ملکہ ترنّم نُور جہاں

جنگ ستمبر کے ملی نغمے گا کر انہیں ہمیشہ کیلئے امر کردیا ثقافتی سفیر کی حیثیت سے دنیا بھر میں ملک کا روشن کا نام کیا

اتوار 23 دسمبر 2018

طارق منیر بٹ
قصور کو نہ صرف اولیاء اللہ بلکہ فنکاروں کی دھرتی بھی کہا جاتا ہے ۔اسے کئی نامور فنکار متعارف کرانے کا اعزازحاصل ہے جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ۔ان میں ایک نام ملکہ ترنم نور جہاں کا بھی ہے ۔ان کا اصلی نام اللہ وسائی تھا۔جنگ ستمبر 65ء میں ان کے لافانی ملی نغموں کی وجہ سے انکا نام تاریخ کے اور اق میں ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا ۔
ان کا شوبز کیرئیر چھ دہائیوں 1930ء سے 1990ء تک محیط تھا ۔کیرئیر کے آغاز میں انہیں ”بلبل ہند“کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔وہ جنوبی ایشیاء کی بااثر گلوکارہ کی حیثیت سے بھی مشہور تھیں ۔سریلی اور مدھر آواز کی وجہ سے انہیں ملکہ ترنم کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔گلوکار احمد رشدی کے ساتھ سب سے زیادہ فلمی گانے گائے۔

(جاری ہے)


فلمی کیرئیر کے دوران 40سے زائد فلمیں اور 20ہزار سے زائد گانے گائے ۔انہیں آل ٹائم گریٹ پاکستانی گلوکارہ کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔دبنگ ،سحر انگیز اور گلیمرس پر سنلٹی کی وجہ سے انہیں مشرق کی مارلن منرو بھی کہا جاتا تھا ۔پہلی پاکستانی خاتون فلم ڈائریکٹر کی حیثیت سے شہرت پائی۔
نور جہاں قصور کے ایک معروف گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ان کے والد امداد علی اور والدہ فتح بی بی گیارہ بچوں کے والدین تھے ۔ان کی پہلی فلم متحدہ ہندوستان میں ”ہمجولی “کے نام سے ریلیز ہوئی۔ پانچ سال کی عمر میں گانا شروع کیا۔فوک اور پاپولر تھیٹر سے بچپن میں ہی گہری رغبت تھی ۔ان کی خوبصورت آواز کو بھانپتے ہوئے والدہ نے انہیں بر صغیر کے معروف کلاسیکل گائیک استاد بڑے غلام علی خان سے تربیت کےئے بھجوایا جنہوں نے انہیں پٹیالہ گھرانے کی ٹھمری ،درپت اور خیال کی گائیکی کی تربیت تجویز کی ۔
9سال کی عمر میں پنجابی موسیقار غلام احمد چشتی کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں جنہوں نے انہیں لاہور کی سٹیج میں متعارف کرایا۔
انہوں نے ہی ان کے لئے غزلیں ،نعتیں اور گانے کمپوز کئے تا کہ وہ انہیں فن کے مظاہرے کے دوران گاسکیں ۔وہ کیشنل تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنی بہن کے ہمراہ میوزک کیرئیر کی خاطرلاہور آگئیں ۔یہاں وہ لائیو گانوں اور رقص کی پر فارمنس میں حصہ لینے لگیں ۔
تھیٹر کے مالک دیوان سرداری لعل انہیں 1930ء میں اپنے ساتھ کلکتہ لے گئے۔تا کہ اللہ وسائی اور ان کی بہنیں عید ن بھائی اور حیدر بندی فلمی کیرئیر کا آغاز کر سکیں ۔مختار بیگم نے انہیں فلم کمپنیاں جوائن کرنے کیلئے مختلف کمپنیاں تجویز کیں ۔انہوں نے ہی انہیں اپنے شوہر آغاحشر کشمیری کے پاس بھی بھجوایا جو ایک تھیٹر کمپنی چلاتے تھے ۔یہاں انہیں بے بی نور جہاں کانام دیاگیا۔”پنڈدی کڑیاں“ بھی ان کی کامیاب فلم تھی ۔بھارت میں کامیاب فلمی کیرئیر کے بعد نور جہاں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔یوں شوکت حسین رضوی اور نور جہاں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ۔
پاکستان منتقل ہونے کے تین سال بعد پہلی پاکستانی فلم ”چن وے “ میں سنتو ش کمار کے مد مقابل ہیروئن کا کردار ادا کیا ۔یہ ان کی پلے بیک سنگر اور ہیروئن پہلی پاکستان فلم تھی ۔شوکت حسین رضوی اور نور جہاں نے تب فلم ”دوپٹہ “ڈائریکٹ کی ۔اسے اسلم لودھی نے پروڈیوس کیا جبکہ سبطین فاضلی ڈائریکٹر تھے ۔یہ فلم ”چن وے “سے بھی زیادہ کامیاب ثابت ہوئی ۔
اگلے دوسالوں کے دوران شوکت حسین رضوی اور نورجہاں میں اختلافات پیدا ہو گئے اور ذاتی ایشوز کی وجہ سے طلاق لے لی مگر تینوں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری خود اپنے ذمے رکھی ۔1959ء میں اداکار اعجاز درانی سے دوسری شادی کرلی جوان سے نوسال جو نےئر تھے ۔ان کی جانب سے میڈم پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اداکاری کو خیر باد کہہ دیں ۔بطور ہیروئن ”مرزا غالب“انکی آخری تھی جو 1961ء میں ریلیز ہوئی۔فلم ”قیدی“نے میڈم کے آئیکون سٹیٹس کو مزید مضبوط کیا۔فیض احمد فیض کے گیت ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگے ”کو رشید عطر ے کی کمپوزنگ میں گاکر اسے ہمیشہ امر کر دیا ۔ان کی آخری فلم ”باجی “تھی جس میں معاون اداکاری جلوہ گر ہوئیں ۔
33سالہ فلمی کیرئیر کے بعد اسے خیر باد کہہ دیا کیونکہ ان پر نہ صرف چھ بچوں بلکہ دوسرے شوہر کی جانب سے بھی فلم کیرئیر کو چھوڑنے کیلئے دباؤ تھا ۔میڈم نور جہاں نے پاکستان میں کل 14فلمیں کیں جن میں سے 10اردو اور چار پنجابی تھیں ۔
ساٹھ کی دہائی فلم ”صائمہ “سے باقاعدہ پلے بیک سنگر کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز ۔حالانکہ 1951ء کی فلم ”چن وے“میں بھی پلے بیک سنگر کی حیثیت سے گاچکی تھیں ۔اس فلم کی ڈائریکٹر بھی وہ خود تھیں ۔مشہور زمانہ گلوکار احمد رشیدی ،مہدی حسن ،مسعود رانا،نصرت فتح علی خان کیساتھ ان کے دوگا نے بہت زیادہ مشہور ہوئے ۔ان کی جنوبی ایشیاء کے کئی سنگرز کے ساتھ دوستی تھی جن میں عالم لوہار اور کئی دیگر شامل تھے ۔
معروف کلاسیکل گائیک استاد سلامت علی خان ،استاد فتح علی خان ،استاد فتح علی خان ،استاد نصرف فتح علی خان کی محافل لائیو کنسرٹ میں شرکت کرتی تھیں ۔ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم ،لتا منگیتشکر اور استاد نصرت فتح علی خان ان کی کم اور اونچے رینج میں گائیکی میں یکساں مہارت کے معترف تھے ۔ان کی آواز نوے کی دہائی کی دبلی پتلی ہیروئنز نیلی اور ریماپر بھی فٹ بیٹھتی تھی ۔وہ صحیح معنوں میں پاکستان کی کلچرل سفیر تھیں ۔ورلڈ سانگ فیسٹیول 1971ء میں پاکستانی کلچرل سفیر کی حیثیت سے شرکت کی ۔
انڈین ٹاکی موویز کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر بھی میڈم نے بھارت کا دورہ کیا جہاں نئی دہلی میں انکی ملاقات انڈین پرائم منسٹر اندر اگاندھی سے ہوئی ۔انہیں بمبئی میں دلیپ کمار اور لتا منگیتشکر نے خوش آمد کہا۔متحدہ ہندوستان میں اپنے ساتھ کام کرنیوالے ہیروز اور کوسٹارز سے بھی ملاقات کیں جن میں سندر ا،ثریا ، پران اور موسیقار نوشاد بھی شامل تھے۔
ملکہ ترنم نور جہاں کو پہلی پہلی مرتبہ 1986ء کے دورہ امریکہ میں چھاتی کا درد ہوا ۔بعدازاں انجائنا درد کی وجہ سے بائی پاس تجویز کیا گیا ۔کراچی ہسپتال میں علاج کے دوران 2000ء میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔23دسمبر2000ء 27رمضان المبارک کو دل کادورہ پڑنے سے انتقال کرگئیں ۔انہیں کراچی میں ہی جامع مسجد سلطان میں دفن کیا گیا۔
40ہزار افراد نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے ان کے انتقال کی خبر پر انہیں ریاستی پروٹو کول دینے کا اعلان کیا گیا۔
ملکہ ترنم نے شوبز کیرئیر کے دوران پلے بیک سنگر کی حیثیت سے 15نگار ایوارڈز جیتے ۔ان میں سے 8اردو اور 7پنجابی فلموں کے گانے تھے۔1945کی فلم ”زینت “پرزیڈاے بخاری کی جانب سے گولڈ میڈل دیا گیا ۔محمد علی جناح کے بعد انہیں پاکستان کی بااثر ترین شخصیات میں 8ویں پوزیشن پر فائز کیا گیا۔عظیم بھارتی گلوکار محمد رفیع ہمیشہ ان کے ساتھ دو گانے کے خواہش مند رہے ۔
بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے نے انہیں اپنی پسندیدہ ترین گلوکارہ قرار دیا۔وہ برصغیر کی پہلی خاتون گلوکارہ تھیں جنہوں نے فلم ”’زینت “کیلئے قوالی گائی۔1957ء میں فلم ”انتظار “پرصدارتی ایوارڈ جیتا۔
1965ء میں انہیں جنگی ملی ترانے گانے پرسپیشل نگارایوارڈ سے نوازا گیا۔روشن آراء بیگم کے بعد وہ دوسری پاکستان خاتون گلوکارہ تھیں جنہیں پرائیڈ آف پر فارمنس جیتا۔جنگ ستمبر 1965ء میں قوم کا مورال بلند کرنے پر پاک آرمی کی طرف سے تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔
واحد پاکستانی گلوکارہ ہیں جنہیں مصری گلوکارہ ام کلثوم کے ساتھ گانے کا اعزاز حاصل ہوا ۔1987ء میں انہیں این ٹی ایم لائف ٹائم ایمچیو منٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔1991ء میں لندن ایلبرٹ ہال میں
گانے والی پاکستانی گلوکارہ بن گئیں ۔1996ء میں انہیں ستارہ امیتازسے نوازا گیا۔1999ء میں سنگر آف میلینیم ایوارڈ سے نوازا گیا۔2000ء میں پی ٹی وی نے انہیں وائس آف سنچری قرار دیا۔
2014ء میں انہیں پاکستان کی آل ٹائم قرار دیا گیا۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :