میشا اور فارس شفیع

ہماری ماں ہماری بہترین مشیر ہیں ․․․میشا اور فارس شفیع

ہفتہ 15 ستمبر 2018

جیسے کہ آپ جانتی ہیں کہ میں معروف دانشور حمید اختر کی اولاد ہوں ۔میں نے اپنی چھوٹی بہن ہما کے ساتھ کالج کی تعلیم کے دوران شوبز میں قدم رکھا تھا۔پی ٹی وی کے سنہرے دور کی باقیات کہہ سکتے ہیں آپ ہمیں ،اسی طر ح میری شادی سیدپرویز شفیع سے ان ہی دنوں میں ہو گئی ۔پسند کی شادی تھی پرویز بھی پڑھائی مکمل کر رہے تھے اوپر تلے بچے ہو گئے تو اماں ابا نے پرویزکو گھر داماد بنا لیا ۔ہم سب مل جل کر بچوں کی نگہداشت کرتے رہے ۔بچے اپنی نانی اور نانا سے گھل مل کر رہتے رہے ۔پڑھتے لکھتے بھی رہے اور شوبز میں بھی آگئے۔میشا نے ماڈلنگ ،گلوکاری اور اداکاری تینو ں شعبوں میں خود کو منوایا۔آج وہ نوجوان فنکاروں میں ممتاز ترین حیثیت کی حامل ہے ۔جب وہ 2013میں میرانائر کی فلم The Reluctant Fundamentalistمیں کام کرنا چاہتی تھی تو سب نے اس کی حوصلہ فزائی کی۔

(جاری ہے)

یکم دسمبر1981میں پیدا ہونے والی میشا نے اپنا بینڈ بنایا اور اسی بینڈ کے کمپوز ر محمود رحمن سے رشتہ ازدواج سے منسلک ہو گئی۔اب میں نانی بن چکی ہوں مگر ڈراموں میں مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ کئی کئی روز تک بیٹی اور نواسی سے مل نہیں سکتی مگر فون پر روزانہ بات کرتے ہیں منٹ منٹ بعد SMSکررہے ہوتے ہیں ۔وہ مجھے اپنا مشیر Mentorکہتی ہے ۔کوئی پروجیکٹ میرے مشورے کے بغیر سائن نہیں کرتی۔خدا کا شکر ہے کہ اب تک میرے کہنے پر اس نے جتنے پروجیکٹس کئے تمام ناظرین میں مقبول ہوئے ۔گانے کا شوق تھا جو کوک اسٹوڈیو میں پورا ہوا۔عارف لوہار جیسے سینئر گلوکار کے ساتھ الف اللہ چمبے دی بوٹی اور نعیم عباس روفی کے ساتھ آیا ڈےئے بہت مقبول ہوئے اس کا احوال آپ اس سے پوچھ لیں ․․․
میشا شفیع :”
اماں نے کبھی بھی ہمیں کمزور نہیں کیا نہ خود ہوئیں ۔شاید کوئی جانتا ہو کہ میرے والد نے ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا وہ ہمیں چھوڑ گئے مگر اس وقت تک میں اور فارس فری لانسنگ سے اپنے اخراجات پورے کرنے لگے تھے۔امی نے پچھلے چالیس برسوں سے شاید ہی کوئی دن بے کاری میں گزارا ہو،پاکستان میں اور دبئی ،امریکہ ،تھائی لینڈ ،سری لنکا ،بالی کئی جگہوں پر ڈرامہ سیریلز شوٹ ہوئے اگر ان کا کام ہوتا تھا تو وہ ہمیں نانی کے پاس چھوڑ کے جاتی تھیں ۔میری شادی بھی جلدی ہو گئی حالانکہ وہ جلدی شادی کر لینے کا نقصان اٹھا چکی تھیں مگر انہوں نے مجھے نہیں روکا اور اللہ کا شکر ہے کہ اس فیصلے میں میرا ساتھ دیا۔“”میں مدر زڈے کا انتظار کئے بغیر ہر روز اور ہر لمحے اپنی ماں کے چہرے پر سکون مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہوں اس لئے کوئی ایسا کام نہیں کرتی جس کا انہیں علم نہ ہویا جس پرو ہ عتراض کردیں ۔میں نے بھارت جا کر بھاگ ملکھا بھاگ اور میرا نائر کی فلم بھی کی۔البم تیار کرائے اور ہمیشہ ماں کی دعا پر یقین رکھا۔اب میراایمان ہے کہ ماں کی دعا آپ کو دنیا کی ہر مشکل سے بچا کے رکھتی ہے۔
فارس شفیع :”
اماں نے مجھے ہر وہ کام کرنے دیا جو میری شخصیت میں اعتماد لا سکتا تھا ۔وہ کئی برس تک ہمارے لئے نان شبینہ کمانے کی فکر میں گم رہیں ۔پھر ایک وقت آیا کہ وسیم عباس صاحب نے ان میں دلچسپی لی تو ہم نے انہیں دوبارہ گھر بسانے پر مجبور کیا۔شکر ہے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی۔عباس صاحب کے بیٹے علی عباس بھائیوں کی طرح سے ہمارے ساتھ رہتے ہیں ۔میری ماں بڑی ہمت والی ،خوش اخلاق ،باکردار اور ورسٹائل فنکارہ ہیں ۔ہماری خوش قسمتی ہے وہ کہ ہماری ماں ہیں ۔مدرزڈے کے موقع پر میں اور میشاان کے احسانوں کا شکر بجالاتے ہیں ۔وہ اللہ کی طرف سے ہمارے لئے تحفے سے کم نہیں ہم انہیں تحفہ دے کر حیران بھی کرتے ہیں ۔ہم ایک دوسرے کے لئے وقت نکالتے ہیں اور اس روز کوئی بڑا پروجیکٹ شاذ و نادرہی کرتے ہیں ۔وہ جیسے خوش رہنا چاہیں انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ میرے ڈراموں اور ویڈیو البمز کی پر خلوص ناقد ہیں اور ہم تینوں بلکہ اب تو عباس انکل کے ساتھ بھی ذہنی رفاقت کے اٹوٹ بندھن میں بندھے ہوئے ہیں ۔
علی عباس اور وسیم عباس
علی عباس درجنوں ڈرامہ سیر یلز میں فرمانبردار بیٹے اور شوہر کا کردار ادا کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔اپنے والد وسیم عباس کی شباہت لئے علی کی صلاحیتوں کے بارے میں دورائے نہیں ہو سکتی ۔شائستہ ،مہذب اور پنے کام سے کام رکھنے والے علی نے شادی کے بعد گھر گرہستی الگ جمائی مگر اب بھی وہ اپنے والد، دوسری والدہ اور بہن بھائیوں سے اکثر وبیشتر ملتے ملاتے رہتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ”میں نے بھی میشا اور فارس کی طرح مضبوط خاندان میں آنکھ کھولی ہے ۔میں نے اپنی ساتھی اداکارہ اور ماں کو اتنی عزت اور تکریم دی ہے جتنی مجھ سے توقع کی جارہی تھی۔ہم سب ایک کنبہ بن کر زندگی کو جاری وسار ی رکھے ہوئے ہیں ۔ہمارے رشتے روز افزوں مضبوط اور گہرے ہورہے ہیں ۔“

مزید لالی ووڈ کے مضامین :