15 سال تک بالی وڈ کی ضرورت رہیں (قسط 2)

یہاں شتروگھن کی داستان بھی آپ کے گوش گزار کرنا بہت ضرروی ہے ۔وہ کہتے ہیں:”میں ہر مرد کو بتانا چاہتا ہوں کہ شادی شدہ ہونے کے ساتھ عشق کرنا آپ کو مجرم ضمیر بنا دیتا ہے

ہفتہ دسمبر

15 saal tak Bollywood ki zaroorat rahen part 2

کیونکہ جب آپ گھر پر ہوتے ہیں تو آپ میں یہ احساس جرم ہوتا ہے کہ آپ اپنی محبوبہ کودرگزرکررہے ہیں اور جب آپ اپنی محبوبہ کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ کو بیوی کے خلاف اقدام جُرم کا احساس تنگ کرتا ہے۔“چونکہ شتروگھن بر ملا اندر کی بات اور پوشیدہ احساسات کا برملا اظہار کر دیتے ہیں اسی لئے ان کی آپ بیتی کا نام ”اینی تِھنگ بٹ خاموش“(Anything But Khanmosh)ہے۔
شتروگھن کی زندگی میں بہت سی خواتین رہی ہیں جن میں سے کسی ایک کا انتخاب ان کے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا،وہ اکثر مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ میرا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میں کس سے شادی کروں بلکہ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں کس سے شادی نہ کروں ۔وہ کہتے ہیں:”میں تو ایک طویل قامت اور بہت پڑھی لکھی بزنس ایگزیکٹوساؤتھ انڈین برہمن لڑکی کے ساتھ دن بسر کررہا تھا اور میرے ساتھ ایک چھوٹے قد کی لڑکی بھی تھی جواب شادی شدہ ہے ۔

(جاری ہے)


میری بہت زیادہ گرل فرینڈ ز میں ایک خوبی یہ تھی کہ انہیں میرے پونم سِنہاسے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہ تھا ۔ان میں سے کئی ایک نے تو ابھی تک شادی نہیں کی۔“شتروگھن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ رینا رائے نے یہ جان لینے کے بعد ،کہ وہ پونم سے شادی کرنے جارہے ہیں ،کہا تھا کہ پونم کے علاوہ اگر تم نے کسی سے شادی کی تو میں اسے جان سے ماردوں گی لیکن رینا رائے نے میری شادی کے وقت کوئی ہنگامہ کھڑا نہ کیا ،درحقیقت رینا اور شترودونوں لندن میں ایک اسٹیج شو پیش کررہے تھے اور دو دن بعد شترو اور پونم کی شادی تھی ۔
رینا رائے تو اس حد تک برداشت کا مظاہرہ کررہی تھیں کہ اگلے روز وہ خود گاڑی چلا کر شترو کو ہیتھرو اےئر پورٹ چھوڑنے آئیں اور اگر دیکھا جائے تو یہ حیران کن بات ہے کہ دونوں (رینا رائے اور پونم ) نا قابل یقین حد تک شترو سے تعاون کررہی تھیں ۔شتروگھن سے الگ ہو کر رینا رائے بہت دنوں تک اُلجھی رہیں ،کبھی وہ آشرم چلی جاتیں تو کبھی امریکہ جا کر وقت گزارتیں ۔شترسے ٹیلی فون پر بات چیت کرنابھی انہوں نے ختم کردیا تھا کیونکہ شتروسے وہ مقام نہ ملنے کا گلہ تھا جسے وہ اپنا حق سمجھتی تھیں۔ کرکٹر
محسن خان کو شریک حیات بنانے کا فیصلہ بھی رینا کوراس نہ آیا اور وہ علیٰحدگی کے بعد ایک سنگل عورت کی حیثیت سے لندن سے واپس بمبئی آگئیں اور جنّت کی سپردگی کے لئے کوشاں ہو گئیں ۔کچھ قریبی دوستوں کا خیال ہے کہ جنّت کے حصول میں شتروگھن نے رینا کی بہت مددکی ۔اس حوالے سے جب شتروسے سوال کیا گیا تو وہ کہنے لگے:”مجھے بڑھا چڑھا کرکریڈٹ لینے کی عادت نہیں ،میرے دل میں آج بھی رینا کے لئے عزت واحترام اور شفقت کے جذبات ہیں ۔
میری شادی کے حوالے بھی اس کا کردار قابل ستائش ہے اور میں اس کے لئے رینا رائے کا ہمیشہ ممنون رہوں گا۔“جب بھی ہماری ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی ہے تو ایک وقار کا عنصر بدرجہ اُتم موجود رہتا ہے۔“شترو کے ایک دوست ڈاکٹر اُپندر ا سِنہا کہتے ہیں کہ شترونے مجھے ایک بار کہا تھا کہ رینا رائے مجھے پیار کرتی ہے تو پونم میری پوجا کرتی ہے ۔
دوسری طرف سوناکشی سِنہا نے کافی دیر تک میڈیا میں اپنے حوالے سے ہونے والے پراپیگنڈے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے والد اور رینا رائے کے رومانس کا قصّہ میری پیدائش سے پہلے کاہے ،میں جب بڑی ہوئی تو مجھے ادراک ہوا کہ سب کیسے ہوا؟تا ہم میں اپنے باپ کو کسی ایسے کام پر سزا کا مستحق قرار نہیں دے سکتی جو سالوں پہلے ہوا تھا۔میرے نزدیک ہر شخص کا ایک ماضی ہوتاہے۔لہٰذا میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتی نہ ہی اسے توجہ کے قبل سمجھتی ہوں کیونکہ ایسے قصّے نہ صرف اخباری سُر خیوں کا باعث بنتے ہیں بلکہ لوگوں کو گپیں لڑانے کا موقع بھی ملتا ہے ۔
اپنے رینا کی ہمشکل ہونے کے حوالے سے سوا ل پر سونا کشی سِنہا نے کہا کہ مجھے تو اس دعویٰ کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔میرا تو یہ خیال ہے کہ میں اپنی ماں کی ہم شکل ہوں ۔رینا رائے کے حوالے سے شتروگھن نے اپنی سوانح عمری میں بہت دلچسپ انکشافات کئے ہیں ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا:”اینی تھنگ بٹ خاموش میں میری زندگی کے حوالے سے جو مواد ہے اس میں سب کچھ موجود ہے کہ کیسے میں گھر چھوڑ کر پونا فلم انسٹی ٹیوٹ گیا‘پھر کیسے بالی وُڈ میں کامیابی کے لئے تگ ودو کی ؟اس کتاب میں میری زندگی میں آنے والی لڑکیوں کا تذکرہ بھی ملے گا جن میں میری گھر والی (پونم سِنہا)اور باہر والی (رینا رائے)کا بھی تفصیلاً ذکر ہے۔“
یہ سوانح عمری بھارتی ایس پرادھن نے تحریر کی ہے ،کتاب میں رینا رائے سے شترو کے رومانس پر پورا ایک باب شامل ہے۔شتروکا دعویٰ ہے کہ اس کتاب میں انہوں نے سچ بولا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کتاب مقبول بھی ہوئی اور اس کے مندرجات میں دلچسپی کا عنصر بھی موجود ہے ۔ان کا کہنا ہے :”میں نے کتاب میں سب کے وقار کا خیال رکھا ہے ،میں نے بہت سی لڑکیوں کا تو ذکر بھی نہیں کیا ،وہ اب آباد وشاداب ہیں ،ان کے بچے بھی ہیں اور میرے نزدیک یہ مناسب نہیں کہ ان کے نام لئے جائیں ۔
یہ کتاب 2016ء میں شائع ہوئی اور اس میں میرے مخالفین کے میرے بارے میں منفی خیالات بھی شامل ہیں ۔میں چاہتا تو ان گرے ایریاز کو ایڈٹ بھی کرسکتا تھا مگر میرا خیال ہے کہ اگر میں ایسا کرتا تو یہ کتاب ایک خوشامدی قسم کامواد بن کررہ جاتی ،میں جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں لہٰذا انہوں نے جو کچھ میرے بارے میں کہا وہ سب کچھ کتاب کا حصّہ بننا چاہیے تھا۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر پرادھن کو یہ کام مکمل کرنے میں سات سال سے زیادہ کا عرصہ لگا اور ان کا کہنا ہے کہ شترونے بہت سچ بولا ہے اور اپنے مخالفین کو دل کھول کر زہرافشانی کا موقع فراہم کیا ہے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments