فرح خان

کوریوگرافی سے ہدایتکاری‘اداکاری اور میزبانی تک بالی وڈ کا ایک معتبر حوالہ

پیر دسمبر

farah khan

سلیم بخاری
پہلی قسط

”ہیپی نیواےئر“جیسی فلم،جو دوسو کروڑ سے زیادہ کا بزنس کرنے والی فلموں میں شامل ہو گئی ہے ،کی خالق فرح خان کو بالی وُڈ کا ایک مضبوط اور مُعتبر حوالہ قرار نہ دینا درحقیقت زیادتی ہے۔کوریو گرافر کی حیثیت سے کیرےئر شروع کرنے والی فرح خان کو ایک کامیاب فلم میکر بھی تسلیم کرلیا گیا ہے ۔وہ فلم ساز اور ہدایت کار ہونے کے علاوہ ڈانس ڈائریکٹر ‘اداکارہ اور ٹیلی ویژن اینکر بھی ہیں ۔بالی وُڈ کی بے شُمار کا میاب فلموں میں کوریو گرافی کے ذریعے اپنے لئے ایک اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے ،اب تک 80سے زیادہ فلموں میں ایک سو سے زیادہ گانوں کی کوریوگرافی کر چکی ہیں ،بہترین کوریوگرافر کے طور پر پانچ مرتبہ فلم فےئر ایوارڈ اور نیشنل فلم ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں ۔

(جاری ہے)


ڈائریکٹر کے طور پر فلم ”میں ہوں ناں “کے لئے انہیں فلم فےئر ایوارڈ برائے بہترین ڈائریکٹر نامزد کیا گیا تھا۔ان کی فنی صلاحیتیں صرف بھارت تک ہی محدود نہیں بلکہ انہوں نے متعدد بین الاقوامی پر اجیکٹ بھی کئے ہیں جن میں ”میری گولڈ․․․․․․این ایڈونچر اِن انڈیا “،”مون سون ویڈنگ “،”بمبئی ڈریم “اور چین کی دو فلمیں ”پر ہیپس لو”Perhaps Love اور ”کِنگ فویوگا“ Kingfu Yogaشامل ہیں ۔
انہیں ٹونی ایوارڈاور گولڈن ہارس ایوارڈ کے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
اب ایک نظر فرح خان کے خاندانی پس منظر پر بھی ڈال لی جائے۔فلمی ماحول ان کے لئے بالکل بھی اجنبی نہیں تھا۔وہ 9جنوری1965ء میں پیدا ہوئیں ،ان کے والد کا مران خان فلموں میں سَٹنٹ مین تھے جو بعدازاں فلم میکر بھی بن گئے،ان کی والدہ مانیکاایرانی ماضی کے دو چائلڈ سٹارہنی ایرانی اور ڈیزی ایرانی کی بہن ہیں ،اس طرح فرح خان فرحان اختر اور زویا اختر کی کزن ہیں جوہنی ایرانی کے بچے ہیں۔ فرح خان کے بھائی ساجد خان مزاحیہ اداکار اور فلم ڈائریکٹر ہیں۔فرح خان کے والد مسلمان اور والدہ زوراسٹرین Zorastrianایرانی پارسی کمیونٹی کا حصہ ہیں ۔
ان کے والد اور والدہ میں اس وقت علیٰحدگی ہوئی جب فرح ابھی بچّی تھیں ۔دونوں کے درمیان ناچاقی کی وجہ مذہبی اختلاف کے ساتھ ساتھ دولت کی کمی بھی تھا۔ فرح کے والد کا مران خان آغاز میں تو بہت کامیاب رہے یہاں تک کہ جب ان کی سالی ہنی ایرانی نے جاوید اختر سے شادی کی تو دونوں کامران خان کے پاس مدد کے لئے گئے تھے جنہوں نے کسی کرایہ کے بغیر انہیں رہنے کو ایک اپارٹمنٹ دیا مگر اس کے بعد کامران خان کی فلمیں فلاپ ہونے لگیں اور بیوی سے علیٰحدگی کا باعث بھی ان کی مفلسی ہی بنی۔
یہ فرح کی بد قسمتی تھی کہ انہوں نے اپنے باپ کو اپنے آس پاس بہت کم دیکھا ،وہ اور ان کا بھائی ساجد کبھی ایک گھر میں ہوتے تو کبھی دوسرے گھر میں ۔
آج فرح خان وہ واحد خاتون ہیں جو ہدایت کاروں کی اس فہرست میں شامل ہیں جو بڑی کامیاب فلمیں بنانے کی شُہرت رکھتے ہیں ۔ان کی فلموں کا پبلسٹی بجٹ اتنا ہوتا ہے کہ اس سے ایک فلم باقاعدہ پروڈیوس کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں شراب پیتی ہوں نہ ہی سگریٹ اور منشیات کی بھی عادی نہیں ہاں میں بددعائیں بہت دیتی ہوں اور اگر یہ میری جبلّت میں شامل نہ ہوتا تو میں اللہ لوگ ہوتی ۔
مگر میں ایسا نہ تو غصّے کی حالت میں کرتی ہوں اور نہ اس میں میری کوئی بد نیتی شامل ہوتی ہے ،یہ عادت مجھ میں طویل عرصہ سے ہے ۔جب میں کالج میں گئی تو لڑکوں میں شامل ہو کر ان جیسی ہونا چاہتی تھی پتہ نہیں میرے دل میں یہ خواہش کہاں سے گھر کر گئی تھی مگر اب یہ خواہش دم تو ڑ چکی ہے کیونکہ میں خود تین بچوں کی ماں بن گئی ہوں ۔یاد رہے کہ 2008ء میں فرح خان نے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو ایک ساتھ جنم دیا تھا ۔فلم ”میں ہوں ناں “کی بے مثال کامیابی کے بعد بطور ہدایت کارہ ان کی دوسری فلم ”اوم شانتی اوم “تھی جس نے اندرون اور بیرون ملک بہت داد سمیٹی اور باکس آفس پر بھی بہت کامیاب رہی تھی ۔
ان کی ہدایت کاری میں بننے والی تیسری فلم ”تیس مار خان “کو باکس آفس پر کامیابی نصیب نہ ہو سکی جس کے بعد فرح خان نے اداکار ہ بننے کا فیصلہ کیا اور فلم ”شیریں فرہاد کی تو نکل پڑی “میں مرکزی کردار ادا کیا ،بومین ایرانی نے اس فلم میں لیڈ رول کیا تھا ،بیلا بھنسالی سہگل اس فلم کے ڈائریکٹر تھے ۔اس فلم میں جہاں بومین ایرانی نے اداکاری کے کمالات دکھائے تو وہیں فرح خان نے بھی ایک لمحے کے لئے جوان اور حسین ہیروئن کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔
اس کے بعد ان کی بطور ہدایت کارہ فلم ”ہیپی نیواےئر“نے تو جیسے باکس آفس پر تہلکہ مچا دیا ۔پہلی دو فلموں ”میں ہوں ناں “اور”اوم شانتی اوم “کی طرح اس فلم کے ہیرو بھی شاہ رُخ خان ہی تھے ۔فلموں کے ساتھ ساتھ فرح خان نے ٹیلی ویژن سے بھی مختلف حیشیتوں میں ناطہ جوڑے رکھا ہے ۔ایم ٹی وی ویڈیو میوزک ایوارڈ کے لئے فرح نے بالی وُڈ ورژن کے انداز میں کولمبین پاپ سٹار شکیرا کو ”ہپس ڈوناٹ لائی “(Hips do not Lie) کے لئے تربیت دی ۔
اسی طرح کائل منوگ کی فلم ”بلو “کے گانے ”شیگی ویگی “کی کوریوگرافی بھی انہوں نے کی ۔سلیبر یٹی چیٹ شو ”تیرے میں میں میں ‘کی میزبانی بھی کی ،پھر اس جج کی حیثیت سے ”ڈانس انڈیا ڈانس لِٹل ماسٹر “میں حصّہ لیا۔جج کے طور پر ہر یتک روشن اور وایا بھاوی مرچنٹ کے شو ”چَسٹ ڈانس “میں شرکت کی جو سٹارپلس ٹی وی چینل پر دکھایا گیا۔
معروف ٹی وی پروگرام ”بگ باس “کی بھی میزبانی کی ۔ایک مرتبہ فرح خان سے پوچھا گیا کہ اداکارہ بننے کا عمل کیسے تکمیل پایا؟تووہ یوں گویا ہوئیں ۔”میں حیران رہ گئی جب مجھے بیلا سہگل نے اپنی فلم ”شیریں فریاد کی تو نکل پڑی “میں لیڈرول کی پیشکش کی ،میرا خیال تھا کہ 40سالہ عورت کو کہاں کوئی فلم میں ہیروئن کا کردار کرنے کو کہے گا اور نہ میں فلموں میں اداکاری کرنے کی منتظر تھی ۔میں تو اس وقت حیرت زدہ رہ گئی جب مجھے علم ہوا کہ کوئی مجھے فلم میں کام دینے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایک بہت ہی جرأت مندانہ فیصلہ تھا۔
جہاں تک سنجے بھنسالی اور بیلا بھنسالی کا تعلق ہے کہ وہ مجھے سائن کرکے ایک مزاحیہ رومانوی فلم بنائیں تو اداکارہ بننا میرا سوچا سمجھا فیصلہ نہیں تھا،جب سنجے اور لیلا نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں سمجھی کہ وہ مجھ سے کسی گانے کی کوریوگرافی کروانے کا کہیں گے مگر انہوں نے میرے ہاتھ میں سکرٹ تھما کہ ہیروئن کا کردار کرنے کا کہا تو میں تقریباً بے ہوش ہونے والی تھی ۔
ایک ہفتے تک تو میں یہی سمجھتی رہی کہ وہ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں مگر جب انہوں نے مجھے بتایا کہ ہیروکا رول بومین ایرانی کررہے ہیں تو میں نے کہا کہ آدھا کام تو سمجھو ہو گیا ،میں نے خود سے کہا کہ فرح یہ صرف کا میڈی نہیں بلکہ فلم کے آخری منظر میں تُم آنسو بہارہی ہو گی کیونکہ اس فلم میں بہت سے جذباتی مناظر ہیں ۔
اس فلم میں ہم دونوں (میں اور بومین ایرانی )نے پارسی لوگوں کے رول کئے ہیں ۔میں زندگی میں کئی بار پارسی لوگوں سے ملی ہوں اس طرح سے آدھی پارسی تو میں خود بھی ہوں کیونکہ میں نے ان لوگوں کے ساتھ بہت وقت گزارہ ہے ،چلتے پھرتے اور لباس زیب تن کرتے ہوئے بھی میں کسی کی نقل نہیں کرنا چاہتی تھی لہٰذا میں نے فلم میں بھی مکمل طور پر نیچرل اداکاری کی اور کبھی محسوس نہیں کیا کہ کیمرے کی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہے ۔تمام پارسی خواتین سر سے پاؤں تک ٹِپ ٹاپ رہتی ہیں اور شیریں کا کردار بھی ایسا ہی تھا جبکہ لباس تیار کرنے کے لئے ہم نے ڈیزائنر بھی ایک پارسی کی خدمات حاصل کیں ۔“
الفریڈ ہچکاک نے ایک بار کہا تھا کہ فلم بینوں کے لئے سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آپ انہیں دیکھنے کو ایک بور فلم دیں اور میں یہ جرم کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں مگر یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ باکس آفس پر کامیاب اور منافع کمانے والی فلم پر تنقید نہ ہو ،یہ ضروری نہیں منفی ہی ہو ،بہت ساری کامیاب اور بلاک بسٹر فلمیں بھی حدف تنقیدر ہی ہیں ۔فلم ”شعلے‘ ‘سے لے کر ”امر اکبر انتھونی “تک سب بڑی فلموں پر پہلے ہی ہفتے نمائش کے دوران تنقید ہوئی ،احتجاج بھی ہوئے ۔
”شعلے “تو پہلے ایک دو ہفتوں میں ہی ناکام قرار دے دی گئی تھی اور سینما گھروں سے بھی اُتار دیا گیا تھا لیکن اگر فلموں کی کمائی دو سوکروڑ سے بڑھ جائے تو اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ عوام میں اسے پذیرائی ملی ہے ۔میرا تو یہ موٴقف رہا ہے کہ فلم کے ریلیز ہوتے ہی اس پر تیراندازی شروع نہیں کرنی چاہئے۔“اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ لوگ اب ایسی فلمیں پسند کرتے ہیں تو فرح خان برجستہ بولیں”میں تو اس طرح بحث میں پڑتی ہی نہیں کہ کون کیا پسند کرے گا،میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ فلم ”میں ہوں ناں “پاکستان میں اتنی کامیاب ہو گی ،میں جب بھی لنڈن یا امریکہ میں پاکستانیوں سے ملتی ہوں تو اُن کے دلوں میں میرے لئے پیار اور شفقت والے جذبات ہوتے ہیں ۔
”میں ہوں ناں “ہندوستان میں فلاپ ہو گئی تھی اور تنقید کا نشانہ بھی بنی مگر آہستہ آہستہ اسے بھارت میں بھی پذیرائی ملنا شروع ہو گئی ۔
میرے خیال میں میرا ایک خاتون ڈائریکٹر ہونا شاید کسی کو برداشت نہیں ہوپارہا مگر مجھے اس تنقید اور مخاصمت سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور میں اس کا جواب بھی دینا نہیں چاہتی کیونکہ میں اب صوفی فرح (Farah Saint)بن چکی ہوں ۔بومین ایرانی ٹھیک کہتے ہیں کہ یہ ہماری کمزوری ہے کہ ہم اچھّی چیزوں کی بجائے اپنا فوکس منفی رویوں پر مرکوز کر لیتے ہیں ،ہم ہزاروں کی تعریف بھول کر دو تین افراد کی تنقیدکی بات زیادہ کرتے ہیں ،میں اپنی فلموں میں پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد شامل کرنے کے خلاف ہوں اور نہ مجھے گیلری میں بیٹھے لوگوں کو خوش کرنے کی عادت ہے۔
“ایک سوال کے جواب میں فرح نے کہا:”یقینا شاہ رُخ میری چارفلموں میں سے تین میں لیڈنگ رولز
میں تھے کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ وہ سب اداکاروں میں بہتر ہیں ۔میرے اور شاہ رُخ کے درمیان بہت زیادہ انڈرسٹینڈنگ ہے ،وہ اگر میری فلم کا پروڈیوسر ہوتب بھی وہ مجھے بہترین پر فارمنس دیتا ہے جو میری توقع سے بھی سوگنا زیادہ ہوتا ہے ،وہ ہمیشہ میری ترجیح رہیں گے اور صرف اس صورت میں میری فلم میں نہیں ہوں گے اگر میں بچوں پر کوئی فلم بنارہی ہوئی ۔شاہ رُخ خان کے علاوہ میری ٹام کروز کے ساتھ بھی فلم بنانے کی خواہش ہے۔

Your Thoughts and Comments