الحمرا پاکستانی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے

توقیر ناصر کی اداکاری حقیقی زندگی کی آئینہ دار اور معاشرتی وسماجی نزاکتوں سے مالا مال ہے، ان کی شخصیت میں گہرائی، بے تکلفی اور علمی بصیرت کے پہلو بھی نمایاں نظرآتے ہیں، ان کی روح اور دل مشرقی اقدار و روایات کا حاصل ہے،

بدھ اکتوبر

al hamra Pakistani Saqafat ke farogh mein ahem kirdaar ada kar raha hai

سیف اللہ سپرا
توقیر ناصر کی اداکاری حقیقی زندگی کی آئینہ دار اور معاشرتی وسماجی نزاکتوں سے مالا مال ہے، ان کی شخصیت میں گہرائی، بے تکلفی اور علمی بصیرت کے پہلو بھی نمایاں نظرآتے ہیں، ان کی روح اور دل مشرقی اقدار و روایات کا حاصل ہے، ادب و ثقافت میں ملک کو آگے بڑھانے کے لئے نیک نیتی سے کی گئی محنت پر یقین رکھتے ہیں، اداکاری میں ان کی شہرت کی وجہ غیر معیاری کرداروں کی بیسا کھیوںکا سہارا نہ لینے کا عزم ہے اسی لئے تو انھوں نے اپنے 4دہائیوں پر پھیلے اداکاری کے کیئریر میں جہاں 400 کردار ادا کئے وہاں500کردار چھوڑے بھی۔ انھوں نے اپنے اداکردہ کرداروں کے انتخاب میں ہمیشہ مشرقی تہذیب کے رکھ رکھائو اور اپنی قدروں کی پاسداری کو اولیت بخشی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام نبھائے گئے کردار ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار ہیں۔

(جاری ہے)

وہ دنیا بھر میں رائج ثقافتی چال چلن کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ جہاں آج وہ لاہورآرٹس کونسل الحمراء کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں وہاں ماضی میں وہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں بطور ڈائریکٹر جنرل پانچ برسوں تک اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ دنیا بھرمیں جاری ثقافتی جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ ہیں، ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کی ثقافت غیر ملکی جعلی اقدار کے دباؤ کو برداشت کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے، توقیر ناصر ہمارے ملک کے لیونگ لیجنڈ ہیں۔ زبان و بیان میں ان کی شگفتگی عام باتوں میں بھی جان ڈال دیتی ہے، انسانی نفسیات اور رویوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں، خاص مزاج کے علمبراد ہیں، اینگری ینگ مین کے طور پر جانے جاتے ہیں، ملک وقوم کی نیک نامی اور سماجی و معاشرتی ترقی میں ان کی خدمات کسی صورت فراموش نہیں کی جاسکتیں، ہاں البتہ یہاں چندٹھوس سوال ضرور چشم فکر پر ابھرتے ہیں وہ یہ کہ ہم اپنے سٹارز کو ستارے تو کہتے ہیں، انہیںلیونگ لیجنڈ کا خطاب دیتے ہیں، 40برسوں سے زائد کام کرنے والوں کو سینئرکے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ اس تمام منظر نامے میں کیا ہم ان کو وہ مقام دے پاتے ہیں جن کے وہ اصل مستحق ہوتے ہیں۔ یعنی اجے دیوگن، توقیر ناصر کی یہ کہہ کہ تعریف کرے کہ وہ ان سے سیکھتے ہیں تو اس جملے کے کہنے سے توقیر ناصر کو حاصل ہونے والی عزت صرف توقیر ناصر کی ہوگی یا یہ پورے پاکستان کا اعزاز ہوگا، شاہ رخ خان جیسا عالمی شہرت کا اداکار بھی اجے دیوگن کی طرح توقیر ناصر کی تعریف کرے، تو اس ساری بات کوہم کیا اہمیت دیتے ہیں؟ انڈیا کے یہ بڑے اداکار ہم سے بڑے ہیں یا ان کی ریاست یا معاشرہ ان کو برانڈبنا دیتا ہے!اس صورت حال میں بطور ریاست یا بطور معاشرہ ہم اپنے آرٹسٹ کو تعریف اور ستائش کے علاوہ اور کیا دے پاتے ہیں؟ یہ سوال ہے ان چالیس برسوں کا اور اس کے ایک ایک لمحے کی اداکاری اور فنون لطیفہ کے شعبے کے لئے سرانجام دی گئی خدمات کا! ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے، کہ ہم اپنے برانڈ کو ان سے بڑا مقام دیتے ہیں یا ان سے چھوٹا مقام دیتے ہیں، یہ ہمیں، ہم سب کو اور ہمارے میڈیا کو طے کرلینا چاہیے کہ ہم پاکستانی ہیں اور آپ پکے پاکستانی ہیں بلکہ پکے نیشنلسٹ ہیں! خوشبودار گفتگو، نرم انداز، دھیما لہجہ اور ہر ایک کے ساتھ احترام کا رشتہ یہ ہیں توقیر ناصر۔ جن کے ذکر کے بغیر اداکاری کا شعبہ نامکمل لگتا ہے، توقیر ناصر پاکستان کے چند ان اداکاروں میں سے ہیں جنہوں نے زندگی کا محض مشاہدہ ہی نہیںکیا بلکہ اسے برتا بھی ہے۔ فن کی دنیا میں ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو اپنے منفرد انداز سے ایک الگ مقام بناتے ہیں۔ ان کی اداکاری ایک اچھوتے انداز کی ہوتی ہے۔ جو لوگوں کے ذہنوں میں مدتوں محفوظ رہتی ہے۔ ان کے بولنے اور اداکاری کا انداز عام لوگوں سے بالکل ہٹ کر ہوتا ہے۔ ان کی اداکاری دل پر اثرکرتی ہے اور وہ ہر کردار میں اس طرح ڈھل جاتے ہیں جیسے وہ ان کے لئے ہی بنایا گیا ہو۔ مکالموں پر گرپ، چہرے کے بھرپور تاثرات، منجھی ہوئی اداکاری۔ ۔ ۔ یہ کام ہے توقیرناصر کا۔ منجھے ہوئے اس فنکار کا سنجیدہ فنکاری میںکوئی ثانی نہیں۔ 1978ء میں توقیر ناصر نے اپنے فنی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے بحیثیت ڈائریکٹر جنرل پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ توقیر ناصر کام کے بارے میں سمجھوتہ نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ وہی کردار سائن کئے جس کے ذریعے وہ معاشرے کی اصلاح کرسکیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا۔ صحافت میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، فوج میںجانے کے خواہاں تھے لیکن قسمت نے انہیں اداکار بنا دیا۔ انہی خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز بھی دیا چکا ہے۔ ہم نے ان سے ان کے فنی کیرئیر اور زندگی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جس کے منتخب حصے نذر قارئین ہیں:
س:۔ اداکاری کا شوق کب پیدا ہوا؟
ج:۔ بچپن میں مجھے فوج میں جانے کا شوق تھا۔ جب میں کالج میں پڑھ رہاتھا تو میں دو بار آئی ایس بی گیا وہاں سے Defer ہوا۔ میری فیملی میں اداکاری کا ماحول تھا ہی نہیں۔ اس دور میں نوجوانوں کے لئے انٹرٹینمنٹ صرف فلم ہوتی تھی اور سیمنا پراس وقت وحید مراد کا راج تھا جو میرے فیورٹ تھے۔ ان کو دیکھ کر ہی مجھے اداکاری کا شوق ہوا۔ حالانکہ میرے اور ان کے انداز میں زمین آسمان کا فرق تھا لیکن مجھے سکرین پر ان کا کرزما متاثر کرتا تھا۔ فلم میں، میں اس لئے نہیں گیا کہ فلم میں جاتا تو میری بڑی پٹائی ہو جاتی کیونکہ اس وقت ہمارے معاشرے میں فلم کو اس طرح سے قبول نہیں کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں حتی کہ ڈرامے میں کام کرنے پر بھی مجھے فیملی کی طرف سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ اس وقت سمجھا یہ جاتا تھا کہ جو بچہ شوبز میں چلا گیا وہ خراب ہوگیا۔ پہلے پلے کی اجازت میں نے صرف اپنی والدہ سے لی تھی والد صاحب نہیں جانتے تھے۔ چونکہ میرا ڈرامہ پورے ملک میں چلا تو پھر والد صاحب کو بھی پتہ چل گیا۔ انہوں نے مجھے کہا بیٹا اس کو مشغلے کے طور پر لو اور فیملی والے باتیں کر رہے ہیں، ان کو غلط ثابت کر دو۔ کوئی کل کو یہ نہ کہے کہ دیکھا ہم صحیح کہتے تھے کہ یہ اچھی فیلڈ نہیں ہے۔ یہ سب کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے اس فیلڈ کو غلط استعمال نہیں کرنا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور نہ صرف اپنی فیملی بلکہ ملک کی عزت کو بھی سامنے رکھتے ہوئے کام کیا۔ میرا تعلق ڈی جی خان سے ہے جبکہ میںلاہور میں پلا بڑھا ہوں لیکن کوئی بھی مجھ سے جب یہ پوچھتا ہے کہ کہاں سے ہو؟ تو میں کہتا ہوں کہ میں پاکستان سے ہوں کیونکہ مجھے اپنے چالیس سالہ کیرئیر میں چاروں صوبوں سے بہت محبت ملی۔ یہ سارا ملک میرا اپنا ہے، میں نے زندگی میں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اور ناکامیاں بھی لیکن میں نہیں گھبرایا۔ میں نے اپنے والدین اور اساتذہ سے یہی سیکھا کہ جو دیتا ہے صرف اللہ تعالی ہی دیتا ہے۔ ہمیں صرف کوشش اور محنت کرنی چاہیے اور ہر کام مخلص ہو کر کرنا چاہئے میں نے بہت مخلص ہو کرکام کیا۔ کام میرا پیشن ہے، پروفیشن نہیں ہے۔
س:۔ آپ کا زمانہ طالب علمی کیا تھا؟
ج:۔ اساتذہ طلباء کیلئے بہت بڑا اثاثہ ہوتے ہیں۔ انسان اپنے اساتذہ سے بہت کچھ سیکھتا ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ پنجاب یونیورسٹی میں طالب علمی کے تین سالوں میں مجھے نہایت قابل اساتذہ سے پڑھنے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ میرے اساتذہ میںعبدالسلام خورشید، مسکین حجازی، ڈاکٹر مہدی حسن اور وارث میر شامل تھے۔ میں سمجھتاہوں کہ 14سال جو میں نے پڑھا وہ ایک طرف اور یہ 3سال ایک طرف تھے۔ اس عمر میں مجھ میں جتنا شعور آیا اور میںجتنا میچورہوا، وہ انہی اساتذہ کی بدولت تھا۔ دوسرا یہ کہ میری نیچر میں شامل ہے کہ میں بہت زیادہ لوگوں سے نہیں ملتا۔ ابھی تو دوستیاں مقصد کے تحت کی جاتی ہیں۔ ہمارا زمانہ خلوص کا تھا۔
س:۔ ماضی میں ڈرامہ بہتر تھا یا آج؟
ج:۔ بے شک وہ ڈرامے زیادہ بہتر تھے کیونکہ وہ کمرشل نہیں تھے حالانکہ انٹرٹینمنٹ کا عنصر ان میں بھی شامل تھا۔ ڈرامہ اب بھی دیکھا ضرورجاتاہے لیکن اس کی وہ تاثیر نہیں ہے۔ آج ڈرامہ دھڑا دھڑ چل رہا ہے۔ لیکن خامیوں سے بھرپور ہے۔ کمرشلزم کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔ ماضی میں پیشن بہت تھا، اب صرف پیسہ ہے، ماضی میں تو رائٹر، ڈائریکٹر اور پروڈیوسرز بھی بہت محنت اور لگن سے کام کرتے تھے۔ آج ہمارے پاس اشفاق احمد، بانوقدسیہ، حمید کاشمیری اور منوبھائی جیسے رائٹر نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے ساری زندگی ایک ایک سطر کسی نہ کسی مقصد کے لئے لکھی تھی۔ وہ ڈرامے صرف انٹر ٹینمینٹ کے لئے نہیں بلکہ لوگوں میںآگاہی پھیلانے کیلئے لکھتے تھے۔ اس کے علاوہ پہلے جو ڈرامہ ڈیڑھ سال میں لکھا جاتا تھا وہ اب ڈیڑھ ماہ میں لکھا جارہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اچھے رائٹر نہیں ہیں، اچھے رائٹرز ہیں لیکن کم وقت ہونے کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو منوا نہیں پا رہے اگر رائٹر کو وقت دیا جائے تو پہلے سے زیادہ شاندار ڈرامہ ہو سکتاہے۔ دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ ہم نے پرانے رائٹرز اور ڈائریکٹرز کو فارغ کرکے بٹھا دیا ہے حالانکہ انہوں نے نئے فنکاروں کو سکھانا تھا۔ یہ ہماری یونیورسٹیز تھے لیکن ہم نے اپنی ہی لابی بنالی ہے۔ جو اچھا کام کرکے لارہا ہے، اس کی ہم حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس مافیا سے بچیں اور کری ایٹویٹی پرزور دیں۔
س:۔ آپ کو زیادہ تر سنجیدہ رولز دیئے جاتے ہیں، کیوں؟
ج:۔ میرے پاس کا میڈی ڈرامے اورسٹ کامز بھی آتے ہیں لیکن میرا اپنا ذہن ان سے میچ نہیں کرتا۔ مجھے جب ڈرامے کی آفر ہوتی ہے تو سب سے پہلے میں یہ دیکھتا ہوں کہ اس ڈرامے کے ذریعے میں معاشرے کو کیا دوں گا۔ میں نے پیسے کے لئے کام نہیں کیا۔ میں نے انڈیا کی آفر کو بھی انکار کیا ہوا ہے۔ میں سب سے پہلے سکرپٹ پڑھتا ہوں اور یہ دیکھتا ہوں کہ میرا کردار کیا ہے، مارجن آف پرفارمنس کتنا ہے اور اس سے معاشرے کو کیا فائدہ ہوگا اور چوتھے نمبر پر یہ دیکھتا ہوں کہ یہ نہ ہو کہ واہ واہ تو ہو جائے لیکن میرے والد، بھائی یا بچے کو کہا جائے کہ یہ کس طرح کے کردار ادا کر رہا ہے؟
س:۔ آپ کو اپنا کونسا کردار سب سے زیادہ پسند آیا؟
ج:۔ مجھے اپنا ہر کردار پسند ہے، کوئی ایک میرا فیورٹ نہیں کیونکہ میں نے ہر کردارادا کرتے ہوئے محنت کی ہے اور میںآج بھی اتنی ہی محنت کرتا ہوں۔ میں نے بہت سے کردار کئے۔ میں’’اینگری ینگ مین‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ اب آنے والے فنکاروں میں بھی کوئی اینگری ینگ مین ہو۔ کوئی ابھی تک میری جگہ نہیں لے پایا۔ اداکاری میںکردار کو جینا ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ آج کے فنکار کردار کو جیتے نہیں دیتے۔ میں آج بھی پورا سکر پٹ پڑھتا ہوں تاکہ سمجھ آجائے۔ اپنے کیرئیر میں جتنا زیادہ کام کیا ہے، اس سے کہیں زیادہ غیر معیاری کام کو انکار کیا ہے۔
س:۔ ادب و ثقافت کی ترقی کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
ج:۔ لاہور آرٹس کونسل کے پلیٹ فارم پر فن اور فنکار کو عزت دینا اولین فرض ہے، ادب و ثقافت کے ہر ذیلی شعبہ کی آبیاری کے لئے کام کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، ڈرامہ کے معیار پر سمجھوتہ ممکن نہیں، سماجی و معاشرتی مفاد کا تحفظ عزیز ہے، ادب و ثقافت سمیت ہر شعبے میں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی دیکھنے کا خواہش مند ہوں، الحمراء کے پلیٹ فارم پر لوگوں کی تفریح، اصلاح اور راہنمائی کے ساتھ ساتھ اپنی اقدار کو زندہ رکھنے کے بہترین مواقع پیدا کر رہے ہیں، سب سے بڑا چیلنج پاکستان کے سوفٹ امیج کی بحالی ہے، عوامی سطح پر الحمراء کے پروگرام کا خیر مقدم کئے جانے کی وجہ ہمارا مثبت معیار پر فوکس کرنا ہے، الحمراء عالمی ثقافتی اداروں میں شمار ہوتا ہے، پاکستان کے ثقافتی حسن کو دیس دیس لے کر جا رہے ہیں اور بتدریج عالمی رائے کو اپنے حق میں بہتر بنانے میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری راہیں مشکل ہیں مگر ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم ایک باصلاحیت قوم ہیں، ہم نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے عزائم کو مصمم پایا ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments