کلین شیو، چا کلیٹی ہیرو کہاں گئے ؟

وہ زمانے خواب ہو ئے جب کلین شیو ہیرو پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرتے تھے

ہفتہ ستمبر

clean shave, choclaty hero kahan gaye

ہما میر حسن
اب وہ زمانے خواب ہو ئے جب کلین شیو ہیرو پاکستانی فلمی دنیا پر راج کرتے تھے ۔وحید مراد ،محمد علی ،ندیم ،شاہد اور ان کے ہم عصر ،یہ سب خوبرو ہیرو تھے مگر آج پر دہ سکرین پر باریش ہیروز کا ظہور ہو چکا ہے ۔داڑھی والے ہیرو جن کے بارے میں کبھی سو چانہ سنا ،اس وقت اداکاری کر رہے ہیں ۔ان کی ہیرو ئنیں بھی سر اسیمہ ہیں کہ ان کے مقابل کوئی ہیرو ہے یا کوئی مولوی ․․․لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ساتھ اتنے زیادہ باریش ہیرو کیسے نمودار ہوئے ؟کیا فلمیں اور ڈرامے بھی اسلا مائز کئے جا چکے ہیں ؟دراصل ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سبھی ہیروز نے یہ چلن عام کر دیا ہے ۔آج کے کامیاب باریش ہیروز نے ہیرو کا تصور ہی خاک میں ملا دیا ہے ۔کسی بھی ڈرامے میں کردار کی ڈیمانڈ کے مطابق کوئی بھی روپ اختیار کیاجاسکتا ہے لیکن جب یہی روپ ان کی حقیقی زندگی کا حصہ بن جائے تو حیرت اور ناگواری کا احساس ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان میں سب سے پہلے کرکٹ میں داڑھی کی راویت کو کچھ کھلا ڑیوں نے اپنا یا ،یہ ان کی جزوی یا کل وقتی مذہب سے وابستگی تھی ۔آمر ضیاء الحق کے دور میں تو گویا باریش ہونا ایک فیشن بن گیا اور اسلحہ ،منشیات ،انتہا پسندی کے ساتھ داڑھی بھی رواج ہوگئی چنانچہ کچھ فن کاروں اور کھلاڑیوں کی کایا کلپ ہو گئی اور وہ اپنا کام چھوڑکے مبلغ بن گئے جو کہ ان کا وطیرہ نہ تھا ۔ایک وقت تھا جب ہیرو اپنی داڑھی مونچھیں صاف کرواکر کلین شیو رہنا پسند کرتے تھے لیکن آج کل دیکھا جارہا ہے کہ وہ خود کو داڑھی میں زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں ۔
آج کل کے باریش ہیرو ․․․
گزشتہ چند برسوں میں ریلیز ہونے والی فلموں کا احوال دیکھیں تو شا ئقین بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ہیرو اب اپنی دلرباہیروئن کے سامنے بغیر داڑھی کے نظر نہیں آتے ۔اداکار شان کی شخصیت کلین شیو میں زیادہ پسند کی جاتی ہے مگروہ بھی فلم ”وار “ میں باریش بننے پر مجبور ہوئے ۔فلم ”نا معلوم افراد“ لالی ووڈ کے نئے دو ر کی بہترین فلموں میں شمار کی گئی تا ہم اس میں اداکار فہد مصطفی بھی ہلکی داڑھی رکھے ہوئے تھے ۔جو انی پھر نہیں آنی ،بن روئے ،میں ہمایوں سعید بھی باریش نظر آئے۔ اداکار ،پروڈیوسر یاسر حسین فلم ”لاہور سے آگے “کامرکزی کردار تھے ،جو پہلے ہی شائقین کے لئے سوالیہ نشان تھا تا ہم وہ بھی فلم میں داڑھی رکھ کر خود کو حسین تصور کر رہے ہوں گے حالانکہ داڑھی انہیں سوٹ نہیں کی ۔حال ہی میں ٹی وی پر نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ”دل بنجارا“میں ہیرو کو دیکھ کر گمان نہیں ہوتا کہ یہ صاحب ڈرامے کامرکزی کردار ہیں ،ان کی بے ڈھنگ داڑھی عجب ہی لگ رہی ہے جبکہ صنم سعید کے روپ میں ہیروئن اپنے بھر پور کردار میں جلوہ گر ہیں ۔تم ملے ،سنگے مرمر ،کچھ نہ کہو ،خدامیرا بھی ہے ،مورے سیاں،
بے خودی میں مہروہوں تیری ،جیسے ڈراموں میں بھی ہیرو بے ڈھنگ اور بے مطلب داڑھی رکھے ہوئے ہیں ۔جنہیں شائقین کی بڑی تعداد نے نا پسند کیا ہے کیونکہ شوبز میں داڑھی کا میابی کا راز نہیں ۔
جنہیں کلین شیو میں شہرت ملی مگر ؟
بعض اداکاروں اور ماڈلز نے ،جنہیں کلین شیو میں شہرت اور پہچان ملی ،بدلت وقت کے ساتھ داڑھی کا انتخاب کر لیا ۔اداکار فواد خان کو کون نہیں جانتا ؟گلوکاری سے اداکاری تک کا سفر فواد نے جس کامیابی سے طے کیا ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ۔اپنے کامیاب ڈرامے ہمسفر اور زندگی گلزار ہے میں فواد کے مداحوں نے انہیں کلین شیو میں دیکھا اور پسند کیا تھا لیکن اداکار نے اب اپنے لیے داڑھی کا انتخاب کر لیا ہے ۔وہ بھارتی اداکارہ سونم کپور کے ساتھ فلم ”خوبصورت “میں داڑھی میں ہی جلوہ گر ہوئے حالانکہ مستقل داڑھی رکھنا بالی ووڈ اداکاروں کا بھی شیو ہ نہیں ۔ہمایوں سعیدبھی کلین شیو ہی مقبول ہوئے تھے مگر انہوں نے بھی چہرے پر مستقل داڑھی سجالی ہے ۔فیس بک پر جاری اپنے متنازعہ بیانا ت کے باعث حمزہ علی عباسی خبروں میں تورہتے ہی ہیں لیکن ان کی دلکش شخصیت ان کی فلموں اور ڈراموں میں نظر آتی ہے ۔انہوں نے بھی اب داڑھی میں پناہ ڈھونڈلی ہے ۔ہر طرح کا کردار اداکرنے والے فیصل قریشی نے اپنے مقبول ڈرامے ”بشر مومن “میں داڑھی کے ساتھ نیا روپ اپنایا تھا ،اس طرح وہ بھی باریش اداکاروں کی فہرست میں شامل ہو گئے حالانکہ پر ستار انہیں کلین شیو میں زیادہ پر کشش مانتے ہیں ۔
فیشن انڈسٹری کے معز زین
پاکستا نی فیشن انڈسٹری کے بڑے ڈیزائنرز میں سے ایک علی ذیشان ہیں جو کہ اپنے بنائے گئے خوبصورت ملبوسات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ،وہ بھی اپنی داڑھی کی وجہ سے مارکیٹ کو لبھانے کی جستجو کرتے رہتے ہیں ۔عباس جعفری اور حسنین لہری ،پاکستانی فیشن انڈسٹری کے یہ دونوں کامیاب ماڈلز اپنی شخصیت کی وجہ سے ہی ریمپ پر سب سے نمایاں نظر آتے تھے ،اب یہ بھی داڑھی میں دکھائی دیتے ہیں ۔کامیاب گلوکار عاطف اسلم نے بھی یقینا کسی کی فرمائش پر ہی داڑھی چہرے پر سجائی ہوئی ہے ۔گزرتے برسوں کے ساتھ عاطف نے خود کو کافی تبدیل بھی کیا ہے ۔ڈیزائنر اور میزبان حسن شہریار ہمیشہ سے ہی ایک منفرد سٹائل میں نظر آئے ہیں ،اگر سر پر بال نہیں ہیں تو کیا ہوا ؟حسن شہریار اس کمی کو اپنی داڑھی سے پورا کرلیتے ہیں ۔بعض لوگ کہتے ہیں پہلے زمانے میں شیو نہ کرنے والے کو سست سمجھا جا تا تھا مگر اب داڑھی فیشن کی علامت بن گئی ہے ۔
باریش ہونا کیوں پسند کیا جاتا ہے ؟
تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے کہ باریش افراد کی اس ”مجبوری “ کی اصل وجہ کیا ہے ؟بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا “ کے مطابق ،خواتین طویل المدت رشتوں کی تلاش کی میں داڑھی والے مردوں کی جانب زیادہ جھکاؤ رکھتی ہیں ،کیونکہ داڑھی نہ صرف مردوں کی وجاہت اور ہیبت کی علامت ہوتی ہے بلکہ کشش کے اعتبار سے بھی داڑھی اور مردانہ وجاہت میں ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے ۔تحقیق کے دوران کمپیوٹر کی سکرین پرمردوں کے چہروں میں مختلف تبدیلیا ں کی گئیں ۔ ان میں بغیر داڑھی والے چہرے ،ہلکی داڑھی ،گھنی خشخشی داڑھی اور پوری داڑھی والے چہرے شامل تھے ۔جب یہ چہرے خواتین کو دکھائے گئے تو ہلکی داڑھی والے چہرے کو مختصر المدت تعلقات کے لیے سب سے زیادہ ریٹنگ ملی جبکہ مکمل داڑھی والے چہروں کو طویل المدت تعلقات کے لیے سب سے زیادہ پر کشش قرار دیا گیا ۔تحقیق میں انتہائی مردانہ اور انتہائی زنانہ خصوصیات کے حامل چہرے سب سے کم پرکشش قرار پائے ۔آسٹر یلین تحقیق کہتی ہے ،داڑھی جتنی زیادہ بڑھتی ہے ،مرداتنے ہی کم پر کشش ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی نسبت کلین شیو مردزیادہ جاذبِ نظر دکھائی دیتے ہیں ۔
داڑھی 2013کا فیشن تھا
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ داڑھی کا فیشن اسی وقت ختم ہو گیا تھا جب بی بی سی نیوزنائٹ کے معروف میزبان جیرمی پیکسمین نے یہ کہتے ہوئے اپنی داڑھی صاف کروادی کہ ” داڑھی 2013کا اندا ز تھا “ماہر سماجیا ت سلمان کاکہنا ہے کہ ”داڑھی نہ بنانے والے درحقیقت روز مرہ زندگی میں بھی کامل مانے جاتے ہیں لیکن اداکاروں کو دیکھتے ہوئے اب ہر کوئی چہرے پر داڑھی سجا لیتا ہے جو بعض اوقات انتہائی نامناسب لگتی ہے “ڈراموں ہدایت کا رعبد الرحمن اس حوالے سے کہتے ہیں ”بعض فنکار ہمیں کہتے ہیں کہ ہم نے فرمائشی داڑھی رکھی ہوئی ہے کیونکہ ہمارے فیشن ایڈوائزر نے ہمیں یہی مشورہ دیا ہے ،یہ فیشن کا نیا انداز بھی ہے جبکہ بعض کلین شیو ادا کار کہتے ہیں کہ اس کو بوجوہ رواج دیا گیا ہے “سٹائلسٹ فہد کا کہنا ہے کہ ”اگر ماضی کے کلین شیو اداکاروں کو پسند کیاجاتا ہے تو ان کے ساتھ آنیوالی اداکارائیں بھی بے مثل خوبصورتی کی مالک تھیں اور ان کی لمبی گھنی زلفوں کی تعریف میں گانے بھی عکس بند ہوتے تھے مگر اب ہیروئن نے بھی بال کٹوالئے ہیں تو تبدیلی کے لئے اداکاروں نے چہرے پر داڑھی سجالی ہے یعنی تبدیلی ہیرو میں نہیں ہیروئن میں بھی ہوئی ہے “۔
ہدایت کار کی ڈیمانڈ
شوبز میں داڑھی نے کیسے راہ پائی ؟یہ سب دیکھا دیکھی ہوا ہے اور یہ سلسلہ چل نکلا ہے تو اب کیسے تھمے گا ؟کوئی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کسی معروف اداکار کو کاسٹ کرنے سے پہلے اس سے ہرگزیہ فرمائش نہیں کر سکتا کہ اپنی داڑھی کو صاف کرائے ۔خواتین کی اس ضمن میں متضاد آرا ہیں ۔ان میں سے بعض ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اداکار کی پر فارمنس ہی پیش نظر ہوتی ہے اب وہ باریش ہے یا کلین شیو ،انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔جبکہ کچھ خواتین کا کہنا ہے کہ وحید مراد آج بھی آئیڈیل سمجھے جاتے ہیں ،اگر وہ باریش ہوتے تو ان کو ہر گز پسند نہ کیاجاتا ا س لیے کسی بھی اداکار کا باریش ہونا کوئی خوبی نہیں ہو سکتا ۔ڈراموں میں باریش اداکاروں کی ایک نئی فصل سی اُگ آئی ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے بار آور ہوتی جارہی ہے ۔جیسے اظہار خیال کی آزادی ہے اس طرح کسی کی پسند نا پسند کے بارے میں بھی کوئی نکتہ چینی نہیں کی جاسکتی لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ باریش اداکاروں کی نمود نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سافٹ امیج کو متاثر کیا ہے ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments