قادر خان قسط 4

قادر خان کو 28دسمبر کو اس وقت ہسپتال داخل کرایا گیا تھا جب انہیں سانس لینے میں وقت محسوس ہورہی تھی ،وہ وینٹی لیٹر پر ہونے کی وجہ سے گفتگو کرنے سے قاصر تھے ۔

بدھ جنوری

kader khan episode 4
سلیم بخاری
قادر خان کو 28دسمبر کو اس وقت ہسپتال داخل کرایا گیا تھا جب انہیں سانس لینے میں وقت محسوس ہورہی تھی ،وہ وینٹی لیٹر پر ہونے کی وجہ سے گفتگو کرنے سے قاصر تھے ۔گزشتہ برس ان کے ٹخنے کی سرجری ہوئی تھی جس میں غلطی کے باعث وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے ۔ایک طرف تو بالی وُڈ کی کسی قابل ذکر شخصیت نے قادر خان کی آخری رسومات میں شرکت کی زحمت گوارہ نہیں کی تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر تعزیت کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں نہیں ہزاروں میں ہے ۔


تاہم یہ تاثر کسی صورت کم نہیں ہوسکا کہ بالی وُڈ کی طرف سے بے حسی اور لا تعلقی کی سب سے بڑی وجہ ان کا مسلمان ہونا تھا۔ہمارے اس قسط دار سلسلے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ بھارتی فلمی صنعت بالی وُڈ درحقیقت مسلمان فن کاروں کے بل بوتے پر ہی کھڑی ہے اور یہ صورتحا ل1940ء سے لے کر آج تک تبدیل نہیں ہوئی ۔

(جاری ہے)

تاہم ان حقائق کے باوجود مسلمان فنکاروں کو ہندوتعصّب کا شکار ہونا پڑتا ہے ۔

سوشل میڈیا پر ٹویٹس کی صورت میں بڑے بڑے اداکاروں ‘فلم سازوں ‘ہدایت کاروں اور سیاست دانوں نے قادر خان کی موت پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔
بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے لکھا ہے :”قادر خان جی نے اپنی فنی خوبیوں اور لازوال اداکاری کے ذریعے ہندی سینما کی سکرین کو روشن کئے رکھا،ہمیں ان کی حِس مزاح کا مشکور ہونا ہوگا۔وہ ایک باکمال سکرین رائٹر تھے جن کا نام بے پناہ کامیاب فلموں سے جڑا ہے ،مجھے ان کی موت سے بہت دُکھ ہوا ہے ۔

میں ان کے اہل خانہ اور پرستاروں سے تعزیت کا اظہار کرتاہوں ۔“
قادر خان اور گوندا نے اکٹھے40سے زیادہ فلموں میں کام کیا اور دونوں کی جوڑی نے ان فلموں میں منفرد مزاحیہ اداکاری کی ۔ان فلموں میں قلی نمبر 1‘ہیرونمبر1‘آنٹی نمبر1‘آنکھیں ‘دولہے راجہ‘جورو کا غلام‘
اکھیوں سے گولی مارے اور واہ تیرا کیا کہنا قابل ذکر ہیں ۔اپنے ٹویٹر پیغام میں گوندا لکھتے ہیں:”قادر خان صرف میرے اُستاد ہی نہیں تھے بلکہ ان کا مقام میرے لئے ایک باپ کا تھا۔

ان کا کسی اداکار کو چھولینا اور ان کی ذات کی خوشبو ہی کسی کو سُپر سٹار بنانے کے لئے کافی تھی ۔
پوری فلم انڈسٹری اور میری فیملی غمگین ہے اور ہم لفظوں میں اپنے دُکھ کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں ۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا گوہوں کہ وہ ان کی روح کو تسکین عطا فرمائے۔“بالی وڈ کے اکثر ستاروں کا خیال ہے کہ 2019ء کا آغاز اس اعتبار سے بہت غمگین ہے کہ اس نے قادر خان جیسے انسان اور بلند پایہ فنکار کو ہم سے چھین لیا۔

معروف اداکارانوپم کھیرنے لکھا“قادر خان صاحب انتہائی باکمال اداکاروں میں سے ایک تھے ۔
ان کے ساتھ فلمی سیٹ پر کام کرنا ہمیشہ پر لطف ہوتا تھا اور ہم ان سے بہت کچھ سیکھتے تھے ۔ان کا چیزوں کو بہتر سے بہترین بنانا مثالی تھا،ان کی حِس مزاح اور یجنل اور لازوال تھی ،وہ ونڈرفل رائٹر تھے ،ہم انہیں اور ان کی اہلیت کو بہت یاد کرتے رہیں گے۔

“بالی وڈ کے بہت بڑے اداکار امیتابھ بچن ٹویٹر میسج میں لکھتے ہیں :”یہ بہت ہی غمگین اور دل شکن خبر ہے ،میری ان کے لئے تعزیت اور دعائیں ہیں ،وہ ایک روشن خیال فنکار اور لازوال خوبیوں کے حامل تھے ۔
وہ ایک بلند پایہ رائٹر تھے،میری اکثر کامیاب فلموں میں وہ ایک خوشگوار ساتھی تھے ،میں تو کہوں گا کہ وہ ایک ریاضی دان کی حیثیت کے حامل بھی تھے ۔

“سمرتی ایرانی لکھتی ہیں :”اگر کوئی ایسا فرد ہو جس نے 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کی فلمیں دیکھی ہوں تو یہ امکان موجود ہے کہ وہ قادر خان کے جادو کا تجربہ کر سکے۔مجھے انہیں ملنے کا اتفاق تو نہیں ہوا،اگر میری ان سے ملاقات ہوجاتی تو میں ان سے کہتی کہ ہمیں ہنسانے کا شکریہ اور میں ان کی فنی خوبیوں کا شکریہ بھی ادا کرتی “مدھر بنڈھارکر لکھتے ہیں :”میں ایک عظیم رائٹر‘اداکار ‘کامیڈین قادر خان کی موت سے بہت مغموم ہوں ۔


وہ ایسے با کمال فنکار تھے جو ایک ساتھ ہمیں ہنساتے اور رُلاتے تھے ۔انہوں نے ہمیں اپنے منہ زور مکالموں سے خوب محفوظ کیا۔اللہ ان کی روح پر اپناکرم کرے۔“شتروگھن سِنہانے اپنے رد عمل میں کہا:”ہم سب کو چاہئے کہ اپنے فنکاروں کا خیال رکھیں تا کہ انہیں یہ احساس نہ ہو کہ انہیں مسترد کردیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ اپنی موت کے وقت قادر خان کینیڈا میں کیوں مقیم تھے؟قادر خان نے ہماری تفریحی انڈسٹری کو بہت کچھ دیا ہے ۔


2019ء کا آغاز کتنا دکھی انداز میں ہوا۔ایک غیر ملک میں قادر خان کا انتقال ہمارے لئے سبق آموز ہے ۔قادر خان بالی وڈ کے مضبوط ستون تھے ۔وہ صرف ایک ایسے اداکار ہی نہیں تھے جو ہر طرح کے کردار میں سموجاتے تھے بلکہ ایک شاندار لکھاری بھی تھے ۔میں اور امیتابھ بچن ان سے بہت قربت رکھتے تھے ۔میں تو انہیں تب سے جانتا ہوں جب انہوں نے من موہن ڈیسائی کی فلم ”نصیب “اور پر کاش مہرہ کی ”جوالا مکھی“لکھی تھیں ۔


ان دونوں فلموں میں میں نے اداکاری کی تھی ۔میں جب بھی ان سے ملا انڈین سینما سے متعلق ان کی رفاقت اور گہرے مطالعہ سے بہت متاثر ہوا۔میرے خیال میں دوبارہ کوئی قادر خان پیدا نہیں ہوگا۔“
اپنے انداز کے ایک اور باکمال اداکار اور کامیڈین پریش راول نے قادر خان کی موت پر کچھ یوں تبصرہ کیا:”ان کی موت بہت غمگین اور دل شکن سانحہ ہے ۔
وہ بالی وڈ کے عظیم خان تھے، ان کا شمار بالی وڈکے ان چند اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے جو بھی کردار کیا لوگ اس سے محفوظ ہوئے،وہ کردار چاہے ولن کا ہو‘کامیڈین کا یا پھر سنجیدہ کردار ہوجیسے فلم ”گھر گھر کی کہانی“میں انہوں نے اداکیا۔

وہ ایک اداکار سے بھی کچھ زیادہ ہی تھے۔“روشن رائے کہتے ہیں :
”قادر خان نے اپنی زندگی کامیڈی کے لئے وقف کررکھتی تھی اور لاکھوں لوگوں کو خوش کیا،ان کی موت پر غمزہ ہونے کی بجائے ایک لچنڈ کی غیر معمولی زندگی کا جشن منانا چاہئے۔
قادر خان ہمیشہ بھارت کے نمبر 1کامیڈین ہونے کا اعزاز رکھیں گے،ہر چیز کا شکریہ قادرخان۔“
آرجے الوک کہتے ہیں :”قادر خان بہترین ولن‘ایکٹر ‘رائٹر اور پروفیسر تھے۔

آپ کے لکھے ہوئے الفاظ کے ذریعے بے شمار اداکاروں نے کمال فلمیں بنائیں ،ہم آپ کی کمی ہمیشہ محسوس کریں گے۔“سنتوش کمار لکھتے ہیں :”آپ نے ایک ایکٹر اور لکھاری کے طور پر ایک طویل اننگ کھیلی ہے ،اپنی اداکاری اور تحریروں سے 300سے زیادہ فلمیں ہمیں دیکھنے کو دیں ۔
ہم آپ کو بہت مِس کریں گے۔“روینہ ٹنڈن کچھ یوں گویا ہوئیں :”کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہم نہیں چاہتے کہ وقوع پذیر ہوں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے ،میں قادر خان جیسے عظیم انسان کی موت پر بہت دل برداشتہ ہوں ۔

میری قادر خان جی سے بہت ہی خوب صورت یادیں جُڑی ہیں اور جن فلموں میں ہم نے اکٹھے کام کیا میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔
فلم ”دولہے راجہ“میں انہوں نے میرے باپ کا کردار ادا کیا مگر بالی وُڈ میں وہ میرے لئے باپ ہی کا درجہ رکھتے تھے ۔اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔“اکشے کمار نے کہا:”میں یہ خبر سُن کر بہت دکھی ہوں ،میری خوش نصیبی ہے کہ میں نے ان کے ساتھ کئی فلموں میں کا م کیا۔

وہ ایک اعلیٰ اداکار اور اس سے بھی بہت کامیڈین تھے ۔
میری دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے گھروالوں کے لئے ہیں ۔“تشار کپور نے تو قادر خان کو ”سینما کا جینئس “قرار دیتے ہوئے لکھا:”وہ کامیڈی اور جذباتیت میں مہارت رکھتے تھے ۔میرے جیسے بہت سے اداکار ان کی فلمیں دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں ۔وہ زندہ بھی لچنڈ تھے اور مرکر بھی لچنڈ ہی رہیں گے۔

“انیل کپور نے کہا”میں یہ خبر سُن کر انتہائی کرب میں ہوں ،ان کے ساتھ فلموں میں کام کرنا بہت متاثر کن عمل تھا۔وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے اور ہمیشہ آسمان پر ایک ستارے کی طرح درخشاں رہیں گے ۔“
معروف گائیکہ لتامنگیشکر نے کہا:”ہماری انڈسٹری نے ایک اچھا کلا کار اور لیکھکھ کھودیا۔“معروف اداکار رشی کپور یوں گویا ہوئے:”بہت لمبا رشتہ تھا آپ کا ہم سب کپورز کے ساتھ ،بہت کام کیا بہت سیکھا آپ سے ۔

جنت نصیب ہو آپ کو آمین ۔“صوفیا چودھری کہتی ہیں :”قادر خان بلند قامت اداکاری ‘اعلیٰ پائے کے لکھاری اور باکمال مزاحیہ اداکار‘مجھے ڈیوڈدھون کی فلموں میں ان کی اداکاری آج بھی یاد ہے ۔قادر خان کا ہندی سینما میں جو حصہ ہے اس سے انکار ممکن نہیں ۔“
اداکار ار جن کپور بولے :”قادر خان صاحب ! آپ بالی وُڈ میں ایک خلا چھوڑ گئے ہیں ۔آپ ایک ایسے اداکار اور رائٹ تھے جس نے نسلوں کی نشاندہی کی ہے ۔

آپ کی کمی کسی صورت پوری نہیں ہوسکتی ۔“
قادر خان کی موت سے پہلے کئی مرتبہ ان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے خبریں گردش کرتی رہیں جس پر وہ خود اور ان کی فیملی بہت پریشان رہتے تھے ۔ایک بیان میں اس وقت قادر خان نے کہا تھا کہ ان افوا ہوں سے ان کے خاندان کے لوگ بہت پریشان رہتے ہیں ۔”ایک دن تو سب کو جانا ہے اور میں آپ سب سے دعائیں لے کر جاؤں گا۔“

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments