منشا پاشا

سرخ چاندنی کے منفی کردار پر تھوڑی نروس ہُوں باصلاحیت اداکارہ منشا پاشا سے خصوصی گفتگو

پیر 29 اکتوبر 2018

وقار اشرف
منشا پاشاٹی وی اور فلم کی معروف اداکارہ ہیں ۔ان کا شُماران حقیقی فنکاراؤں میں ہوتا ہے جو ہر کردار اس قدر ڈوب کرکرتی ہیں کہ ا س پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے ۔ڈرامہ سریل ”ہمسفر “میں مہمان فنکارہ کے طور پر کام کرنے کے بعد اس با صلاحیّت فنکارہ نے پھر پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا اور اب تک بے شمار ڈراموں میں اداکاری کے جو ہر دکھا چکی ہیں ۔زندگی گلزار ہے ،محبّت صبح کا ستارا ہے ،زارا اور مہرالنساء ،ایک اور ایک ڈھائی ،شہرذات ،مدیحہ ملیحہ ،وراثت ،میرا نام یوسف ہے،شب آرزو کا عالم ،گھونگھٹ ،ہم ٹھہرے گنہگار ،میرے اپنے ،لفنگے پرندے ،بے وفائی تمہارے نام سمیت کئی کامیاب ڈرامے ان کے کریڈٹ پر ہیں ،کئی بڑے برینڈز کیلئے ماڈلنگ بھی کر چکی ہیں ۔
ان کی تاریخ پیدائش 19اکتوبر ہے اور ان کا سٹار ”لِبرا“بنتا ہے ۔

(جاری ہے)

وہ ستاروں پر خاص یقین تو نہیں رکھتیں لیکن ان میں اپنے سٹار کی کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن میں ایک قوّت فیصلہ بھی ہے ۔حید ر آباد میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر میں پلی بڑھیں ۔”چلے تھے ساتھ ساتھ “کے ذریعے سلور سکرین پر کرےئر شروع کیا تھا ۔عمر عادل کی ڈائریکشن میں بننے والی اس فلم کے دیگر فنکاروں میں سائرہ شہروز ،چینی اداکار کینٹ ایس لیونگ اور ژالے سرحدی شامل تھے ۔
اب وہ فلمی کیرےئر کی دوسری فلم کرنے جارہی ہیں ۔اس فلم کے حوالے سے منشا پاشا نے ”فیملی “میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس فلم کا نام تاحال صیغہ راز میں ہے ،یہ کراچی کی ایک بڑی فلم ہے ،کمال خان اس کے ڈائریکٹر ہیں اور نوجوانوں کو یہ فلم بہت ہی پسند آئے گی ۔کمال خان کی بطور ڈائریکٹر یہ پہلی فلم ہو گی ،وہ اس سے قبل میوزک ویڈیوز اور کمرشلز کر چکے ہیں ۔احمد علی اکبر(کراچی سے لاہور،پرچی )اور علی کا ظمی (دوبارہ پھر سے ،موٹر سائیکل گرل)بھی میرے ساتھ اس فلم میں اداکاری کرتے نظر آئیں گے ۔فلم کی کہانی کراچی کے گردگھومتی ہے جس میں شہر نگاروں کو حقیقی انداز میں پیش کیاجائے گا۔فلم 2019ء میں ریلیز ہونے جارہی ہے ۔
اس فلم کے حوالے سے زیادہ تفصیلات تو شےئر نہیں کر سکتی ہاں یہ ضرور کہہ سکتی ہوں کہ یہ ”چلے تھے ساتھ ساتھ “سے بالکل مختلف فلم ہو گی ۔آج کل میری ساری توجہ ان دونوں پر ا جیکٹس پر ہی مرکوز ہے اور کوئی دوسرا پراجیکٹ نہیں کررہی ویسے بھی جب آپ فلم کررہے ہوں تو اس کی شوٹنگ اور پروموشن وغیرہ پر کافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے اس لئے ڈراموں کے لئے وقت ہی نہیں ملتا ۔”خود غرض “میرا آخری ڈرامہ تھا جواے آروائی سے آن اےئر ہوا جس میں میراکردار ایک ڈپریشن زدہ لڑکی کاتھا جولوگوں کو بہت پسند آیا تھا ۔یا سر نواز نے اسے ڈائریکٹ کیا تھا ۔سمیع خان اور آمنہ شیخ بھی اس میں میرے ساتھ تھے ۔
منشا پاشاڈرامہ”سُرخ چاندنی “میں پہلی بار منفی کردار کرنے جارہی ہیں ۔اس حوالے سے منشا پاشا نے بتایا کہ کیرےئر میں پہلی بار نیگیٹو رول کرکے تھوڑی سی نروس ہوں کیونکہ پہلے کبھی اس طرح کا کردار نہیں کیا،جس طرح احسن خان کی ڈرامہ سیریل ”اُڈاری “میں کم سن بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی بالکل اسی طرح ”سُرخ چاندنی“میں تیزاب گردی کا شکار ہونے والی بچیوں کوموضوع بنایا گیا ہے ،یہ بالکل اچھوتا موضوع ہے جس پر پہلے کبھی آواز نہیں اٹھائی گئی ایسے اہم ایشوز پرپورے ملک میں ڈسکشن بہت ضروری ہے ۔
ہم ”سرخ چاندنی“کے ذریعے معاشرے میں ایک مکالمہ شروع کرنا چاہتے ہیں ۔جولوگ ایسی حرکتیں کرواتے ہیں وہ کردار اس ڈرامہ میں میں کر رہی ہوں ،سوہائے متاثرہ لڑکی کا کردار کررہی ہیں ۔یہ ڈرامہ فی میل سینٹرک ہے جس میں ایک سُلگتے ہوئے سماجی مسئلے پر آواز اٹھائی گئی ہے ۔سمیع خان بھی ان کے ساتھ اداکاری کرتے نظر آئیں گے ۔ڈرامہ کی کہانی اسماء نبیل نے لکھی ہے ،شاہد شفاعت اسے ڈائریکٹ کررہے ہیں ۔ڈرامہ میں دکھا یا گیا ہے کہ کس طرح لوگ معصول لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں ،،ہم نے ہمیشہ ایسے ڈراموں کو سپورٹ کیا ہے جن میں کسی حوالے سے شعوراُجا گر کیا گیا ہو ۔
مختصر وقت میں ملنے والی کامیابیوں کے حوالے سے منشا پاشا نے بتایا کہ یہ اللہ کا خاص کرم ہے ،خوش قسمتی سے مجھے آغاز میں ہی اچھے لوگ مل گئے اور میرے لئے آگے بڑھنا آسان ہو گیا ۔
ٹی وی میں شروع سے دیکھتی تھی اور اس کا شوق بھی تھا ،کافی تخلیقی ذہن تھا ،شروع میں میری اُردو اتنی اچھّی نہیں تھی لیکن لوگوں کو دیکھ دیکھ کر اور اسکرپٹس پڑھ پڑھ کر کافی اچھّی ہو گئی ہے ۔”دھوپ کنارے “میرا ہمیشہ سے پسندیدہ ڈرامہ رہا ہے ۔”تنہا ئیاں “بھی دیکھا کرتی تھی ،راحت کا ظمی ،مرینہ خان اور ساجد حسن کی اداکاری اچھّی لگتی تھی ۔جہاں تک شوبز میں آنے کا تعلّق ہے تو میڈیا میں بیچلرز کرنے کے بعد کچھ عرصہ کیمرے کے پیچھے بطور لائن پروڈیوسر کام کیا پھر اداکاری شروع کر دی ۔“ہمسفر “میں مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا،”زندگی گلزار ہے “پہلا ڈرامہ تھا جو بہت ،زارا اور مہرالنساء اور دیگر ڈراموں میں کام کیا۔
کرداروں کے انتخاب میں بہت مُحتاط ہوں اور صرف منتخب کام ہی کرتی ہوں ۔”زندگی گلزار ہے“کے بعد مجھے اسی طرح کے کرداروں کی پیش کش ہوئی جو میں نے قبول نہیں کی جہاں تک دل کے قریب ڈرامے کا تعلّق ہے تو ہر ڈرامہ اہم ہوتا ہے کیونکہ اس میں کئی لوگوں کی محنت ہوتی ہے ،”محبّت صبح کا ستارہ “میرے لئے بہت چیلنجنگ تھا،رنگوں کے حوالے سے میری پسند تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن سفید ہمیشہ پسندیدہ رہتا ہے ،کھانے میں ہر چیز اچھّی لگتی ہے لیکن کوئی چیز مسلسل نہیں کھا سکتی ،فرصت کے لمحات میں کتابیں پڑھتی ہوں ،کھانے پینے کی شوقین ہوں لیکن سمارٹ ہمیشہ سے ہوں ،ایک وقت میں بہت زیادہ نہیں کھاتی لیکن وقفے وقفے سے کھاتی ہوں ۔فلمیں شوق سے دیکھتی ہوں ۔
منشا پاشا کا کہنا ہے میں بنیادی طور پر اداکارہ ہوں اور اداکاری میری پہلی ترجیح ہے ۔جہاں تک کرداروں کا تعلق ہے تو مجھے ایسے کردار اچھّے لگتے ہیں جن میں ناظرین کیلئے دلچسپی اور گہرائی ہو۔ہمارا ڈرامہ بہت اچھّا جا رہا ہے ہاں کہانیوں میں کسی حد تک یکسانیت ہے جس کیلئے نئے لکھنے والے آنے چاہئیں تا کہ کہانی میں کچھ نیا پن آئے ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :