ٹیلنٹ کسی سفارش کا محتاج نہیں ہوتا

ٹی وی ڈراموں میں نئے فنکاروں کو متعارف کرانے کا سلسلہ تو جاری رہتا ہے لیکن ا ن میں چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔

منگل اکتوبر

talent kisi sifarish ka mohtaaj nahi hota

عنبر ین فاطمہ
ٹی وی ڈراموں میں نئے فنکاروں کو متعارف کرانے کا سلسلہ تو جاری رہتا ہے لیکن ا ن میں چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔زیادہ تر فنکاروں کو اپنی پہچان بنانے کے لئے کافی جدوجہد اور تگ ودو کرنا پڑتی ہے لیکن چند خوش قسمت ایسے بھی ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے درامے سے ہی پہچان مل جاتی ہے۔
ایسے ہی خوش قسمت فنکاروں میں ایک نام سحر خان کا بھی ہے جنہیں ٹی وی انڈسٹری میں آئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزارا لیکن وہ اپنے پہلے ہی پراجیکٹ کے ذریعے ہی ثابت کر چکی ہیں کہ ٹیلنٹ کسی سفارش یا سہارے کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ ٹیلنٹ اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔سحر خان کو مومنہ درید پروڈکشن کے سوپ ’سانوری ‘کے ذریعے متعارف کرایا گیا جس میں ان کے کردار شمع نے ناظرین کو سحر زدہ کر دیا جو ایک ضدی ،خود سر،مغرور اور بگڑی ہوئی لڑکی ہے ،ڈرامے کی مقبولیت میں ان کے اس کردار کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے ۔

(جاری ہے)


سحر خان نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے شوبز میں آنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا لیکن وہ ہوتا ہے ناں کہ فیملی کی طرف سے اجازت نہیں ملتی ،میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا،مجھے گانے کا شوق بھی تھا اور میں سنگر ہی بننا چاہتی تھی لیکن اداکاری بارے نہیں سوچا تھا ،اس سے پہلے مجھے ایک آفر ملی لیکن نہ کر سکی جس کے بعد مس ویٹ کا چانس بھی ملا لیکن وہاں بھی نہ جا سکی۔
ایک سوال کے جواب میں سحر خان نے بتایا کہ سب سے پہلے میں نے ماڈلنگ سے آغاز کیا جس سے فیلڈ میں کافی لوگوں سے تعلقات بن گئے ،مومنہ درید پروڈکشن میں آڈیشن دیا جو کامیاب رہا جس کے بعد میرا آڈیشن ڈائریکٹر کا مران اکبر خان نے کیا اور منتخب کر لیا لیکن مجھے یقین نہیں آیا ،دوسرے دن انہوں نے مجھے ریکارڈ نگ پر بلالیا اور کہا کہ اگر اچھی اداکاری نہ کی تو یہاں سے ہی واپس بھجوادیں گے کیونکہ ایم ڈی پروڈکشن میں صرف ٹیلنٹ ہی چلتا ہے ،میں نے یقین دلایا کہ بہت اچھی اداکاری کا مظاہرہ کروں گی لیکن اس سے پہلے مجھے ایک اور سکرپٹ ملا،اسے اتفاق کہیں یا میری خوش قسمتی کہ اسی دوران’شروع ہو گیا ،مجھے دو تین رول بتائے گئے تھے لیکن پھر ڈائریکٹر نے خود ہی میرا انتخاب شمع کے لئے کر لیا،میں پازیٹو کردار بھی کر سکتی تھی لیکن نیگیبٹو رول میں مجھے بہت زیادہ پسند کیا گیا ۔
سحر خان نے بتایا کہ سیٹ پر میرا پہلا دن بہت مشکل سے گزرا کیونکہ سینئر لوگوں کی موجودگی میں کیمرہ کا سامنا آسا ن نہیں ہوتا لیکن شروع سے پر اعتماد ہوں اس لئے مشکلات بھی میرے لئے آسان ہوتی چلی گئیں ۔نہ صرف دائریکٹر کامران اکبر خان بلکہ میری والدہ کا کردار کرنے والی اداکارہ کنزیٰ ملک سمیت دیگر سینئر ز نے بھی بہت حوصلہ افزائی کی جس کے ساتھ ساتھ میں نے خود بھی ہر سین پر بہت محنت کی ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں اداکاری کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی جاری رکھوں گی،حال ہی میں انٹر کیا ہے جبکہ مزید بھی تعلیمی سلسلہ جاری رکھوں گی،جس طرح شوبز میں محنت کروں گی بالکل اسی طرح پڑھائی پر بھی پوری توجہ دوں گی کیونکہ مجھے بہت آگے نکلنا ہے ۔
صبا قمر سے بہت متاثر ہوں کیونکہ بچپن سے صرف انہیں ہی دیکھتی آئی ہوں ،میں صبا قمر تو نہیں بننا چاہتی کیونکہ ہر انسان کی اپنی منفرد شناخت ہوتی ہے اس لئے مجھے اپنی منفرد پہچان بنانے کی خواہش ہے جس کے لئے جتنی محنت بھی کرنا پڑی کروں گی۔پہلا ڈرامہ سپرہٹ ہونے اور شہرت ملنے کے بعد میری فیملی بھی بہت خوش ہے اور کسی کو اعتراض بھی نہیں ہے کیونکہ میرے والد نے خود ہم ٹی وی اور وہاں کی پروڈکشن کاماحول دیکھا تو انہیں یقین ہو گیا سب لوگ بہت اچھے ہیں ،میرے والد بہت اچھے اور پیار کرنے والے ہیں جو میری بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،والدہ پہلے انہیں منع کرتی تھیں کہ مجھے شوبز میں نہ جانے دیا جائے لیکن اب وہ بھی بہت خوش ہیں ۔خوش قسمتی سے مجھے بڑے پلیٹ فارم پر چانس ملا جسے ضائع نہیں کرنا چاہتی ،شہرت ملنے کے بعد میرے روےئے میں بالکل تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی میں مغرور ہوں بلکہ سب سے اسی طرح ملتی ہوں ۔اب صرف اداکار ی پر فوکس کروں گی اور ہر طرح کا کردار ادا کروں گی کیونکہ میرے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments