قادر خان آخری قسط

شام میں جب نماز پڑھ کر واپس آتا تو یہودیوں کے قبرستان کے پاس رُک کر پھرپوری نماز پڑھتا۔میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ کوئی مجھے یہ سب کرتے دیکھ رہا ہے یا نہیں مگر

منگل جنوری

kader khan last episode
 سلیم بخاری
 آخری قسط
سلیبر ٹیز کے بارے میں اکثر لکھنے والے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں یا پھر جو کچھ پہلے سے شائع ہوا ہو اس سے استفادہ کرتے ہیں لیکن اگر کوئی سلیبرٹی اپنے بارے میں خود بیان کرے تو کیا کہنے۔قادر خان خود تو اس دُنیا سے چلے گئے مگر اپنے پیچھے بہت سی کہانیاں چھوڑ گئے ہیں ۔کچھ کہانیاں دیگر ذرائع سے بھی سامنے آچکی ہیں لیکن ان کی بڑی تعداد ابھی تک اور جھل ہے ۔

بقول شاعر ”ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا“آئیے یہ کہانیاں سُنتے ہیں خود قادرخان کی زبانی ۔یہ انٹر ویو ڈیف ڈاٹ کام نے2012ء میں کیا تھا۔
”میں بالی وُڈ چھوڑ گیا تھا کیونکہ وہ سب لوگ جن کے ساتھ میں کام کرتا تھا ایک ایک کرکے اس دُنیا سے رُخصت ہوتے چلے گئے جن میں میرے پیارے من موہن ڈیسائی اور پرکاش مہرہ جیسے لوگ بھی شامل تھے۔

(جاری ہے)

لہٰذا میرا بھی فلم انڈسٹری سے دل اُٹھ گیا۔

اس سارے عرصہ میں جب میں فلمی دُنیا سے الگ تھلگ تھامیں نے عربی اور اُردو زبانوں کا مطالعہ شروع کیا۔
میں ایک ایسا ادارہ تشکیل دینا چاہتا تھا جہاں ہندی ور اُردو پڑھائی جائے ،عوام میں یہ ایک تاثر عام ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کا پوری طرح علم نہیں اور بغیر کچھ بھی سمجھے بوجھے وہ اسلام پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں کیونکہ جس طرح ہندوؤں کی مذہبی تحریریں یعنی گیتا سنسکرت میں ہیں ،اسی طرح مسلمانوں کی مذہبی کتاب یعنی قرآن بھی عربی زبان میں ہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ اپنے مذہب سے آگاہی چاہتے ہیں تو عربی تعلیم حاصل کریں ۔


میرا باپ مذہب سکالر تھا ،مجھے باپ کی طرف سے تحفہ کے طور پر یہ روایت ملی کہ میں یہ ذمہ داری سنبھالوں ،میں نے دوسری زبانوں میں لکھی گئی کئی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا ہے ۔میں کنڈر گارٹن کے لئے نصاب بنا رہا ہوں اور میری خواہش ہے کہ میں پوسٹ گریجوایشن تک کا نصاب لکھ سکوں ۔میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ادارہ پہلے دبئی میں قائم کروں ،اس کے بعد کینیڈا میں اور پھر ممبئی میں ‘میں من موہن ڈیسائی اور پر کاش مہرہ جیسے لوگوں کی کمی بہت محسوس کرتا ہوں ۔


وہ بیک وقت میرے اُستاد بھی تھے اور میرے شاگرد بھی ۔انہوں نے جو کچھ مجھے سکھایا اور کچھ میں نے انہیں بھی سکھایا ۔ان کے رخصت ہو جانے کے بعد میں نے چند سال ڈیوڈ دھون اور گوندا کے ساتھ کام کیا۔مجھے لکھنے لکھانے سے بہت پیار تھا بلکہ مگر آہستہ آہستہ یہ کام مجھ سے چھین لیا گیا۔میں نے جب تک کام کیا اپنے مکالمے خود لکھتا تھا بلکہ اکثر گوندا کے مکالمے بھی درست کردیتا تھا ۔

میرے خیال میں مزہ آتا ہے جب پورا سکرپٹ آپ نے خود لکھا ہو ۔
یہی ہوا لکھنا چھوٹا تو میں نے انڈسٹری ہی چھوڑ دی۔میں جب چھوٹا تھا تو جو کچھ بھی دن بھرکرتا وہ رات کو دوبارہ نقالی کرتا۔میں شام میں جب نماز پڑھ کر واپس آتا تو یہودیوں کے قبرستان کے پاس رُک کر پھرپوری نماز پڑھتا۔میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ کوئی مجھے یہ سب کرتے دیکھ رہا ہے یا نہیں مگر ایک شام کسی نے مجھ پر ٹارچ کی روشنی پھینکی،وہ شخص اشرف خان تھا جو ایک معروف ایکٹر تھا اور محبوب خان کی فلم ”روٹی “میں کام کیا تھا ۔


اشرف خان نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ڈرمہ میں کام کروں گا۔یوں صرف 10سال کی عمر میں مجھے ایک ڈرامے میں شہزادے کا رول مل گیا۔اس کے بعد میں نے ڈراموں میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی ،میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں فلموں میں کام کروں گا ۔میں ایک ڈرامے ”تاش کے پتے“میں کام کررہا تھا جسے معروف مزاحیہ اداکارآغا صاحب نے دیکھا تو یوسف خان (دلیپ کمار)کو ڈرامہ دیکھنے کو کہا جسے میں نے خود لکھا اور ڈائریکٹ کیا تھا ۔


چند روز بعد مجھے ایک فون آیا اور دوسری طرف سے کہا گیا کہ میں یوسف خان بول رہا ہوں ،میں نے دریافت کیا کون یوسف خان ؟جواب آیا لوگ جسے دلیپ کمار کے نام سے جانتے ہیں ۔میرے ہاتھوں سے فون کا رسیور سلپ ہو کر نیچے جا گرا ۔بہر حال دلیپ کمار نے ڈرامہ دیکھا او رسٹیج پر آگئے اور بولے کہ یہ میری خوش قسمتی ہے مجھے قادر خان نے ڈرامہ دیکھنے کی دعوت دی ،مجھے تو علم ہی نہیں تھا کہ سٹیج پر اتنے اچھے فنکار کام کرتے ہیں ،ان سب لوگوں کو فلموں میں کام کرنا چاہئے تاہم ابھی تو میں قادر خان کو اپنی فلم ”سگینہ مہاتو “میں ایک کردار دے رہا ہوں جبکہ اگلے ہفتے میری دوسری فلم ”بیراگ “شروع ہورہی ہے جس میں وہ ایک اہم رول کریں گے ۔


یوں میرا فلمی سفر شروع ہو گیا مگر چونکہ دلیپ کمار سال میں صرف ایک فلم کرتے تھے لہٰذا میرے لئے کچھ زیادہ فلمی کام میسر نہیں تھا ۔میرا اگلاڈرامہ ”لوکل ٹرین “بھی بہت کامیاب ہوا اور مجھے 15سو روپے انعام کے طور پر ملے جبکہ میری اس وقت تنخواہ صر ف350/روپے تھی ۔
انعامات کی تقسیم میں ایک مہمان نے مجھے اپنی فلم ”جوانی دیوانی “ کے مکالمے لکھنے کی پیشکش کر دی جومیں نے قبول کرلی۔

”جوانی دیوانی“کی شوٹنگ ختم کروا کرمیں ایک روز پیدل چل رہا تھا کہ ایک کار میرے قریب آکر رُکی جس میں سے ایک شخص باہر نکلا اور مجھ سے کہا کہ میرے لئے ایک فلم لکھ دو ،میں نے اسے بتایا کہ مجھے”جوانی دیوانی“فلم کا معاوضہ15سو روپے ملا ہے تو اس شخص نے مجھے ایک لفافہ دیا جس میں 21ہزار روپے تھے ،یہ صاحب روی ملہوترا تھے جو فلم ”کھیل کھیل “کے پروڈیوسر تھے ۔


اس کے بعد میں ابراہیم نادیا والا سے ملا جس نے مجھے فلم ”رفو چکر “کے ڈائیلاگ کے لئے سائن کیا،پھر میری ملاقات ہوتی ہے من موہن ڈیسائی سے جنہوں نے نمونے کے طور پر اپنی فلم کے مکالمے لکھنے کو کہا ،میرے لکھے ہوئے مکالمے انہیں پسند آگئے تو انہوں نے مجھ سے میرا معاوضہ پوچھا ۔میں نے انہیں بتایا کہ مجھے آخری فلم کی کہانی لکھنے کا معاوضہ 21ہزار روپے ملا تھا،اس پر ڈیسائی صاحب نے برجستہ کہا میری کہانی لکھنے کا معاوضہ تمہیں 1لاکھ21ہزار ملے گا۔


یہ معاوضہ انہوں نے مجھے اپنی فلم ”روٹی“لکھنے کا دیا تھا ،اس کے بعد تو مجھے دھڑا دھڑ فلمیں ملتی گئیں اور میں مشہور ہو گیا ۔پر کاش مہرہ سے میری ملاقات اس کالج میں ہوئی جہاں میں پڑھا تا تھا ،وہ وہاں اپنی فلم ”حسینہ مان جائے گی “کی شوٹنگ کررہے تھے اور اپنی فلم کے مکالموں سے خوش نہیں تھے ۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ ذرا ان مکالموں کو درست کریں جو میں نے کر دےئے جس پر وہ بہت خوش ہوئے ۔

ایک عرصہ بعد ایک فلم سٹوڈیو میں میری دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے لئے پہلی فلم لکھی جس کانام تھا”خون پسینہ“۔
اس کے بعد میں نے اُن کے لئے دو فلمیں ”لاوارث “اور”مقدر کاسکندر “لکھیں ۔امیتابھ بچن سے میرے تعلقات کا آغاز فلم ”خون پسینہ “اور من موہن ڈیسائی کی فلم ”پرورش“سے ہوا ،پھر میرے اور اس کے درمیان کچھ ایسا ہوا کہ ہمارے تعلقات میں دراڑ آگئی ،میں اس پر زیادہ کچھ کہنا نہیں چاہتا ۔


درحقیقت میں نے امیتابھ بچن کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سیاست میں حصہ نہ لے مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی ،بعدازاں سیاست سے تائب ہو کر واپس آئے تو اُن کا رویہ تبدیل ہو چکا تھا ،میں ہمیشہ انہیں ”امیت “کہہ کر مخاطب کرتا تھا مگر اس مرتبہ جب میں نے انُہیں اپنے روایتی انداز میں امیت کہہ کر بلایا تو اُنہیں اچھا نہیں لگا،اس وقت میری ملاقات ایک فلمساز سے ہوئی جس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ سرجی کو ملے ‘میں نے پوچھا کون سرجی تو وہ بولا تم کو نہیں معلوم سرجی سے میری مراد امیتابھ بچن ہے ،میں نے اسے بتایا کہ وہ میرا دوست ہے اور میں اسے امیت کہہ کر بلاتا ہوں ۔


وہ پھر بولا”نہیں آپ اسے ہمیشہ سرجی بولنا امیت نہیں بونا اب کیونکہ وہ بہت بڑے آدمی بن گئے ہیں ۔“اس کے بعد ایک طویل عرصہ تک میرے اور امیتابھ بچن کے درمیان کبھی گفتگو نہیں ہوئی ۔میں دلن کے رول اکثر فلموں میں کرتا تھا مگر کچھ یوں ہوا کہ میرا بڑا بیٹا ایک دن اپنے دوستوں سے کھیل کر پھٹے کپڑوں کے ساتھ گھر آیا ،دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ اس کے دوست کہتے ہیں کہ تمہارا باپ فلموں میں لوگوں کو مارتا پیٹتا ہے اور آخر میں خود مار کھاتا ہے ،ایسے جملوں پر میرا بیٹا اکثر لڑائی مول لے لیتا تھا ۔ایک روز تو پھٹا سر لے کر گھر آیا تو میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آئندہ ولن کا رول نہیں کروں گا۔فلم ”ہمت والا“میں میرا کامیڈی کردار تھا جس کے بعد میں نے صرف کامیڈی رولز ہی کئے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments