لوگ کیا کہیں گے؟

”ہسپتال میں کینسر میں مبتلا والدنے کہا ”بیٹی مجھے معاف کردو“ کی کہانی لکھنا بڑا چیلنج تھا

جمعرات 10 جنوری 2019

 راحیلہ مغل
فلاحی مملکت میں جب انسان کی بنیادی ضرورت ریاست پورا کرنا شروع کردیتی ہے تو اس وقت ہر بالغ انسان اپنی زندگی آزادانہ طور پر گزارنے کا خواہشمند ہوتا ہے ۔فلاحی مملکت ان آزادا نہ خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اپنے شہریوں کو مکمل طور پر سپورٹ کرتی ہیں ۔ہر قسم کی تحفظ دیتی ہیں ۔

شرط صرف یہ ہوتی ہے کہ انسان کی اس آزادی سے کوئی دوسرا انسان ڈسٹرب نہ ہو۔
مغربی معاشروں کے مقامی لوگ مشرقی ممالک کے لوگوں کی نظر میں آزاد خیال اور عزت سے عاری تصور کئے جاتے ہیں ۔دوسری طرف مغربی ممالک کے مقامی لوگ مشرقی لوگوں کو غیر ترقی یافتہ آمرانہ روایات کے امین اور ایک انسان کی انفرادی زندگی کو کنٹرول کرنے والے گردانتے ہیں ۔

(جاری ہے)


انہیں مشرقی قدروں ‘مغربی مشرقی تقاضوں کی تقسیم پر ایک پاکستانی نژاد نارویجن ہدایت کارہ ارم حق کی نارویجن زبان کی فلم What will people sayکو آسکر ایوارڈ کیلئے نامزد کر لیا گیا ہے ۔اس فلم کو 19ویں اکیڈمی ایوارڈ کیلئے غیر ملکی زبان کی فلم کی کیٹیگری میں نامزدکیا گیا ہے ۔فلم کے نام کا اردو ترجمہ ہے ۔”لوگ کیا کہیں گے “جس میں 16سالہ نیشاء کا مرکزی کردار ماریہ موڑ ڈر نے اداکیا ہے ۔


یہ فلم ناروے سینما کی رکنیت بنی ہوئی ہے ۔اب تک یہ فلم کافی توجہ حاصل کر چکی ہے ۔
سماجی موضوع پر بننے والی اس فلم پر نارویجن میڈیا نے سوشل میڈیا میں نارویجن پاکستانی ‘نارو ے اور دوسرے ممالک کے تارکین وطن کے درمیان زور شور سے بحث جاری کردی ہے کہ تارکین وطن ناروے میں کافی عرصے رہنے کے بعد بھی مقامی ثقافت اور مقامی قدروں کو کیوں مکمل طور پر نہیں اپنا سکے ۔

فلم کی کہانی ایک پاکستانی نوجوان لڑکی کے گرد گھومتی ہے کہ وہ کس طرح اپنی پاکستانی معاشرتی اقدار کو ساتھ رہ کر انتہائی اوپن فری لیول مغربی معاشرے میں زندگی گزار تی ہے ۔
یہ لڑکی اپنے آبائی رسم وروایات کی پاسداری کرنے کی کوشش کرتی ہے ساتھ ہی نارویجن معاشرے میں ایڈجسٹ ہونے کی بھی کوشش کرتی ہے ۔ایک دن لڑکی اپنے گھر میں اکیلی ہوتی ہے اور وہ اپنے ایک نارویجن دوست کو اپنے گھر بلا لیتی ہے ۔

اس وقت اچانک لڑکی کاپاکستانی باپ گھر میں داخل ہوتا ہے ۔یہ منظر دیکھ کر غصے میں آجاتا ہے اور بیٹی کو ڈانٹتا ہے پھر اپنے گھر والوں کے ساتھ مشورہ کرتا ہے اور لڑکی کو اچھی تربیت کیلئے پاکستان بھیج دینا چاہیے اس طرح لڑکی کو پاکستان بھیج دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ لڑکی پاکستان کے روایتی معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہوپاتی اور ایک سال بعد خود ہی ناروے آجاتی ہے اور ناروے آکر وہ اپنے گھر والوں سے لا تعلق ہوجاتی ہے ۔


اس فلم میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تارکین وطن بچوں اور نوجوانوں کو کن سماجی مسائل سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ ان مسائل پر کس طرح قابو پاتے ہے ۔
فلم کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ مشرقی ممالک کے لوگ کس طرح اپنی ناک اپنی خاندانی عزت کی خاظر دوسرے لوگوں کی نظروں سے بچنے ‘دوسرے لوگوں کی باتیں سننے سے بچنے کیلئے بچوں کی زندگی پر کون کون سے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں ۔


سوشل میڈیا میں اس حکم کی وجہ سے یہ بحث جاری ہے کہ ہر انسان کو اپنے حساب ‘اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے ۔اس لئے کہ دوسرے کو سماجی کنٹرول کے طریقوں سے کسی دوسرے انسان کی ذاتی زندگی میں کسی بھی قسم کا خلل ڈالنے کی ضرورت نہیں ۔
فلم میں بھارتی اداکاروں عادل حسین اور شیبا چڈھا کے علاوہ روبیٹ صراف اور اکاولی کھنہ نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔

ارم حق کا اس فلم کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ انکی اپنی کہانی ہے انکے والدین پاکستان سے تھے فلم کی اسکریننگ کا اہتمام ممبئی میں نارویجن قونصلیٹ نے کیا تھا۔
ارم حق کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے آن لائن رابطہ کیاان سے ہونے والی گفتگو نظر قارئین ہے کہ وہ اس فلم کے حوالے سے کیاکہتی ہیں۔
س:۔اس بات میں کہاں تک سچائی ہے کہ اس فلم کی کہانی آپ کے پرسنل تجربات پر مبنی ہے ؟
ارم حق :۔

یہ سچ ہے کہ یہ میری اپنی ہی کہانی ہے میری پیدائش ناروے میں ہوئی اور میں یہیں پر پروان چڑھی۔میرے والدین پاکستانی ہیں مجھے 14سال کی عمر میں زبردستی پاکستان بھیج دیا گیا کچھ باتیں اس فلم کی مکمل میری زندگی سے میچ کرتی ہیں جبکہ کچھ فیکشن بھی ہے ۔
س:۔اب آپ ایک ماں بھی ہیں ۔والدہ بننے کے بعد آپ کے کیا احساسات ہیں ،ماں بننے کے بعد آپکے خیالات میں تبدیلی تو نہیں آئی؟
ارم حق:۔

دراصل لڑکپن سے ہی میرے پاس ایک کہانی تھی جو میں کسی کوبتانا چاہتی تھی ۔لیکن میں کئی وجوہات کی بنا پر بتا نہیں پارہی تھی ۔ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مجھ میں جرائت نہیں تھی ۔اب جبکہ میں نے یہ فلم بنائی ہے تو یہ سب آسان بھی نہیں تھا،اب جبکہ میں ایک والدہ بھی ہوں دراصل کہانی لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ والدین سمجھیں ،مجھے یہ سب لکھنے میں بہت مسئلہ بھی ہوا ،یہ کہانی میرے لئے بڑا چیلنج تھا ۔


ایک اور بات آپ کو بتاؤں کہ مجھے بڑا عرصہ لگا اس موضوع کہانی میں بیان کرنے میں کیونکہ میری خواہش تھی کہ یہ کہانی کوئی اور لکھے اور پھر جب میں نے اسے لکھنا شروع کیا تو میرے والد بیمارہو گئے ۔
وہ ہسپتال میں تھے میں انہیں دیکھنے کے لئے ہسپتال گئی وہ بہت بیمار اور لاغر محسوس ہورہے تھے اس وقت انہوں نے کہا کہ مجھے معاف کر دو مجھے احساس ہے میں نے تمہا را دل دکھا یا ۔


انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ انہیں کینسر ہے حالانکہ میں اس موضوع کو نہیں چھیڑ نا چاہتی تھی لیکن چونکہ ان دنوں میں کہانی لکھ رہی تھی اس طرح ہم closeہو گئے۔againاچھے دوست بن گئے یہ دن میرے والد کی زندگی کے آخری دن تھے وہ اس کے بعد صرف دس ماہ تک زندہ رہے ۔ان کے رویے سے مجھے کئی سوالوں کے جواب مل گئے جو انہوں نے کہا جو وہ کرنا چاہتے تھے ان کے رویے کی وجہ سے میرے سکرپٹ میں کئی تبدیلیاں آئیں یہ وہ تبدیلیاں تھیں جو میں کرنا چاہتی تھی لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کہاں سے شروع کروں ۔


میں چاہتی تھی کہ ان کے منہ سے سنوں کہ وہ کیا محسوس کرتے تھے ۔دراصل وہ بھی خوفزدہ تھے کہ کہیں وہ اپنی بیٹی کو کھونہ دیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کئی سالوں کے لئے مجھے کھودیا تھا ۔ہمار رابطہ نہیں ہوتا تھا۔اس چیز سے میرے scriptمیں تبدیلی آئی اب جبکہ میں خود ماں ہوں اس چیز نے بھی میرے scriptنے تبدیلیاں کی ہیں میں اپنے والدین کی طرح نہیں بننا چاہتی ہوں ۔

لیکن میں سمجھتی نہیں ہوں کہ ان کے دل کون سے خوف کے سائے منڈلاتے تھے انہیں ڈر تھا کہ وہ اپنی بیٹی کھونہ دیں اس طرح انکی کیفیت سے ملتی جلتی فیلنگ میری بھی ہیں ۔
س:۔فیملی کے شروع میں نیشاء کے والد بڑے پیار کرنے والے محسوس ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں نیشاء کے بوائے فرینڈ کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو انکارویہ یکدم تبدیل ہوجاتا ہے ۔اس وقت جب ایسا لمحہ آپ کی زندگی میں آیا تو آپ نے کیا محسوس کیا تھا۔


ارم حق:۔سب سے اہم یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ وہ اپنی بیٹی سے کتنا پیار کرتے ہیں اور انہیں خوف تھا کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ہمیں ان کے کردار کو سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ کیا سوچتے تھے نہیں تو وہ ہمیں ایک خوفناک آدمی ہی محسوس ہوں گے ۔فلم میں نیشاء جب پاکستان جاتی ہے اور واپس آتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے والد اسے بہت چاہتے ہیں ۔

یہ کلچر کلیش تھا اور وہ مختلف جنریشن اور دو مختلف کلچر سے تعلق رکھنے تھے ۔وہ واقعی دو مختلف دنیاؤں کے باسی تھے ۔
س:۔اس فلم کو بناتے ہوئے اپنے ماضی کے لمحات کو دہرانا آپ کو کیسا محسوس ہوا ؟
ارم حق :۔زندگی ایک سفر ہے ۔اس فلم میں ایک اپنی کہانی ہے جو میں بتانا چاہتی تھی اس لئے بتانا بُرا نہیں لگا۔مجھے یاد ہے کئی سال قبل جب میں پاکستان گئی اور آج وہ سب ایک کہانی سا لگتا ہے ۔

یہ سب اچھا ہی ہو ا۔وہ لڑکیاں جو اس کیفیت سے گزرتی ہیں ہو سکتا یہ کہ وہ اپنی کسی insipirationکو پاسکیں جب وہ اپنے دل کی بات مانیں اور والدین کو دیکھنا چاہئے کہ انہیں بچوں کے لئے کون سافیصلہ نہیں کرنا چاہئے اس میں شک نہیں کہ کہانی میں کئی موڑ ایسے آئے جب میں نے سوچا کہ فلم بند کردوں ۔میں ایسی کئی کیفیات سے گزری ۔بہر حال یہ فلم ایک خوبصورت اینڈ کے ساتھ اختتام کو پہنچتی ۔

اس میں ایسا موضوع دیا گیا ہے جسے ہم اپنی فیملی میں بیٹھ کر ڈسکس کرسکتے ہیں ۔یہ بات میرے لیے خوشی کا باعث ہے ۔
س:۔پوری فلم میں ایسے کئی مناظر ہیں جہاں الفاظ استعمال نہیں کئے گئے ایسے مناظر کو فلمانے کی کیا وجہ تھی ؟
ارم حق:۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاتھ ،ہماری آنکھیں سب ابلاغ کرتے ہیں مجھے لوگوں کو بوڈی لینگوئج میں انٹرسٹ ہے اس لئے میں نے ایسے مناظر دکھائے۔


س:۔آپ کا کیا خیال ہے کہ اس فلم کو 2018ء کا اہم ترین فلم کا اعزاز حاصل ہوگا؟
ارم حق:۔یہ بہت اہم فلم ہے جب میں اسے دیکھ رہی تھی تو میں سوچ رہی تھی کہ یہ ایک اولڈ فیشن فلم ہے۔
لیکن پھر جب میں نے ایک چھوٹی سی ریسرچ کی تو میں نے دیکھا کہ یہ مسئلہ کئی لوگوں کے ساتھ در پیش ہے ۔آج بھی ناروے ،سویڈن ،جرمنی اور اٹلی میں ایسے حالات پیش آتے ہیں ہمیں اس مسئلے پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو ۔میرا خیال ہے کہ اس اہم ایشو پر فوکس کرنا چاہئے میں نے یہ حالات1990ء میں دیکھے لیکن آج 2018ء میں کئی فیملیز اور کئی لڑکیاں انہیں حالات میں سے گزررہی ہیں ۔

مزید متفرق کے مضامین :