ہالی وڈ کے شب و روز

فلمی سلسلے ہیری پوٹر کی اداکارہ ایما واٹسن اپنے پرستاروں کے ساتھ سیلفی بنانا پسند نہیں کرتیں۔

منگل نومبر

hollywood ke shaboroz

شاذیہ سعید
ایما واٹسن کو سیلفی پسند نہیں
فلمی سلسلے ہیری پوٹر کی اداکارہ ایما واٹسن اپنے پرستاروں کے ساتھ سیلفی بنانا پسند نہیں کرتیں۔ایما واٹسن نے ایک برطانوی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لئے پبلک اور پرائیویٹ زندگی کے درمیان فاصلہ رکھنا بہت ضروری ہے لیکن ان کے پرستار ان سے اس بات سے شاکی رہتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ سیلفی نہیں بنواتیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ٹریک نہیں کروانا چاہتیں کیونکہ ان کا پرستار ان کے ساتھ سیلفی لینے کے بعد اس کو دو سیکینڈ میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتا ہے اور میں سیلفی لینے کے مقام کے 10 میٹر کے قطر میں بڑی آسانی سے ٹریس کی جا سکتی ہوں جس سے میری ذاتی زندگی متاثر ہوتی ہے۔اداکارہ نے کہا کہ ان کی عوامی اور نجی زندگی کے درمیان فرق کی لکیر ہونا ان کے لئے بہت ضروری ہے، میں اپنے پرستاروں سے بات چیت اور آٹوگراف دینے کے لئے حاضر ہوں لیکن ان کے ساتھ تصویر کے لئے ’’سوری ‘‘ہے۔

(جاری ہے)

ایما واٹسن کی آنے والی فلم’’ بیوٹی اینڈ دی بیسٹ‘‘جلد ریلیز ہونے والی ہے۔
آسکر میں غلطی پر جان سے مارنے کی دھمکیاں
آسکرزایوارڈ کی تقریب میں اعزازات کی تقسیم کے لفافوں کی ذمہ دارجوڑے کو سوشل میڈیا پرجان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد ذاتی محافظ فراہم کردیے گئے۔اناسی ویں آسکر ایوارڈ کی تقریب میں بہترین فلم کی کیٹگری میں غلطی سے فلم ’’مون لائٹ‘‘ کی جگہ ’’لالالینڈ‘‘کا نام اناؤنس کیا گیا تھا ، جس کے بعد منتظمین نے کچھ دیر بعد غلطی درست کر لی تھی مگر اعزازات کی تقسیم کے لفافوں کی ذمہ دارجوڑے کو سوشل میڈیا پرجان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔غلطی کے ذمہ داراکاؤنیٹسی فرم پی ڈبلیو سی کے ملازمین تھے جنوں نے لفافوں کو غلط انداز میں منظم کرنے پر معافی تو اسی روز مانگ لی تھی لیکن ناراض فلمی پرستاروں کا غصہ کم نہ ہوا اور سوشل میڈیا پر بریئن اور مارتھا کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔پی ڈبلیو سی نے دونوں سلیبرٹیز کے گھروں پر سکیورٹی تعینات کرتے ہوئے انہیں ذاتی محافظ فراہم کر دیئے۔ ساتھ ہی آئندہ سال آسکر میں ذمہ داری نہ دینے کا اعلان بھی کردیا۔
لنڈسے نے اسلام قبول نہیں کیا
ہالی ووڈ اداکارہ لنڈ سے لوہن نے کہا ہے کہ وہ قرآن پاک کا مطالعہ کررہی ہیں۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ان کو تسکین حاصل ہوتی ہے تاہم انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔کویت میں ایک ٹاک شو میں شریک لنڈ سے لوہن نے ٹاک شو میں برملا کہا کہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن وہ قرآن پاک کا مطالعہ کررہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں تسکین اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری ہر گز یہ نیت نہ تھی کہ میں کسی ایسی مذہبی کتاب کو پڑھوں جو مجھے مذہب تبدیل کرنے کا کہے لیکن امریکیوں کو یہ پسند نہیں آیا اور وہ مجھے برا بھلا کہنے لگ گئے۔30 سالہ لنڈ سے نے کہا کہ انہوں نے قرآن پاک کے 15 صفحے انگریزی ترجمے والے پڑھے ہیں اور اکثر کوشش کرتی ہے کہ ان کو عربی میں بھی پڑھ سکے اور بعض دفعہ اپنے موبائل فون پر ایک ایپ کے ذریعے اس کی تلاوت سنتی ہوں۔پروگرام کے میزبان نے ان سے سوال کیا کہ جب آپ تلاوت سنتی ہیں تو آپ کو کچھ خاص محسوس ہوتا ہے تو لنڈ سے نے کہا جی ہاں سکون ملتا ہے۔ لنڈ سے کو حال ہی میں استنبول میں حجاب پہنے بھی دیکھا گیا، جس کے بارے میں سوال پراداکارہ نے کہا کہ وہ اسلامی طرز زندگی کا تجربہ کرتے ہوئے روزہ تک رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کویت میں اپنے ایک دوست کے ساتھ انہوں نے تین روزے رکھے ہیں اوران کے لئے یہ تجربہ خاصاخوشگواررہا۔
آرنلڈ شوازنیگرنے شو چھوڑ دیا
ہالی ووڈ اداکار آرنلڈ شوازنیگرنے امریکی ٹی وی پر چلنے والے رئیلیٹی شو ’’دی سیلیبریٹی اپرینٹس‘‘ کی میزبانی چھوڑتے ہوئے اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔آرنلڈ شوازنیگر پچھلے دو سال سے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے رئیلیٹی شو ’’دی سیلیبریٹی اپرینٹس‘‘ کے میزبان تھے لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا جن کا کہنا تھا کہ اس شو کی ریٹنگ میں کمی کی وجہ آرنلڈ شوارزنیگر ہیں۔شوارزنیگر کا کہنا ہے کہ انہیں اس شو میں کام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ہی اس کے ایگزیکٹیو پروڈٰوسر بھی ہیں اس لئے پروگرام میں مزید کام نہیں کرناچاہتے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر نے ایک تقریب میں دی سیلیبریٹی اپرینٹس کی گرتی ہوئی ریٹنگ کا ذمہ دار آرنلڈ شوارزنیگر کو ٹھہرایا تھا جس کے جواب میں آرنلڈ نے اپنی ایک ویڈیو ٹویٹ میں کہا کہ اگر ٹرمپ خود کو واقعی درست سمجھتے ہیں تو وہ ان کی جگہ اس پروگرام کی میزبانی سنبھال لیں اور وہ امریکی صدر بن جاتے ہیں تاکہ سب لوگ سکون سے رہ سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی ماضی میں ہالی ووڈ فلم انڈسٹری میں کام کرنے کے علاوہ ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن (موجودہ ڈبلیو ڈبلیو ای) سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں جہاں ان کا نام ہال آف فیم میں شامل کیا گیا ہے۔

Your Thoughts and Comments