کیسے مٹاوٴں شہرت کی بھوک ؟

شو بز کے لوگ اپنی مارکیٹ ویلیو بڑھا نے کے لئے کیا کیا حر بے استعمال کرتے ہیں ؟ پردے کے آگے اور پیچھے کاسچ

پیر جولائی

kaisay mitao shohrat ki bhook

زارامصطفی
کہتے ہیں پردے کے آگے کی زندگی ایک دھو کے اور فریب سے زیادہ کچھ نہیں لیکن پردے کے آگے رہنے والے اس دلفریب دھو کے کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پردے کے پیچھے بھی ان کی زندگی اسی کے گرد گھو منے لگتی ہے خصو صاََ جن فنکاروں پر قسمت کی دیوی کچھ خاص مہر بان نہیں ہوتی ،وہ نت نئے فر یبوں او ربہانوں کا سہارا کچھ زیادہ ہی لیتے ہیں تاکہ اپنی جھوٹی شہرت کا بھرم بر قرار رکھ سکیں ۔ایسے میں آپ نے ٹی وی پر دیکھا ہوگا ،وہ اپنے انٹر ویوز میں کس قدر بناوٹی اور مصنوعی باتوں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی طرح جب یہ فنکار شو بزکیرےئر کے ابتدائی دور میں ہوتے ہیں تو صحا فیوں کی منت سماجت کرتے ہیں کہ کہیں کسی اخبار رسالے میں ان کاکوئی چھوٹا موٹا انٹر ویویا خبر چھپ جائے لیکن جو نہی ذراشہرت ملنے لگتی ہے تو انٹر ویو دینے میں حیلے بہانے بنانے لگتے ہیں تاکہ یہ جتاسکیں کہ وہ کتنے بڑے سٹار ہیں ...
نجی ٹی وی کی پروڈیوسراُم طوبیٰ بتاتی ہیں” میں گذشتہ چھ برسوں سے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہوں میں نے اپنے مختصر کیرےئر میں بہت سے ستاروں کو ابھر تے اور ڈوبتے دیکھا ہے مگر پردے کے آگے اور پیچھے کی کہانی تقر یباََ سبھی کی ایک جیسی ہوتی ہے یعنی ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ،دکھانے کے اور ہوتے ہیں ...اور یہ کہا وت تقر یباََ سبھی ستاروں پر صادق آتی ہے لیکن شاید شہرت کی بھوک ہے ہی اتنی ظالم چیز ...
میں نے دیکھا ہے اگر کوئی ٹی وی شوز یادہ مشہور ہوجائے تو بعض نامور فنکار بھی خود فرمائش کرتے ہیں کہ انہیں شو پرمد عو کیاجائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے بارے میں جانیں لیکن ایسے لوگ بھی ہیں کہ جنہیں ذراسی شہرت مل جائے اورہم انہیں کسی پروگرام میں مد عوکر لیں توبے جاٹال مٹول سے کام لیتے ہیں تاکہ اپنا معاوضہ بڑھا سکیں ان فنکاروں کے ایسے نخرے جھیلنا بعض اوقات چینلز کی مجبوری بن جاتی ہے کیو نکہ یہ حقیقت ہے کہ شوبز کے جس فنکار کو لوگ ٹی وی پرزیادہ دیکھتے ہیں ،وہ لوگوں میں جلد مقبول ہو جاتا ہے اس لئے بڑے میڈیا پر وڈ کشن ہاوٴسز میں بھی اس کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور کسی فنکار کی لوگوں میں مانگ بڑھنے کامطلب معاوضہ بڑھنا ہے ۔

(جاری ہے)

بعض فنکار موضو عِ بحث بننے کے لئے اپنی مرضی کے سوال پو چھنے پر بھی اصرار کرتے ہیں ۔بڑے فنکار تو ا س بات پر بھی جھگڑتے ہیں کہ ان کے مینجر یا اسسٹنٹ کے بیٹھنے کی جگہ کون سی ہے ؟ خصو صاََ جب انہیں ایک شہر سے دوسرے شہر بلایا جاتاہے تو اپنے نام نہاد مینجرز کے اخراجات کا مطالبہ بھی کر تے ہیں ۔ ویسے بھی وہ مینجر کے بغیر کہیں جائیں گے تو کسی کو پتا کیسے چلے گاکہ وہ کتنے بڑے سٹا ہیں ؟یہی نہیں آج کل بعض اداکاربالی ووڈکے سلمان خان سے اس قدر متاثر ہیں کہ وہ یو نیفارم پہنے باڈی گارڈ ساتھ رکھتے ہیں ۔اکثر ڈراموں اور فلموں کے لئے معاوضہ طے کر تے ہوئے بعض فنکار مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی میک اپ ا ٓرٹسٹ سے ہی میک اپ کر وائیں گے اور اس کا معاوضہ پروڈ یو سر اداکرے گا اور یہ بات محض سیٹ تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ مختلف انٹر ویوز میں بھی بڑھ چڑ ھ کرمطالبات کرتے ہیں ۔“ ایک ہفتہ وار میگزین سے منسلک فاطمہ نقوی بتاتی ہیں ” میں گذشتہ دس برسوں سے پر نٹ میڈیا میں بطور فیچرر ائٹر کام کر رہی ہوں ،آئے روز شوبز ستاروں کے انٹرویوز کرنااور اچھا پنا میری اہم ترین پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں سے ایک ۔میں اکثر دیکھتی ہوں کہ جب کسی معروف اداکار ، اداکار ہ ،گلوکاریا گلو کارہ کو انٹر ویو کے لئے فون کریں تو وقت دینے میں ٹال مٹول سے کام لینا تو بہت عام سی بات ہے کیو نکہ اگروہ جلد انٹر ویو کے لئے راضی ہو جائیں تو اس سے یہ تاثر ملتاہے کہ شایدان کے پاس کوئی اور کام نہیں تھا جو فوراََ انٹر ویو کے لئے وقت دے دیا ۔اس حوالے سے اثر لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ بھئی آپ نے ایک مصروف فنکار سے انٹر ویو کی فرماتش کی ہے (یہ الگ بات ہے کہ وہ واقعی مصروف ہیں بھی یا نہیں ) اس لئے تھوڑا انتظام کریں اورچند دن بعد فون کر لیں ،پھر چند دن بعد بھی مختصر اََ جواب دے کر مصروفیت کا بہانہ بنادیا جاتاہے تا کہ یہ تا ثر دے سکیں کہ ان کے پاس فون سننے کابھی وقت نہیں ۔بعض ایسے بھی ہیں جو غلطی سے فون اٹھا لیں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس وقت ریکارڈنگ میں ہیں اس لئے آپ کچھ دیر کے بعدکال کریں اور پھر فون اٹھانے سے بھی عاری ہو جاتے ہیں ۔ارے بھئی اگر واقعی شاٹ ریکارڈ کر واتے ہوئے فون سن لیا ہے تو پو ری بات بھی سن لیں اور اگر یہ ممکن نہیں تو شاٹ کے درمیان فون سننے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے ؟حقیقت تو یہ ہے کہ اس دوران فون سننا تو دور فون دیکھنے کی گنجائش نہیں ہو تی تو پھر اپنی جھوٹی مصروفیت بتانے کے لئے یہ ڈرامے بازی کیوں ..؟یہی نہیں بلکہ بعض تو اتنے ذہین لوگ بھی ہیں کہ آپ انہیں فون کریں تو وہ فون نہیں اٹھاتے لیکن چند لمحوں میں ہی کال بیک کر کے بتاتے ہیں کہ وہ شاٹ ریکارڈ کر وارہے تھے اس لئے بات نہیں کر سکتے جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ان کے پاس کتنا کام ہے ...؟ اسی طرح یہ لوگ کسی معروف شخصیت سے اپنے تعلق کی خبریں پھیلا دیتے ہیں لیکن جب ان سے پو چھا جائے تو سارا ملبہ میڈیا پرڈال دیتے ہیں جس سے بالواسطہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ اتنے بڑے سٹار ہیں کہ ان کو زیرِ بحث لانے سے ہی میڈیا کی روزی روٹی چلتی ہے اس کے علاوہ جان بوجھ کر کسی معروف شخصیت کے بارے میں بے تکی بیان بازی کر کے خبروں کا حصہ بننے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اگر آج کل کے مارننگ شوز کی بات کی جائے تو ان میں بعض فنکار اپنے خاندان کی معروف شخصیات کا حوالہ دیتے ہیں تا کہ لوگ انہیں چاہ کر بھی نظر انداز نہ کر سکیں اسی لئے وہ اپنے دادا کی شہرت اورمقبولیت کا راگ الا پتے دکھائی دیتے ہیں جب انہیں یہ خدشہ ہو کہ وہ وراثتی شہرت کو سنبھال نہیں سکتے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کا نام استعمال نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنی الگ پہچان بنانا چاہتے ہیں ،اس قسم کی دوہری بیان بازی کر کے اپنی مار کیٹ ویلیو تو بڑ ھالیتے ہیں مگر جب ضر ورت سے زیادہ شہرت ملنے لگے تو اپنے نام کے ساتھ ” سیلف میڈ “ کا خود ساختہ خطاب بھی لگا لیتے ہیں ۔شو بز کے وہ ستارے جو قصہ پا رینہ بن ہوجاتے ہیں ، جب ان کے کام نہ کرنے کی وجہ پو چھی جائے تو کہتے ہیں کئی فلموں اور ڈراموں کی سکر پٹس زیرِ غور ہیں مگر ابھی انتخاب سے متعلق فیصلہ نہیں کیا اوریہ انتخاب کبھی عمل میں آتا ہی نہیں ...دراصل ایسا کہنے کامقصد یہی ہوتاہے کہ لوگوں کو یہ متاثر نہ جائے کہ ان کی مارکیٹ ویلیوگر گئی ہے ...پھر اگر چھوٹے موٹے کر دار میں نظر آجائیں تو کہتے ہیں فلاں کے کہنے پرکر لیا ،انکار نہیں کر سکتے تھے...

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments