مجھے بہت آگے جانا ہے

”خاموشی ،تعبیر اور سنو چندا ،اس برس آپ کے کیرئیر کے یہ کامیاب اور مقبول ترین ڈرامائی سلسلے رہے ۔اور سنا ہے کہ آپ چھ برس پہلے انڈسٹری میں آئیں اور لگا تار 15سیریلز کر لئے ،آپ کو یہ سفر کیسا لگا ؟“

جمعرات 20 دسمبر 2018

”اقراء آپ حال ہی میں ہم ایوارڈشو کی تقریب سے لوٹی ہیں کیسا ایونٹ تھا یہ“
”اگر میں تعریف کروں گی تو آپ کہیں گی ہاں بھئی تم تو ہم ٹی وی کے کئی پروجیکٹس کر رہی ہو انہیں کچھ کہہ کر اختلافات مول لینا نہیں چاہتیں اس لئے میں غیر جانبداری سے جواب دوں گی کہ اس ایوارڈ شو کے اسکرپٹ سے کیمرہ ورک تک بہت خوبصورت رہا ۔ہر سیگمنٹ پر توجہ دی گئی اور محبت سے ہر پروگرام تیار کیا گیا اس لئے جس نے بھی ٹی وی پر اسے دیکھا ہے سر ا ہا ہی ہے ۔میں ذاتی طور پر اس پروگرام کو بہت انجوائے کررہی تھی کیونکہ یہاں کراچی میں تو ہمیں ڈرامہ انڈسٹری کے ماہرین سے ملنے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا ۔ہم نوجوانوں کے لئے تو کینیڈا میں یہ پروگرام کسی پارٹی سے کم نہیں تھا ۔اس لئے مجھے تویہ وقت بہت ہی قیمتی لگا ۔

(جاری ہے)


”خاموشی ،تعبیر اور سنو چندا ،اس برس آپ کے کیرےئر کے یہ کامیاب اور مقبول ترین ڈرامائی سلسلے رہے ۔اور سنا ہے کہ آپ چھ برس پہلے انڈسٹری میں آئیں اور لگا تار 15سیریلز کر لئے ،آپ کو یہ سفر کیسا لگا ؟“
”میں 14برس کی عمر میں یہاں آئی تھی اور اپنی کامیابی کا قطعی یقین نہیں تھا ۔میری امی نے مجھے تنہا ہی پالا ہے جب میں یہاں آرہی تھی تو وہ خوش نہ تھیں وہ ہر ماں کی طرح چاہتی تھیں کہ میں خوب پڑھوں اعلیٰ تعلیم حاصل کروں ۔میں اداکارہ بننا چاہتا تھی ۔مجھے بڑی بہن نے حوصلہ دیا اور امی کو منالیا ۔میں شروع شروع میں ہر نئی اداکارہ کی طرح سہمی سہمی سی رہتی تھی مگر اندر سے بہت پر اعتماد تھی ۔مجھے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ تھا حالانکہ میں نے اس وقت آپ اپنا جائزہ بھی نہیں لیا تھا ۔نہ کوئی کام ہی تھا میرے کریڈٹ پر مگر میں اپنے آپ سے نا امید نہیں تھی ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ٹیلی ویژن کمر شل ماڈل کے طور پر میں نے اپنا اڈیشن دیا تھا ۔پہلے منظر میں مجھے بولنا نہیں تھا میری بہن میرے ساتھ گئی تھی اسے انتظار گاہ میں بٹھا دیا گیا ۔جس فلور پر مجھے کھڑا کیا گیا نیچے زینہ تھا اور جب میں نے نیچے جھانکا تو نیچے باقاعدہ سیٹ لگا تھا اور کوئی لوگ موجود تھے ،میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔خود کو بڑی مشکل سے سنبھالا اور اڈیشن دے دیا ۔وہ دن اور آج کا دن پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔“
”اس وقت کیا سوچتی تھیں آپ ؟“
”میں آئینہ دیکھا کرتی تھی اور خود سے ہمکلام ہوتی تھی کہ اقراء تم سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں ۔تم نے کچھ بن کر دکھا نا ہے۔ اصل میں و ہی میرا بہترین اور جدوجہد والا دو ر تھا ۔شروع شروع میں اپنی گرومنگ کا ایسا خیال ہی نہیں ہوتا تھا ۔آج وقت کتنا بدل گیا ہے ۔ہمیں اپنے آپ کو فٹ رکھنے ،میک اپ کرنے کا سمیٹکس کے انتخاب میں بہترین لپ اسٹک ،مسکارا اور فیس واش وغیرہ کا کتنا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔اس وقت یہ خیال ہی نہیں رہتا تھا کہ لوگ ہمیں دیکھ کر کیا کہیں گے ۔میں تو اب بھی اپنے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی ۔بس مجھے خوبصورت نظر آنا چاہئے اور بس ۔پھر میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ انسان کو اپنے اندر سے خوبصورت ا ور پیار ا ہونا چاہئے ۔مثبت سوچ رکھنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ لوگ آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کریں ۔“
”تب اچھے Commentsآتے تھے یا اب آتے ہیں ؟“
”ملے جلے آتے رہے ۔کبھی اچھے تو کبھی گوارا کہہ سکتے ہیں ۔“
”آپ کتنی سوشل ہیں ،میرا مطلب ہے سوشل میڈیا سے رابطے میں رہتی ہیں یا نہیں ؟“
”میں نے اس سال ساتھی اداکاروں کے کہنے پر اپنی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کی ہیں ۔وہ بھی جب میں اپنی بہن کے ساتھ باہر چھٹیوں پر گئی تھی تب اس کے کہنے پر خود میں نے حوصلہ پایا ورنہ میں تو غلط استعمال کے خطرے میں رہتی تھی ۔تیرا کی کا مجھے شوق ہے۔میں نے پول والی تصویر محتاط انداز میں پوسٹ کی تھی مگر یہ میری ذاتی زندگی ہے ۔اگر میری فیملی میرے ساتھ نہ ہوتی تو یقینا لوگ برے Comments دیتے۔ہمارے یہاں سوشل میڈیا پر جا وبے جا تنقید ہوتی رہتی ہے بلکہ یہ تو تنقید کا گڑھ ہی ہے ۔اس لئے کم سے کم رابطے میں رہنے کی کوشش کرتی ہوں ۔“
”اسکرین پر آپ بڑی بڑی سی نظرآتی ہیں اور آپ نے دگنی عمر کے آرٹسٹوں کے مقابل بھی کردار قبول کر لئے یہ کیسا تجربہ لگا ؟“
”تجربہ تو اچھا رہا۔میں اب 21برس کی ہوئی ہوں جبکہ میرے مقابل تیس ،پینتیس اور چالیس برس کے ہیروز نے بھی کام کیا ہے ۔انڈسٹری میں تو سب ہی میچور ہیں اور جیسی کا سٹنگ ہو جائے پھر کام تو کرنا پڑتا ہے ۔میرے مقابل جتنے لوگ آئے سب تعلیم مکمل کر چکے ایک میں ہی ابھی تک زیر تعلیم ہوں ۔ مجھے سوچ سوچ کر دباؤ محسوس ہوتا ہے کہ سب ہی منجھے ہوئے آرٹسٹ میرے حصے میں آرہے ہیں ۔“
”اس دباؤ کے علاوہ اور کون کون سے دباؤ محسوس کرتی ہیں ،انڈسٹری ہے کیسی؟“
”انڈسٹری بری نہیں ۔روےئے شاکی ہو جاتے ہیں ۔لوگ برداشت کا مادہ کم رکھتے ہیں ۔میں جب رمضان کی ڈرامہ سیریل’سنو چندا، کررہی تھی تب ذرا دباؤ میں تھی ۔یہ رومینٹک کامیڈی سیریل تھا ۔جس میں دو کزن ٹام اینڈ جیری کی طرح لڑتے بھڑتے محبت کر بیٹھتے ہیں ۔فرحان سعید نے کمال کی اداکاری کی ۔ہم نے دو ماہ میں 32اقساط ریکارڈ کیں جسے ہر روز افطار کے بعد پیش کیا جاتا رہا تھا ۔19سین ہر روز ریکارڈ کرانے صبح سے رات 3یا 4بجے تک (اگلی صبح )کام کرنا ،اپنی فیملی سے دور رہنا قطعی آسان نہیں تھا ۔اگر اس دوران اچھا کھانا نہ ملتا تو میں کام نہیں کر سکتی تھی ۔کھانا میرے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے ۔اور وہ بھی صاف ستھرا اچھا کھا نا ۔“
”اداکاری کے کیرےئر میں آپ کا Personal Goalکیا ہے ؟“
”میں اتنا ضرور کمانا چاہوں گی کہ اپنی امی کو ایک بہتر گھر دلواسکوں ۔اس وقت ہم تیس برسوں سے آبائی گھر میں رہ رہے ہیں جو بلاشبہ ہمیں عزیز بھی ہے لیکن ہر انسان بہتر لائف اسٹائل چاہتا ہے ۔میں محبت کرنا چاہتی ہوں تا کہ میری امی اور بہنیں عزت اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کریں ۔“
”خاموشی میں اپنی بہن سے دشمنی کرنے پر آپ کو تنقید کا سامنا تو کرنا پڑا ہو گا ؟“
”میرے ڈائریکٹر الیاس کا شمیری ہر سین شوٹ کرنے کے بعد مجھے کہتے تھے “تم سے برا کوئی نہیں “اور واقعی لوگوں نے اس کردار میں مجھے بہت لعن طعن کی کہ میں کتنی بری بہن ہوں ہونے والے بہنوئی پر بری نظر رکھی اور بہن کا گھر بستے بستے اجاڑ دیا ۔میرا خیال ہے کہ اداکاری کی یہی بہت بڑی کا میابی ہوتی ہے کہ کردار کی مناسبت سے اسے فیڈ بیک ملے ۔مگر میرے ساتھ اچھی بات یہ رہی کہ اسی وقت تعبیر شروع ہو چکا تھا اور اس میں میرا کردار پاز یٹو تھا تو اس طرح بہت حد تک میرا تاثر متوازن ہو گیا ۔تعبیر کے ڈائریکٹر احسن طالش تھے جبکہ عمران اشرف نے اسے بہت توجہ سے لکھا اور میرے کردار کے ساتھ عوامی ہمدردیاں ہو گئیں ۔“
”آپ کا پسندیدہ میک اپ آرٹسٹ کون ہے ؟“
”زین زیدی میرا اچھا میک اپ کرتے ہیں ۔“
”اور پسندیدہ کردار ؟“
”ابھی انتظار میں ہوں دیکھئے ابھی میری عمر بھی کم ہے اور مرکزی کر دار ویسے تو مل رہے ہیں لیکن اور اچھے پر تاثر کرداروں کے انتظار میں ہوں مجھے نہیں پتہ کہ اور آگے کتنی دور جانا ہے ۔“

مزید لالی ووڈ کے مضامین :