امجد خان پہلی قسط

”شعلے “میں گبر کا کردار پہچان بنا ھندی سینما میں ولن کے کردار کو لیجنڈ بنادیا

بدھ فروری

Amjad Khan first episode
 سلیم بخاری
فلم ”شعلے “میں گبر سنگھ کا کردار کرکے شُہرت پانے والے اداکار امجد خان آج اس دُنیا میں نہیں مگروہ اپنے پیچھے ایک ایسی روایت چھوڑ گئے ہیں جس کے حصول کے لئے گزشتہ 26سال سے نہ جانے کتنے اداکاروں نے کوشش کی ہوگی اور نہ جانے کتنی نسلوں تک یہ تگ ودو جاری رہے گی مگر دوسرا کوئی امجد خان دریافت ہوگا اور نہ ہی کوئی ولن گبر سنگھ بن پائے گا ۔

یہی راقم الحروف کی طرف سے امجد خان کے لئے سب سے بڑاخراج تحسین ہے ۔
12نومبر 1940ء کو پاکستان کے شہر پشاور میں پیدا ہونے والے امجد خان کے والد جیانت Jayantبھی اپنے دور کے منجھے ہوئے اداکاروں میں شامل تھے ،ان کا خاندان معروف پشتون نسل سے تعلق رکھتا تھا ،ان کے دونوں بھائی امتیاز خان اور عنایت خان بھی ایکٹر تھے ۔امجد خان نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینڈ ریو ہائی سکول سے حاصل کی جس کے بعد وہ آرڈی نیشنل کا لج میں داخل ہو گئے اور طلبہ تنظیم کے جنرل سیکرٹری بن گئے ۔

(جاری ہے)


امجد خان کے فلموں میں آنے سے پہلے ہوتا یہ تھا کہ جب بھی کسی بھارتی فلم کی بات ہوتی تو تین باتیں ذہن میں آتی تھیں کہ فلم کی کہانی کیسی ہے ،ہیرو کون ہے اور ہیروئن کون ہے ؟مگر 1975ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”شعلے “میں ڈاکو گبر سنگھ اور 1978ء میں بننے والی فلم ”مقدر کا سکندر “نے توولن کے رول کو مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔اب فلمی ولن کی بات چھڑے تو فی الفورذہن میں ایک ہی نام آتا ہے اور وہ ہے امجد خان کا ۔


فلم میں ولن کے رول کو ان عظمتوں تک پہنچانے کا سہرا گبر سنگھ کے سر ہے یا امجدخان کے ،یہ فیصلہ کرنا ہرگز مشکل نہیں ۔”شعلے “ویسے تو بڑے نامی گرامی اداکاروں سے بھر پور تھی جن میں دھر میندر ‘سنجیو کمار ‘امیتابھ بچن ‘ہیما مالیتی اور جیا بہادری نمایاں تھے مگر فلم بینوں کو یہ فلم ولن گبر سنگھ کے روپ میں امجد خان کی اداکاری اور اس کے مکالموں کی وجہ سے یاد ہے جو آج تک زبان زد عام ہیں ۔


جیسا کہ سب جانتے ہیں کسی بھی شعبے میں کمال حاصل کرنے کیلئے سخت محنت کرنا پڑتی ہے ۔امجد خان نے بھی یہ کردار کرنے کے لئے بہت محنت کی ،اس رول کیلئے انہوں نے کیا کچھ کیا ؟یہ احوال جانتے ہیں اس ایکٹر کی اہلیہ شہلا خان سے ۔وہ کہتی ہیں :
”میرے شوہر کو ”شعلے “کا یہ کردار 20دسمبر 1973ء کو آفر کیا گیا جس د ن میرا بیٹا شاداب پیدا ہوا تھا۔

فلم کے ڈائریکٹرکی نظر امجد خان پر ایک ڈرامہ دیکھتے ہوئے پڑی اور ”شعلے “کے کہانی نویس سلیم جاوید نے پھر گبر سنگھ کا کریکٹر لکھ کر رمیش سپی ،جو فلم کے ہدایتکار تھے ،کے سپر د کردیا اور یہ معرکتہ لآ راء کر دار تخلیق ہوا ۔
فلم کی شوٹنگ کے دوران ساتھی اداکاروں کا خیال تھا کہ امجد خان کی آواز چونکہ بہت کمزور ہے لہٰذا اسے کسی اور کی آواز میں ڈب کیا جائے مگر رمیش سپی نے ضد کی کہ نہیں وہ امجد خان کی آواز میں ہی مکالمے ریکارڈ کریں گے ۔

امجد خان نے گبر سنگھ کے کردار پر باقاعدہ ریسرچ کی تو پتہ چلا کہ یہ کردار تو ماضی کا حصہ رہا ہے جس کے بارے میں جیا بہادری کے والدترون کمار بہادری نے اپنی کتاب میں بھی لکھا کہ ا س نام کا ڈاکو چمبل وادی میں رہا کرتا تھا ۔
ان کی کتاب کا نام تھا ”چمبل کے ڈاکو“تھا ۔امجد خان نے فلم کا یہ کردار اچھے انداز میں اس لئے نبھایا کہ انہوں نے گبر سنگھ کے طور طریقوں سے مکمل آگاہی حاصل کرلی تھی ۔

ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ امجد جب یہ فلم کررہے تھے تو ان کے والد ہسپتال میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑرہے تھے اور فلم ’شعلے“کی ریلیز سے چند ماہ قبل ملک راہی عدم ہوئے ۔“
امجد خان کا یہ ڈائیلاگ بھلا کیسے کوئی بھول سکتا ہے :”ارے اوسامبا،کتنے آدمی تھے “امجد خان نے اپنے بیس سالہ فلمی کیرئیر کے دوران 130سے زیادہ فلموں میں کام کیا ،فلموں میں آنے سے پہلے وہ تھیٹر ڈراموں میں کام کرتے تھے ،ان کی پہلی فلم ”نازبین“تھی جو 1951ء میں ریلیز ہوئی ،اس کے بعد 17سال کی عمر میں انہیں فلم ”اب دلی دور نہیں “میں ایک رول ملا جو 1957ء میں منظر عام پر آئی ۔

امجد خان نے اپنے والد جیانت کے ساتھ بھی چند فلموں میں کام کیا۔
1960ء کی دہائی میں امجد خان نے ہدایت کار کے آصف کے معاون کے طور پر فلم ”لو اینڈ گاڈ“
(Love And God) پر کام کیا اور اس فلم میں اداکاری بھی کی۔یہ فلم کے آصف کی 1971ء میں موت کے باعث التواکا شکار ہوئی اور آخر کار 1986ء میں ریلیز ہوئی۔ا س کے بعد 1973ء میں انہیں باقاعدہ کردار ملا فلم ”ہندوستان کی قسم “میں اور پھر 1975ء میں امجد خان کو ملی فلم ”شعلے “جس میں گبر سنگھ کا کردار کرکے اپنے لئے بہت بلند مقام حاصل کر لیا۔


یہ ان کی اداکاری کا کرشمہ تھا کہ فلم نے بلاک بسٹر کا اعزاز حاصل کرلیا۔اس فلم میں اداکاری کے لئے فلم فےئر ایوارڈ کے لئے نامزد گی تو سنجیوکمارکے حصے میں آئی مگر عوامی سطح پر جو پذیرائی گبر سنگھ کے روپ میں امجد خان کو ملی اس کا کوئی ثانی نہیں ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ امجد خان کے حوالے سے جب بھی گفتگو ہوتی ہے تو اس کا آغاز اور اختتام گبر سنگھ پر ہی ہوتا ہے مگر یہ تکلیف دہ بات تھی کیونکہ اس کردار کے علاوہ بھی امجد خان نے متعدد فلموں میں یاد گار کردار کئے ہیں ۔


یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ اگر ”مغل اعظم “میں پرتھوی راج کا بحیثیت مغل بادشاہ اکبر اور فلم ”پکار “میں
 چند ر موہن کا بطور مغل بادشاہ جہانگیر کر دار ناقابل فراموش ہے تو اس لحاظ سے گبر سنگھ بھی کردار کشی کی اعلیٰ مثال ہے ۔گبر سنگھ رام گڑھ کا ایک ایسا ڈاکو تھا جس کے ڈر اور دہشت نے ہر طرف تباہی مچارکھی تھی اور علاقے کی مائیں اپنے بچوں کو یہ کہ کر ڈرایا کرتی تھیں :”سوجاؤ بیٹا نہیں تو گبر سنگھ آجائے گا“۔

یہ کردار امجد خان نے دھیمے مگر رُعب دار لہجے میں کمال مہارت سے ادا کیا اور بالی وُڈ میں ولن کے کردار کو ایک نئی جہت عطا کر دی ۔
خود امجد خان کو بھی اداکار کے طور پر اپنی اس طاقت کا علم نہیں تھا مگر رمیش سپی کی فلم ”شعلے “ نے انہیں ناقابل شکست بنادیا۔اس کے بعدامجد خان نے جن فلموں میں کام کیا اُن میں بھی ”شعلے “کے گبر سنگھ کی چھاپ ضرور موجود ہے ،ان فلموں میں ”شعلے “کے گبر سنگھ کی چھاپ ضرور موجود ہے ،ان فلموں میں
”شطر نج کے کھلاڑی ،مقدر کا سکندر ،قربانی ،پرورش ،لاوارث ،سہاگ ،یارانہ اور چمبیلی کی شادی “شامل ہیں ۔


ایک اور دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ امجد خان ”شعلے “کے گبر سنگھ کے لئے پہلی چوائس نہیں تھے بلکہ یہ کردار تو ڈینی ڈینزونگ پا(Danny Denzongpa)کو سامنے رکھ کر لکھا گیا تھا مگر فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے چند ماہ قبل ڈینی نے یہ کردار کرنے سے معذرت کرلی کیونکہ وہ کسی اور فلم کی شوٹنگ کی وجہ سے ڈیٹ نہیں دے پارہے تھے ۔
سلیم جاوید جب گبر سنگھ کا کردار لکھ رہے تھے تب بھی کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کردار یادگار بنے گا۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ امیتابھ بچن بھی گبر سنگھ کا کردار کرنے کے خواہش مند تھے ۔سلیم جاوید کا بھی یہی خیال تھا کہ شاید امجد خان اس کردار کی خصوصیات کو نبھال پائیں مگر یہ ادراک انہیں ضرورتھا کہ امجد خان جسمانی طور پر ایک ڈاکو کے کردار کے لئے انتہائی موزوں ہیں ۔
امجد خان نے کردار کی ضرورت کے تحت نہ صرف اپنی داڑھی بڑھائی بلکہ دانتوں کو بھی کالارگ کروایا تھا،ان کا لہجہ اور زبان بھی کردار کیلئے بہت مناسب تھی ۔

معروف فلمی ناقد انوپما چوپڑہ کے مطابق امجد خان ”شعلے “کے لئے موزوں ترین اداکار تھے جو گبر سنگھ کا کردار ادا کرنے کیلئے اپنے اندر مطلوبہ صلاحیتیں رکھتے تھے لیکن جب فلم کی شوٹنگ ہورہی تھی تو یونٹ میں اکثریت کا خیال تھا کہ کیا امجد خان گبر سنگھ کیلئے درست انتخاب ہے کیونکہ یہ فلم کا کلیدی کردار تھا اور ساری فلم کا انحصار اسی پر تھا۔
اگر امجد خان کردار کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام ہوتا تو فلم بھی فلاپ ہوجاتی ۔انوپما چو پڑہ کا مزید کہنا ہے کہ امجد خان نے اپنی صلاحیتوں سے اس کر دار کا تانابانابنا کیونکہ وہ بچپن ہی سے اپنے دھوبی کی آواز یاد رکھے ہوئے تھا جو اپنی بیوی کو بلانے کیلئے کہتا تھا ”ارے شانتی “بس یہی جملہ پھر ”ار ے اوسامبا “میں تبدیل ہو گیا۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments