پُر کشش لبنانی گلوکارہ امل حجازی

شوبز کو خیر باد کہنے کافی الحال کوئی ارادہ نہیں نعت گوئی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا

جمعہ نومبر

pur kashish labnani gulukarah Amal Hijazi

فوزیہ طارق بٹ
عرب گلورائیں اپنی خوبصورتی اور خوش گلو آواز کی وجہ سے نہ صرف مشرقی وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا ڈنکا بجا چکی ہیں ۔ان میں ایک نام لبنانی گلوکارہ امل حجازی کا بھی ہے ۔میڈیا کی جانب سے انکے شوبز کو خیر باد کہنے کی خبریں سامنے آئی تھیں مگر اداکارہ نے اس کی دوٹوک تردید کردی ۔ان کا کہنا ہے کہ شوبز کو خیر باد کہنے کا اعلان محض افواہ ہے ۔شوبز میں اس وقت تک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتی رہوں گی جب تک پر ستار پسند کریں گے ۔
انہیں نہ صرف لبنان بلکہ عر ب کی صف اول کی گلوکاراؤں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے ۔نعت گوئی میں انہیں منفرد مقام حاصل ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ جو مزانعت پڑھ کر آیا وہ گانے میں کبھی نہیں آیا ۔ان کی نعمتیں عرب ٹی وی چینلز پر آن ائرد کھائی جاتی ہیں ۔

(جاری ہے)

ان کے چھ میوزک البم مارکیٹ میں آچکے ہیں جنہیں ناقدین کی جانب سے بھی سراہا گیا ۔تنازعات کی وجہ سے بھی انہیں خاصی شہرت ملی۔انہیں عرب کی کامیاب ترین پوپ گلوکار کہا جاتا ہے ۔
امل حجازی کا پہلا سنگل گانا ”ہیلن “2000ء میں مارکیٹ میں آیا جس نے پوپ گلوکارہ کے کیرئیر کو فراغ دینے میں اہم کردار ادا کیا وہ لبنان کی بڑی خاتون فنکاراؤں میں جگہ پانے میں کامیاب ہو گئیں ۔اس سنگل گانے کو نہ صرف لبنان بلکہ مصراور اردن میں بھی ناقدین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا۔یہی نہیں بلکہ اسے مشرقی وسطیٰ ریڈیو پر بھی بہت زیادہ پذیر ائی ملی۔
اس سنگل گانے کی مقبولیت نے امل حجازی کو بدات خود بھی حیرت میں مبتلا کر دیا ۔ایک سال بعد دوسرا البم گانا ”ریابالیک“ریلیز کیا۔اس البم کو بھی زبردست پذیرائی ملی۔نہ صرف عرب میوزک چارٹ پر نمایاں کامیابی حاصل کی بلکہ ناقدین اور پرستاروں کی جانب سے بھی بہت زیادہ پذیر ایمملی۔ اسی سال
امل حجازی کا ڈیبیو البم”آخر گراہم“اسی نام کے سنگل گانے کیساتھ ریلیز ہوا۔
امل حجازی کو عرب کی مقبول پوپ گلوکارہ کا درجہ بھی حاصل ہے ۔2001ء میں پوپ گلو کارہ نے ایک نئی تاریخ رقم کی جب کسی بھی خاتون گلوکارہ کی جانب سے ریلیز کیا جانیوالا پہلا البم تاریخ کا سب سے زیادہ فروخت ہو نیوالا البم بن گیا۔2001ء میں ریلیز ہونیوالا البم عرب کا سب سے زیادہ فروخت ہونیوالا آٹھواں البم بن گیا ہے ۔پہلے البم ”آخر گراہم“کے تین سنگل گانوں کی وجہ سے یہ البم میوزک چارٹ پر چھ ہفتوں تک نمبرون پوزیشن پر فائز ہوا۔
ان کے چار ڈیبیو گانوں نے لبنان ،مصر ،شام مراکش اور تیونس میں نمبر ون پوزیشن پر فائز ہونے کا ریکارڈ توڑ ڈالا ۔ان کے پہلے البم ”آخر گراہم “مشرق وسطیٰ سے باہر ملائیشیا میں بھی بہت زیادہ پذیر ائی ملی۔ انہیں ملائیشین پاپو لر سٹار ایوارڈ میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملا۔اس دور میں ان کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ان کا دوسرا البم”زمان“بھی بے حد مقبول ہوا اور فوری فروخت کے نئے ریکارڈ قائم کر ڈالے ۔
ان کاکئی عرب خاتون گلوکاراؤں کے ساتھ زبردست مقابلہ رہا ہے ۔ان میں ایک نام شہرہ آفاق لبنانی پوپ گلوکارہ الیسا کا بھی ہے ۔امل حجازی کا دوسرا سٹوڈیو البم”زمان“آج تک مشرق وسطیٰ کا سب سے زیادہ ہٹ البم بن گیا ۔اس کا سنگل گانا ”رومنسیا “بھی حجازی کا مقبول ترین گانا مانا جاتا ہے ۔یہ کسی بھی خاتون گلوکارہ کی جانب سے ریلیز کیا جانیوالا سب سے زیادہ کمائی کرنیوالا البم ہے ۔اس البم کی زبردست کامیابیوں نے اہل حجازی پر کامیابیوں کے دروازے کھول دےئے اور پینازونک کمپنی نے اس کے ساتھ ملین ڈالر پروموشنل معاہدے کئے ۔اس البم کی زبردست کامیابی پر اردن کی ریورفاؤنڈیشن نے انہیں ذاتی طور پر سپیشل کنسرٹ منعقد کرنے کی دعوت دی ۔اس کنسرٹ کی میزبان کوئین رئناال عبداللہ تھیں ۔
امل حجازی کا معروف میوزک کمپنی روٹانا کے ساتھ البم ریلیز کرنے کا معاہدہ بھی ہوا۔اس کے اشتراک سے گلوکارہ نے کئی البم ریلیز کئے۔معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر گلوکارہ نے روٹانا میوزک کمپنی کے خلاف مقدمہ بھی دائر کیا۔انکا آخری البم پر بہت زیادہ تنازعات ابھرے ۔ان پر مقبول لبنانی گلوکارہ الیسا کی نقالی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔یہ تنازعہ ان کے آخری البم کے ریلیز ہونے کے بعد پیدا ہوا۔البتہ امل حجازی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔ان کاکہنا ہے کہ ہر گلوکارہ کا اپنا گانے کا انداز ہے ۔ان کے گانے اس وقت فلمائے گئے جب الیسا کا ”ہب بیک وجہ“ابھی ریلیز نہیں ہوا تھا ۔
امل حجازی کا کہنا تھا کہ وہ الیسا کی دشمن نہیں ہیں ،ہم محض دوفنکارائیں ہیں جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ مکس نہیں کیا جا سکتا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا کسی بھی گلوکارہ کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ دوسرو ں کی کامیابی پروہ انسپائر ہوتی ہیں اور بہترین نتائج دینے کی کوشش کرتی ہیں ۔2004ء میں امل حجازی نے اختلافات کو ایک جانب رکھ کر الیسا کے گھر پہنچ گئیں تا کہ ان کے ساتھ گلوکارہ کے والد کی کینسر کے ہاتھوں موت پرتعزیت کرسکیں ۔الیسا نے بھی کھلے بازوؤں کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہا اس مشکل کی گھڑی میں تعزیت کے لئے ان کے گھر آنے پر شکر یہ بھی ادا کیا۔
ان کی شہرہ آفاق لبنانی گلوکارہ نینسی اجرم سے اختلافات کی خبریں بھی منظر عام پر آئیں ۔یہ خبریں اس وقت منظرعام پر آئیں جب امل حجازی نے نینسی اجرم پر تنقید کی کہ وہ حاملہ ہونے کے باوجود سٹیج پر گاتی رہیں ۔بعدازاں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نینسی اجرم کوتنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ وہ ذاتی طور پر سمجھتی ہیں کہ حاملہ خاتون کو سٹیج پر فن کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔بعدازاں ان کی جانب سے گلوکارہ نوال الزغیبی پران کا کویتی آپٹیکل کمپنی فیشن لوک کا معاہدہ چرانے کا الزام سامنے آیا۔
الزام میں کہا گیا تھا کہ ان کے منیجر نے آپٹیکل کمپنی کوفون کرکے کہا تھا کہ ان کی موکلہ کم پیسوں میں ان کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہے ۔ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس الزغیبی کا کم پیسوں پر معاہدے کی دستاویز اپنی آنکھوں سے دیکھی۔نئی صدی کے پہلی دہائی کے وسط میں ان پر کویت داخلے پر پابندی پر سخت دھچکا لگا حالانکہ ان کی کوشش تھی کہ وہ کویت کا ٹور کریں ۔
گلوکارہ نے ویز احاصل کرنے کیلئے کئی درخواستیں بھی دیں تا کہ اپنے پرستاروں کے سامنے فن کا مظاہرہ کرسکیں مگر ان درخواستوں کو درخورا عتنانہ سمجھا گیا۔2002ء میں امل حجازی نے دوسرا البم ”زمان “ریلیز کیا تو یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ گلوکارہ نے کئی پلاسٹک سرجریاں کرارکھی تا کہ پر کشش دکھائی دیں ۔اس کے برعکس گلوکارہ کا کہنا تھا کہ پلاسٹک سرجری نہیں کرائی جس کا اس کے جسم پر منفی اثر پڑ سکتا تھا ۔الیسا ،نینسی اجرام اور نجوا کریم کی طرح انہیں بھی عرب کی پر کشش گلوکارہ بھی کہاجاتا ہے ۔انہیں مصری گلوکارہ شیرین کی طرح دو مرتبہ پسندیدہ گلوکارہ کے ووٹ بنی ملے۔

Your Thoughts and Comments