نازک سی ․․․شر میلی سی ․․․زارا نور عباس

ڈراموں کی نئی ملکہ سے ملئے زارا اپنے بچپن کے بارے میں بتاتی چلیں ،کتنے بھائی ہیں اور آرٹسٹ کے بچے ان کے بارے میں کیسا سوچتے ہیں بتا ےئے۔“

جمعہ 28 ستمبر 2018

درخشاں فاروقی
”زارا اپنے بچپن کے بارے میں بتاتی چلیں ،کتنے بھائی ہیں اور آرٹسٹ کے بچے ان کے بارے میں کیسا سوچتے ہیں بتا ےئے۔“
”میرے تین بھائی ہیں جبکہ میں ان کی واحد بہن ہوں ۔میرے والد مجھے ہمیشہ شہزادیوں کی طرح رکھتے آئے ۔بہت لاڈ پیار سے مجھے پالا گیا بھائیوں کی بھی محبوب اور چہیتی تھی امی کو تو ظاہر ہے آپ بھی جانتی ہیں کہ لڑکیاں پسند ہیں مگر ہمارے گھر میں کبھی ایسافرق نہیں رکھا گیا ۔مجھے گھر میں پیکو کہا جا تا ہے ۔ میرے خاندان میں میرے نانا احمد بشیر دانشور ،صحافی اور آرٹ فلم بنا نے کے حوالے سے جانے جاتے رہے پھر میری ایک خالہ نیلم بشیر معروف ناول نگار اور افسانہ نویس ہیں ۔پھر کراچی میں بشریٰ انصاری اور میری امی اسما عباس کے علاو ہ میری ایک اور خالہ سنبل سے بھی آپ سب بخوبی واقف ہیں ۔

(جاری ہے)

میرا بچپن بھرے پرے اور آرٹسٹک ذہن رکھنے والے لوگوں میں گزراہے۔اس طرح میں نے امریکہ میں فلم میکنگ کا کورس کیا اور پاکستان آگئی ۔یہاں اتنے وسائل نہیں تھے کہ اپنی فلم شروع کر سکتی لیکن اداکاری کے جراثیم کام آگئے میں نے سنجیدگی سے کبھی یہ سب نہیں کرنا چا ہا ،سچ پوچھئے تو زندگی ایک کے بعد دوسری شاہراہ پر مڑی تو میں بھی اس کے ساتھ آگے بڑھتی گئی ۔“
”اسد صدیقی کہاں ملے ․․․اور کیسے جیون ساتھی بنے؟“
”اسد صدیقی میری خالہ بشریٰ انصاری کی سیر یز بارات (تا کے کی آئے گی بارات )کے مرکزی اداکار تھے یوں ہم چھ برس سے ایک دوسرے سے واقف تھے افسوس کی بات کہہ لیں یا قسمت کا لکھا کہ ہم دونوں ہی کی پہلی شادیاں نا کام رہی تھیں ․․․وہ ہم دونوں کے لئے زندگی کا تلخ ترین دور تھا ۔نیو یارک سے واپسی پر میں صرف اداکاری کرنا چاہتی تھی تاکہ دھیان بٹے ۔خالہ نے ہماری شادی طے کروائی بلکہ ایک دوسرے سے متعارف کرایا ،پہلے میں شادی کے لئے سنجیدہ نہیں تھی مگر اسد سنجیدہ تھے لہٰذا انہوں نے پہل کی اور مجھے منالیا ۔پچھلے برس ہی ہماری شادی ہوئی ہے ۔انہیں میرے کام پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ میری فیملی سے بخوبی واقف ہیں ۔“
”پہلی سیریل دھڑکن اور دوسری خاموشی تھی اب آگے کا کیا ارادہ ہے ؟“
”مجھے ان دونوں سیریلز میں سراہا گیا مگر ارسلہ کا کردار اپنی سادگی اور معصومیت میں میری شخصیت کے قریب ہے ۔اس سیریل کے بعد میری زندگی بدل گئی ہے ۔میڈیا اور میرے اطراف کے لوگوں نے مجھے بے پناہ پسند کیا ہے ۔ظاہر ہے کہ سیریل صر ف اداکارہ یا ادا کاری کی وجہ سے پاپولر نہیں ہو ا کرتی یہ ٹیم ورک ہوتا ہے کہا نی سے لے کر پکچر ائزیشن اور کیمرہ ورک سے ایڈیٹنگ تک ہر مرحلے پر محنت کی جائے تب کوئی نتیجہ برآمد ہوتا ہے ۔میں خوش نصیب ہوں کہ میرے لئے بہت اچھی ٹیم بنی اور ڈائریکٹر نے مجھ سے بھر پور انداز میں کا م لیا۔”اب آگے چل کر ایک سیریل آفر ہو ا ہے یہ وجا ہت رؤ ف کا ہے اور عاصم رضا کی فلم کے لئے بات چیت فائنل ہوئی ہے میری ایک خوش نصیبی اور ہے کہ ماہرہ خان اور شہریار منور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا ۔“
آپ نے ریمپ پر ماڈلنگ بھی کی اور سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان اٹھا ۔اب کیا رویہ ہے لوگوں کا ؟“
”میں پروفیشنل ماڈل تو ہوں نہیں یہ میں نے اسے تنقید کے جواب میں کہہ دیا تھا ۔اس شوبز میں منافقت یہ دیکھی کہ بیک اسٹیج جن لوگوں نے میری تعریف کی تھی انہوں نے طنز کے تیر بر سادےئے ۔میں اب بھی ریمپ پر ایک بار پھر آؤں گی اور اپنی صلاحیتوں کے نکھار کے بعد آؤں گی اور اس تنقید کا بھر پور جواب دوں گی ۔اس موقع پر مجھے محترمہ منیبہ مزاری ،ماہین تاثیر ،عائشہ عمر ،ماہرہ خان اور سیمی راحیل کی جانب سے حوصلہ افزاء آراء ملیں ۔ان تمام نے میرا مان بڑھا دیا ۔اس کا مطلب یہی ہوا کہ کچھ لوگ اگر تنقید برا ئے تنقید کرتے ہیں تو بہت سے دل رکھنے کی باتیں بھی کرتے ہیں ۔“
”فلم میں کیسا کردار ملا ہے آپ کو ،کچھ تفصیل بتائیں گی ؟“
”یہ سپورٹنگ رول ہے بڑے پردے کی پر فارمنس اور تقاضوں کی جونہی سمجھ آگئی تو رفتہ رفتہ مرکزی کردار بھی آفر ہوں گے میر ا ذاتی خیال ہے کہ آرٹسٹ کو ٹھہر ٹھہر کر آگے بڑھنا چا ہئے تا کہ وہ کام سیکھے اور اپنی پر فارمنس بہتر بنا تا جائے ۔“
اگر آپ کو کسی سیلیبر یٹی کا انٹر ویو کرنے کو کہا جائے تو پہلا انتخاب کونسی شخصیت ہوگی ؟“
”میری خواہش تھی کہ لیڈڈی ڈیانا سے ملاقات کرتی بہرحال شاہ رخ خان سے انٹر ویو کرنا خوش قسمتی ہوگی ۔“
”آپ کا ڈریم رول کیا ہو سکتا ہے ؟“
”مجھے ذاتی طور پر مہار نیوں کے کردار پسند ہیں ۔“
”اور اگر آپ کو اپنا پسندیدہ ترین کردار مل جائے اور دنیا بھر کی سیر کرنے کی ٹکٹ بھی مل جائے تو آپ کا انتخاب کیا ہو گا ؟“
”میں کردار قبول کر لوں گی اور جم کرادا کاری کروں گی۔اس سے پیسہ کماؤں گی اور اپنے ٹکٹ پر دنیا گھومنے نکل جاؤں گی ۔“
”ڈائریکٹر وجاہت رؤ ف کے ڈرامے میں آپ کے مقابل کون مرد آرٹسٹ ہے ؟“
”اس ڈرامہ سیریل کا نام قائد ہے اور میرے مقابل سید جبران مرکزی اداکار ہیں ۔یہ سیریل ARYسے آن اےئر جائے گا ۔“
”تاریخ پیدائش بتا نا پسند کریں تو صفحات حاضر ہیں ․․․
”22مئی1990اور جا ئے پیدائش کراچی ۔“
”تعلیمی قابلیت کیا ہے ؟“
”بیکن یونیورسٹی سے فلم ،تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں B.Eکیا ۔اور امریکہ سے فلم میکنگ میں ڈپلومہ کیا ۔“
”آپ ڈریس ڈیزائنر بھی ہیں اس شوق کے بارے میں کچھ بتائیں ۔“
”زارا نور عباس کلو تھنگ کے نام سے اپنا برانڈ بنا یا ہے اور ڈرامہ سیریلز میں اب تک اپنے ہی ڈیزائن کردہ ملبوسات پہنے ہیں ۔میں ہی نہیں گھر میں سب کو کپڑوں کی ڈیزائننگ اور سلائی وغیرہ میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ مہارت بھی ہے اور یہی ہنر تھوڑا بہت مجھے بھی آگیا ۔“

مزید لالی ووڈ کے مضامین :