فن کا سُلطان سُلطان راہی

فِلمی تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتی ایکشن اور دبنگ آواز میں مکالمے فلم بینوں کو سحر میں مبتلا کر لیتے

ہفتہ جنوری

fun ka Sultan Sultan raahi
 غزالی (گوجرہ)
عزت‘ شُہرت اور دولت دنیا میں ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتی لیکن فلمی دُنیا میں سلطان راہی کو اللہ تعالیٰ نے عزت ‘دولت اور شُہرت جیسی نعمت سے خوب نوازا۔فن کا سلطان سلطان راہی 24جون1938ء کو اُتر پردیش انڈیا میں پیدا ہوئے ،اصل نام محمد سلطان تھا ،فلمی دُنیا میں وہ کام کردکھایا جو پاکستان کی فلمی تاریخ میں کسی اور کے حصّے میں نہیں آیا۔


سلور سکرین پر اس عظیم فنکار کا چلنا ‘پھرنا‘اُٹھنا‘بیٹھنا اور بولنا کروڑوں دلوں پرراج کرتا رہا۔ان کے ایکشن اور دبنگ آواز میں مکالمے سینما ہال میں بیٹھے فلم بینوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر لیتے تھے ۔فلمی دُنیا میں بطور فائٹر قدم رکھا کیونکہ فلموں میں کام کرنے کا جنون تھا،وہ مردانہ وجاہت کے حامل فنکار تھے ،چہرے پر اگر چہ چیچک کے داغ تھے جو بعد میں خود بخود ختم ہو گئے تھے ۔

(جاری ہے)


سلطان راہی کو ابتدا میں بطور فائٹر جو کام ملتا اس سے گھر کا گزارا بمشکل ہوتا تھا ،بعد میں چھوٹے چھوٹے رول بھی ملنا شروع ہو گئے ۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بطور فائٹر اور فائٹر انسٹر کٹر کے طور پر بھی کام کیا ،
1970ء کے بعد چھوٹ موٹے کرداروں کے ساتھ ساتھ چند فلموں میں ولن کے رول بھی کئے ۔فلم ”بابل “میں یوسف خان کے ساتھ سلطان راہی کو پہلی بار پوری فلم (بابل )میں ایک بھر پور کردار ملا جس کے بعد ہدایت کار اسلم ڈار نے سلطان راہی کو بطور ہیر و اپنی فلم ”بشیرا“میں کاسٹ کیا،”بشیرا “ابھی زیر تکمیل تھی کہ اسلم ڈار کو فلمی دوستوں نے مذاق کرنا شروع کردیا کہ ”تُو نے ایک فائٹر کو اپنی فلم میں ہیرو لے لیا ہے جس کی تو شکل وصورت ہی فلمی ہیروجیسی نہیں ۔


لیکن اسلم ڈار کا ہر تنقید کرنے والے دوست کو ایک ہی جواب تھا کہ میں نے سلطان راہی کو فلم میں ہیرولے کر ایک تجربہ کیا ہے ،اگر میرا یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو پاکستان فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے اداکار اپنے گھروں میں بیٹھ جائیں گے ۔”بشیرا“ریلیز ہوئی تو ایک دو دن میں ہی پورے ملک میں ہر طرف بشیرا بشیرا ہو گئی جس کے بعد سلطان راہی نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔

کوئی وقت تھا کہ سلطان راہی لاہور صدر سے سٹوڈیو تک سائیکل پر آیا کرتے تھے اور بطور فائٹر مزدوری کی غرض سے سٹوڈیو تک سائیکل پر اتنا فاصلہ طے کرنا بھی تو ایک جنون تھا۔
1975ء میں دو بڑی فلمیں ”وحشی جٹ“اور ”شریف بدمعاش“سلطان راہی کے کریڈٹ پر کامیاب ہوئیں جس کے بعد دادا‘ڈنکا اور جیرا سائیں جیسی فلموں نے بھی سلطان راہی کی کامیابی میں اہم کردا ر ادا کیا۔

1978ء میں بننے والی فلم ”مولا جٹ “1979ء کے آغاز میں ریلیز ہوئی جو شاہکار ثابت ہوئی اور اس نے سلطان راہی کی ”شناخت “میں بھر پور کردار ادا کیا ور اس فلم نے فلمی دُنیا کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دےئے،مذکورہ فلم نے پاکستان فلم انڈسٹری کو بھی ایک پہچان دی اور لاہور کے ایک ہی سینما میں یہ فلم کئی سال تک بزنس کرتی رہی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس ایک فلم کی کمائی سے ایک نیا سینما بھی بنایا گیا
تھا ۔


اس فلم میں سلطان راہی کے گنڈا سے اور مصطفی قریشی کی کلہاڑی کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق نے ”مولا جٹ “کو مسلسل پانچ سال تک بین کئے رکھا۔اس فلم کی بھر پور کامیابی کی وجہ سے تمام بڑے فنکار گھروں میں بیٹھ گئے ،اس فلم میں پنجاب کی ثقافت کو کمال حد تک اُجا گر کیا گیا تھا۔”مولاجٹ “کے بعد سلطان راہی کو پنجابی فلموں کی کامیابی کی ”ضمانت “سمجھا جانے لگا۔


پاکستان فلم انڈسٹری میں”مولا جٹ“سے بڑی فلم آج تک نہیں بن سکی ،اس فلم میں سلطان راہی نے کام کرنے کا معاوضہ 80ہزار روپے لیا تھا۔شیر خان ‘چن وریام‘جٹ اِ ن لندن ‘لوہا‘چراغ بالی ‘شیردل‘ملنگا‘انٹر نیشنل گوریلے‘دارابلوچ‘وحشی گجر‘شہنشاہ‘ اللہ بادشاہ ‘جنگل دا قانون‘امیر خان‘یار دیس پنجاب دے‘جٹ گجر تے نت‘روشن جٹ‘
کالکا‘ تحفہ‘جانباز‘رنگاڈاکو‘بہرام ڈاکو‘خردماغ ‘الٹی میٹم‘پجاروگروپ ‘اکھڑاکا‘لاکھا گجر ‘چن سورما‘
طوفان ‘لال طوفان ‘کالا طوفان‘یارداسہرا‘اَن داتا‘جرنیل سنگھ‘موتی ڈوگر ‘مچھ جیل ‘محمد خان‘حسینہ 420‘
راستے کا پتھر ‘سر دھڑدی بازی‘آخری قربانی اور سدھار رستہ جیسی کامیاب فلموں میں سلطان راہی نے کام کیا۔

آسیہ ‘ممتاز‘نغمہ ‘انجمن ‘نیلی‘نادرہ‘ستارا‘نجمہ‘چکوری اور صائمہ جیسی کامیاب اداکارائیں سلطان راہی کی ہیروئن بنیں ۔
سلطان راہی کے ساتھ کام کرنے والی اداکارہ کامیاب ہیروئن سمجھی جاتی تھی ۔فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اداکار سلطان راہی کی فلاپ فلمیں بھی لوگ شوق سے دیکھا کرتے تھے ۔وہ انتہائی خدا ترس آدمی تھے اور غریب ومجبور لوگوں کو دل کھول کرمدد کیا کرتے تھے ،ان کے باطن میں ایک درویش تھا۔

ملک کی ایک روحانی شخصیت واصف علی واصف کی قربت بھی سلطان راہی کو میسر رہی ،دین سے انہیں گہری دلچسپی تھی ۔انتقا ل کے بعد چند برس پہلے تلاوت اور نعتوں کی کیسٹ بھی ریکارڈ کروائی ۔ایک سٹوڈیو میں اپنے خرچ پر مسجد تعمیر کروائی اور وہاں خود بھی اذان دیا کرتے تھے۔
سلطان راہی کی فلمیں دیکھنے والوں میں زیادہ تردیہاتی طبقہ شامل تھا ،یہ وہ واحد فنکار تھا جس کی سکرین پر انٹر ی کے وقت فلم بین خوب ہلہ گلہ کرتے اور اٹھ کر بھڑکیں مارا کرتے تھے ۔

سلطان راہی کو شعرو
شاعری سے بھی شغف تھا لیکن اس بات کا بہت کم لوگوں کو علم ہے ،صرف قریبی حلقہ ہی اس بات سے واقف تھا ۔ان کی سٹوڈیو آمد پر لوگوں کو میلہ لگ جاتا تھا اورا ن کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ گھنٹوں سٹوڈیو کے گیٹ پر کھڑے رہتے تھے ۔
اب جدید دور ہے قدریں تبدیل ہوگئی ہیں ،ہر شعبے میں ترقی ہو چکی ہے ۔سلطان راہی کے دور میں پاکستان کے ہر سینما کے فرنٹ پر لگنے والی اداکاروں کی تصویریں ہاتھ سے بنائی جاتی تھیں جنہیں ماہر پینٹر بناتے تھے ،سلطان راہی کی قد آدم تصویریں پینٹر زیادہ شوق سے بناتے تھے ،اکثر پینٹروں کو سلطان راہی کے چہرے کے خدوخال حفظ ہوگئے تھے ور تصویر دیکھے بغیر بڑے بڑے پورٹریٹ بنا دیتے تھے۔


اس لازوال فنکار نے تقریباً آٹھ سوفلموں میں کام کیا،سب سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے اس اداکار کانام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل ہے ۔انہوں نے دن رات کام کیا اور کسی بھی فلم ساز کی فلم سائن کرنے سے کبھی انکار نہ کیا،کسی کو پریشان کرنا ان کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔
سلطان راہی کے ساتھ ولن کے کردار میں مصطفی قریشی کو شائقین نے زیادہ پسند کیا اور یہ جوڑی برسوں تک فلم بینوں میں مقبول رہی ۔

مصطفی قریشی کے علاوہ ہمایوں قریشی ‘طارق شاہ ‘منصور بلوچ ‘جگی ملک‘ چنگیزی ‘الیاس کشمیری‘ آصف خان ‘نصرر اللہ بٹ‘ اسلم پرویز اور جمیل بابر نے بھی سلطان راہی کے مد مقابل ولن کے کردار کو خوب نبھایا۔سلطان راہی کو اپنے کام سے جنون کی حد تک عشق تھا ،”پہلا وار “اور ’شیرابلوچ “میں اپنے سر کے بال منڈوادےئے تھے ۔
فلمی تاریخ ایسے بڑے فنکار کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔

یہ عظیم فنکار 9جنوری1996ء کی شب اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے گوجرانوالہ بائی پاس پر پر اسرار انداز میں قتل ہو گیا تھا،اس نا گہانی موت سے پاکستان فلم انڈسٹر ی سے وابستہ لوگوں کے ساتھ ساتھ پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا تھا اور اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی قانون اس کے قاتلوں تک نہیں پہنچ سکا۔
9جنوری کو اس عظیم فنکار کی بائیسویں برسی منائی جارہی ہے ۔

ان کے صاحبزادے حیدر سلطان کی جانب سے ہر سال اپنے گھر پر، جسے سلطان راہی نے بڑے ار مانوں کے ساتھ بنایا تھا ،برسی کی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں سلطان راہی کے قریبی دوست اور شوبز سے وابستہ افراد ضرور شرکت کرتے ہیں ۔ناصر ادیب ان میں نمایاں ہوتے ہیں جنہوں نے ”مولاجٹ“جیسی بے شمار کامیاب فلموں کی
 کہانیاں لکھیں ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments