شہرت کے لیے الٹی سیدھی حرکتیں نہیں کرتی

میں اپنے لئے کام کرتی ہوں،شہرت میرے لئے اہم نہیں اور نہ ہی میں خبروں کی زینت بننے کے لئے الٹی سیدھی حرکتیں کرتی ہوں

پیر مارچ

shohrat ky liye ulti sidhi harkte nai krti

زارا مصطفی
خوبصورت آنکھیں، نرم میٹھا لہجہ اور پٹھان گھرانے سے تعلق رکھنے والی زرنش خان نے اداکاری کا آغاز 2014 میں ڈرامہ سیریل”محبت اب نہیں ہوگی“میں معاون کردار سے کیا مگر اسی برد وہ سسرا ل میرا میں مرکزی کردار میں نظر آئیں جس کے لئے انہیں بہترین اداکارہ کا ایوراڈ بھی دیا گیا۔ان کے مشہور زمانہ ڈرامہ سیریل اور ٹیلی فلمز میں ”سن یارا،صحرا میں سفر،لاج،من چاہی،اے زندگی،خدا نہ کرے،خوبصورت،اس چاند پہ داغ نہیں اور دے اجازت،ایک اور ایک گیارہ،جانے سے پہلے،دل میں بجی گھنٹی اوریہ عشق نہیں آساں“ہیں پٹھان گھرانے سے تعلق کی بناہ پر سترہ برس کی عمر میں زوج نامی گلوکار سے ان کا نکاح ہوگیا جسے وہ اپنے والدین کا بہترین فیصلہ سمجھتی ہیں۔چونکہ زرنش کے والد ایک کاروباری شخصیت ہیں اس لئے زرنش میں نفع نقصان اور کاروباری معاملات کی سمجھ بوجھ فطری سی بات ہے انہیں فیشن ڈیزائننگ اور انٹیریر ڈیزائننگ بزنس میں بھی خاص دلچسپی ہے۔

(جاری ہے)

انہیں گلوکاری کا بھی شوق ہے اور وہ کئی ٹی وی پروگراموں میں اپنی آواز کا جادو جگا چکی ہے۔
سوال:اداکاری سے شہرت پانے والی زرنش اصل زندگی میں کیسی ہیں؟
زرنش خان:میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ اپنی ہر بات منوالیتی ہوں۔جن سے محبت کرتی ہوں ان پر اپنا حق جتاتی ہوں اس لئے ان سے جلد ناراض بھی ہوجاتی ہوں تاکہ وہ مجھے منالیں۔اس کے علاوہ مجھے نئی نئی چیزیں کرنے کا بہت شوق ہے میں سٹوڈنٹ لائف سے ہی مختلف جگہوں پر انٹرن شپ کرتی رہی ہوں تاکہ نئے نئے تجربات حاصل کرسکوں میں بہت سادہ مزاج ہوں زیادہ نہیں سوچتی کہ لوگ کیا کہیں گے؟میری زندگی میری فیملی کے اردگرد گھومتی ہے میری زندگی میں میرے پاپا میرا بھائی میری بہنیں اور شوہر میری کل کائنات ہیں اگر وہ مجھ سے کہیں کہ ساتویں منزل سے چھلانگ لگادو تو میں ان سے سوال نہیں کروں گی کیونکہ مجھے پتا ہے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔
سوال:بچپن کے بارے میں کیا یاد آتا ہے؟
زرنش خان:ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں اور میں گھر میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی ہوں میرے بھائی بہنوں کو ہمیشہ یہ شکایت ہوتی تھی کہ اس کی ہر بات مان لی جاتی ہے اسے کوئی کچھ نہیں کہتا،لڑکیوں کی طرح بننا سنورنا نزاکت سے کام کرنا مجھے آتا ہی نہیں تھا چونکہ میرے پاپا بزنس مین ہیں اس لئے مجھے ان کی طرح آفس جانا اور کام کرنا اچھا لگتا تھا ۔میں سکول کے زمانے میں پاپا کے ساتھ آفس چلی جاتی تھی اور سارا دن ان کے ساتھ گزارتی انہیں کام کرتے دیکھتی اور آئیڈیلائز کرتی میرے شوق ہر دو چار مہینے بعد بدلتے رہتے تھے پہلے مجھے ڈاکٹر اورپائلٹ بننے کاشوق تھاپھر مجھے فیشن ڈیزائننگ اور انٹیرئیر ڈیزائننگ کا شوق ہوگیا اور جس شوق کا دورہ پڑتا تھا میں شارٹ کورسز کرنے میں مصروف ہوجاتی تھی مجھے ماما پاپا نے کبھی کسی بات سے منع نہیں کیا کبھی کسی بات پر نہیں ڈانٹا ہمیشہ ہر معاملے میں میرا ساتھ دیا اور آگے بڑھنے میں مدد کی بچپن سے ہی میرے والدین اور اب شوہر مجھے احساس دلاتے ہیں کہ جو کرنا ہے کرو ہم تمہارے پیچھے کھڑے ہیں۔
سوال:تو پھر اداکاری کا خیال کیسے آیا؟
زرنش خان:میں زندگی میں سب کچھ کرنا چاہتی تھی مگر مجھے اداکاری کا خیال نہیں آیا نہ ہی یہ جانتی تھی کہ اداکاری کرسکتی ہوں لیکن ماما کی ایک بہت اچھی دوست عفت چوہدری نے ماما سے کہا اسے ٹی وی میں کام کرنا چاہئے تو ماما نے کہا پتا نہیں یہ کیسا شعبہ ہے کیسے لوگ ملیں؟تو اس نے کہا کہ یہ برے لوگوں کے لئے برا ہے اور اچھے لوگوں کے لئے اچھا ہے۔خیر ایک دن انہوں نے مجھے فون کیا اور کہاں فلاں جگہ شوٹنگ ہورہی ہے ان لوگوں سے جاکر مل لو،،میں وہاں گئی تو انہوں نے کہا یہ لائنیں بولو تو جیسے لکھی تھی میں نے ویسے بول دیں مجھے پتا نہیں تھا کہ یہی میرا آڈیشن تھا انہوں نے مجھے ”اوکے“کردیا لیکن میں نے بتایا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں آڈیشن دینے جارہی ہوں اس لئے میں ابھی شوٹنگ پر نہیں آسکتی کیونکہ میرے امتحان ہونے والے ہیں تاہم انہوں نے ڈیڑھ مہینہ میرا انتظار کیا اور پھر میں نے ”محبت اب نہیں ہوگی“میں ارمینہ رانا کی بہن کا کردار ادا کیا۔
سوال:پاکستان میں تو اب فلمیں بھی بن رہی ہیں آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟
زرنش خان:میں ہمیشہ ایسے کردار کی تلاش میں رہتی ہوں جس میں کہانی ایک سرے سے شروع ہوکر دوسرے سرے پر ختم ہوتی ہے اور اس میں دیکھنے والوں کے لیے کوئی نہ کوئی سبق ضرور ہوتا ہے۔پاکستان میں بہت اچھا کام ہورہا ہے لیکن میرا خیال ہے ہمیں اپنا کلچر نہیں چھوڑنا چاہیے اپنی جڑوں سے جڑے رہنا چاہیے ویسے بھی مجھے ایک مہذب سکرپٹ چاہیے فلم کے گلیمر ضروری ہے مگر شاید میں اس مانگ پر پورا نہیں اترسکتی ہاں البتہ اگر مجھے فلم بول میں حمائمہ ملک کی طرح کا کوئی کردار آفر کیا گیا تو میں ضرور کروں گی۔
سوال:آپ کی زندگی میں فیشن اورسٹائل کی کتنی اہمیت ہے؟
زرنش خان:میرا موڈ ہو تو اس کے مطابق بنتی سنورتی ہوں اگر موڈ نہ ہو تو جیسے ابھی آپ کے سامنے ہوں ۔میں فیشن کے پیچھے نہیں بھاگتی خواہ وہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو میں اپنا فیشن اور انداز خود تخلیق کرتی ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ دنیا میں کیا چل رہا ہے۔
سوال:اپنے آپ کو منوانے کے لیے بہت سی اداکارائیں الٹے سیدھے حربے آزماتی ہیں کیا آپ بھی ان میں شامل ہیں؟
زرنش خان:میں اپنے لئے کام کرتی ہوں ویسے بھی میرے لئے شہرت کی اتنی اہمیت نہیں کہ میں خبروں کی زینت بننے کے لئے الٹی سیدھی حرکتیں کرتی پھروں،،،،آپ میری سوشل سائٹ دیکھ لیں میری کسی سرگرمی پر لوگ مجھے برا بھلا نہیں کہتے ہمارا کام ہماری معاشرتی ذمہ داری ہیں مجھے ایسا لگتاہے کہ جو کام آپ دنیا کے لئے کرتے ہے وہ کام آپ انہی حدود میں رہ کر کریں جس میں لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔جب الٹے سیدھے سکرپٹ پڑھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ سب ہمارے معاشرے کا بچہ بچہ دیکھے گا تو اس کے ذہن پر کیا اثر پڑے گا۔
سوال:شاپنگ کا کتنا شوق ہے؟
زرنش خان:بہت شوق ہے میں کپڑے جوتے اور ہینڈ بیگز کی دیوانہ وارشاپنگ کرتی ہوں اس کے علاوہ مجھے جدید ترین گجٹس کا بہت شوق ہے آپ کو حیرت ہوگی مجھے جیولری اکٹھی کرنے کا بھی بہت شوق ہے مگر پہننے کا رتی برابر بھی شوق نہیں۔
سوال:گھومنے پھرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟
زرنش خان:پاکستان میں مجھے ناران،کاغان سکردو اور دیگر شمالی اور ہرے بھرے علاقے بہت پسند ہیں،دراصل مجھے قدرتی مناظر بہت پرکشش لگتے ہیں اس لئے مجھے جارجیا ،پرتگال اور ملائشیا بہت پسند بے حد خوبصورت ہیں مجھے پانی پہاڑ،پھول،خوشبو جلد اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔
سوال:فٹنس برقرار رکھنے کے لئے کیا کرتی ہیں؟
زرنش خان:میں پاکستان میں 80 فیصد عورتوں کی نمائندگی کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ وہ مجھے اپنے جیسا ہی سمجھیں بانس کی چھڑی بننے کا مجھے کوئی شوق نہیں ویسے بھی وزن اتنا تو ہونا چاہئے کہ آپ جو پہنیں وہ اچھا لگے۔ہاں میں صحت کا خیال رکھتی ہوںپہلے میں بہت زیادہ جنک فوڈ کھاتی تھی لیکن اب نہیں۔
سوال:اپنی شادی کے بارے میں بتائیں کیسے ہوئی ،کس سے ہوئی؟
زرنش خان:
پٹھان گھرانوں میں لڑکیوں کی شادی کم عمری میں کردی جاتی ہے اس لئے17 سال کی عمر میں ہمارے فیملی فرینڈ کے بیٹے سے میرا نکاح ہوگیا وہ گلوکار ہے اور لوگ انہیں زوج کے نام سے جانتے ہیں میں اس وقت شادی کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھی اس لئے زوج نے کہا نکاح کرلیتے ہیں مگر رخصتی اس وقت ہوگی جب تم کہو گی،اسی دوران امی کو کینسر ہوگیا اور وہ کچھ ہی عرصے میں بستر مرگ تک پہنچ گئی ایسے میں وہ چاہتی تھیں کہ ان کی زندگی میں ہی میری رخصتی ہوجائے پھر ایسا ہی ہوا۔
سوال:کیا آپ کے شوہر شکایت نہیں کرتے کہ کیسی پھوہڑ بیوی ملی ہے؟
زرنش خان:انہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ میں آج جو بھی ہوں انہی کی وجہ سے ہوں۔میں انہیں بہت آئیڈیلایز کرتی ہوں میں نے اپنی زندگی میں ان سے زیادہ پرفیکٹ انسان کبھی نہیں دیکھا میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے بالکل انہی طرح ہوں۔
سوال:کیا وجہ ہے آپ کبھی سکینڈل کی زد میں نہیں آئیں؟
زرنش خان:اس کا بھرپور کریڈٹ میرے والدین کو جاتا ہے جنہوں نے میری بہترین تربیت کی ان کے بعد میرے شوہر جو ہر موڑ پرمیری رہنمائی کرتے ہیں۔ہر معاملے میں میری ڈھال بن جاتے ہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments