وقت ایک سا نہیں رہتا

پاپ سٹار سلیم جاوید کہتے ہیں آج میرے پاس سب کچھ ہے لیکن میں نے وہ وقت بھی دیکھاہے کہ گھر میں نہ ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی ٹیپ ریکارڈ،میں ٹی وی دیکھنے کے لیے پڑوس میں جایا کرتا تھا

منگل 20 مارچ 2018

ہما میر حسن:
کہا جاتا ہے پاپ سنگر کی فنی زندگی کا دورانیہ زیادہ طویل نہیں ہوتا لیکن سلیم جاوید اپنی منفرد گائیکی کی بدولت 33 سال بعد آج بھی مقبول ہیں سلیم جاوید کا شمار پاکستان کے باکمال اور لاجواب پاپ سنگرز میں ہوتا ہے متعدد گلوکار آئے اور چلے گئے مگر سلیم جاوید نے کامیانی سے اپنے کیرئیر کو جاری رکھا۔26 برس قبل 7 مارچ1985 کو ان کا پہلا البم ریلیز ہوا جو بے حد کامیاب ثابت ہوا ان کے اب تک درجنوں البم ریلیز ہوچکے ہیں سلیم دنیا بھر میں اپنی آواز کا جادو جگاچکے ہیں وہ حیدر آباد سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور25 دسمبر کو اپنی سالگرہ مناتے ہیں وہ اپنی زندگی کی چھ دہائیاں دیکھ چکے ہیں انہوں نے پاپ میوزک کا دامن تھا کر پاکستانی لوک گیتوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں فروغ دیا لوک گیت”جگنی“آج دنیا بھر میں ان کی شناخت ہیں انہوں نے اپنی خوبصورت پرفارمنس سے ثابت کیا کہ ڈھول پیٹا جائے تو جانوروں کو بھی خوف زدہ کرتا ہے لیکن اگر ڈھول خوبصورتی سے پیٹا جائے تو ہاتھی اور گھوڑے بھی رقص کرنے لگتے ہیں سلیم جاوید نے پاپ موسیقی کے طویل سفر میں نت نئے تجربات کئے ۔

(جاری ہے)

کبھی وہ ڈھول والے کے ساتھ پرفارمنس کرتے دکھائی دیتے ہیں تو کبھی لمبے لمبے بالوں کے ساتھ ہاتھوں میں چمٹا لئے پرفارمنس کا جادو جگاتے ہیں کبھی الیکڑونکس لائٹس اور کورڈ لیس مائیک کے ساتھ گانے گاکر سامعین کو خوش گوار حیرت میں ڈال دیتے ہیں انہوں نے اپنے خوبصورت اور مقبول گیتوں میں قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کی روایت کا بھی آغاز کیا۔کرکٹرعمران خان اور جاوید میاں داد کے حوالے سے گائے گئے ان کے گیت بے پناہ مقبول ہوئے سلیم جاوید کے کئی آڈیو البمز پسندیدگی کی سند حاصل کرچکے ہیں انہوں نے آڈیو کیسٹس کے ذریعے سامعین کے دلوں پر حکمرانی کی ہے انہوں نے جہاں رومانوی گیت گائے وہیں ان کے کئی البم قومی اور ملّی نغموں سے سجے ہوئے ہیں ان کا گایا ہوا نغمہ” سلام پاکستان“ بے حد مقبول ہوا ،ان کے مشہور گیتوں کی فہرست بہت طویل ہیں جن میں ”اب کے سال،ایک بار کہو،تم میرے ہو،سیٹیاں بجاکہ،کبھی کبھی اوجانم،جینا نہیں جینا،میرا یار جاپانی،مجھ کو بھی اجمیر بلاﺅ،ہر ویلے یاد،لشکارہ،تیرے پیار میں،کیوں دور دوررہندے او،شامل میں سلیم جاوید اپنے شاندار کیرئیر میں بہت سے بے شماراعزازات اپنے نام کرچکے ہیں۔
سوال:کچھ بچپن کے بارے میں بتائیں؟
سلیم جاوید:میرا خیال ہے چاہے کوئی غریب ہوں یا امیر بچپن سب کا ایک جیسا ہوتا ہے کیونکہ بچپن میں سب بے وقوف ہوتے ہیں بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ غریب کے بچے مٹی میں گلیوں کوچوں میں کھیلتے ہیں جبکہ امیر کے بچوں کا ماحول کچھ اور ہوتا ہے میرا بچپن بہت سادہ تھا میں حیدر آباد کی گلیوں میں گھوما پھرا کرتا تھا ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیںمجھ سے بڑی بہن ہے میں بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں میرے والد مجھے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے مگر میرا شروع سے ہی میوزک کی طرف رجحان تھا پانچ برس کی عمر میں گانا گایا کرتا تھا ہمارے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے میرے بچپن میں نہ تو ہمارے گھر میں ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی ٹیپ ریکارڈر میں ٹی وی دیکھنے کے لئے بھی پڑوس کے ہاں جایا کرتا تھااب شکر ہے زندگی کی ہر نعمت ہیں سچ کہتے ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا مجھے یاد ہے کہ سکول میں میری ایک مس فریدہ تھیں وہ میری گائیکی سے بہت تنگ تھیں وہ مجھے اکثر دھوپ میں کھڑا کردیتی تھی لیکن مجھے اپنے لمبے بالوں اور میوزک سے بے انتہا محبت تھی میں نے کم عمری میں ہی لمبے بال رکھنا شروع کردئیے تھے میرے ابو نے ایک دن مجھے غصے میں گنجا کروادیا جس کے بعد میں بہت رویا میں نے میوزک انڈسٹری میں آنے پر ابو سے بہت مار کھائی ہے لیکن گلوکاری کے لئے میرا جنون کم نہیں ہوا۔
سوال:فیملی میں کوئی گلوکار تھا یا پھر آپ ہی کو گانے کا جنون تھا؟
سلیم جاوید:میری فیملی میں دور دور تک کوئی گلورکار نہیں صرف مجھے ہی گلورکار ی کا شوق تھا آپ کہہ سکتی ہیں کہ میں نے ہوش سنبھالتے ہی گلوکاری میں دلچسپی لینا شروع کرد ی تھی اکثر فنکار کہتے ہیں کہ مجھے بچپن سے اداکاری یا گلورکار ی کا شوق تھا حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ آرٹسٹ ہوتا ہی پیدائشی ہیں اور اس کے بعد قسمت کی بات ہوتی ہے میں پیدائشی گلوکار تو تھا لیکن میرے حالات سازگار نہیں تھے مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں گلوکاری میں نام کما پاﺅں گا اس وقت ایک ہی چینل ہوا کرتا تھا اس کے گیٹ تک جانا ہی مشکل تھا البتہ اس زمانے میں ٹی وی کا ایک اصول تھا کہ معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتا تھا ایسا نہیں تھا کہ کوئی بھی جاکر ٹی وی پر پرفارم کرنا شروع کردے۔
سوال :آپ حیدر آباد سے کراچی کب آئے؟
سلیم جاوید:میں نومبر1983 کو حیدر آباد سے صرف 50 روپے لے کر کراچی آیا تھا یہ پچاس روپے بھی میں نے اپنے دوست سے ادھار لئے تھے کچھ نہیں جانتا تھا کہ کہاں رہنا ہے ،کیا کھانا ہے،بس گلورکار بننا چاہتا تھا اس زمانے میں حیدرآباد سے کراچی کا کرایہ 35 روپے تھا مجھے ہر حال میں کراچی پہنچنا تھا تاکہ گلورکاری میں اپنا نام کما سکوں کراچی میرے ایک کوریوگرافر دوست امجد رانا تھا انہوں نے مجھے کہا کہ ایک میوزک شو ہورہا ہے وہاں معین اختر اور شوکت رضوی جیسے بڑے فنکار بھی آئیں گئے اگر تمہاری پہلی پرفارمنس ان کے سامنے ہو تو اچھا رہے گا لیکن جب امجد بھائی نے میرا تعارف کروایا تو انہوں نے خواہ حیدرآباد کا مشہور مائیکل جیکسن ہی کیوں نہ ہوں،جب تک میں انہیں سنوں گا نہیں سٹیج پر پرفارمنس کی اجازت نہیں دوں گا معین بھائی صاف گو تھے مگر ان کی بات سن کر میرا منہ اتر گیا میں سائیڈ پر جاکر بیٹھ گیا مگر میری قسمت اچھی تھی کہ ایک ڈیڑھ گھنٹہ تک تقریب میں کوئی گلوکار نہیں پہنچا پھر معین بھائی نے میری طرف دیکھا اور کہا اگر تو نے برا گایا تو تیری خیر نہیں انہوں نے کہا بس دو گانے گانا مگر میری پرفارمنس دیکھ کر معین صاحب سٹیج پر آکر مجھے بہت داد دی میرے لئے کامیابی کا سفر پھولوں کی سیج نہیں تھا کانٹوں کا سفر تھا میرا تعلق اردو سپیکنگ گھرانے سے ہیں مگر میں نے پنجابی سندھی اور بلوچی زبانوں میں بھی گلوکاری کی۔کوئی مجھے سندھی کہتا ہے اورکوئی کہتا ہے کہ میں پنجابی ہوں خیر کوئی کچھ بھی کہے مجھے ہر زبان سے پیار ہے اور میں اپنی گائیکی سے ہر زبان کو پروموٹ کرتا ہوں۔
سوال:آپ تین دہائیوں سے گلوکاری کررہے ہیں آپ اپنے کیرئیر کا کوئی یادگار واقعہ بتائیں؟
سلیم جاوید:بہت سے پل ہیں جو میری یادداشتوں کا حصہ ہیں ایک بار مجھے اردو آرٹس کالج کے ایک میوزک کنسرٹ کے موقعہ پر نامعلوم سمت سے آنے والی ایک گولی لگی جس کی وجہ سے میرا آپریشن بھی ہوا تین دن تک مجھے ہوش ہی نہیں تھا بہر کیف اللہ نے زندگی دی اور صحت یابی کے بعد میں نے اپنی البم نئی زندگی ریلیز کی جس نے ریکارڈ بزنس کیا مجھے یاد ہے کہ ایک محفل موسیقی میں مجھے سجاد علی کو ایک ساتھ مدعو کیا گیا تھا میں نے سجاد علی سے پہلے گایا اور خوب ہلہ گلاہوا میرے بعد سجاد کی انٹری ہوئی سجاد نے گانے سے پہلے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلیم جاوید کے بعد پرفارم کرنا مشکل کام ہے ان کے یہ الفاظ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں تھے ایسے ہی ایک بار ٹائم میوزک میں ایک شو ہورہا تھا میں بیک سٹیج پر اپنے مداحوں کو آٹوگراف دے رہا تھا اچانک ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا میرا نام عاطف اسلم ہے میں اپنی سیٹ سے اٹھا اور عاطف کو گلے لگایا عاطف اس وقت بھی شہرت کی بلندیوں کو چھورہا تھا لیکن اس سے پہلے ہم دونوں کی ملاقات نہیں تھی۔
سوال:گلوکار آپ کی نقل کرتے ہیں اور آپ پر اعتراض کرتے ہیں؟
سلیم جاوید:ہمارے بہت سے گلوکاروں نے میرا انداز گائیکی نقل کیا جیسے کسی گلوکار کی پسندیدگی میں کمی واقع ہونے لگی تو اس نے میرے سٹائل میں جگنی گانا شروع کردی میں ڈھول والا اپنے ساتھ رکھنے لگا تو بعد میں سب نے رکھ لیا لیکن مجھے ان باتو ں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سوال:مستقبل کے کیا پلان ہیں؟
سلیم جاوید:میوزک میں کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں میں ایک ایسی البم بنانا چاہتا ہوں جس میں اردو سندھی بلوچی اور پنجابی زبان میں گیت شامل ہو۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :