے مختلف کرداروں میں جینے کی عادی ہوگئی کبھی نوکرانی بن جاتیں تو کبھی ہیروئن ،ہمارے ہاں اکثر جو بچے پڑھائی میں اچھے ہوں یا کوئی دلچسپ شرارت کرتے ہوں تو اکثر جب مہمان آتے ہیں تو امی کہتی ہے کہ چلو بیٹا آنٹی کو اے بی سی سناﺅ فلاں نظم یا گانا سناﺅ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتاتھا ،میں چھ برس کی تھی جب ریڈیو پر ماما کا لکھا ہوا بچوں کا ایک پروگرام کرنا شروع کیا جس سے میری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا لیکن ماما نہیں چاہتی تھی کہ میں شوبز کی چکاچوند میں کھوجاﺅں مگر ہوتا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہو میں لگ بھی آٹھ برس کی تھی جب ماما مجھے لے کر کینیڈا منتقل ہوگئیں میری سکولنگ وہیں ہوئی میں نے وہاں ایکٹنگ اور ڈانسنگ کی کلاسز بھی لیں مجھ سے بڑے بھائی وہاں انگلش سٹیج ڈرامے ڈائریکٹ کرتے تھے میں نے تھیٹر پر اداکاری کے ساتھ ساتھ نہ صرف ڈرامے لکھے بلکہ ڈائریکٹ بھی کئے۔
سوال:کم عمری میں اداکاری کے شوق نے پڑھائی تو متاثر نہیں کی؟
اشنا شاہ:ماما کے کام کی وجہ سے مجھے اولیول کے لیے پاکستان آنا پڑا لیکن اولیول کرنے کے بعد واپس کینیڈا چلی گئی اور پھر چھٹیوں میں دوبارہ پاکستان آئی تو پھر واپس نہ جاسکی جس کی وجہ سے میرا یونیورسٹی کا ایک سمسٹر آج تک مکمل نہیں ہوسکا ماما بھی یہی کہتی ہے کہ تعلیم مکمل کرکے بھی تم نے یہی کرنا تھا میں بھی اس معاملے میں ذرا لاپرواہی سی ہوگئی ہوں (مذاقاً)میں تو ایک ڈرامہ کرنے پاکستان آئی تھی لیکن اس کے بعد اور ہی ڈرامے کرتی رہی۔
سوال:سنا ہے آپ کو مطالعہ کا بہت شوق ہے کیا یہ درست ہیں؟
اشنا شاہ:بالکل سچ ہے مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہیں مگر اب وقت نہیں ملتا البتہ جب وقت ملے فائدہ اٹھالیتی ہوں بچپن میں ماما کھیلنے کے لیے بھی کتابیں ہی لاکر دیتی تھیں اس لئے مجھے کلاسک لٹریچر سے خاص لگاﺅ ہے ماما ناولز وغیرہ پڑھنے پر میری بڑی حوصلہ افزائی کرتی تھیں چونکہ مجھے موویز دیکھنے کا بہت شوق تھا اور اکثر فلمیں پرانے انگلش ناولز پر بنی ہوتی ہیں چنانچہ ماما کہتیں جب تم یہ بک پڑھ لو گی تو میں تمہیں فلم بھی دکھاﺅں گی میں اسی لالچ میں جلدی جلدی کتاب ختم کرلیتی اس طرح مجھے لٹریچر سے محبت ہوگئی میں ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران شمالی علاقہ جات بھی گئی تھی جہاں پچیس دن تک میرے پاس موبائل فون انٹرنیٹ اور کیبل کی سہولت نہیں تھی اس وقت فارغ اوقات میں صرف میں تھی اور میری کتابیں تھیں۔
سوال:کیا کبھی سوچا تھا کہ ڈرامہ سیریل”الف اللہ اور انسان“سے اس قدر شہرت اور مقبولیت ملے گی؟
اشنا شاہ:دراصل میں نے سکرپٹ میں فقیرنی سے طوائف تک کی کہانی پڑھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ کافی مشکل کردار ہے لیکن اس میں اداکاری کا کینوس بہت وسیع ہے اس لئے میں نے اپنے اندر آرٹسٹ کی تسکین کے لیے یہ کردار ادا کیا لیکن میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میری اداکاری سے لوگ اس قدرمتاثر ہوئے۔
سوال:ہماری ڈرامہ انڈسٹری تو خاصی مضبوط ہوچکی ہے لیکن پاکستانی سینما کے بارے میںآپ کی کیا رائے ہیں؟
اشنا شاہ:بحیثیت اداکارہ میں صرف یہی کہوں گی کہ ہماری فلم مارکیٹ اگرچہ بالی ووڈ جتنی بڑھی نہیں لیکن یہی بات ہے کہ لوگ اپنی زندگی بھر کی پائی پونجی لگا کر محدود وسائل میں فلم بنانے کی جرا¿ت کررہے ہیں یہ انتہائی خوش آئندہ بات ہے کہ پاکستان سنیما ایک طویل بحران سے نکل کر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا دکھائی دے رہا ہے اور لوگوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ فلمی صنعت کے ترقیہ کے امکانات بہت روشن نظرا ٓرہے ہیں۔
سوال:کیا آپ کو شوپنگ کا شوق ہے؟
اشنا شاہ:مجھے شاپنگ کا کوئی خاص شوق نہیں ہے بلکہ مجھے اچھے کھانے اور دنیا گھومنے پھرنے کا زیادہ شوق ہے۔
سوال:آپ کو صرف کھانے کا ہی شوق ہے یا بنانا بھی جانتی ہیں؟
اشنا شاہ:میں ایسے کاموں میں بالکل پھوہڑ ہوں مجھے کچھ پکانا نہیں آتا ماما تو کہتی رہتی ہے کہ کون کرے گا تم سے شادی؟ویسے لوگوں کو مشورے بہت اچھے دے سکتی ہوں مثلاً کس کھانے کے ساتھ کیا کھائیں کہاں سے کیا اچھا ملے گا مجھے سب پتا ہوتا ہے ویسے ماما ٹھیک ہی کہتی ہے کون کرے گا مجھ سے شادی۔
سوال:اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لئے آپ کیا کرتی ہیں؟
اشنا شاہ:مجھے باقاعدہ جم جانے کا ٹائم نہیں ملتا اس لئے میں ایکسرسائز وغیرہ باقاعدگی سے نہیں کرسکتی ہاں جب وقت ملے اور خود پر توجہ دینے کا موڈ ہو تو ایکسرسائز کرلیتی ہوں لیکن اسے معمول کا حصہ نہیں بناتی جب مجھے محسوس ہو کہ میرا وزن بڑھ رہا ہے تو میں ڈائیٹنگ کے نام پر کھانا پینا نہیں چھوڑتی بلکہ اپنی خوراک سے کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کم کردیتی ہوں اس سے چند ہی دنوں میں میرا وزن معمول پر آجاتا ہے اور شاید ایکسر سائز کے معاملے میں لاپرواہی کی یہی ایک وجہ ہے،
سوال:اپنی خوبصورتی کو چار چاند لگانے کے لیے کیا کرتی ہیں؟
اشنا شاہ:میں زیادہ میک اپ نہیں کرتی مگر میں صرف بی بی کریم یا فاﺅنڈیشن لگانے کے بعد کنسیلر لگاکر لیپ سٹک لگالیتی ہوں میں نے کوئی کاسمیٹک سرجری نہیں کروائی حالانکہ انڈسٹری کے کئی لوگوں نے مجھے مشورہ دیا ہے کہ آپ”چیکس لفٹنگ“کروالیں لیکن مجھے اپنے چہرے پر بے بی فیٹ بہت پسند ہیں اور وہ دوسرا یہ کہ سرجری سے میرا ڈمپل بھی ختم ہوجائے گا جو مجھے گوارا نہیں ہے ویسے بھی میں اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی شکل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی قائل نہیں ہوں اور آئندہ بھی میرا کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے۔
سوال:آپ کا پسندیدہ ڈرامہ اور فلم کون سی ہے؟
اشنا شاہ:پی ٹی وی کے زمانے کا ماما کا ایک پرانا ڈرامہ ریزہ ریزہ مجھے بہت ہی پسند ہے اس کے سیٹ سے میرے بچپن کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں اس کے علاوہ میں انگلش موویز بہت دیکھتی ہوں اس لئے دی ڈیولز ایڈوکیٹ میری پسندیدہ فلم ہیں۔
سوال:آپ کے پسندیدہ رنگ کون سے ہیں؟
اشنا شاہ:ویسے تو سبھی رنگ اچھے لگتے ہیں لیکن گہرا سبز رنگ مجھے سب سے زیادہ پسند ہیں۔
سوال:آپ کا پسندیدہ موسم کون سا ہے؟
اشنا شاہ:مجھے نہ سردی پسند ہے نہ گرمی بلکہ آندھی تیز ہواﺅں اور ان کی مخصوص سائیں سائیں کرتی آوازوں کی دیوانی ہوں۔
سوال:فارغ وقت میں کیا کرتی ہیں؟
اشنا شاہ:میرے پاس پالتو کتے ہیں مجھے فارغ وقت میں ان کے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے۔
سوال:آپ کے نزدیک شادی کے لیے لائف پارٹنر کا معیار کیا ہے؟
اشنا شاہ:عام طور پر لڑکیاں اپنے ہمسفر میں اپنے باپ جیسی خوبیاں ڈھونڈتی ہیں اور بدقسمتی سے میں نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا اس لئے میری فیملی میں میرے لئے جو آئیڈیل مرد ہیں ان میں میرے بڑے بھائی سرفہرست ہیں وہ بہت کامیاب بزنس مین ہیں اور انہوں نے مجھے باپ کی طرح پیار دیا اور دوسرے میرے بہنوئی ہیں جو ایک ذمہ دار شخص ہیں اور اپنے گھر بیوی اور بچوں کی خوشیوں کا خیال رکھتے ہیں میں بھی ایسا ہی کوئی ساتھی چاہتی ہوں اور(شرارتاً)جب تک آس پاس کوئی ایسا نظر نہیں آجاتا تلاش جاری ہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :