گلبہار بانو حد شعورسے گزر گئیں

تو کیا یہ طے ہے کہ․․․․․․․ محبّت کے لازوال گیت گانے والی گلوکارہ تنھا ئی کی قید میں

ہفتہ نومبر

Gulbahar Bano had shaoor say guzar gayeen

وقار اشرف
شوبز کی رنگین دُنیا میں کوئی فنکار اس وقت تک ہی یاد رکھا جاتا ہے جب تک اس کی فلمیں ،ڈرامے یا گائے ہوئے گیت پردئہ سیمیں کی زینت رہتے ہیں ۔وہ فنکار منظر سے غائب ہوتا ہے تو اسے لوگوں کے ذہنوں سے اُتر تے بھی زیادہ دیر نہیں لگتی۔کبھی جس فنکار کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ بے تاب ہوتے ہیں اور دیوانہ وار جمع ہوتے ہیں لیکن وہ جب گمنامی میں جاتا ہے تو کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ہوتا۔اپنے زمانے میں لاکھوں دلوں پرراج کرنے والے ایسے فنکاروں کی ایک طویل فہرست ہے جن کے منظر سے ہٹنے کے بعد کوئی ان کا پُر سان حال نہیں ہوتا۔
یہ فنکار اپنی عمر عزیز کا بہترین حصّہ لوگوں کو تفریح مہیا کرنے اور فن کی خدمت کرنے میں بسر کر دیتے ہیں مگر جب ان فنکاروں کو سہارے کی ضرورت پڑتی ہے تو کوئی ان کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا ۔

(جاری ہے)

گلبہار بانو کا شُمار پاکستان کی صفِ اوّل کی غزل گائیکوں میں ہوتا ہے ،انہوں نے ایک کے بعد ایک ہٹ غزل گائی مگر آج کل وہ شیز وفر ینیا بیماری کے باعث حدِ شعور سے گزر چکی ہیں ۔
اس بیماری میں مبتلا افراد کو مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں اور وہ چیزیں اور افراد دکھائی دیتے ہیں جو وجود نہیں رکھتے ۔محبّت کے لازوال گیت گانیوالی اس گلوکارہ کو تنہائی نے کھالیا ہے۔گزشتہ دنوں ان کے حوالے سے خبر آئی کہ انہیں ان کے سو تیلے بھائی ایاز افضل نے خانقاہ شریف کے ایک گھر میں قید کر رکھا ہے اور اہل علاقہ کی اطلاع پر پولیس نے انہیں وہاں سے واگزار کروا کر ہسپتال منتقل کیا تو میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلا کہ نامور گلوکارہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں جس کے بعد پولیس انہیں رات گئے واپس بھائی کے گھر چھوڑ آئی۔
گلبہار بانو کی خستہ خالی پر ہر کوئی دُکھی ہے ،یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ان کے سوتیلے بھائی نے انہیں زبردستی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے اور وہ جائیداد کیلئے اس پر تشدد بھی کرتا ہے ۔لیکن اس حوالے سے ایازافضل کا موٴقف ہے کہ جائیداد کا کوئی تنازعہ نہیں ،گلوکار ہ کو دماغی حالت کے باعث الگ کمرے میں رکھنا پڑتا ہے ۔ماضی کی ایک اور نامور فنکارہ روحی بانو بھی بالکل اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہیں ۔
1955ء کو سمہ سنّہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والی گلبہار بانو نے گائیکی کیرےئر کا آغاز 70ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان بہاولپور سے کیا۔عرفان علی اس وقت ریڈیو پاکستان بہاولپور کے سٹیشن ڈائریکٹر تھے جنہوں نے نہ صرف انہیں ریڈیو بہاولپور پر گائیکی کا موقع دیا بلکہ بعدازاں انہیں کراچی شفٹ ہونے میں بھی ان کی مدد کی اور وہاں اپنے تعلقات کی بنا پر انہیں موقع دلوایا۔
گلبہار بانو نے گائیکی کا آغاز فوک گائیکی سے کیا تھا مگر 80کی دہائی میں غزل گائیکی کی طرف توجہ مبذول کر لی،انہوں نے غزل گائیکی میں ایک نیا اسلوب اختیار کیا جسے بے حد مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی ۔محسن بھو پالی کی غزل ”چاہت میں کیا دُنیاداری عشق میں کیسی مجبوری“گا کر تو انہوں نے شُہرت کی بلندیوں کو چھولیا،اس کے علاوہ بھی بے شمار غزلیں گائیں جو آج بھی مقبول ہیں جن میں ہمیں جہاں میں ،کیا کیا یہ رنگ ،ڈھل گئی رات، پھر کہاں ممکن ،درد کے ساز، جائیں اس گل کی طرف ،کبھی کبھی تو، اداسیوں کا سامان ،تو پاس بھی ہوتو اور تو کیا یہ طے ہے کہ اب عمر بھر نہیں ملنا جیسی غزلیں آج بھی لوگوں کی سماعتوں سے ٹکراتی ہیں تو رس گھولتی ہیں ۔
گلبہار بانو نے موسیقی کی تربیت اُستاد افضل حسین سے حاصل کی تھی اور 1982ء میں ریڈیو پاکستان بہاولپور سے گائیکی کا آغاز کیا ،14اگست 2007ء کو ان کی گائیکی کے لئے خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی اعزاز برائے حُسنِ کار کردگی سے نواز ا تھا۔گلبہار بانو پاکستان کی ان چند گلوکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے غزل گائیکی میں اپنی مہارت سے کمال حاصل کیا اور وہ کئی سالوں تک پسندیدہ ترین گلوکارہ رہیں ۔ریڈیو پاکستان کراچی کے سینٹرل پروڈکشن یونٹ کے یادگار سٹوڈیو میں تنویر اقبا ل کے ساتھ ایک طویل نشست میں گفتگو کرتے ہوئے گلبہار بانو نے اپنے گائیکی کے سفر پر جو گفتگو کی دو یہاں پیش کی جا رہی ہے ۔
ریڈیو ٹی وی کی طرف آنے کے حوالے سے گلبہار بانو نے بتایا تھا کہ پی ٹی وی کراچی پر سب سے پہلے میں نے خواجہ غلام فرید کا پروگرام کیا تھا۔پھر”نیلا گھر“میں بھی کئی بار گئی جس کے بعد موسیقی کی محفلیں بھی کرنے لگی۔ریڈیو سے میں نے لفظوں کی بانٹ سیکھی۔محفل کا اور طریقہ ہوتا ہے اور ریکارڈنگ کا اور ۔کئی بار رات8بجے گانا شروع کرتی تو گاتے گاتے صبح ہوجایا کرتی تھی اگر چہ بعض اوقات تھکاوٹ بھی ہوجاتی تھی لیکن گانے میں مزہ آتا تھا۔
میں نے جو بھی کلام گا یا اس کا انتخاب میرے اُستاد محمد افضل خان ہی کیا کرتے تھے جس کے بعد ان کی دھنیں بناتے ۔جب میری شُہرت ہو گئی تو کئی نامور شعراء بھی میرے اُستاد جی سے رابطہ کیا کرتے تھے کہ ہمارا کلام گا لیں لیکن ہر کلام تو نہیں گایا جا سکتا کیونکہ ہر کلام میں موسیقیت نہیں ہوتی۔میں نے فیض احمد فیض ،احمد فراز ،اقبال ،غالب ،میرتقی میر سمیت تمام بڑے شعراء کو گایا ہے لیکن کلام جتنا بھی اچھا ہو جب تک اللہ کا خاص فضل نہ ہووہ عوام میں ہٹ نہیں ہوتا۔
میرا اردو کا پہلا ہٹ گانا”چاہت میں کیا دُنیا داری “تھا پھر”آج کی شام ”ٹی وی پر گائی تو بے حد مقبول ہوئی اور میری شُہرت میں اضافہ ہوا۔’چاہت میں کیا دنیادار ی“کی مجھے ہر جگہ ہی فرمائش ہوتی ہے۔ اگر چہ میں پانچ جماعتیں ہی پڑھی ہوں لیکن لکھا ہوا پڑھ لیتی ہوں ،کراچی آکر کافی اگر چہ کم گائی لیکن گائی ضرور ہے ۔منّی بیگم نے سب سے پہلے مجھے غیر ملکی دورے پر بھجوایا تھا جس کے بعد کئی ملکوں میں جا کر گایا۔
گلبہار بانو نے نجی زندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ میں گھر میں بہت سادگی سے رہتی ہوں اور وہاں دیکھ کر کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ میں آرٹسٹ ہوں ۔کھانا خود بناتی ہوں ،اگر چہ ملازمائیں بھی ہیں ،کھانا پکانا مجھے سب سے اچھا لگتا ہے ۔کریلے ،بریانی ،بھنڈی گوشت ،آلو گوشت سب کچھ بہت اچھا بنا لیتی ہوں ۔ریاض بھی ضرور کرتی ہوں کیونکہ ریاض نہ ہونے سے فن کا ر پیچھے رہ جاتا ہے ۔
فرصت کے لمحات میں کلام دیکھتی ہوں ، یا پرانی کیسٹس لگا کر سنتی ہوں، ان میں موجو د خامیاں بھی ڈھونڈتی ہوں ،گانے کے لیے کئی چیزیں چھوڑنی پڑتی ہیں ۔گلبہار بانو نے ملکہ تر نم نور جہاں کو پسندیدہ گلوکارہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ساری دنیا کو متاثر کیا ،وہ ایک بار میرا گانا سننے کراچی آئیں ،میں نے ان کے سامنے گایا اگر چہ وہ بیمار تھیں لیکن تین گھنٹے تک مجھے سنتی رہیں اور پھر اپنے پرس سے 5ہزار روپے نکال کر مجھے انعام دیا۔وہ دوسروں کی عزت کیا کرتی تھیں اسی لئے اللہ نے انہیں اتنی عزت دی تھی ۔

Your Thoughts and Comments