سدا بہار”اینگری ینگ مین“۔تو قیر ناصر کی وارڈروب

خوش خیال ،خوش خصال ،خوش قامت ،خوش پوشاک

پیر 1 اکتوبر 2018

پاکستان کی شوبز انڈسٹری کے ”سدا بہار فن کاروں “کی اگر ایک فہرست مرتّب ہو،تو چند نمایاں ترین ناموں میں ”تو قیر ناصر “کا نام بھی ضرور شامل ہو گا۔لگ بھگ 40برس ہو گئے ،انڈسٹری سے وابستگی اختیار کیے،مگر اُن کا ”اینگری ینگ مین“کا لُک (وہی برسوں پہلے جیسی دبنگ شخصیت ،رُعب دار آواز ،لیے دئیے رہنے والا انداز)ہنوز بر قرار ہے۔ستمبر 1954ء میں ڈیرہ غازی خان میں جنم لینے والے تو قیر ناصر نے پنجاب یونی ورسٹی سے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹر ز کیا۔ابتداََڈراموں میں شوقیہ کر دار نگاری کی ،مگر بعدازاں یہ شوق ،جنون کی شکل اختیار کر گیا ۔تب ہی پی ٹی وی کے گو لڈن پیر یڈ ،1975ء تا 1990ء کے عر صے میں بے شمار یادگار ڈراموں (راہیں ،پناہ ،ایک حقیقت ،ایک افسانہ ،سمندر ،دہلیز،ریزہ ریزہ،کشکول ،درد اور درماں ،فشار اور پرواز)میں شان دار پر فارمینس کا مظاہرہ کرکے ناظرین کے دِلوں میں ایسا گھر کیا،ذہنوں میں ایسی دھاک بٹھائی کہ پھر و قتاَ َفوقتاََ اداکاری سے بریک بھی لیتے رہے،مگر اُن کا نام،شخصیت لوگوں کے دل ودماغ سے کبھی محونہ ہو سکی۔

(جاری ہے)

خصوصاََ پانچ سال پاکستان نیشنل کاؤنسل آف آرٹس (PNCA)سے بہ طور ڈائر یکٹر جنرل وابستگی کے عرصے میں تو پی ٹی وی سے تقریباََ کنارہ کشی ہی اختیار کرلی ،لیکن اپنے چاہنے والوں کے دِلوں سے نہ نکل سکے۔اِن دنوں الحمرا آرٹس کا ؤ نسل ،لاہور کے چےئرمین کے حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور عزم یہی ہے کہ جس طرح پی این سی اے کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا میں پاکستان کی تہذیب و ثقافت کے فروغ میں نمایاں کر دار ادا کیا۔سال کے 365دنوں میں 300سے زیادہ پروگرامز کرکے ایک تاریخ رقم کی،اسی طرح الحمرا آرٹس کا ؤ نسل جیسے عالمی ثقافتی ادارے میں بھی اک نئی روح پھونک کر دَم لیں گے۔
تو قیر ناصر نے ایک بار پھر سلیکٹڈ ڈراموں میں کام کا بھی آغاز کر دیا ہے گر چہ اُن جیسے سینئر ،منجھے ہوئے ،ہرفن مولا اداکار کے لیے اب اداکاری تو گویا ”گھر کی لونڈی“ہے ،لیکن اس کے باوجود اُن کا کہنا ہے کہ ”مَیں آج بھی ہر کردار ،اپنے پہلے کر دار ہی کی طرح اداکرتا ہوں کہ اداکاری اگر شوق کی حدوں سے نکل کر عشق کی وسعتوں میں داخل ہو جائے،تو پھر سر سری کر دار نگاری سے بات نہیں بنتی۔جیسا کہ آج کل کے بیش تر فن کاروں کا وتیرہ ہے۔مَیں تو اب بھی اپنے کر دار میں ڈوب کر ،ڈھل کر ر فارم کرنے ہی پر یقین رکھتا ہوں ۔آپ نے دیکھا ہو گا ،بیش ترفن کار،مختلف کرداروں کی ادائیگی کے لیے گیٹ اپس تبدیل کرتے رہتے ہیں ،لیکن میں گیٹ اپ کے بجائے ،اپنی پر فارمینس سے مختلف النّوع کر دار ادا کرکے ثابت کرتا ہوں کہ محض حلیہ تبدیل کر لینا کوئی کمال کی بات نہیں ،مَیں چوہدری کا کردار اداکروں یا آفیسر کا ،قلی کارول نبھاؤں یا وکیل،استاد کا،توقیر ناصر بہر حال ہر کردار میں موجود نظر آتا ہے ۔مَیں نے اپنے 40سالہ طویل کیرےئر میں 400-500مختلف کر دار ادا کیے،جن میں سے زیادہ تر میں سنجیدگی کا عُنصر غالب رہا،لیکن آپ کو میرے کسی ایک بھی کردار پر ،دوسرے کی چھاپ ہر گز محسوس نہیں ہو گی۔“
تو قیر ناصر کی ذمّے داریاں ،مصر وفیات بہت زیادہ ہیں ،مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے سخت شیڈول میں سے کچھ وقت ہمارے لیے نکالا اور اپنی وارڈ روب سے چند پسندیدہ ڈریسز منتخب کرکے نہ صر ف ایک خُوب صُورت شوٹ کر وایا بلکہ بہت شُستہ وشائستہ انداز میں دھیمے دھیمے ،ہنستے مُسکراتے اپنی پسند ،ناپسند سے متعلق بھی آگاہ کرتے رہے۔اُن کا کہنا ہے کہ ”اکثر مَردوں کی طرح میرے بھی پسندیدہ ترین رنگ وائٹ اینڈ بلیک ہی ہیں ،لیکن موسم ،موقعے اور ماحول کی مناسبت سے رنگ وانداز تبدیل بھی کرتا رہتا ہوں ۔جینز میں خود کو بہت کمفرٹ ایبل محسوس کرتا ہوں ،لیکن کُرتا شلوار بھی شوق سے پہنتا ہوں ۔اپنے ملبوسات کے انتخاب کے معاملے میں آج سے نہیں ،کالج ،یونی ورسٹی کے دَور ہی سے بہت محتاط ہوں ۔مَیں شاید زندگی کے کسی بھی دَور میں رَف اینڈ ٹف نہیں رہا۔ہمیشہ سے خوش پوشاک ہوں ۔اپنی زیادہ تر شاپنگ لندن سے کرتا ہوں اور خود ہی کرتا ہوں ۔اس معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں ۔بیگم ،بیٹیاں تحائف وغیرہ لے آئیں ،تو ظاہر ہے پسند آہی جا تے ہیں کہ اب وہ بھی میری پسند ،نا پسند سے اچھی طرح واقف ہو چکی ہیں ،لیکن شاپنگ کے لیے پہلی تر جیح یہی ہوتی ہے کہ خود خریدوں۔“
64-65برس کی عُمر میں بھی ”اینگری ینگ مین“نظر آنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تو قیر ناصر نے کہا کہ ”سنجیدگی ومتانت تو شروع ہی سے میرے مزاج کا حصّہ ہے اور اب تو ویسے ہی بہت میچور ہو چکا ہوں ۔غصّہ آتا ضرور ہے ،مگر ایسا بھی نہیں کہ کسی کے لیے باعثِ آزار ہو ۔عموماََ ایسے ہی دھیمے انداز سے بات کرنا پسند کرتا ہوں ،جیسے اِس وقت آپ سے کر رہا ہوں ۔البتہ اپنے اس ”ینگ لُک “کے لیے مَیں اپنی خوراک کا بہت خیال رکھتا ہوں ۔سبزیاں ،دالیں شوق سے کھاتا ہوں ۔ایکسر سائز مَیں نے زندگی کے کسی دَور میں نہیں چھوڑی ۔جِم بھی جاتاہوں اور باقاعدہ ورزش میرے معمولات کا ایسے ہی حصّہ ہے ،جیسے دووقت کا کھانا ۔متحرک ،مصروف رہنا پسند ہے ۔وقت نہیں ضایع کرتا ۔سُست نہیں ہوں ،ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی کوشش کرتا ہوں ۔“
تحائف دینے ،لینے دونوں صورتوں میں تو قیرناصر کو پھول اور خوشبو ئیں بے حد پسند ہیں ۔ملبوسات کی خریداری کے ضمن میں برانڈز سے زیادہ اِس بات پر فوکس رکھتے ہیں کہ پہنا وا آرام دہ اور شخصیت سے میل کھا تا ہو ۔اسی طرح ایکسیسریز کے انتخاب میں بھی یہی کلیہ پیشِ نظر رہتا ہے۔گھڑیوں کے کچھ زیادہ شوقین نہیں ۔جوتے ،چشمے فیشن سے ہم آہنگ تو ہوتے ہیں ،لیکن اُن کا نفیس و آرام دہ ہونا اور پر سنلیٹی کے ساتھ جچنا زیادہ ضروری ہے ۔وارڈروب میں کئی خاصے پرانے ڈریسز بھی موجود ہیں کہ اُن کا فیبرک ،کلر فٹنگ یا اُن سے منسوب کوئی اچھی یاد،اُنہیں ری جیکٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتی ۔اس حوالے سے تو قیر ناصر کہتے ہیں کہ ”اتاں زندہ تھیں ،تو مہینے،دو مہینے بعد پورا تھیلا بھر کر غریبوں میں بانٹ دیا کرتی تھیں ۔اب بیگم بھی چھانٹی کرتی رہتی ہیں ،لیکن مجھ سے اجازت لے کر ۔بہر حال ،میں بھی بہت زیادہ جمع جتھا پر یقین نہیں رکھتا ۔وقتاََ فوقتاََ الماریاں خالی کرتا ہی رہتا ہوں ۔“
لیجیے،ایک اہم عُہد ے پر فائز ،مُلک کی ایک معزز شخصیت ،لیجنڈ فن کار ،سدا بہار ”اینگری ینگ مین“تو قیر ناصر کی بہترین وارڈروب سے اُن کے چند پسندیدہ رنگ وانداز آپ کی نذر ہیں ۔ہمیں یقین ہے ،روٹین سے ذراہٹ کر ،ہمارایہ ”اسٹائل “آپ کو ضرور پسند آئے گا ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :