15 سال تک بالی وُڈ کی ضروُرت رہیں

رینارائے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ کا اعزاز بھی حاصل رہا

جمعہ دسمبر

15 saal tak Bollywood ki zaroorat rahen

سلیم بخاری
پہلی قسط
سائرہ علی کا نام لے کر پیدا ہونے والی رینارائے نے مسلمان باپ اور پنجابی ہندو ماں کے گھر میں 7جنوری1957ء کو آنکھ کھولی ،والد صادق علی اور والدہ شاردارائے کا تعلق بھی فلمی دُنیا سے تھا ۔صادق علی تو فلموں میں معمولی نوعیّت کے کردار کیا کرتے تھے جبکہ شاردانے فلم ”باورے نین“میں اداکاری کی بعدازاں ”گنہگارکون“کے نام سے ایک فلم پروڈیوس بھی کی ۔صادق علی سے علیٰحدگی اختیار کرنے کے بعد شاردانے اپنے تینوں بچوں کے نام تبدیل کر دےئے۔یوں پہلے سائرہ علی روپا رائے بنی اور بعد میں ان کی ایک فلم ”ضرورت“کے پروڈیوسر بی آراشارہ نے ان کا نام تبدیل کرکے رینا رائے رکھ دیا۔
رینا رائے پر مزید کچھ لکھنے سے پہلے ایک دلچسپ اتفاق کا ذکر بھی یہاں ضروری ہے ۔

(جاری ہے)

ہماری کرکٹ ٹیم کے اُس وقت کے کپتان اور اب کے وزیراعظم کے بھارتی اداکارہ زینت امان کے ساتھ سکینڈل کے حوالے سے اخباری اور فلمی جرائد کی سُر خیاں کسے یاد نہیں،یوں لگتا تھا کہ عمران خان اسے پاکستانیوں کی بھابی بنا کر آج لائے یا کل لائے مگر ان کے ارادے کچھ اور ہی تھے ،پھر محسن حسن خان نے رینا رائے کو مختصر دورانیے کے رومانس کے بعد پاکستانیوں کی بھابی بنا دیا۔
اس کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک اور کپتان شعیب ملک نے بھی ایسا ہی معرکہ سر انجام دیا اور بھارتی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کو پاکستان کی بہو بنا لائے۔عمران خان نے راہ فرار اختیار کی جبکہ محسن حسن خان نے رینا رائے کو طلاق دے دی ،اب صرف شعیب اور ثانیہ ہی ہنسی خوشی بس رہے ہیں ۔رینارائے کی فلمی زندگی کے بالی وُڈ میں دوادوار ہیں ۔پہلا دور 1972ء سے1985ء(13سال )اور دوسرا دور 1999ء سے2000ء (دوسال)پر مُحیط ہیں ۔
اپنے پہلے دو ر میں اُنہیں بھارت کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اداکارہ کا اعزاز بھی حاصل تھا
1998ء میں انہیں فلم فےئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔اپنے پہلے دور میں رینا رائے نے فلموں میں ہندی خاتون کا جوخاکہ پیش کیا وہ نہ صرف نرالا تھا بلکہ عوامی سطح پر بھی اسے بہت پذیرائی ملی ۔فلم ”اپناپن“جو1997ء میں ریلیز ہوئی میں اعلیٰ اداکاری پر انہیں فلم فےئر ایوارڈ برائے بہترین معاون اداکارہ سے نوازا گیا۔
بہترین اداکارہ کے طور پر فلم فےئر ایوارڈ کے لئے پہلی بار انہیں 1976ء میں بننے والی فلم ”ناگن “میں اداکاری پر نامزد کیا گیا تھا ۔رینا رائے کا فلمی کیرےئر1970ء میں اس وقت شروع ہوا جب فلم میکر بی آراشارہ نے انہیں ایک نوواردادا کارڈ ینی ڈینز ونگپا(Danny Denzongpa)کے ساتھ فلم ”نئی دُنیانئے لوگ “میں کاسٹ کیا مگر یہ فلم ڈبوں کی زینت بن گئی۔تاہم بی آر اشارہ نے دونوں ہی فنکاروں کو 1972ء میں بننے والی اپنی فلم ”ضرورت“میں بھی کاسٹ کر لیا جس میں ایک نئے اداکاروجے اروڑوہ بھی شامل کئے گئے تھے ۔
وہ فلم تو زیادہ کامیاب نہ ہوسکی مگر رینارائے فلم میکرز کی نظروں میں ضرور آگئیں اور بالی وڈ میں ”ضرورت گرل“کے نام سے مشہور ہو گئیں ۔آئندہ چار سال تک رینا رائے نے بی گریڈ فلموں میں کام کیا جس کی بڑی وجوہات کمزور سکرپٹ اور ناکام ہیروز تھے لیکن 1973ء میں بننے والی فلم ”جیسے کویتسا“میں رینارائے نے جاندار اداکاری کی بلکہ اسی فلم میں جتندر کے ساتھ بارش میں بھیگتے ہوئے ایک گانے”اب کے ساون میں جی ڈولے ‘پر رینا رائے کی اداکاری نے سب کو چو نکا کے رکھ دیا تھا ۔
1976ء میں رینارائے کے کیرےئر میں ایک اور موڑ آیا جب انہیں فلم ”ناگن“میں سائن کیا گیا،اسی سال انہیں فلم ”کالی چرن “میں بھی کاسٹ کیا گیا جسے سبھاش گئی اور اداکارکے طور پر ناکام ہونے کے بعد پہلی بار ڈائریکٹ کررہے تھے ۔ا س فلم کی ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ عام طور پر ولن کا کردار کرنے والے شتروگھن سِنہا اس فلم میں ہیرو کے طور پر کام کررہے تھے اور تمام اندازوں کے برعکس یہ فلم سُپر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔
اس فلم میں شُتر و اور رینا کی جوڑی کو بھی فلم بینوں نے پسند کیا جس کے بعد دونوں نے کئی فلموں میں اکٹھے کام کیا جن میں سبھاش گئی کی بلاک بسٹر فلم ”دشواناتھ“بھی شامل ہے جو 1978ء میں ریلیز ہوئی ۔یہ وہ دور تھا جب فلمی حلقوں اور میڈیا میں دونوں کے رومانس کے قصّے زبان زدِعام تھے لیکن یہ رومانس اُس وقت دم توڑ گیا جب شترو گھن سِنہا نے 1981ء میں ایک سابقہ اداکارہ پونم سِنہا کے ساتھ گھر بسالیا۔رینا رائے کے لئے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا ۔وہ دل گرفتہ اور دل شکستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کیرےئر کے لئے بھی تگ ودو کررہی تھیں مگر حالات سے مایوس ہر گز نہ تھیں ۔
رینا رائے کی والدہ کی خواہش تھی کہ شتروان کی بیٹی سے شادی کرے مگر شتر ونے کورا جواب دے دیا۔
شتروکی جانب سے ٹھکرائے جانے کے بعد رینا رائے نے پاکستانی کرکٹر محسن خان سے ناطہ جوڑ لیا ،اسی تعلق کی وجہ سے محسن خان کو بھی چند ہندی فلموں میں ادکاری کے جوہر دکھانے کا موقع مل گیا۔دوسری طرف رینا رائے کی شتروگھن سِنہا سے خفیہ شادی کی باتیں بھی ہونے لگیں بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ شترو کی بیٹی سونا کشی در حقیقت رینا رائے کے بطن سے پیدا ہوئیں کیونکہ دونوں کی شکلوں میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے مگر خود رینا رائے نے اس کی تردید کردی ۔
رینا رائے خوب صورت بولتی آنکھوں کی مالک تھیں ،وہ رومانوی اور جذباتی طور پر شتروگھن کے ساتھ منسلک رہیں بلکہ ذہنی طور پر اُسے اپنا شوہر تسلیم کر چکی تھیں لیکن ان سے حتمی طور پر مایوس ہونے کے بعد وہ محسن حسن خان کی طر ف مائل ہوئیں ۔اس سے پہلے انہوں نے شتروگھن کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ا س نے سات دن کے اندر اس سے شادی نہ کی تو وہ زندگی میں آگے بڑھ جائے گی مگر اس دھمکی کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا ۔یوں انہوں نے محسن خان سے قربت بڑھالی جوخود ایک دلکش شکل وصورت کے مالک تھے ۔
محسن خان نے رینا رائے سے مختصر تعلقات کے بعد شادی کرلی اور ممبئی میں رہائش پذیر ہو گئے ۔ رینا رائے اور محسن خان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام جنت رکھا گیا تھا مگر طلاق کے بعد رینا رائے نے اُس کا نام جنت کی بجائے صنم رکھ دیا۔محسن خان اور رینا رائے کے درمیان آخر ایسا کیا ہوا کہ دونوں نے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ؟ایک انٹرویو میں رینا نے خود اس حوالے سے کہا تھا:”محسن چاہتے تھے ہم لندن میں برطانوی شہری کے طور پر سکونت اختیار کرلیں مگر مجھے یہ منظور نہیں تھا کیونکہ میں محسن اور اس کے دوستوں کے عیاشیانہ طرز زندگی سے مطمئن نہیں تھی ،آہستہ آہستہ ہمارے درمیان تلخی بڑھنے لگی اور مجھے احساس ہونے لگا کہ میں اور محسن خان ایک دوسرے سے مختلف تشخص کے مالک ہیں اور مجبوراً شادی کے بندھن میں بندھ گئے ہیں ۔
تب میں نے اپنی والدہ سے اس سلسلے میں بات کی اور ان سے دریافت کیا کہ شادی کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ماں نے کہا کہ شادی کا مطلب تو نبھا لینا ہوتا ہے اور اگر تم نبھا سکتی ہوتو نبھا ہ لو اس لئے میں نے ماں کی بات مان لی ورنہ تو میں بہت پہلے ہی محسن سے الگ ہو گئی ہو تی مگر یہ نبھا ہ پھر بھی نہ ہوسکا اور ہم دونوں نے 1990ء کی دہائی میں علیٰحدگی کا فیصلہ کر لیا۔میں لندن سے ممبئی اور محسن لندن سے کراچی سد ھار گئے ۔وہ چونکہ جنّت کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے تو مجھے اسے حاصل کرنے کے لئے بہت تگ ودو کرنی پڑی ،محسن نے جب تیسری شادی کی تو جنّت مجھے لوٹا دی اور میں نے اس کا نام صنم رکھ دیا۔
صنم اب بھی اپنے والد کے ساتھ رابطے میں رہتی ہے۔“محسن خان کے بارے میں اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے رینا نے ایک انٹرویو میں کہا:”میرے دل میں محسن کے خلاف کچھ نہیں ،میرے بعد انہون نے دو شادیاں کیں ،ان کی تیسری بیوی ان کا بہت خیال رکھتی ہیں ۔محسن صنم سے بھی رابطے میں رہتے ہیں اور صنم بھی ان سے بہت پیا ر کرتی ہے۔‘ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ محسن خان کی پہلی بالی وُڈ فلم جے پی دتہ کی ”ہٹوارا“1989ء میں بنی تھی جبکہ رینا رائے کی آخری فلم ”رفیوجی “کے فلم میکر بھی جے پی دتہ ہی تھے ۔محسن خان سے شادی کا بندھن ٹوٹ جانے کے بعد رینا نے ایک ایکٹنگ سکول شروع کردیا تھااور وہ سکون سے ممبئی میں رہتی ہیں۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments