میں عزت واحترام اور محبت چاہتا ہوں

”کیا یہ کہنا درست ہے کہ آپ مغرور ہیں یا متناز عہ شخصیت کے حامل ہیں؟“ ”اصل میں یہ دونوں باتیں ان لوگوں نے اڑائی ہیں جو میری سچائی پر سیخ پا ہوجاتے ہیں ۔اگر مجھے کسی کردار میں جھول نظر آتا ہے یا کمی نظر اتی ہے تو میں منہ پر کہنے والا آدمی ہوں اس لئے برالگتا ہوں ،ورنہ غرور کس بات کا ؟“

منگل 23 اکتوبر 2018

درخشاں فاروقی
”کیا یہ کہنا درست ہے کہ آپ مغرور ہیں یا متناز عہ شخصیت کے حامل ہیں؟“
”اصل میں یہ دونوں باتیں ان لوگوں نے اڑائی ہیں جو میری سچائی پر سیخ پا ہوجاتے ہیں ۔اگر مجھے کسی کردار میں جھول نظر آتا ہے یا کمی نظر اتی ہے تو میں منہ پر کہنے والا آدمی ہوں اس لئے برالگتا ہوں ،ورنہ غرور کس بات کا ؟“
”ماضی میں آپ کئی ایوارڈ شوز کے معیار اور ساکھ پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں شاید اسی وجہ سے یہ رائے بنی ہے “؟
”ہر اس ایوارڈ شو پر تنقید کرتا آیا ہوں جہاں اسپاں نسرز اور پسندیدگی کے معیار پر اداکاروں کو ٹرافی دینے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔یہ تو سنجیدہ اور کام کو آرٹ سمجھ کر کرنے والوں کے لئے نا انصافی ہے ۔ایک سال میں نے مختلف چینلز پر کئی اچھی پر فارمنس دیں اور میں اپنے کام سے مطمئن ہو گیا ۔

(جاری ہے)

پھر مجھے کسی ٹرافی کی ضرورت نہیں رہی۔یہاں ہوتا یہ ہے کہ نئے آنے والے Promoteہوتے ہیں سینئر ز کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے ۔اس لئے میں بہتر سمجھتا ہوں کہ اس دوڑ سے خود کو علیحدہ کر لیا جائے۔ایک وقت تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن پر معین اختر ایوارڈ شوز میں مزاحیہ سیگمنٹس کرتے تھے۔اس وقت تحریر اور تقریر کا ایک اخلاقی معیار موجود تھا وہ چاہتے تو رقص اور گانوں سے ان شوز کو مقبول کر اسکتے تھے ۔لیکن کیوں وہ ایسا نہیں کرتے تھے ۔اب یہی نہیں کہ ایوارڈ شوز80فیصدی گانے اور رقص پیش کرتے ہیں بلکہ ذاتیات پر حملے بھی کرتے ہیں اور یہ سب طنز ومزاج کے لباد ے میں لپیٹ کر پیش ہوتا ہے ۔“
”سنا ہے کہ اسٹار ز خود اپنے اوپر ایسے مکالمے تحریر کرواتے ہیں تا کہ پروگرام میں ان کی شہرت بڑھے۔ان کے کیرےئر کو فائدہ پہنچے اور وہ سب آپس میں دوست ہوتے ہیں “؟
”ممکن ہے ایسا بھی ہوتا ہو لیکن یہ ان پروفیشنل رویہ ہے ۔لوگوں کی ذاتی زندگی ،پہننے اوڑھنے کا طریقہ اور کھانے پینے کے آداب پر طنز یہ مزاحیہ تحریر لکھنا ۔کم از کم مجھے پسند نہیں۔“
”یہ بتاےئے آپ نے دو برس تک مذاق رات کیا پھر چھوڑا کیوں اور اب کیا ارادے ہیں ؟“
”یہ ٹاک شو میں نے دو برس تک بخوبی کیا۔میں اپنے مہمانوں کو عزت کرتا تھا۔یہ بھی مجھے بھائی کہہ کر بلا تے تھے ۔لیکن میں نے خود کئی آرٹسٹوں سے کہا کہ اسکرین پر کوئی ذاتی حوالہ نہ دیں ۔اس وقت ایسا کوئی دوسرا پروگرام زیر غور نہیں ۔“
”پچھلے برس آپ ہم نے رمضان کی نشریات میں بھی دیکھا کیوں اس سال خاموشی رہی ؟“
”اصل میں پچھلے برس تک رمضان کی رنشریات کے پاپو لر رجحانات دیکھ کر میں نے قدرے سنجیدہ انداز کا شوہی کیا تھا ۔اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ بھاگئے،دوڑےئے ،شرکاء سے سوال کیجئے ،تحفے بانٹئے ،مذاق کیجئے اور دوسروں کو ہنساےئے ،یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا ۔ماہ رمضان کا مقدس پروگرام اپنے اندر روحانی کیفیتوں اور عبادات کا پہلو لئے ہوتا ہے ۔اس میں اگر کوئز شو کی حد تک اسلامی تاریخ یا قرآن پاک سے متعلق معلومات کا سیگمنٹ ہوتو وہی زیب دیتا ہے ۔باقی جولوگ عام دنوں میں کوئز شوز یا گیمز شوز کرکے انعامات تقسیم کرتے ہیں وہ پیٹرن الگ اخلا قیات کا متقاضی ہوتا ہے ۔مگر اچھل کود، بد تمیزیاں ،تحفے پھنکنا اور لوگوں کو بے عزت کرنا صحیح نہیں سمجھتا اس لئے ایسا کوئی پروگرام کیا ہی نہیں ۔میں انہیں غیر تخلیقی پروگرام کہتا ہوں جہاں مجھ جیسے سینئر یا سنجیدہ اداکار کے لئے کرنے کو کچھ نہیں ۔“
”ڈراموں کی طرف آےئے ،کیا آج کا ڈرامہ ریٹنگ پرکیش ہورہا ہے ؟“
”تخلیقی عنصریت کم ہو گیا ہے ۔فیملی ڈراموں میں سطحیت آرہی ہے ۔موضوعات دہرائے بھی جا رہے ہیں ۔بڑے اداکاروں کے نام پر ڈرامے بکنا میرے علم میں نہیں ہاں مگر کا سٹ اہمیت تو رکھتی ہے شاید آپ ہی ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔مگر ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ دیکھنے والوں کو زندگی کی سچی تصویر دکھائیں ۔یہاں ڈرامہ ابلاغ کرے،لوگوں کو متاثر کرے اور کرداروں کو مثبت سوچ اور تبدیلی فکر بھی ملے۔“
”کچھ عرصے پہلے آپ نے تھیٹر بھی کیا ۔یہ کیسا تجربہ رہا؟“
”جی میں نے Dallasمیں کوئی بارہ برس بعد سوری بھائی،نامی پلے کیا۔یہ ایک سوشل کامیڈی تھی دو بھائیوں کے کردار لے کر بند کمرے میں ان کی پرفارمنس تھی ۔یہ نہایت دلچسپ سلسلہ ہے جسے ہم گرمیوں میں پھر باہر لے کر جارہے ہیں ۔“
”سماجی مسائل پر مبنی ڈراموں سے متعلق کیا رائے دیں گے ؟“
”نازک نفسیاتی بیمار لوگوں پر ڈرامے بنانا اچھی شر وعات ہے مگر اس موضوع کو برتنا بڑا ہی تکنیکی اور تخلیقی صلاحیتوں کا تقاضا کرتا ہے ۔مجھے ڈرسی جاتی ہے صلہ میں بڑا تجربہ ہوا۔یہ ڈرامےVulgarنہیں ہونے چاہئیں ۔جیسے کہ مہرین جبار نے مجھ سے رہائی میں کام لیا۔میں مہرین کا شکر گزار رہوں گا کہ جس نے مجھ سے رہائی جیسا کردار بڑے سلجھے ہوئے انداز میں کرالیا۔“
آپ کب بڑی اسکرین پر نظر آرہے ہیں؟“
”چند برسوں سے برابر رول آفر ہورہے ہیں مگر سینما بین سے لے کر پروڈیوسر ڈائریکٹر تک سمجھتے ہیں کہ مجھ پر کیسا کردار جچے گا اور کیسی پرفارمنس مجھ سے لی جا سکتی ہے ۔تو جب کبھی کوئی کردار مجھےClickکر گیا ۔میں آپ کو بڑی اسکرین پر نظر آجاؤں گا۔“
”اداکاروں اور پروڈیوسرز کی تنظیم یونا ئیٹڈ پروڈیوسرز کی کیسی کار کردگی رہی ،کوئی تبصرہ․․․“
”ویسے تو میں بھی بحیثیت اداکار ،پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اس تنظیم سے وابستہ ہوں۔جہاں تک ہمیں معاوضوں کی بروقت ادائیگی کے نہ ہونے کا تعلق ہے تو کرائسس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے ۔اب چینل بڑے اداکاروں کو بروقت ادائیگی کردیتے ہیں اور نئے اداکاروں کو بہلا دیا جاتا ہے ۔حتیٰ کہ بعض تکنیکی ماہرین تک کو بروقت ادائیگی نہیں ہو پاتی۔“
”کیا آپ بھی نامور اداکاروں کی طرح اپنے وارڈ روب اور پک اینڈ ڈراپ کی گاڑیوں سے متعلق کچھ تحفطات رکھتے ہیں ؟“
”آج تک تو میں نے کبھی کوئی غیر ضروری تقاضا نہیں کیا۔میں نے کبھی فرسٹ کلاس میں سفر کے لئے ہوائی ٹکٹ نہیں مانگا اور نہ ہی سیٹ پر کوئی خاص کھانے کی فرمائش بھی کی ہے ۔میں وہی کھاتا ہوں جو پوری ٹیم کھارہی ہوتی ہے ۔اگر میرے قیام کے اخراجات پروڈکشن ٹیم سے کئے گئے معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو وہ ہی میرا حق ہوتا ہے ۔کام سے واپسی پر میں نے ہمیشہ اپنے کھانے پینے پر خود ہی خرچہ کیا ہے ۔میں دیکھتا ہوں کہ نوجوان اداکار بہت سی فرمائشیں کرتے ہیں ۔میں صرف لوگوں سے عزت ،احترام اور محبت کا تقاضا کرتاہوں جو میری عمر کے اداکار کا حق بنتا ہے اور بس۔“

مزید لالی ووڈ کے مضامین :