فرح خان (حصہ دوم)

کوریو گرافی سے ہدایتکاری ‘اداکاری اور میزبانی تک بالی وڈ کا ایک معتبرحوالہ

پیر دسمبر

Farah Khan

سلیم بخاری
آخری قسط
فرح خان کے بارے میں جب بھی لکھنے کا سوچا تو ہر بار ایک سی صورتحال سے دو چار ہوا کہ ان کی کون سی خوبی کو فوکس کیا جائے ؟وہ ایک کامیاب ہدایت کارہ ہیں اور ان کی چار میں سے تین فلموں نے باکس آفس پر تہلکہ مچا دیا تھا۔اداکارہ کی حیثیت سے بومین ایرانی کے ساتھ اپنی پہلی ہی فلم ”شریں فرہاد کی تو نکل پڑی “میں لیڈررول میں بے ساختہ اور کمال کی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ایک کوریو گرافر کی حیثیت سے اتنے خوب صورت رقص ترتیب دےئے کہ لوگوں کے دل موہ لئے۔
اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ آج شادی بیاہ با لخصوص مہندی کے موقع پر سب سے زیادہ ان گانوں پر ہی رقص کیا جاتا ہے جن کی کوریو گرافی فرح خان نے ترتیب دی ۔اس کے علاوہ وہ سکرپٹ لکھنے میں بھی کمال حاصل کئے ہوئے ہیں ۔

(جاری ہے)


اب پلٹتے ہیں فرح خان کی فلمی صلاحیتوں کی طرف ،انہوں نے فلم ”ہیپی نیواےئر“سے پہلے دپیکا پڈوکون کے ساتھ اس کی پہلی فلم ”اُوم شانتی اُوم“کی ہدایات بھی دی تھیں ،اس فلم کی کامیابی کے بعد دپیکا نے پے درپے سُپرہٹ فلمیں دیں ۔دپیکا کے بارے میں فرح خان کہتی ہیں ”اُوم شانتی اُوم میں تو وہ بالکل ناپختہ اداکارہ تھیں ،اسے یہ بھی بتانا پڑتا تھا کہ وہ کہاں دیکھے ،کب گھومے ‘کن الفاظ پر زوردے اور کس طرح صحیح تاثرات دے ۔
بس یوں سمجھئے کہ مجھے اسے اداکاری کی اے بی سی ڈی پڑھانی پڑی مگر ”ہیپی نیواےئر“میں میں اسے صرف سین بتاتی تھی اور لہجہ سُناتی تھی اور بس ۔اب دپیکا نے خود کو اس قدر باصلاحیت بنالیاہے کہ بلاشُبہ اسے عظیم اداکارہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔“فرح اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود ٹویٹر پر بہت وقت صرف کرتی ہیں اور ٹویٹر پر 1.7ملین افراد انہیں فالو کرتے ہیں ۔
اس حوالے سے فرح کہتی ہیں :”یہ میڈیم بہت مفید ہے مگر اس میں کچھ خرابیاں بھی ہیں ۔میرے نزدیک تو ٹویٹراکاؤنٹ ایک طرح کا مِنی اخبار ہے ،اگر ہم نے کوئی وضاحت دینی ہویا کسی بات کی تردید کرنی ہوتو اخبار میں اس کی اشاعت کا انتظار کرنے کی بجائے ٹویٹ کرتے ہیں لیکن اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ کوئی جو کچھ بھی کہہ دے اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔
میں فیس بک استعمال نہیں کرتی کیونکہ میرے تین بچے ہیں اور ایک شوہر ،فلموں کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ گھر بار بھی دیکھنا ہوتا ہے ۔میرے نزدیک ٹویٹر ہی بہترین ذریعہ ہے ۔“جب فرح سے پوچھا گیا کہ بھارتی فلمیں تو بھارت میں بہت مقبول ہیں مگر بھارت میں پاکستان کی چند ہی فلمیں دکھائی گئی ہیں جن میں ”خدا کے لیے “،”رام چند پاکستانی “اور ”بول“شامل ہیں ۔
حال ہی میں زی ٹی وی نے اپنے نئے چینل زندگی پر پاکستانی ڈرامے بھی دکھانا شروع کئے ہیں جنہیں وہاں کافی پذیرائی بھی ملی ہے ۔اس پر فرح نے کہا :”مجھے اُمید بلکہ توقع ہے کہ جلد فلموں کا تبادلہ بھی ہو گا کیونکہ سینما ‘آرٹ اور کلچر شےئر کرنا چاہیے ۔میں نے زندگی چینل پر پاکستانی ڈرامے ابھی نہیں دیکھے مگر ایک ٹی وی شو ،جس میں مجھے جج کے فرائض اداکرنے تھے ،میں میری ملاقات پاکستانی اداکارفواد خان سے ہوئی جن سے مل کر مجھے بہت اچھّا لگا۔
وہ بہت ہی معزز اور سلجھے ہوئے انسان ہیں ۔میں نے ان کی فلم ”خدا کے لئے “دیکھی ہے ،ہندوستان میں ان کے ہزاروں پر ستا ر ہیں اور خاص طور پر لڑکیاں تو ان پر فدا ہیں ۔“”ہیپی نیو اےئر “کے بعد ابھی فرح کچھ نیا پراجیکٹ نہیں سوچ رہیں اور اس حوالے سے کہتی ہیں ”ذرا سانس تو لینے دو ،چھٹی تولوں بچوں کے ساتھ ،اس سال کے آخر تک فارغ ہو کر جنوری میں نئے پراجیکٹ پر کام کا آغاز کروں گی “۔بالی وُڈ میں آج کل کس طرح کی کوریو گرافی ہورہی ہے ؟اس پر فرح خان کہتی ہیں :”کچھ بھی نہیں بدلا ،آج بھی وہی آزمودہ ٹھمکے لگائے جارہے ہیں جو 1950ء کی دہائی میں بننے والی فلموں میں تھے ۔دوسروں کی بات تو چھوڑیں میں نے خود کو بھی نہیں بدلا۔
یہی وجہ ہے کہ کوریو گرافی کے اعتبار سے بالی وُڈ نے بالی وُڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ،جوگا نا اور اس پر رقص مجھے پند آیا وہ تھا”رنگ دے “جس میں مجھے لگا کہ میں نے کچھ مختلف کیا ہے ۔”فرح خان کو رقص کاشوق اس وقت لاحق ہوا جب وہ ممبئی کے سینٹ ایکسوےئر کالج میں سوشیا لوجی کی تعلیم حاصل کررہی تھی اور مائیکل جیکسن کا مشہور زمانہ ویڈیو تھر لروہاں دکھایا گیا تھا جسے دیکھ کر وہ اس قدر متاثر ہوئیں کہ پہلے کبھی ڈانس نہ کرنے کے باوجودوہ رقص کرنے لگیں ،فرح نے ڈانس کرنا خود ہی سیکھا اور ایک ڈانس گروپ تشکیل دے دیا پھر جب کوریو گرافر سروج خان کو فلم ”جو جیتا وہی سکندر “سے علیٰحدہ کیا گیا تو اس کی جگہ فرح خان کو یہ ذمّہ داری سونپ دی گئی ۔
اس کے بعد بھی انہیں گانوں کی ڈائریکشن کاموقع ملا۔فلم ”کبھی ہاں کبھی ناں “کے سیٹ پر شاہ رُخ سے ان کی ملاقات ہوئی تو دونوں میں دوستی ہو گئی اور انہوں نے اکٹّھے کام کرنا شروع کردیا ۔فرح خان کی فلموں ”مون سون ویڈنگ ‘بمبئی ڈریمز اور وینیٹی فےئر “کو2004ء میں ٹونی ایوارڈ برائے بہترین کوریوگرافر نامزد کیا گیا ۔
فرح اب تک فلم فےئر ایوارڈ برائے بہترین کوریو گرافر چھ مرتبہ اپنے نام کر چکی ہیں ۔”ریڈچلیز“انٹر ٹینمنٹ کے بینر تلے بننے والی فلم ”میں ہوں ناں “فرح خان کی بطور ڈائریکٹر پہلی فلم تھی جس کے ہیروشاہ رُخ خان تھے اوراس کے لیے فرح کو فلم فےئر ایوارڈ برائے بہترین ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ۔فرح خان نے اپنے شو ہر کے ساتھ مل کر تھریز کمپنی کے نام سے اپنا ادارہ بھی بنا رکھا ہے ،اس کمپنی کا نام انہوں نے اپنے تین بچوں کے حوالے سے رکھا ہے ۔
2012ء میں انہوں نے فلم ”سٹوڈنٹ آف دی اےئر “کے لئے دو گانوں ”عشق والا لو “اور”رادھا“کی کوریوگرافی کی تھی جبکہ 2013ء میں ”جمپنگ چھپک “کی کوریوگرافی کی ۔بچوں کے حوالے سے فرح خان بہت جذباتی ہیں اور ان کی خاطر انہوں نے خودکو کافی حد تک تبدیل بھی کرلیا ہے ۔تینوں اب دس برس کے ہوگئے ہیں ۔
فرح کہتی ہیں :”میرے چیخنے چلانے اور جلد بازی کے دن اب ماضی کا حصّہ بن چکے ہیں ،گھر پر میں زندگی کو بالکل معمول کے مطابق رکھنا چاہتی ہوں مگر جب کبھی بچّوں کو ساتھ لے کر شاپنگ کے لئے کسی مال میں جاتی ہوں تو لوگ سیلفی یا آٹو گراف کا تقاضا کرتے ہیں ،میں اور میرے شوہر بچوں کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے ،مجھے تو کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ میرے بچے سمجھتے ہوں گے ان کی ماں تو مدرٹریسا ہے جو اس قدر خوش مزاج اور شریف عورت ہے ۔
بس آج کل تو میرے پیش نظر صرف یہ بات رہتی ہے کہ میں اپنے بچوں اور کیرےئر میں توازن قائم رکھ سکوں ۔جب بچوں کی پیدائش کے بعد میں پہلی بار اپنے کام پر گئی تو بہت دیر تک وینیٹی وین میں بیٹھ کر روتی رہی ،میں سمجھتی ہوں کہ جب بچہ پیٹ سے باہر آجاتا ہے تو ماں کے دل میں بچوں سے الگ رہنا ایک جرم کے طور پر شامل ہوجاتا ہے جبکہ مردوں میں یہ احساس بالکل بھی نہیں ہوتا ،میں ایک فلم کے سلسلے میں دس روز کے لئے دبئی گئی جو طویل ترین وقفہ تھا تو میں ہر رات روتی تھی ۔
یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ بھارت میں خاندانی اور پیشہ ورسہولتیں موجود ہیں ،میں خود کو دوسری ماؤں کے ساتھ موازنے کے لئے تیار نہیں کرپاتی ،میں 43برس کی تھی جب تین بچوں کو جنم دیا،میں بھی دوسری ماؤں کی طرح ان کے لئے آیا رکھ سکتی تھی مگر ایسا نہیں کیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میں اپنے کام اور بچوں کے لئے وقت نکالنے کا کوئی اہتمام کرلوں گی ۔میں نے اشتہارات کی ایک بڑی ذیل صرف اس لئے چھوڑ دی تھی کہ وہ اس دن شوٹ کرنا چاہتے تھے جب میرے بچوں کے سکول میں سالانہ دن تھا اور میں اسے کسی صورت مِس نہیں کرنا چاہتی تھی ،میں نے اپنی سوشل مصروفیات یکسر ختم کر دی ہیں ۔
اگر شوٹنگ نہ بھی کررہی ہوں تب بھی پارٹیوں میں نہیں جاتی ،میرے شوہر شریش کندر میرے بہت مددگار ہیں ،جب وہ شوٹنگ کرنے جاتے ہیں تو میں گھر پر رہتی ہوں ،اب میں ادھیڑ عمر ہوگئی ہوں اور اپنے غصّے پر قابو پانا سیکھ لیاہے ،دوسروں کی فلموں پر بھی میں اب رائے زنی نہیں کرتی ۔لوگ جانتے ہیں کہ میں ایک جینئن بندی ہوں اور وہی کچھ کہتی ہوں جو سوچتی ہوں ۔
جو بات مجھے سخت ناگوار گزرتی ہے وہ یہ ہے کہ جب مجھ سے استفسار کیا جاتا ہے کہ کیا میں عورتوں سے متعلق حساس موضوعات پر فلمیں بناؤں گی ؟میری فلمیں تجرباتی نہیں بلکہ حقیقی زندگی سے بھی بڑھ کر ہیں ،مجھ پر یہ پریشر اس لئے آتا ہے کیونکہ میں ایک خاتون ڈائریکٹر ہوں ،کبھی کسی مردہدایت کار سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا وہ مردوں کے مسائل پر فلمیں بنائے گا۔“
فرح کے شوہر کی حال ہی میں ایک مختصر دورانیہ کی فلم ”کریتی “بہت کامیاب ہوئی ہے لیکن ساتھ ہی متنازعہ بھی ہو گئی ہے اور کاپی رائٹس کے حوالے سے اس پر کسی نے چربہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس حوالے سے فرح خان کہتی ہیں :”میں تو بہت خوش ہوں کہ شریش کندر کی فلم کامیاب ہوئی لیکن یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ کوئی فرد کھڑا ہو کر دعویٰ کردے کہ یہ نقل شدہ سکرپٹ ہے ،بہت سے لوگ اس شخص کے ساتھ ایکا کر کے کندر کے خلاف صف آراء ہو گئے جو میرے لئے بہت تکلیف دہ معاملہ تھا۔“
ایک مرتبہ ایک بہت ہی خطر ناک واقعہ ہوا جب شاہ رُخ خان اور شریش کندر (فرح خان کے شوہر )کے درمیان باقاعدہ لڑائی ہوئی اور دونوں ایک دوسرے پر گھونسے بر ساتے ہو ئے گتھم گتھا ہو گئے ،یہ سب رات گئے ایک نائٹ کلب میں ہوا ۔بعدازاں فرح اور ان کے شوہر شاہ رُخ خان کے گھر گئے اور گوری خان کی موجودگی میں اپنے اختلافات ختم کرلئے ۔دراصل دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں فرح کے بھائی ساجد خان نے بڑا اہم کردار اداکیا ہے ۔
ساجد خان نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کو اس لئے گلے لگالیا کیونکہ یہ تعلق گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے اور اس معاملے میں میری راکھی بند بہن گوری نے بہت اہم کردار اداکیا ہے ۔اس واقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرح خان نے کہا تھا کہ ہم اُس میں گلے مل کر روئے اور قہقہے لگا تے ہوئے معاملہ سلجھالیا۔شاہ رُخ ،گوری ،کندر اور میں سب اس پر بہت دُکھی تھے کیونکہ یوں لگ رہا تھا کہ معاملہ ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے ۔
شاہ رُخ اور گوری نے تو مجھے میری شادی پر اپنے ہاتھوں سے رُخصت کیا تھا ۔کندر نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ میں اور شاہ رُخ ملے اور دل کی گہرائیوں سے غلط فہمیاں دور کرلیں ،اب ہمارے درمیان مخاصمت کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس رات کندر حالت مد ہوشی میں کلب لاؤنج اور بار میں شاہ رُخ کا پیچھا کرتا رہا ،دونوں کے مابین کچھ عرصے سے نفرت کے جذبات کارفرما تھے ۔شاہ رُخ خان نے کندر کی فلم ”جو کر“میں کام کرنے سے انکار کر دیا تھا جبکہ کندرنے ٹویٹ کے ذریعے شاہ رُخ کی فلم ”راون “پر طنز کے تیر برسائے تھے ۔
فرح خان کیلئے 2018ء کئی اعتبار سے خوشگوار نہیں رہا۔یاد رہے کہ نانا پاٹیکر پر اداکارہ تنوشری دتہ نے جو فلم ”ہاؤس فل 4“کی کاسٹ کا حصّہ تھے الزام عائد کیا تھا کہ 2008ء میں بننے والی فلم ”ہارن اوکے پلیز“Horn ok pleaseکے سیٹ تو انہوں نے اسے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔اداکارہ کے اس بیان پر جو شدید ردّعمل سامنے آیا اس نے تو بالی وُڈ میں تہلکہ مچادیا۔ستمبر2018ء میں تنوشری نے اپنا الزام پھر دہرایاتو ”می ٹو“تحریک نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا۔
ہوایوں کہ فرح خان نے فلم ”ہاؤس فل 4“کی کاسٹ کی ایک تصویر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لگادی جس میں نانا پاٹیکر کو ہنستے ہوئے دکھایا گیا ہے ،پھر کیا تھا کہ ایک کہرام مچ گیا اور ہر طرف سے فرح خان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا شروع ہو گیا ۔فیس بک اور ٹویٹر پر ایک گھمبیر بحث چھڑ گئی ۔تارہ نامی ایک خاتون نے فرح خان کو ٹویٹ میں لکھا:”کیا تمہارے لئے صرف پیسہ کمانا ہی واحد مقصد رہ گیا ہے ،کیا تم میں ذرہ بھر انسانیت بھی باقی نہیں رہی ،ہم تمہارے پر ستار ہیں اور تم سے ہماری بے شمار تو قعات ہیں ،عورتوں کو دوسری خواتین کی عزت کرنی چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔“
ایک اور خاتون سونم ڈولکر نے ٹویٹ کیا”یا تو تم پوری صورتحال پردرگزر اختیار کررہی ہویا پھر خود تم اس مسئلے کا حصّہ ہو ۔تمہیں نانا پاٹیکر جیسے کو حوصلہ دینے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے ،تمہیں اپنے ردعمل دینے کے لئے اس دن کاانتظار نہیں کرنا چاہیے جب تمہاری بیٹی جوان ہو اور اس کے ساتھ بھی تنوشری جیسا سلوک ہو ۔اگر ردعمل دینا ہے تو درست اقدام کرنے کا وقت اب ہے ۔“ایک ٹویٹر پیغام میں تو یہاں تک کہا گیا ”ہمیں صاف نظر آرہا ہے کہ تم سے کیا غلطی ہوئی مگر یہ یاد رکھنا کہ تمہاری بھی بیٹیاں ہیں۔“
ابھی فرح خان اس معاملے سے نپٹ نہیں پائی تھیں کہ اکتوبر کے مہینے میں ان کے بھائی ساجد خان پر بھی ساتھی اداکاروں پر جنسی سراسیمگی کے الزامات منظر عام پر آگئے اور ”می ٹو “تحریک میں ایک بار پھر جیسے جان پڑ گئی مگر اس مرتبہ فرح خان نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے اپنے بھائی پرالزامات کے حوالے سے واضح طور پر موٴقف اختیار کیا کہ وہ کسی صورت جنسی سراسیمگی کو جائز قرار نہیں دیں گی بلکہ وہ ان خواتین کے ساتھ کھڑی ہوں گی جو ان کے بھائی کے ہاتھوں جنسی سراسیمگی کاشکار ہوئی ہیں ۔“
فرح خان کا یہ بیان اس سے زیادہ موزوں وقت پر نہیں آسکتا تھا یعنی بہت بر وقت آیا ۔اب تک جن افراد پر جنسی حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے یا تو انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے یا پھر ان میں سے کچھ نے دبے لفظوں میں اعتراف جرم میں لیت ولال سے کام لیا ہے ۔چند افراد نے معافی بھی مانگی ہے ۔عام خان جو تنوشری کے نانا پاٹیکر کے خلاف الزام پر خاموش رہے تھے مگر اب ایکشن میں آگے ہیں اور انہوں نے فلم ”مغل“سے خود کو علیٰحدہ کر لیا ہے جس کے ڈائریکٹر سبھاش کپور تھے جن پر بھی جنسی ہراسگی کاالزام عائد کیا گیا تھا ۔
اکشے کمار نے بھی ”ہاؤس فل 4“کی شوٹنگ کینسل کردی تھی جب فلم کے ڈائریکٹر ساجد خان کے خلاف الزامات سامنے آئے ۔ساجد خان نے اب اس فلم سے علیٰحدگی اختیار کرلی ہے ۔فرح خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں ساجد پر الزامات کے حوالے سے لکھا :”یہ لمحات میرے اور میری فیملی کے لئے دل شکن ہیں ۔اگر میرے بھائی سے یہ سب کچھ سرزد ہوا ہے تواسے اس کا ازالہ کرنا ہو گا ۔میں کسی صورت اپنے بھائی کے رویے کا ساتھ نہیں دے سکتی ۔
میں ہر اس عورت کے ساتھ کھڑی ہوں گی جسے میرے بھائی کے ہاتھوں دُکھ پہنچا ہے ۔صرف فرح خان ہی نہیں بلکہ ان کے کزن فرحان اختر نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا ”میں تو یہ بیان ہی نہیں کر سکتا کہ مجھے کتنا صدمہ پہنچا ‘مایوسی ہوئی اور کس قدر میرا دل ٹوٹا ‘میں نے ساجد کے بارے میں کہانیاں پڑھی ہیں ۔مجھے یہ تو معلم نہیں کہ کیسے مگر ساجد کو اپنے کئے کاخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
مگر جہاں تک فرح خان کی صلاحیتوں کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں ناقدین کی رائے ہے کہ وہ ہر کام دل لگی سے کرتی ہیں ۔فلم ”کل ہونہ ہو“کے ڈائریکٹر ان کے بارے میں کہتے ہیں :”ہم جب بھی کوئی گانا فرح خان کے پاس لے کر جاتے ہیں جس کا تعلق فلم کی کہانی سے ہوتو ہمیں کبھی مایوسی نہیں ہوتی بلکہ ہمارے لئے وہ بہت حیران کن لمحات ہوتے ہیں جس طریقے سے فرح اپنا ردّعمل دیتی ہیں اور اس گانے کوکرنے کا طریقہ کار بھی بتاتی ہیں ۔

مزید ہالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments