قادر خان قسط ۲

300 سے زائد فلموں میں اداکاری اور250کے مکاملے لکھ چکے ہیں بجا طور پر ہر فن مولا کہلانے کے حقدار ہیں

منگل 8 جنوری 2019

 سلیم بخاری
 دوسری قسط
اب ذرا ذکر ہو جائے ان فلموں کا جن کی کہانیاں قادر خان نے لکھیں ۔فلم اگنی پتھ1990ء کی ریلیز ہونے والی انڈین کرائم ڈرامہ تھی جس کے ہدایت کار مقل آنند تھے اور امیتابھ بچن اس کے ہیروتھے جبکہ ساتھی اداکاروں میں وجے دینا ناتھ چوہان‘متھن چکروتی‘مادھوری‘نیلم کو ٹھاری‘روہینی ہاتنگڑھی(Rohini Hattangadi)اور ڈینی ڈینز ونگ پاشامل تھے ۔

اس فلم کے پروڈیوسر یاش جوہر تھے ،اس فلم کانام ایک نظم سے لیا گیا تھا جس کا عنوان تھا”اگنی پتھ“اور اسے لکھا تھا امیتا بھ بچن کے والد ہری دانش رائے بچن نے ۔
فلم کے آغاز میں ہی اس نظم کو پڑھاجاتا ہے اور پوری فلم ہی اس نظم کی تھیم پر مبنی ہے ۔یہ فلم باکس آفس پر تو کوئی خاص مقام حاصل نہ کرسکی مگر اسے پذیرائی ضرور ملی ۔

(جاری ہے)

دوسری فلم دیش پریمی تھی جو 1982ء میں ریلیز ہوئی اور اس کے ہدایت کار من موہن ڈیسائی تھے ۔

اس فلم کو ایک تو محمد رفیع سے منسوب کیا گیا جنہوں نے اس فلم کاٹا ئٹل سانگ گا یا تھا اور دوسرے اداکار اُتم کمار سے کیونکہ دونوں ہی کا انتقال اس فلم کی ریلیز سے دوسال قبل ہو گیا تھا ۔
اس فلم میں عظیم میوزک ڈائریکٹر لکشمی کانت نے ایک گانا بھی گایا تھا لیکن یہ ایک اوسط درجے کی فلم ثابت ہوئی اور باوجود اس کے کہ اس کے ہیرو امیتابھ بچن تھے اور ہدایت کارمن موہن ڈیسائی تھے پھر بھی ناقد ین اور فلم بینوں نے اسے پذیرائی نہیں بخشی ۔

تیسری فلم تھی ”ففٹی ففٹی“جس کے اداکاروں میں راجیش کھنہ ،قادر خان اور رنجیت شامل تھے ۔یہ فلم 1984ء میں ریلیز ہوئی اور اس کی ہیروئن ٹینا منیم اور ڈائریکٹر فلمسٹار کا جول کے والد شومومکرجی تھے ۔
قادر خان کی چوتھی بحیثیت کہانی نویس فلم تھی گنگا جمنا سرسوتی جس کے اداکاروں میں شامل تھے امیتا بھ بچن ،متھن چکروتی اور امریش پوری ۔یہ فلم 1988ء میں ریلیز ہوئی ،اس ایڈونچر فلم کے ہدایت کارمن موہن ڈیسائی تھے ۔

پانچویں فلم تھی اندر اجیت جس کے اداکاروں میں امیتابھ بچن ،قادر خان اور مادھوری شامل تھے اور یہ ریلیز ہوئی تھی 1991ء میں اور اس کے ہدایت کار کے وی راجو تھے ۔
دیگر اداکاروں میں شامل تھے کمار گرو،سدا شیوامراپرکار اور سعید جعفری جبکہ اس فلم کی ہیروئن جیہ پرادہ تھی ۔چھٹی فلم ”قاتلوں کے قاتل “تھی جس کے اداکاروں میں شامل تھے شکتی کپور ،دھر میندر اور رشی کپور ۔


1981ء میں ریلیز ہونے والی یہ فلم ایکشن تھرلرتھی جبکہ اس کی ہدایات کی ذمہ داری ارجن اور انیل نیگورانی پر تھی ۔فلم کی موسیقی کلیان جی آنندجی نے ترتیب دی تھی اور یہ باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی ۔
ساتویں فلم تھی لاوارث جس کے نمایاں اداکاروں میں امیتابھ بچن ‘شری رام لاگو‘امجد خان ‘زینت امان اور ستیندر کپور ۔
یہ 1981ء کی بلاک بسٹر فلم قرار پائی جس کے ڈائریکٹر پر کاش مہرہ تھے ۔

اس فلم کا گانا ”میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے “ایک طرح کاہاؤس ہولڈ گانا تھا جسے پہلے نوجوان گلوکارہ الکا یاگنک نے اور دوسری بار فلم میں امیتابھ بچن نے گایا تھا۔اس گانے کے لئے الکا یا گنک کو فلم فےئر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا اور کیٹیگری تھی بہترین پلے بیک سنگر کی ۔اس گانے میں چھوٹی موٹی دبلی پتلی بیویوں کا مزاحیہ انداز میں تذکرہ کیا گیا ہے ۔


قادرخان کی لکھی آٹھویں فلم تھی ”مہا چور“جس کے فنکاروں میں شامل تھے راجیش کھنہ‘ارونا ایرانی ‘نیتو سنگھ اور پریم چوپڑہ ،یہ ایکشن فلم بنی تھی 1976ء میں اور اس کے ہدایت کار نر یندر بیدی تھے ،فلم کے گانے لکھے تھے آنند بخشی نے جبکہ موسیقی ایس ڈی برمن نے ترتیب دی تھی ۔یہ فلم بھی باکس آفس پر بہت ہٹ ثابت ہوئی ۔ان کی لکھی ہوئی نویں فلم تھی ”مہاگرو“جس میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے رجنی کانت ‘سری دیوی‘گلشن گرو ر اور مینا کشی ششدری نے ۔

اس فلم کی کہانی لکھنے میں قادر خان کے ساتھ تھے گیان دیوا گنی ہوتری جبکہ اس کے ڈائریکٹر ایس ایس روی چندرا تھے ۔
اس فلم کے مکالمے بھی قادر خان نے لکھے تھے جو بہت مقبول ہوئے ۔فلم میں رجنی کانت کے نئے سٹائل اور انوکھے انداز کو استعمال کیا گیا کیونکہ ان کی دو فلمیں اندھا قانون اور گنگوا بہت کامیاب ہوئی تھیں ۔
قادر خان کی دسویں فلم ”مقدر کا سکندر “تھی جس کے اداکاروں میں امیتابھ بچن“ریکھا اور خود قادر خان بھی شامل تھے ۔

یہ 1978ء میں بننے والی فلموں میں بہت بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی ۔
اس فلم کے فلمساز اور ہدایت کار پر کاش مہرہ تھے جس کے دیگر اداروں میں ونود کھنہ ‘راکھی اور امجد خان شامل تھے ۔در حقیقت 1978ء کی دو بڑی فلموں “شعلے “اور”بوبی“کے بعد یہ سب سے بڑی سرمایہ کمانے والی فلم ثابت ہوئی ،اس فلم کے مختلف شعبوں میں فلم فےئر ایوارڈز کی نامزدگیاں تو ہوئیں مگر اسے کوئی ایوارڈ نہ مل سکا ۔

گیار ہویں فلم تھی ”ستّے پہ ستّہ“ جس کے لیڈرول میں تھے امیتا بھ بچن ہیما مالینی ‘امجد خان اور شکتی کپور ۔
یہ فلم باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی۔اس فلم کی کہانی بنیادی طور پر 1954ء میں بننے والی فلم ”سیون برائیڈز فارسیون برادرز “سے لی گئی تھی جس کے لیڈرول میں ہاورڈکیل اور جین پاؤل شامل تھے ۔قادر خان کی بار ہویں فلم ”شقہ “تھی جس کے اداکاروں میں شامل تھے ستیندر کپور ‘جتیندر اور ہیلن ۔

اس فلم کی کہانی لکھنے میں قادر خان کی معاونت شیام رالہن نے کی تھی اور کے کے شکلا اس کے ہدایت کار تھے ۔یہ فلم 1981ء میں ریلیز ہوئی تھی ۔
اس کی تیرھویں فلم تھی ”یا رانہ “جس کے اداکاروں میں شامل تھے امیتا بھ بچن ‘ارونا ایرانی ‘قادر خان ،نیتو سنگھ اور تنوجہ ۔یہ بھی 1981ء میں ریلیز ہوئی اور اس کے ہدایت کار تھے راکیش کمار ۔امجد خان جو ایک ولن کی شُہرت کے حامل تھے اور انہوں نے امیتا بھ بچن کی تمام فلموں میں منفی رول ادا کئے لیکن اس فلم میں ایک مثبت کردار میں نظر آئے ۔

اس فلم کی ایک خوبی یہ تھی کہ اس کی موسیقی ترتیب دی تھی راجیش روشن نے ۔اس فلم کے تین گانے مقبول عام ہوئے جن میں چھو کر میرے من کو ‘تیرے جیسا یا ر کہاں اور سارا زمانہ حسینوں کا دیوانہ شامل ہیں ۔
قادر خان نے 300سے زیادہ فلموں میں کام کیا جبکہ 250سے زیادہ فلموں کے سکرین پلے‘ڈائیلاگ اور کہانیاں بھی لکھیں ۔کئی سال تو ایسے ہیں جن میں انہوں نے 20سے بھی زیادہ فلموں میں کام کیا۔


1971ء میں ان کی ایک ہی فلم بنی ۔اسی طرح 1973ء میں ایک فلم تھی ”داغ “جبکہ1974ء میں ان کی 5فلمیں منظر عام پر آئیں جن میں گپت گیان ‘بے نام‘گونج اور دل دیوانہ شامل ہیں ۔
1975ء میں بھی ایک فلم آئی ”اناڑی “جس کے بعد تو جیسے قادر خان پر فلمیں برسنے لگیں ۔لہٰذا 1976
ء میں ان کی پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں نور الٰہی ‘زمانے سے پوچھو‘مہاچور‘عدالت اور بیراگ ۔


1977ء میں سات فلمیں نمائش کیلئے پیش ہوئیں جن میں شامل تھیں ہنٹر والی ،خون پسینہ ،چھلیا بابو،مکتی ،پرورش ،چورسپاہی اور اگر ۔1978ء میں پھر پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں اتیاچار ،بھولا بھالا،مقدر کا سکندر ،شالیمار ،قلی نمر 1۔
 1979ء میں ان کی تین فلمیں سامنے آئیں جن میں مسٹر نٹور لال ،سہاگ اور ظلم کی پکار شامل تھیں ۔
1980ء میں گیارہ فلمیں آئیں جن میں شامل تھیں روم نمبر 203، دھن دولت ،دو اور دو پانچ ،لوٹ مار ،جیوتی بنے حوالہ ،قربانی ،انیس بیس ،بے رحم،جوالامکھی،گنگا اور سورج اور عبداللہ ۔

اگلے سال 1981ء میں پندرہ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں صدقہ کملی والے کا،قسم بھوانی کی،بلندی ،نصیب،آہستہ آہستہ یا رانہ ،شقہ ،شمع ،ففٹی ففٹی ،گہرازخم ،میری آواز سنو،کالیا،زمانے کو دکھانا ہے ،وقت کی دیوار اور راز ۔
1982ء میں تو قادر خا ن نے بالی وڈ میں بہت سے لوگوں کو چونکا دیا کیونکہ اس سال ان کی چودہ فلمیں ریلیز ہوئیں جن سے ستّے پہ ستّہ ،وکیل بابو،تیسری آنکھ ،دیس پریمی ،صنم تیری قسم ،بدلے کی آگ ،راج محل ،وقت وقت کی بات ،سمراٹ ،پیار میں سودا نہیں ،مہندی رنگ لائے گی ،لکشمی ،جیو اور جینے دو اور فرض اور قانون شامل تھیں ۔

1983ء میں پھر قدر خن کی چودہ فلمیں نمائش کے لئے پیش ہوئیں جن میں شامل تھیں سلام محبت ،منگل پانڈے ،ہمت والا ،مہمان ،جانی دوست ،وہ جو حسینہ ،نوکر بیوی کا ،جسٹس چودھری ،موالی ،قلی ،راستے اور رشتہ ،کراٹے کیسے ،کیسے لوگ اور چور پولیس۔
1984ء نے پھر سارے سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے جب قادر خان کی بائیس فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں محبت کا مسیحا ،میری عدالت ،انقلاب ،تحفہ ،گھر ایک مندر ،مقصد ،گنگوا،نیاقدم ،پاؤں کی زنجیر ،شرارہ ،شبھ،قیدی ،میرا فیصلہ ،قانون میری مٹھی میں ،کامیاب ،جینے نہیں دونگاہ کیپٹن میری ،بد اور بدنام اور عقل مند۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :