نجویٰ کرم

خو برو لبنانی پوپ گلوکارہ انہیں بلبل عرب کے خطا ب سے بھی نوازا گیا

جمعہ 5 اکتوبر 2018

فوزیہ طارق بٹ
عرب گلوکار ائیں اپنی خوبصورت اور خوش گلو کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ان میں ایک نام لبنانی گلوکارہ نجویٰ کرم کا بھی ہے ۔گلوکاری کے ساتھ ساتھ گیت نگاری میں بھی نام کمایا۔ان کے اب تک 30ملین سے زائد میوزک البم فروخت کاریکارڈ قائم کر چکے ہیں ۔انہیں عرب کی ٹرینڈ ساز گلوکارہ بھی کہاجاتا ہے ۔روایتی لبنانی میوزک اور عرب میوزک کو ملا کر ایک نیا انداز متعارف کرایا جسے مشرق اسطیٰ میں زبردست مقبولیت ملی۔عرب گاٹ ٹیلنٹ ٹیلی ویژن رائلٹی مقابلے میں حصہ لیا اور بے پناہ شہرت حاصل کی ۔2011ء سے مسلسل عرب گاٹ ٹیلنٹ رائلٹی ٹی وی شو کا حصہ ہیں ۔
انہیں عرب زبان کی سب سے زیادہ البم فروخت کا ریکارڈ قائم کرنیوالی گلوکارہ کا درجہ حاصل ہے ۔عرب زبان میں سب سے زیادہ البم کی فروخت ریکارڈ بھی انہی کے قبضے میں ہے ۔

(جاری ہے)

فوربز مڈل ایسٹ نے 100ٹاپ عرب گلوکاراؤں میں انہیں 5ویں پوزیشن پر فائز کیا۔سوشل میڈیا پر انکے لگ بھگ 27ملین پر ستار ہیں ۔رواں برس کاسموپو لیٹن میگزین نے انہیں 15بااثر عرب خواتین میں شامل کیا۔فوربز میگزین انہیں گلوبل سطح پر 10بااثر عرب سٹارز کی فہرست میں جگہ دے چکا ہے ۔
نجویٰ کرن نے 90کی دہائی میں شہرت کی بلندیوں پر قدم رکھا۔ان کے کئی البمز نے میوزک چارٹ پر ٹا پ کیا۔نئی صدی کے آغاز پر انکا 10واں البم”اویون کیابی“سب سے زیادہ فروخت ہو نیوالا البم بن گیا۔2001ء میں ان کے البم دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئے اور بہترین گلوکارہ کا میورکس ڈی آور اور روٹانا ریکارڈ نگ کا ایوارڈ جیتا۔انہیں آرٹسٹ آف دی ائرہ یالبم آف دی ائر البم آئر اور سال کی سب سے زیادہ البم کی فروخت کی حامل گلوکارہ کاایوارڈ بھی ملا۔مشرق وسطیٰ کی سب سے زیادہ معروف گلوکارہ کے طور پر بھی خود کو منوایا۔
ان کے کئی البمز نے کاروباری طور پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ۔انہوں نے کئی معروف موسیقار کے ساتھ کام کیا جن میں میلہم برکات بھی شامل ہیں ۔ان کے اشتراک سے کئی کامیاب البم مارکیٹ میں لائیں ۔نجویٰ کرم کا 20ویں اور سب سے کامیاب البم ماہی ایلک مئی 2017ء میں ریلیز ہوا۔انہیں روٹانا کی سب سے بااثر فنکارہ بھی کہا جاتا ہے ۔
پوپ گلوکارہ نجویٰ کرم 26فروری1966ء کو پیدا ہوئیں ۔ان کا تعلق ایک کٹر عیسائی فیملی سے ہے ۔وہ آنجہانی کرم کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں ۔موسیقی بچپن سے ہی انکا شوق تھا مگر والد کی طرف سے انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔بیٹی کے شوق کے پیش نظر انہیں اسے ٹی وی شو میں حصہ لینے کی اجازت دینا پڑی ۔انہوں نے لبنانی انسٹی ٹیوٹ آف میوزک میں چار سال تک تربیت حاصل کی۔وہاں ان کی تربیت ذکی ناصف نے انجام دی جوخود ایک معروف کمپوزر ہیں۔1987ء میں ایک اور معروف ٹی وی شو میں حصہ لیا۔اس شو نے ان کی شہرت میں نمایاں اضافہ کیا۔اسی شو کی وجہ سے ان پر عرب میوزک انڈسٹری کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
نجویٰ کرم کا پہلا اسٹوڈیو البم”یا جیبی“1989ء میں ریلیز ہوا۔شہرہ آفاق میوزک کمپنی روٹانا کے اشتراک کے ساتھ نہ صرف کئی البم ریلیز کرنے کا معاہدہ کیا بلکہ اسکے اشتراک سے ریلیز ہونیوالے کئی البمز عرب ممالک میں ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہوئے ۔انہیں روٹانا کے ساتھ معاہدہ کرنیوالی سب سے کامیاب ترین گلوکاراؤں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے جس کی ملکیت سعودی پرنس ولیدبن طلال کے پاس ہے ۔مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں براہ راست شوز کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان شوز میں عوام کی بھاری اکثریت کی شرکت ان کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے ۔ان کے سٹوڈیو البم ”نغمت ہوب“کولبنانی براڈ کا سٹنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے بہترین آرسٹ آف دی ائر کا خطاب ملا ۔نئی صدی کی پہلی دہائی میں نجویٰ کرم نے کئی ورلڈ کنسرٹ ٹور بھی کئے جو کاروباری اعتبار سے خاصے کامیاب ثابت ہوئے ۔یہ ٹور عرب ممالک ،یورپ اور امریکہ میں منعقد ہوئے۔امریکہ میں بھی ان کے پرستاروں کی بھاری تعداد موجود ہے ۔انہیں شکا گو شہر کی چابی بھی پیش کی گئی ۔ان کے پہلے البم کی دنیا بھر میں چار ملین کا پیاں فروخت ہوئیں ۔یہ ان کے کامیاب سٹوڈیو البم میں سے ایک ہے ۔
ان کے کئی سنگل گانے عرب میوزک چارٹ پر نمبر ون پوزیشن پر فائز ہوئے ۔ان کا تازہ اور آخری البم”مینی ایلک “2017ء میں ریلیز ہوا جو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں پانچ ہفتوں تک نمبرون پوزیشن پر فائز رہا۔نجویٰ کرم کے میوزک کیرئیر کا سرسری جائز ہ لیا جائے تو اب تک دنیا بھر میں 2250سے زائد میوزک کنسرٹ کر چکی ہیں ۔شوبز میں تین دہائی گزرانے کے باوجود آج بھی مشرق وسطیٰ کی مقبول ترین گلوکارہ ہیں ۔10جون 2009ء کو مرا کو میں ہونیوالے فیسٹیول میں شرکت کی۔اس شو میں ساٹھ ہزار سے زائد فراد نے شرکت کی۔
ٹوئٹر فیس بک پر عرب کی مقبول ترین گلوکارہ ہیں ۔ان کے پرستاروں کی تعداد میں برو ز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔کئی عرب گلوکار ائیں ان کی مقبولیت سے حسد کرتی ہیں ۔مغربی فنکاراؤں کی طرح نجویٰ کرم بھی انسانی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ۔وہ عرب خواتین کے حقوق کی جنگ بھی لڑتی رہی ہیں ۔کئی عرب تنظیمیں انسانی بھلائی کے کاموں پر انکی خدمات کا اعتراف کرکے ایوارڈ سے بھی نوازا چکی ہیں ۔نجویٰ کرم کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی بھی نمبر ون گلوکارہ بننے کا شوق نہیں رہا۔
وہ پرستاروں کی محبت کو سب سے بڑا ایوارڈ سمجھتی ہیں ۔عرب فنکاراؤں میں بھی سوشل سٹیٹس کا خبط پایا
جاتا ہے ۔کئی عرب فنکاراؤں نے اپنے جسم پر ایک سے زائد ٹیٹور بنوار کھے ہیں ۔ان میں نجویٰ کرم کا نام بھی شامل ہیں ۔لبنانی پوپ گلوکارہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیٹوز انہیں توانائی بخشتے ہیں ۔

مزید متفرق کے مضامین :