ماڈل محض نمائش کی چیز نہیں

فیشن کی رانی ماڈل رابعہ بٹ کہتی ہیں ،شارٹ کٹ پر یقین نہیں جبکہ نئی ماڈلز راتوں رات شہرت کے ساتویں آسمان پر جانا چاہتی ہیں ۔

ہفتہ 18 اگست 2018

ہمامیر حسن
آنکھوں میں چمک اور چہرے پر مسکرا ہٹ ،دل میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ۔ماڈل رابعہ بٹ کی خو بیاں ہیں ۔وہ ا پنے طویل قدوقامت اور کھلے دل ودماغ کے ساتھ ہنس مکھ اور پختہ شعور کی مالک خیال کی جاتی ہیں ۔رابعہ ڈیزائنرز کے ساتھ ملبوسات کی نمائش بڑی مہارت سے کرتی ہے جبکہ ان کا فیشن شوٹ ان کے چہرے کی خوبصورتی سے زیادہ دلکش دکھا ئی دیتے ہیں ․․․فیشن ورلڈ کی رانی کہلائی جانے والی ماڈل رابعہ بٹ لاہور میں پیدا ہوئی ۔ابلا غیات میں بی اے کرنے کے بعد انہوں نے ماڈلنگ کو اپنا کیر ئیر بنایا اور 2009 میں وہ ٹی وی کے کئی کمرشل میں نظر آئیں ۔ ماڈلنگ کی صف اول میں انہوں نے اپنا مقام بہت کم عرصے میں بنا یا ہے ۔کمر شلز اور ویڈیو ز میں دھوم مچا نے اور بہترین ماڈل کا دو مرتبہ ایوارڈ جیتنے والی پر کشش اداکارہ رابعہ اب بڑے پر دے پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار ہے ۔

(جاری ہے)

فاروق مینگل کی فلم ”ہجرت “ کے ساتھ انہوں نے فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے ۔
سوال : بچپن میں کیا بننا چاہتی تھیں ؟
رابعہ بٹ : جیسے زیاد ہ تر بچے ڈاکٹر بننے کی خواہش کرتے ہیں ،میں بھی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی ۔لیکن قسمت کو کچھ اور منظورتھا ۔
سوال : فیشن کی دنیا میں کیسے آمد ہوئی ؟
رابعہ بٹ : میں نے کبھی ماڈل بننے کے بارے میں نہیں سوچاتھا ،حادثاتی طور پر اس طرف آگئی ۔میں تو بہت پر سکون زندگی گزارنے کی متمنی تھی جبکہ فیشن کی دنیا بہت ہنگا مہ خیز ہے ․․․لیکن شکر ہے کہ ماڈلنگ کے شعبے میں اپنا منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہوگئی ہوں ۔اب تک تمام بڑے فیشن ڈیزائنرز کے ساتھ کام کر چکی ہوں ۔
سوال: پاکستان کے فیشن ڈیزائنرز کس طرح منفرد ہیں ؟
رابعہ نٹ : فیشن سے وابستہ لوگ مختصر دو رانیے کے شو میں جس طرح سے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ رکھتے ہیں ،اگر ان کوبڑی اسکرین کے پرو جیکٹس کا حصہ بنایا جائے تو اس سے مزید بہتری آئے گی ۔پاکستان فیشن انڈسٹری سے وابستہ لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں ۔ہمارے ڈیزائنر ز کی شہرت کے چرچے اب پاکستان کی سر حدیں پار کرتے ہوئے دنیا کے بیشتر ممالک تک جا پہنچے ہیں ،جو کسی اعزاز سے کم نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں فیشن انڈسٹری کی مقبولیت میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے اور یہاں منعقد کیے جانے والے فیشن شو میں ایک مخصوص کمیونٹی کے ساتھ اب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگوں کی بڑی تعداد بھی د کھائی دیتی ہے جو خوش آئندبات ہے ۔
سوال : آپ کی پہلی فلم ” ہجرت “ کے بہت چرچے ہیں ،فلم کی طرف کیسے آنا ہوا ؟
رابعہ بٹ : فلم ”ہجرت “ میرے کیرئیر کا بڑ ا بریک تھرو ہے ۔اچھی چیز یں ان لوگوں کا مقدر بنتی ہیں جو صیح وقت اور موقع کا انتظار کرتے ہیں۔میں نے ”ہجرت “ کا پر جیکٹ اس لیے قبول کیا کہ یہ مجھے اپنے لیے ٹھیک لگا ۔مجھے یہ اندازہ تھا میں فلم میں کسی بھی قسم کا کردار بخوبی اداکروں گی تا ہم میں نے فلموں میں کام کرنے کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کی ۔
سوال : کچھ فلم کے اسکر پٹ کے بارے میں بتائیں ؟
رابعہ بٹ : فلم ”ہجرت “ لالی ووڈ میں صرف میری ہی پہلی فلم نہیں ہے بلکہ ٹی وی کے کئی ہٹ ڈرامہ سیریل دینے والے فاروق مینگل کی بھی بطور ہدایت کا ر یہ پہلی فلم ہے ۔فلم میں لیڈ جوڑی کے طور پر مینگل نے مجھے اور اسد زمان کو لیا ہے ۔ساتھ ہی منجھے ہوئے اداکار نعمان اعجاز اور ایوب کھو سو بھی کاسٹ کاحصہ ہیں ۔ہجرت کی کہانی ایک رومانٹک ڈرامہ ہے جو افغان جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔میں نے اس فلم میں ایک بھارتی ڈاکٹر جیا کارول اداکیا ہے جو مہاجرین کے بحالی کے کیمپ میں کام کرتی ہے ۔فلم میں پوری ٹیم کا جنون قابل دید ہے ۔فلم کو کامیاب بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ۔سب نے بہت محنت کی ہے اور اب فلم کی کامیابی جس ایک چیز پر منحصر ہے ،وہ ہے قسمت ․․․فلم میں میرا کردار بہت چیلنجنگ ہے ۔اس فلم ہجرت کے بعد میں نے ایکٹنگ کیرئیر کو ہی فوکس کروں گی ۔
سوال: فلم کے آئٹم سانگ پر آپ کا ہدایت کار سے جھگڑا کیوں ہوا ؟
رابعہ بٹ ۔میں اس فلم میں مرکزی کردار کررہی ہوں اس لیے یہ آئٹم سانگ مجھ پر ہی پکچر ائز ہونا چاہیے تھا لیکن فاروق مینگل نے مجھ پر ثنا کو تر جیح دی اور آئٹم سانگ ”چلی رے دہلی سے لاہور “ ثنا پر پکچرائز ہوا ۔میں نے محض اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور معاملہ رفع دفع ہو گیا ۔فلم کا میوزک بہت اچھا ہے اس میں آئٹم سانگ کے علاوہ علی عظمت ،راحت فتح علی خان ،عمران عزیز اور عابد پروین کی آواز میں گانے شامل ہیں ۔
سوال: فیشن اور فلم کا باہمی رابطہ کس طور سے دیکھتی ہیں ؟
رابعہ بٹ: ہمارے نوجوان فلم میکرز کو چاہیے کہ فیشن ٹریڈ کے لوگوں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنائیں اور فلم بینوں کو ایسے پروجیکٹس دیں جس کودیکھ کر سب حیران رہ جائیں ۔بلاشبہ فیشن انڈسٹری میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ابھی تک فیشن ماڈلز ہی ایکٹنگ کے میدان میں دکھائی دے رہے ہیں لیکن فیشن ڈیزائنرز ، ہےئر اسٹا ئلسٹ اور میک اپ سے وابستہ لوگوں کو اگر یہاں کام کرنے کے بہتر مواقع دئیے گئے تو حیرت انگیز نتائج برآمد ہوں گے اور پاکستان فلم انڈسٹری کو انٹر نیشنل مارکیٹ تک رسائی ملے گی ،موجود وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ۔
سوال : آپ کو فیشن ورلڈ کی رانی مانا جاتا ہے ،شہرت اور کامیابی شخصیت پر کیسے اثر انداز ہوئی ؟
رابعہ بٹ : ماڈلنگ کی دنیا تو سب کو چکا چوند نظر آتی ہے تا ہم اس پر دے کے پیچھے کی تاریکی کا تصور عام آدمی نہیں کرسکتا ۔میں نے بہت محنت سے فیشن انڈسٹری میں نام کمایا ہے تا ہم کامیابی اور شہرت نے دماغ خراب نہیں کیا ۔میرے فیشن کے انداز ریمپ تک محدود ہیں عام زندگی میں بہت سادہ ہوں ۔
سوال : بہت سی ماڈلز آپ کو فالوکرتی ہیں ،آپ کے نزدیک ماڈل کی کیا خصوصیات ہیں ؟
رابعہ بٹ : ماڈل کو محض کپڑے پہننے والی ڈمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ انڈسٹری کے لئے روم ماڈل بھی ہونا چاہیے ۔دراصل نئی آنے والی ماڈل راتوں رات شہرت کے ساتویں آسمان پر جانا چاہتی ہیں اور اس کے لئے وہ شارٹ کٹ استعمال کرتی ہے جو سراسر غلط ہے ۔ٹیلنٹ ہی کامیابی کی ضمانت ہے ۔
سوال : بحثییت ماڈل آپ کو کیسا لباس پسند ہے؟
رابعہ بٹ : ماڈل نے ہر نئے رنگ اور لباس کو مارکیٹ میں مقبول کرانا ہوتا ہے تا ہم مجھے ذاتی طور پر کرتا شلوار پسند ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مردوں کا لباس ہے تا ہم خواتین بھی کرتے ہیں پر کشش لگتی ہیں ۔دیکھا جائے تو لباس وہی جو آرام دہ ہو ۔
سوال : فارغ اوقات میں کیا کرتی ہیں ؟
رابعہ بٹ : میوزک سو نتی ہوں اور ڈانس کرتی ہوں جس کا مجھے بہت شوق ہے ۔اگر میں ما ڈل یا ادا کار ہ نہ ہوتی تو ایک ڈانسر ہوتی ۔
سوال: آپ نے ایک بارکہا تھا کہ آپ فیشن کی یہ رنگین دنیا چھوڑ نا چاہتی ہیں ،اس کی کوئی خاص وجہ تھی ؟
رابعہ بٹ : گزشتہ چند برسوں سے میرے اندر ایک روحانی قوت پیداہورہی ہے جو مجھے مجبور کررہی ہے کہ میں کچھ اور کروں ۔در حقیقت میرے لیے سب سے اندو ہناک واقعہ میری والدہ کی ناگہانی وفات تھی ․․․وہ میرے لیے سب کچھ تھیں ۔ان کے جانے کے بعد کوئی دن ایسانہیں گزرتا کہ میں ان کو یاد نہیں کرتی ۔اسی لیے سب کچھ تبدیل ہوگیا ۔فلم ”ہجرت “ کی باکس آفس پر کامیابی کے بعد میرا ایکٹنگ کیرئیر جاری رہ سکتا ہے ،تا ہم ابھی میں مخمصے کا شکار ہوں ۔سب خداجانتا ہے کہ کیا ہو گا اس حوالے سے کچھ اور نہیں کہنا چاہتی ۔
سوال : بالی ووڈ کے کس ہیرو کے ساتھ کا م کرنا چاہیں گی ۔
را بعہ بٹ : بالی ووڈ کے تمام ہیرو لا جواب ہیں لیکن مجھے ذاتی طور پر سلمان خان پسند ہیں ۔میری خواہش ہے کہ ان کے ساتھ ہی کسی فلم میں ہیروئین آؤں ۔
سوال: شادی کا کب ارادہ ہے ؟
رابعہ بٹ : میں سمجھتی ہوں کہ ابھی میرا آغاز ہے میں نے ابھی بہت کچھ کرنا ہے اور میں نے کبھی کوئی خاص پلان نہیں بنایا کہ میں یہ کروں وہ کروں ،اسی طرح شادی بھی قسمت پر منحصر ہے ،جب دولہا ملا جائے گا تو شادی بھی ہوجائے گی ۔فی الحال تو کوئی امکان نہیں ۔
سوال : کیا کوئی آئیڈیل ہے ؟
رابعہ بٹ : شادی کے لئے ذہنی ہم آہنگی ہونی چاہیے اور ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے ۔ویسے میرا آئیڈیل کوئی شہزادہ نہیں ،عام انسان ہے ،جو منافق نہ ہو ،ایک سیدھا اور سچا انسان ہو ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :