قادر خان قسط 3

400 فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے زندگی بھردوسروں کوھنسانے والا رُلا گیا

پیر 14 جنوری 2019

 سلیم بخاری
 تیسری قسط
قادر خان کا اس دُنیا سے اُٹھ جانا بھارت میں عمومی طور پر اور ان کے کروڑوں پر ستاروں کے لئے جو دُنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں کے لئے خصوصی طور پر ایک المناک سانحہ ہے ۔ان کی مزاحیہ اداکاری اور لکھے ہوئے مکالمے بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے ۔میرے لئے ان کی موت اس لئے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے سے میں ان کی زندگی کے بارے میں ”نوائے وقت گروپ“کے ہر دلعزیز جریدے ”فیملی “میں ایک قسط لکھ چکا تھا اور دوسری قسط زیر تحریر تھی کہ یہ روح فرساخبر ملی کہ آخر کا روہ زندگی کی بازی ہار گئے ۔


خدا مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔اندوہ ناک حالات سے گزرنے کے بعد وہ ہالی وُڈ میں درانداز ہوئے اور پھر مڑکر نہیں دیکھا۔

(جاری ہے)

تدریسی شعبے سے بھی منسلک رہے ،پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر تھے،اداکار بنے پھر فلمی کہانیاں لکھیں ،مکالمہ نویس کی حیثیت سے بھی شُہرت پائی اور پھر ڈائریکٹر بھی بن گئے۔مزاحیہ اداکاری میں چہرے کے تاثرات اور لہجے کے اُتار چڑھاؤ سے کامیڈی کی نئی جہتیں دریافت کیں ۔

کریکٹر اداکاری میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔
چار سوسے زیادہ فلموں میں اداکاری اورڈھائی سو سے زائد فلموں کے مکالمے لکھنے کے علاوہ درجنوں فلموں کی کہانیاں بھی تخلیق کیں ۔قادر خان کے چُلبلے مکالمے ‘تیز طراز الفاظ وہ عناصر تھے جن کی بدولت متعدد فلموں کو کلاسک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جن میں ”امر اکبر انتھونی“اور”مقدر کا سکندر“جیسی فلمیں شامل ہیں ۔

اپنی انہی فنی خوبیوں کی بدولت انہوں نے عوام میں مقبولیت حاصل کی۔فنی کیرےئر کے عروج پر وہ بالی وُڈ کے مشہور ترین مکالمہ نویس بن چکے تھے اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں ہیں نے امیتابھ کی اکثر کامیاب فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں ۔
ان کے لکھے ہوئے مکالموں پر فلم بین اکثر تالیاں بجاتے اور ہال سیٹیوں سے گونجنے لگتا تھا ۔وہ ڈائیلاگ کے ذریعے یا تو قہقہے بکھیرتے یا پھر آنسوؤں سے لوگوں کے رومال گیلے ہو جاتے ۔

سینما گھروں کے باہر کالج کے طلبہ اکثر قمیض کے کالر چڑھا کر ان کے مکالمے دُہراتے نظر آتے تھے ۔
ان کے لکھے ہوئے مکالموں کی کچھ مثالیں پیش کی جارہی ہیں ۔”ہم جہاں کھڑے ہوتے ہیں لائن وہیں سے شروع ہوتی ہے۔“فلم (کالیا1981ء)”اس تھپڑکی گونج سُنی تم نے ‘اب اس گونج کی گونج نہیں سُنائی دے گی۔“فلم (کرما1986ء)”ایسے تو آدمی لائف میں دو ہی ٹائم بھاگتا ہے اولمپک کی ریس ہو یا پھر پولیس کا کیس ہو “فلم(امر اکبر انتھونی1977ء)
قادر خان کو قدرت کی طرف سے یہ خوبی بھی حاصل تھی کہ وہ اپنی آواز کو احمقانہ لہجے میں تبدیل کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔

مثلاً”سر کار اگر آ پ اس گاؤں کے سر ہیں تو میں اس کا سینگ ہوں اور جوہماری بات نہیں مانتا میں اسے سینگ مار کے سنگاپور بنا دیتا ہوں “فلم (ہمت والا1983ء)اسی طرح فلم (گھر سنسار1986ء)”جب بیٹی اپنے باپ کی نصیحت پر رد عمل دیتے ہوئے کہتی ہے دس اِز ٹومچ تو باپ کہتا ہے ناٹ ٹومچ تھری مچ بلکہ مگر مچھ لیکن بالکل سچ۔“
اس کے ساتھ ساتھ قادر خان ذومعنی مکالمے لکھنے میں تو اتنے ماہر تھے کہ سنسر کے لوگ سِٹپٹا اُٹھتے تھے ۔


عام طور پر اگر آپ کسی سے بھی پوچھیں تو وہ قادر خان کو ایک کامیڈین کے طور پر یاد کرے گا جس کی بڑی وجہ 1980ء کی دہائی میں اداکار جتیندر کے ساتھ ان کی جتنی فلمیں بنیں یا پھر 1990ء کی دہائی میں ان کی گوندا اور ڈیوڈدھون کے ساتھ جو فلمیں منظر عام پر آئیں ان میں انہوں نے مزاحیہ کردار ہی کئے تھے مگر ان کے لکھے ہوئے مکالموں میں ایک ندرت آپ کو نظر آئے گی۔


مثال کے طور پر فلم (موالی 1983ء)میں ان کا مکالمہ تھا:”اتہاس مت پوچھو‘میں جو کہتا ہوں وہ سُنو “
پھر جو کردار انہوں نے کئے ان میں بہت وسعت ہے ۔فلم(نصیب1981ء)میں وہ ایک کمینے شخص کا رول کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔فلم (دولہے راجہ1998ء)میں کمینے مگر مزاحیہ کردار میں ملیں گے جبکہ
2004ء میں بننے والی فلم (مجھ سے شادی کروگی)میں وہ ایک مضحکہ خیز کردار میں سامنے آئے۔


ایسا ہی کردار انہوں نے فلم (جیسی کرنی ویسی بھرنی1989ء)میں بھی کیا تھا۔
کچھ فلموں میں انہوں نے مرکزی کردار بھی کئے جیسے ”باپ نمبری بیٹا دس نمبری1990ء)۔فلمی کہانیاں لکھنے کے حوالے سے قادر خان نے ایک انٹر ویو میں کہا تھا:”میں نے فلم میکر بیدی کی فلم ”جوانی دیوانی“1972ء میں اندر راج آنند کے ساتھ مل کر لکھی تھی جس کا معاوضہ مجھے1500روپے ملا تھا۔


ہدایت کارمن موہن ڈیسائی نے اپنی1974ء میں بننے والی ایک فلم کے مکالمے لکھنے کو کہا جبکہ میں اس حوالے سے مطمئن نہیں تھا کہ میں یہ ذمہ داری نبھا پاؤں گا یا نہیں مگر میرے لکھے کچھ ڈائیلاگ سُن کر تو وہ دیوانے ہو گئے۔
انہوں نے چار مرتبہ یہ ڈائیلاگ سُنے جس کے بعد وہ گھر کے اندر گئے اور بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سیٹ اٹھالائے اور مجھے گفٹ کردیا ،انہوں نے مجھے سونے کا ایک بریسلیٹ بھی دیا۔

اس کے بعد انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میرا معاوضہ کیا ہوگا؟جب میں نے انہیں بتایا کہ مجھے فلم (رفوچکر )لکھنے کے 21000روپے ملے تھے تو انہوں نے کہا کہ من موہن ڈیسائی کے لئے فلم لکھنے والے کو اس سے زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے اور یوں انہوں نے مجھے ایک لاکھ اکیس ہزار روپے اداکئے۔
اس طرح میں اچانک لکھ پتی بن گیا۔پھر ڈیسائی جی نے دوسرے رائٹر ز کو فون کرکے میرے مکالموں کے بارے میں کہا کہ یوں ڈائیلاگ لکھے جاتے ہیں تم سب کو قادر خان سے سیکھنا چاہیے۔

1970ء اور1980ء کی دہائیوں میں بالی وُڈ کے سب سے بلندپایہ ہدایت کاروں میں من موہن ڈیسائی ا ور پرکاش مہرہ سرفہرست تھے جن کی اکثر فلموں فلموں کے مکالمے میں نے لکھے ۔
مجھ سے ایک مرتبہ دریافت کیا گیا کہ میرا تعلق کس کیمپ سے ہے تو میں نے جواب دیا وہ دونوں میرے کیمپ میں ہیں ۔قادر خان ویسے تو اچھے بُرے اور لا تعلق سے کردار کرتے رہے مگر خود اپنی فلم ”شمع “میں جو 1981ء میں بنی جس میں اُردو لٹریچر کو سیلولائیڈ پر مُنتقل کیا،اس فلم کی کہانی معروف بنگالی رائٹر جارا ساندا(Jarasandha)جن کا اصل نام چاروچندرا چکراوتی(Chandra chakraverty.Charu)تھا،کی زندگی پر مبنی تھی۔


اس فلم میں گریش کرنا ڑ اور شبانہ اعظمی نے لیڈنگ رولز کئے تھے مگر یہ حقیقت بہت افسوس ناک ہے کہ اتنے بڑے قدآور اداکار کی آخری رسومات میں بالی وُڈ سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی جس کا شدید گلہ قادر خان کے بیٹے سر فراز خان نے کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے ”میرے باپ نے فلم انڈسٹری کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی مگر انڈسٹری نے انہیں یکسر بھلا دیا۔“
یہ اظہار انہوں نے اپنے والد کی تعزیت کے لئے آئے ہوئے لوگوں کی موجودگی میں کیا جن میں ان کے دوبھائی بھی شامل تھے ۔سر فراز خان نے کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ دوسروں کی عزت کی۔ان کی نماز جنازہ ٹورنٹو کی ایک مسجد میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں میڈوویلے قبر ستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :