نازک احساسات اور فولادی جذبوں کی مالک

مریم کیسے جئے سے آتش اور تاوان تک ”وی جے سے اداکاری تک کا سفر کیسے طے ہوا؟“

منگل نومبر

naazuk ehsasat aur foladi jazbon ki malik

درخشاں فاروقی
”وی جے سے اداکاری تک کا سفر کیسے طے ہوا؟“
”بہت محنت کی ہے ۔صبر بھی کیا ہے اور اپنی کھوج کی ہے ۔شوق میں وی جے کے لئے آڈیشن دیا ،کوئی امید نہیں تھی پاس ہونے کی مگر شایدانہیں بے تکان بولنے والی حنا چاہئے تھی اس لئے نہ تو انہوں نے میری غلط سلط اردو کو اہمیت دی نہ میرے تیز بولنے کو تنقیدی زاوےئے سے دیکھا یوں میں تیز بولتے بولتے کئی پروگرام کر گئی ․․․وہیں سے جی چاہا کہ ڈرامہ کرکے دیکھا جائے ۔شروع شروع میں مجھے تیز بولنے پر ڈانٹ بھی بہت سننی پڑی ۔آہستہ آہستہ میں نے ڈرامے اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کی میزبانی کے درمیان موجود فرق کو سمجھا اور اپنی ایک نہیں ہزاروں خامیاں دورکیں ۔زائد وزن کو کم کیا،ڈائٹ بہتر کی لائف اسٹائل کو صحت مند اسلوب دیا۔

(جاری ہے)

اپنے آپ پر اتنی محنت کی کہ جس کا ثمر آج محسوس ہوتا ہے ۔“
”اداکارہ وہی پسند کی جاتی ہے جو کردر میں ڈھل جائے اور علیحدہ کو ئی شخصیت نہ رکھے ،کیا آپ اتفاق کریں گی ۔“
”بالکل کروں گی ۔لوگ کہتے ہیں کہ کردار ان کی شخصیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ میں انہیں اپنے قریب ترین لے آتی ہوں۔میں ویسی بن جاتی ہوں جیسا ڈرامہ نگار نے اپنی کہانی کے لئے کسی لڑکی کو سوچا ہوا ہوتا ہے ۔ذاتی زندگی میں یہ تمام کردار جو میں نے اب تک اداکئے میری شخصیت سے کوسوں فاصلے پر ہیں ۔میں بچپن میں ٹام بوائے تھی ۔بڑی ہوئی تو دو بھائیوں کی اکلوتی بہن ہونے کے ناطے ابو اور بھائیوں کے نازسہے،لاڈپیار بھی بہت ملا۔بھائی میرے دوست تھے اور بھی لڑکے میرے دوست تھے میں لڑکوں کی ٹیم کی سر براہ ہوتی تھی ۔میں لڑکوں کی طرح سائیکلنگ کرتی ،کرکٹ کم کھیلی ،فٹ بال کھیلی اب میرے لئے یہ ڈرے ڈرے سہمے سہمے سے کردار جن میں لڑکیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ ٹوٹتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں اور وہ بے بس نظر آتی ہیں ،مجھے اب تک کی زندگی میں ایسے کرداروں سے نفرت رہی ہے ۔“
”اڈاری کے کردار سے متعلق کیا کہیں گی ؟“
”اس دنیا میں ایسا لگتا ہے ہر پانچویں چھٹی لڑکی کسی نہ کسی طرح زیادتی کا شکار ہوتی ہے ۔ڈرامہ سلگتے ہوئے موضوع پر تھا اور گواہی دینے والے سین میں مجھے واقعی مشکل ہوئی۔اظہار کرنا ،اعتراف کروانا اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بتانا ،یوں عدالت میں بتانا آسان نہیں ہوتا۔میرا کردار بہت بڑے عفریت سے گزرا اور اگر آ پ میری ذاتی زندگی دیکھیں تو وہ بھی کسی عفریت سے کم نہیں رہی میں تیرہ برس کی ہوں گی جب میری امی ذہنی طور پر مفلوج ہوگئی تھیں ۔وہ سارا سارا دن اور رات جا گتی رہتیں ،دیواروں سے باتیں کرتی تھیں میں اور میرے بھائی والد کے رحم وکرم پررہے ۔ابو مجھے کام سے منع نہیں کرتے تھے ،پڑھائی متاثرنہ ہونے کے خیال سے ہلکی پھلکی سرزنش تو ہوتی رہتی تھی مگر امی مجھے باقاعدہ مارا کرتی تھیں ۔ادھر شوٹ کا پریشر ادھر گھر کا ماحول مکدر ․․․غرضیکہ میں نے بڑے سخت حالات چھیلے ۔اس وقت میں نے مضبوط قوت ارادی سے کام لے کر خود کو سنبھالا اور خود مختاری سے اپنا علاج کرایا۔مجھے یاد ہے کہ آدھی رات کو میں ڈر کر جاگ اٹھتی تھی ایسا لگتا تھا امی آکر ماریں گی یا کوئی اور آکر میرا گلا دبا دے گا۔میری طبیعت بہت خراب رہنے لگی تو مجھے بھی ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے کو کہا گیا۔امی کو ڈاکٹروں نے لا علاج قرار دے دیا۔ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ اگر صحت مند ہونا چاہتی ہوتو علیحدہ گھر لے کر رہو۔اس ماحول سے نکلو ۔میں نے بھی سوچا کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اور بہت مختصر ہوا کرتی ہے پھر میں کوئی غلط کام نہیں کررہی صرف ذہنی سکون ہی کے لئے تو گھر چھوڑوں گی ۔“
”کیا والد اور بھائیوں نے آپ کو روکا نہیں ؟“
”بھائی میری بات سمجھ گئے تھے ۔ابو نے کہا یہ نہیں ہو سکتا اگر جا ؤ گی تو میں پولیس کو مطلع کردوں گا۔بہت غصہ کیا مگر پھر سمجھ گئے کہ میں علیحدہ رہ کر اپنے آپ کو صحت مند ہونے اور کچھ بننے کا چانس لینا چاہتی ہوں اوربس․․․شکر کرتی ہوں کہ میں کسی کے بہکاوے میں نہیں آئی نہ کسی نے ایسی کوئی چال چلی کہ میں اپنے ٹریک سے ہٹ جاتی ۔دوسرے میں Alcoholismیا منشیات کی عادی نہیں ہوئی۔میں نے ابو سے کبھی بدتمیزی نہیں کی ۔ابو بھی مجھے جان گئے ہیں کہ میں اداکاری کے پروفیشن کو سنجیدگی سے لے چکی ہوں ۔امی کی دواؤں سے لے کر یوٹیلٹی بلز تک ہم تینوں بھائی بہن نے ذمہ داریاں تقسیم کرلی ہیں ۔“
”پاکستانی معاشرے میں نوجوان لڑکیوں کا گھر چھوڑ کر چلے جانا قابل قبول صورتحال نہیں آپ نے بہت بڑاقدم اٹھایا ہے ۔اب کیسا محسوس کرتی ہیں ؟“
”کمال ہے کہ ہمارے معاشرے میں منشیات ،منی لانڈرنگ ،غیر قانونی وغیر سماجی کاموں میں چھپ چھپا کے پناہ لینا قابل قبول ہے ۔اور اپنی ذہنی و جسمانی صحت برقرار رکھنے کے لئے ،خود کو دریافت کرنے کے لئے جائے پناہ ڈھونڈھ لینا قابل قبول نہیں ۔یہ دوہرا معیار میری سمجھ سے باہر ہے ۔میں نے صرف رہائش تبدیل کی ہے باقی وہی پرانی حنا ہوں جسے گھر کو Supportکرنے کے لئے کام کرنا ہے ۔میں گھر نہ چھوڑتی جب دن رات مجھے بد کردار نہ کہا جاتا بلکہ میرے ساتھ چل کر میرے شوٹس دیکھے جاتے میرا کام دیکھا جاتا ۔میں والدین کو کہنا چاہتی ہوں کہ بچیوں کو اعتماد اور محبت کا ماحول دیں ۔ان کی رسی اس طرح نہ کھینچیں کہ رسی ہی ٹوٹ جائے ۔اس طرح تو بغاوت پیدا ہوتی ہے اور کچھ لڑکیاں چھپ کربرے کام کرنے لگتی ہیں مگر میں 7بچے اٹھ کرواک پرجاتی ہوں ۔پھر میں نے ورزش کو اپنا سہارا بنایا ۔مجھے فخر ہے کہ میرے بھائی مجھ سے مایوس نہیں ہوئے ۔انہوں نے چلتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ دیکھو ہماری عزت کا خیال رکھنا ۔تحفظات اور خوف سب کے دل میں ہوتے ہیں مگر میں نے خود کو مضبوط کردار کی لڑکی ثابت کردیا ۔گھر چھوڑ کر اپنے ڈاکٹر کے کلینک میں چند روز رہی پھر اپنا گھر لے لیا۔اب گھر والے میری ہمت اور محنت کو سلام کرتے ہیں ۔مگر یہ تو میں جانتی ہوں کہ میں نے کتنی محنت سے خود کو ثابت قدم رکھا۔دنیا سے لڑنے کے لئے میڈیکل فٹنس پردھیان دیا ۔مجھے کچن کی الف ب کا بھی پتا نہ تھا اکیلے رہ کرمیں نے گزارے لائق گھر داری سیکھی ۔بھائی نے کہا معیاری کا م کرنا پیسے کے پیچھے نہ بھاگنا اور آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ میں کیسا کا م کر رہی ہوں ۔“
”جن لوگوں کے خلاف غصہ تھا کیا انہیں معاف کردیا؟“
”بہت سوں کی مجبوریاں سمجھ میں آگئیں تو غصہ خود بخود کم ہو گیا ۔میں کیوں کسی سے فرشتہ بننے کی توقع یا امید رکھوں ؟غلطیاں اور نفرتیں انسانوں ہی سے ہوتی ہیں ۔میں خود کون سی ستی ساوتری ہوں میں نے بھی لوگوں کے دل دکھائے ہیں جن کی سزا مجھے ملتی ہیں مگر پھر بھی ماضی کو پکڑ کر بیٹھے نہیں رہنا چاہئے۔ ماضی ورنہ حال اور مستقبل بھی بگاڑ کر رکھ سکتا ہے ۔“
”آپ کا زندگی سے کیا وعدہ ہے ؟“
”دیکھئے جو چیز مثلاً زندگی ایک بار ملتی ہے ۔اچھا مستقبل بنا نے کے مواقع بھی ایک ہی بار ملتے ہیں ۔اس لئے رونا رونے سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے ۔میں نے زندگی میں جیسے جیسے لوگوں کو معاف کیا۔خود میں فولاد ی قوت محسوس کی ۔اب ذہنی سکون ہے کوئی ٹینشن نہیں ۔“
”اتفاق سے آپ کا ہر دوسرا ڈرامہ ٹریجک کہانی پر مبنی ہوتا ہے ۔خود پر بے چارگی اور مظلومیت طاری کرنا کٹھن تو ہوتا ہوگا۔“
”بہت زیاہ دکھی کر دینے والی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں مگر دکھ سے گزر کر بہت جلد نارمل روٹین کی طرف آجانا چائے مگر ایسا کرنا بھی آسان نہیں لوگ تو چالیس چالیس برس تک ڈپریشن میں مبتلا رہتے ہیں۔
میں اسکرین پر جیسی نظر آتی ہوں اصل میں ویسی تو قطعاً نہیں حالانکہ Stressسے میں بھی گزری ہوں ۔مگر شروع میں بھی میں یہ سو چتی تھی گھر لیا ہے تو گاڑی بھی ہونی چاہئے۔کھانے کا کمرہ ہے تو ڈائننگ ٹیبل اور لاؤنج میں صوفہ تو ہونا ہی چاہئے ۔گھر میں جم کی مشینری ہوتو باہر نہ جانا پڑے ۔اس طرح میں نے زندگی سے مطمئن اور خوش باش رہنے کا وعدہ کرلیا ہے ۔اب میں اس قدر مصروف ہوں کہ ہر کردار میں ڈھل جاؤں تو برانہیں لگتا ۔“
کہتے ہیں کہ سیلف میڈانسان کی شخصیت میں بڑے الجھاوے اور ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے حنا سے مل کر مجھے یہ بات غلط محسوس ہوتی ہے ۔سیلف میڈ تو روشنی کا مینارہ ہوتا ہے یعنی لائٹ ہاؤس جو بھٹکے ہوئے مسافروں کو منزل کی نشانی بتاتا ہے ۔حنا کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے کہ یہ لڑکی جہاں رہے اپنی خود مختار ی کی لاج قائم رکھے۔

Your Thoughts and Comments