ہمہ صفت اداکار

”اس بارہم نیٹ ورک پرواز ہے جنون بھی پیش کر چکا تو اس کا مطلب ہے کہ اب اگلے برس عید الفطر تک کوئی پاکستانی فلم پائپ لائن میں نہیں رہی؟“

پیر 22 اکتوبر 2018

درخشاں فاروقی
”یہ بتاےئے کہ فلم صرف عید ین کے موقعوں پر کیوں ریلیز کی جاتی ہے اور وہ بھی اکٹھی تین چار پاکستانی فلمیں؟“
”ہمارے ملک ہی میں کیا پڑوسی ملک میں بھی بڑے بجٹ کی ،معروف کا سٹ والی فلمیں تہواروں کے موقعوں پر نمائش کے لئے پیش کرنے کی ثقافت بن چکی ہے ۔میری دعا ہے کہ عید کے موقع پر لگنے والی ہر فلم اچھا بزنس کرے۔حالانکہ میں ذاتی طور پر اس بات کے حق میں نہیں ہوں ۔ہماری فلم انڈسٹری نے نیا جنم لیا ہے ۔ہمیں اس کی ترقی اور بقاء کے لئے زیادہ منظم انداز میں کو ششیں کرنی چاہئیں ۔اگر ہم علیحدہ علیحدہ موقعوں پر فلمیں ریلیز کریں تو زیادہ بہتر ہو گا ۔اس طرح کسی ایک فلم کو بلاک بسٹر ہونے کا وقت مل سکے گا۔“
”اس بارہم نیٹ ورک پرواز ہے جنون بھی پیش کر چکا تو اس کا مطلب ہے کہ اب اگلے برس عید الفطر تک کوئی پاکستانی فلم پائپ لائن میں نہیں رہی؟“
”ظاہر ہے کہ یہ تینوں بڑے پروڈیوسرز اور فلم بنانے والے تو اگلے برس سے کوئی نیا کام نہیں کر سکیں گے ۔

(جاری ہے)

ہمارے ڈائریکٹر ز اور پروڈیوسر ز اپنی فلموں کی ریلیز کی تاریخیں بھی آگے پیچھے کرنے پر آمادہ ہوتے نظر نہیں آئے ۔میں نے دونوں تقسیم کاروں سے کہا تھا مگر کوئی نہیں مانا ۔ویسے میری دونوں فلموں کے موضوعات الگ ہیں ۔میرے دونوں کردار مختلف ہیں ۔“
”نبیل قریشی اپنی ہر فلم میں آپ ہی کو کیوں ہیرو چن لیتے ہیں ؟“
”اس لئے کہ میں ان کی فلم کے لئے وقت نکالتا ہوں ،توجہ دیتا ہوں اور بڑی محنت سے کام کرتا ہوں ۔لوڈویڈنگ میں انہوں نے مجھے پچھلی فلم سے ہٹ کر سیدھا سادہ دیہاتی بنایا جو تھوڑا بہت پڑھا لکھا بھی ہے اور میں ویسا ہی بن گیا کیونکہ میں تو ایکٹر ہوں ۔“
”جوانی پھر نہیں آنی میں آپ کہیں نہیں تھے مگر 2میں نمایاں ترین کردار ملا اور اسے فلم نے پسند بھی کیا،آپ کی اپنی پرفارمنس سے متعلق کیا رائے بنتی ہے ؟“
”کسی بھی ستاروں بھری کاسٹ مثلاً ہمایوں سعید ،احمد علی بٹ ،واسع چوہدری ،کبریٰ خان اور ماوراحسین کے مقابل اہم کردار اداکرنا اور جم کر پر فارم کرنا واقعی آسان نہیں تھا ۔میں نے یہ فلم دوستی اور رواداری میں سائن کرلی تھی اور میں نے دوستی بھائی آپ ہمایوں سعید اور ندیم بیگ (ڈائریکٹر )سے پوچھ سکتی ہیں میں نے اپنے کردار کی طوالت یا مناظر کی تعداد کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا ۔میں جانتا ہوں کہ ہمایوں سعید فلم کی سوجھ بوجھ رکھنے والا آرٹسٹ ہے اور ذہین و فطین ہدایت کار ہے ۔وہ کبھی کسی آرٹسٹ سے نا انصافی یا اس کی حق تلفی نہیں کر سکتا ۔ہم اکٹھے ڈرامہ سیریل بھی کر چکے ہیں میں چھوٹا بھائی بنا تھا ۔اس کے بعد بہت عرصے تک ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں مل سکا اب ہم بہت برسوں بعد فلم کر رہے تھے ۔میں خود اپنا پروڈکشن ہاؤس Big Bangکے نام سے چلا رہا ہوں اور ہم اپنی اپنی سطح پردونوں ہی بے حد مصروف پروڈیوسرز ہیں مگر میں تسلیم کر تا ہوں کہ آج میں نے بہت کچھ ہمایوں سعید کی جدوجہد اور محنت سے سیکھا ہے ۔وہ کیرےئر میں اب بھی بڑے بھائی ہیں اور میں چھوٹا بھائی۔“
”اس چھوٹی سی انڈسری میں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر کام کرتے ہی بنتی ہے مگر آپ اسٹار ہیں کہیں کوئی Egoمسئلہ تو بنی ہو گی؟“
”اگر یہ مسئلہ ہوجائے تو پھر ایک چھت کے نیچے کام کرنا ممکن نہ رہے ۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کام کیا بھی نہیں جا سکتا ۔ہم دونوں اپنی اپنی سطح پر ایک دوسرے کو Spaceدے کر کام کرتے ہیں ۔ہر کسی کے کام کا ایک انداز ہوتا ہے میں اپنے اسسٹنٹ ،ٹرینر اور ٹیم کے بغیر کچھ نہیں ہوں اور سب ہی لوگ ایک دوسرے کے معاونت کیا کرتے ہیں ۔کبھی کبھار اگر میں غصہ کرتا ہوں تو اس کی کوئی ٹھوس وجہ ہوتی ہے ۔کیونکہ میں بھی انسان ہوں ،کوئی بات مجھے بھی بری لگ سکتی ہے ۔“
”لوڈویڈنگ کے دوران وہ کیا واقعہ پیش آیا تھا نوجوانوں نے آپ کی کارکو گھیر لیا تھا ،وہ کیا چاہتے تھے ؟“
ہم ڈسکہ پنجاب میں شوٹنگ کررہے تھے ۔جب شوٹنگ ہو گئی تو لڑکوں کے ایک گروہ نے موٹر بائیکس کا میری گاری کے گرد ہجوم اکٹھا کر لیا میری گاڑی ٹریفک جام میں پھنس گئی۔انہوں نے بائیکوں سے اتر کر میری ویڈیوز بنانی شروع کر دیں ۔میرے منع کرنے پروہ سڑک پرلیٹ گئے وہ مجھے کسی طرح آگے نہیں جانے دے رہے تھے۔مجھے برالگا تو میں گاڑی سے اتر کر میدان میں چلا گیا اور وہ دوڑتے ہوئے کھیتوں میں بھی آگئے ۔وہ یہ ویڈیوز ریلیز کرنا چاہتے تھے ان کے لئے وہ پیار جتانے کا ایک انداز تھا ۔بڑی مشکل سے میں نے انہیں رخصت کیا۔“
”فہد آپ کے خدوخال اور رنگت کولے کرکہیں نہ کہیں تنقید بھی سننے کو ملتی ہے ،لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے وٹامن Eکے خصوصی انجکشن لگوا کے اپنی سانولی رنگت کو نکھاردیا ہے ،اس بات میں کتنی سچائی ہے؟“
”میرا رنگ بہت جلد بگڑتا رہا ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ میں معمولی کے مطابق وہی میک اپ کرتا آیا ہوں جو دوسرے آرٹسٹ کرتے ہیں یا تو کیمرے کی تیز روشنی کے مضراثرات سے بچاؤ کے لئے لازمی ہوتا ہے ۔یہ سوال لوگ مجھ سے اکثر کیوں پوچھتے ہیں مثلاً کئی لوگ تو یہاں تک پوچھ بیٹھتے ہیں کہ میری اگلے ماہ شادی ہونے والی ہے مجھے رنگت گوری کرنے کے لئے کوئی دوایا ٹوٹکا بتادیجئے ۔جس طرح آپ نے اپنی رنگت بہتر بنائی ہے ۔میں صرف متوازن غذا کھاتا ہوں اور اگر کبھی ایسا نہیں کر پاتا تو کچھ فوڈسلپیمنٹس لے لیتا ہوں تا کہ نقاہت نہ ہو،میں فٹ رہوں اور جسم میں توانائی کم نہ ہو او ر بس،اب مجھے رنگت کی کوئی فکر ہے نہ پرواہ ہی کرتا ہوں ۔میں صرف صحت مندر ہنا چاہتا ہوں ،ایک اچھی آئیڈیل لائف گزار رہاہوں ،میرا کیرےئر کامیاب ہو رہا ہے ،مستقبل روشن ہے ،حال بہتر ہے ،وہ وقت گیا جب یونیورسٹی بس میں جانا پڑتا تھا ۔ظاہر ہے کہ جب آ پ کو دھول مٹی اور دھوئیں سے نجات مل جائے ،سکون بخش زندگی ہوتو رنگت بھی بہتر ہونے ہی لگتی ہے ،بس میری صاف رنگت کا یہی راز ہے اور کچھ نہیں۔“
”فہد جیتو پاکستان بہت بڑا گیم شو ہے جسے آپ گزشتہ 4سال سے بخوبی Hostکررہے ہیں خاصے خوشگوار موڈ میں بڑے بڑے انعام دے جاتے ہیں اور یہ سوچ لو،کے پیچھے کیا کہانی ہے ؟“
”اس پروگرام اور میری گفتگو کی وجہ سے مجھ پر اچھی خاصی تنقید بھی ہوتی آئی ہے ۔’سوچ لو‘کے پیچھے کہانی بس اتنی ہے کہ بڑے یا چھوٹے کسی بھی طرح کے انعام کے لئے تجسس پیدا کرتا ہوں اور توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور آپ کو حیرت نہیں ہوئی ہو گی کہ لوڈیڈنگ میں نبیل قریشی نے مجھے ایک گاڑی پر چڑھا کہ یہ مکالمہ بلوایا حالانکہ وہ گاڑی انعام میں دینے والی نہیں تھی۔“
سینئر اداکارہ صلاح الدین تینو کے اس 35سالہ فرزند کے کیر ےئر میں 5فلمیں اور درجنوں ڈرامہ سیریلز ہیں اور ایک بڑا گیم شو ہے جس نے ٹیلی ویژن پر پیش ہونے والے گیمز شوز کی ثقافت بدل ڈالی اور یہ سب فہد مصطفےٰ کے کھاتے میں جاتا ہے کہ اکیلا فہد سب پر حاوی ،کہنا ہی پڑتا ہے ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :