قادر خان

300 سے زائد فلموں میں اداکاری اور250کے مکالمے لکھ چکے ہیں بجا طور پر ہر فن مولا کہلانے کے حقدار ہیں

پیر جنوری

Kader Khan
 سلیم بخاری
 پہلی قسط
22اکتوبر1937ء کو کابل کے ایک گھر میں پیدا ہونے والا بچہ مستقبل میں بالی وُڈ کا اتنا بڑا فنکار بنے گا شاید کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ان کے والد عبدالراحمن خان کا تعلق قندھار اور والدہ اقبال بیگم کا تعلّق پشین بلوچستان سے تھا۔قادر خان کے تین بھائی اور بھی تھے جن میں شمش الرحمن ‘فضل الرحمن اور حبیب الرحمن شامل ہیں ۔

قادر خان کا تعلق کا کڑقبیلے سے ہے ،وہ پشتون النسل اور حافظ قرآن ہیں ۔وہ ایک اعلیٰ پائے کے اداکار ہیں جو ہر قسم کے کردار کمال مہارت سے کرتے ہیں مگر انہیں شُہرت مزاحیہ کرداروں سے ملی ۔
ایک زمانے میں وہ سکرین رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منجھے ہوئے ہدایت کار بھی تھے ،غالباً وہ کسی بھی اداکار سے زیادہ فلموں میں کام کر چکے ہیں اور ایک مستند حوالے کے مطابق300سے زیادہ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھاچکے ہیں ۔

(جاری ہے)

ان کی پہلی فلم”داغ “1973ء میں ریلیز ہوئی جس میں قادر خان نے ایک سرکاری وکیل کا کردار کیا تھا۔1970ء اور1980ء کی دہائیوں میں انہوں نے سکرین رائٹر کے طور پر فن کالوہا منوایا۔
قادر خان نے بمبئی یونیورسٹی سے منسلک اسماعیل یوسف کالج سے گریجویشن کی 1970ء ہی کی دہائی میں وہ ایم ایچ سالو کالج آف انجینئرنگ میں پروفیسر بھی رہے ،اسی کالج کے سالانہ ڈے کی ایک تقریب میں انہوں نے اداکاری کی تو خوش قسمتی سے دلیپ کمار بھی اس تقریب میں موجود تھے جنہوں نے انہیں اپنی اگلی فلم کے لئے سائن کر لیا۔


وہ مختلف تھیٹر وں کے لئے ڈرامے بھی لکھا کرتے تھے لہٰذا انہیں فلم ”جوانی دیوانی“کا سکرپٹ لکھنے کی پیش کش ہوگئی اور یوں ان کافلمی کیرےئر شروع ہو گیا جس کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا اور فلم بینوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ممبئی قادر خان کا شہر ہے جبکہ فلمی اعتبار سے اسی شہر کو بالی وُڈ بھی لکھا اور پکارا جاتا ہے ۔

ان کے خاندان کے کچھ افراد نیدر لینڈ اور کینیڈا میں بھی سکونت پذیر ہیں ۔قادر خان کے تین بیٹے ہیں جن میں سر فراز خان اور شاہنواز خان کے علاوہ تیسرا بیٹا کینیڈا میں مقیم ہے ۔سر فراز خان نے بھی کئی فلموں میں کام کیا ہے ۔
منموہن ڈیسائی نے1974ء میں فلم ”روٹی“کے مکالمے لکھنے کا معاوضہ ایک لاکھ21ہزار روپے اداکیا تھا۔قادر خان نے جن اداکاروں کے ساتھ سب سے زیادہ کام کیا ان میں جتیندر ‘فیروز خان ‘امیتابھ بچن اور گوندا شامل ہیں ۔

انہو ں نے جن دوسرے کامیڈینز کے ساتھ کا م کیا ان میں شکتی کپور اورجانی لیور نمایاں ہیں مگر گوندا کے ساتھ ان کی 41سے زیادہ فلمیں مقبول عام رہیں ۔ان میں سے اگرکچھ زیادہ کامیاب نہیں بھی تھیں تو قادر خان اور گوندا کی اداکاری کو بہت پذیرائی حاصل رہی ۔
1987ء میں ان دونوں کی تین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ”پیار کرکے دیکھو“،”خود غرض“اور”سندور“
شامل تھیں ۔

1988ء میں تین فلمیں دریا دل ‘ہتیا اور گھرگھر کی کہانی ،1989ء میں غیر قانونی‘بلوبادشاہ اور جیسی کرنی ویسی بھرنی ریلیز ہوئیں ۔1990ء میں ان کی صرف ایک فلم ایمان کی آگ ریلیز ہوئیں ،1991ء میں دو فلمیں ہم اور قرض چکانا ہے منظر عام پر آئیں ۔
1992ء میں ان کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی جبکہ1993ء میں تین فلمیں زخموں کا حساب ،تیری پائل میرے گیت اور آنکھیں منظر عام پر آئیں ۔

1994ء میں پہلی بار ان کی چار فلمیں گوندا کے ساتھ ریلیز ہوئیں جن میں پریم شکتی ‘راجہ بابو‘خودار اور آگ شامل تھیں ۔1995ء میں دونوں کی صرف ایک فلم منظر عام پر آئی اور وہ تھی قلی نمبر 1۔1996ء میں دو فلمیں چھوٹے سر کار اور ساجن چلے سُسرال ریلیز ہوئیں جبکہ1997ء میں بھی دو ہی فلمیں ہیرونمبر 1اور دیوانہ مستانہ ریلیز ہوئیں ۔1998ء میں ایک بار پھر گوندا کے ساتھ ان کی پانچ فلمیں دیکھنے کوملیں جن میں بنارسی بابو،آنٹی نمبر 1،دولہے راجہ ‘بڑے میاں چھوٹے میاں اور نصیب شامل تھیں ۔


1999ء میں تین فلمیں اناڑی نمبر 1‘راجہ جی اور حسینہ مان جائے گی جبکہ2000ء میں کنوارہ اور جورو کا غلام ریلیز ہوئیں ۔2001ء میں ان کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئیں جبکہ2003ء میں تین فلمیں اکھیوں سے گولی مارے ‘واہ تیرا کیا کہنا اور چلو عشق لڑائیں ریلیز ہوئیں ۔2005ء میں کھلم کھلا پیار کریں اور 2007ء میں جہاں جائیگا ہمیں پائیگا ریلیزہوئیں ۔5سال بعد 2012ء میں آئی دیوانہ میں دیوانہ اور 2013ء میں ریلیز ہوئی آپ جیسا کوئی نہیں ۔


2000ء کی دہائی میں ان کی دیگر اداکاروں کے ساتھ جو فلمیں بنیں ان میں 2004ء میں ریلیز ہوئیں مجھ سے شادی کروگی ،2006ء میں دو فلمیں لکی نوٹائم فار لو اور فیملی ٹائیز آف بلڈ آئیں ۔2015ء میں ان کی فلم تیور ریلیز ہوئی ۔انہوں نے ٹیلی ویژن پر اپنی کامیڈی سیر یز بھی شروع کی جسے سٹار پلس نے ٹیلی کاسٹ کیا اور اس سیریل کا نام تھا”ہنسنامت“۔اس کے بعد ان کی واپسی ہوئی ”سہارا ون ٹی وی “
پر جہاں انہوں نے ”ہائے پڑوسی کون ہے دوشی “کے نام سے کامیڈی سیریز کی ۔


اداکار کے طور پر قادر خان نے منمو ہن ڈیسائی اور پرکاش مہرہ کی اُن فلموں کے لئے کام کیا جس کے ہیروامیتابھ بچن تھے ۔تاہم قادر خان واحد فن کار ہیں جنہوں نے ڈیسائی اور مہرہ کے مخالف کیمپ کیلئے بھی کام کیا اور جن فلموں کے سکرین پلے لکھے اور اداکاری کی ان میں گنگا جمنا سرسوتی ’شرابی ‘قلی ‘دیش پریمی‘لاوارث‘سہاگ ‘مقدر کا سکندر ‘پرورش اور امر اکبر انتھونی شامل ہیں ۔


امیتابھ بچن کی دیگر فلمیں جن کے ڈائیلاگ قادر خان نے لکھے ان میں مسٹر نٹورلال ‘خون پسینہ ‘دواور دو پانچ ‘سّتے پہ ستا‘ہم اور اگنی پتھ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ امیتابھ چن کی جن فلموں کے انہوں نے سکرین پلے لکھے ان میں اگنی پتھ اور نصیب شامل ہیں ۔دیگر وہ فلمیں جن کے مکالمے قادر خان نے لکھے اور وہ کامیاب ہوئیں ان میں ہمت والا،قلی نمبر 1،میں کھلاڑی تواناڑی ،قانون اپنا اپنا ،خون بھری مانگ ،
کرما،سلطنت ،سرفروش ،جسٹس چودھری اور دھرم ویر شامل ہیں۔

Your Thoughts and Comments