امجد خان آخری قسط

”شعلے“ میں گبر کاکردار پہچان بنا ھندی سینما میں ولن کے کردار کولیجنڈبنادیا

منگل فروری

amjad khan
 سلیم بخاری
 آخری قسط
ناقدین ہوں یا شائقین فلم دونوں کا اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ امجد خان نے فلموں میں بطور اداکارولن کے کردار کو جو مقام دلوایا وہ کسی دوسرے فن کار کے حصے میں نہیں آیا ۔فلم ”شعلے “ میں ڈاکو گبر سنگھ اور فلم ”شطرنج کے کھلاڑی“میں نواب واجد علی شاہ کے کردار ادا کرکے انہوں نے ثابت کردیا کہ فلم صرف ہیرو اور ہیروئن کی اداکاری کی مرہون منت نہیں ہوتی بلکہ ولن کا کردار بھی فلم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔


1975ء میں فلم”شعلے“کی کامیابی کے بعد امجد خان نے آئندہ بھی فلموں میں منفی کردار ادا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔1970ء‘1980ء اور 1990ء کی دہائی کے اوائل تک انہوں نے بے شُمار فلموں میں ولن کا کردار کیا اور مقبولیت کے حوالے سے سینئر اداکار اجیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

(جاری ہے)

ان کی زیادہ تر فلمیں امیتابھ بچن کے ساتھ تھیں ۔
فلم ”انکار “میں ان کا رول بھی بہت سراہا گیا ،اس کے علاوہ جن فلموں میں انہوں نے اپنی موجودگی کو منوایا ان میں ”دیس پردیس“ناستک ‘ستے پہ ستہ‘چنبیلی کی قسم ‘گنگا کی سوگند‘ہم کسی سے کم نہیں اور نصیب“شامل ہیں ۔

امجد خان نے اپنی فلمی زندگی کے دوران متعدد غیر روایتی کردار کئے جن میں خاص طور پر فلم ”شطر نج کے کھلاڑی “سر فہرست ہے ۔یہ فلم مُنشی پریم چند کے ناول پر مبنی تھی اور اسے مشہور زمانہ فلم میکر ستیہ جیت رے نے بنایا تھا۔
اس فلم میں امجد خان نے اودھ کے بادشاہ واجد علی شاہ کا کردار ادا کیا جو ایک لاچار حکمران تھا اور برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے حملے کا سامنا کر رہا ہوتا ہے ۔

یاد رہے اس فلم میں امجد خان نے ایک گانا بھی ڈب کرایا تھا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ صرف منفی کردار ہی مہارت سے کر سکتے تھے ۔
انہوں نے مثبت کردار بھی کئے ہیں ۔فلم ”یارانہ “میں وہ امیتا بھ بچن کے دوست بنے جبکہ فلم ”لاوارث“میں امیتابھ کے والد کا کردار ادا کیا۔آرٹ فلم ”اُتساؤ“(Utsav) 1984ء میں انہوں نے ”کا ماسوترا“کے مصنف وتسیانا(Vatsyayana)کا کردار ادا کیا۔


مرچنٹ آئیوری کی انگریزی فلم ”دی پر فیکٹ مرڈر “میں وہ مافیا ڈان بنے ،اسی طرح مزاحیہ کرداروں میں بھی انہوں نے اپنی اداکار انہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ایسی فلموں میں 1980ء میں بننے والی فلم ”قربانی “اور1986ء میں ریلیز ہونے والی فلمیں ”لوسٹوری “اور ”چنبیلی کی شادی “شامل ہیں ۔ایک مختصر عرصہ کے لئے انہوں نے ڈائریکشن میں بھی قسمت آزمائی اور 1983ء میں ایک فلم ”چور پولیس “کی ہدایت کاری کی مگر باکس آفس پر وہ ناکام رہی ۔


1985ء میں ان کی فلم ”امیر آدمی غریب آدمی “بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔امجد خان ایکٹرز گلڈ کے صدر بھی رہے ،اس کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی فلم انڈسٹری میں ہمیشہ قابل احترام رہے ۔انہوں نے اکثر اداکاروں ‘فلم سازوں اور ہدایت کاروں کے مابین اختلافات بھی ختم کرائے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ڈمپل کپاڈیہ نے ایک فلم میں ماں کا کردار ادا کرنے کی حامی بھرلی تھی بعدازاں کر دار کرنے سے معذرت کرلی جس پر فلم ساز کمیونٹی نے اداکارہ کابائیکاٹ کرنے کی کوشش کی مگر امجد خان نے ایکٹرز گلڈ کے صدر کی حیثیت سے مداخلت کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کروادیا۔


علی پیٹر جون اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ امجد خان کا ایک اداکار کی حیثیت سے جو نام اور مقام ہے اسے بھلانے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک مجرمانہ اقدام ہو گا کیونکہ انہوں نے جس دھات پر اپنا نام کندہ کیا ہے اسے مٹانا تو دور کی بات ہے اس پر خراش ڈالنا بھی ممکن نہیں ،انہیں ہمیشہ فلم ”شعلے “کے گبر سنگھ کے طور پر ہی یاد رکھا جائے گا۔انہیں ٹائپ کاسٹ بنانے کی بھی کوشش کی گئی مگر امجد خان کی اداکارانہ صلاحیتوں نے ایسا ہونے نہیں دیا کیونکہ انہوں نے منفی کرداروں میں بھی اپنی اداکاری سے نہ صرف جان ڈال دی بلکہ ایک نئی جہت بھی ایجاد کی ۔


بالی وُڈ کی روایت میں کسی کو طے شدہ اصولوں سے انحراف کی اجازت نہیں تھی مگر امجد خان نے ان تمام نام نہاد اصولوں سے بغاوت کی اور اپنے نام کا سکہ ایسے منوایا جسے ان سے چھینٹے کی جرأت آج تک کسی نے نہیں کی ۔انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ مثبت کردار بھی وہ کما ل مہارت سے ادا کر سکتے ہیں جس کی مثال ان کی فلموں دادا،کمانڈر اور پیارا دشمن کے طور پر دی جا سکتی ہے ۔

انہوں نے بے شمار ایسے کردار بھی کئے جو نہ صرف بہت طاقتور تھے بلکہ انہوں نے ہیروز سے بھی زیادہ مقبولیت حاصل کی ۔امجد خان اس قدر مکمل اداکار تھے کہ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف رمیش سپی ،فیروز خان اور آنند ساگر جیسے فلم میکرز نے بھی کیا تھا۔آرٹ فلموں کے فلم میکر کلپنالجمی
(Kalpana Lajmi) اور ستیہ جیت رے جیسے فلم میکرز نے بھی ان کی اداکاری کو تسلیم کیا۔

فلم ”شعلے“ کی کامیابی نے امجد خان کے لئے سب دروازے واکر دےئے اور وہ سب فلم ساز جنہوں نے بطور اداکار انہیں مسترد کردیا تھا وہ انہیں سائن کرنے کے لئے ان کے گھر کے باہر قطار میں کھڑے دکھائی دےئے جو محبوب سٹوڈیو کے سامنے واقع تھا۔
علی پیٹر جون مزید لکھتے ہیں کہ امجد خان انہیں اپنے سیکرٹری وے سِنہا سے اپنے تعلقات اور امیتابھ بچن سے اپنی دوستی کے عروج وزوال اور ریکھا سے بِگ بی کے رومانس کی داستان بیان کرنا چاہتے تھے مگر ان کی زندگی نے وفانہ کی ۔

امجد خان نے بتایا تھا کہ وہ ”لمبائی چوڑائی “کے نام سے ایک فلم بنانا چاہتے تھے جس میں امیتابھ بچن بھی ایک کردار کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے بعد میں انہوں نے انکار کر دیا۔ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ امجد خان اپنی فلم میں ریکھا اور امیتابھ بچن کے رومانس پر مبنی مواد کو لے کر فلم بنانے کے خواہش مند تھے لیکن یہ کہانی اب کبھی منظر عام پر نہیں آئے گی ۔


امجد خان نے ریکھا اور امیتابھ کے عشق میں دونوں کی بہت مدد کی تھی ۔امجد خان کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ قرآن پاک اور بائبل کے حوالے اپنی گفتگو میں اکثر دیا کرتے تھے ۔اس کے علاوہ انگلش شاعروں کی نظمیں بھی اکثر سنایا کرتے تھے جن میں کیٹس(Keats)، بائرن(Byron)، ولیم ورڈ ز ورتھ اور شیلے شامل تھے ۔وہ سقراط ،افلا طون ،خلیل جبران اور ایس رادھا کر شنن جیسے فلاسفرز کے مشکل تصورات کو بھی سہل زبان میں بیان کرنے میں مہارت رکھتے تھے ۔


معروف اداکار چندر شیکھر آرٹسٹ اور فلم ور کرز کے لیڈر رہے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ میں نے بہت سے لیڈر وں کو آتے جاتے دیکھا ہے مگر میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ امجد خان جیسا لیڈر میں نے کبھی نہیں دیکھا
لیکن فلمی صنعت نے ان جیسے قابل اور فعال لیڈر کو کھودیا ،وہ اگر زندہ رہتے تو کیا کیا معجزے کر جاتے ۔
امجد خان نے سیاست میں کبھی دلچسپی نہیں لی تھی بلکہ سیاست اور سیاستدانوں سے ایک طرح کی لا تعلقی اختیار کئے رکھی ۔


ان کے خیال میں بس وہ ایک ہی ایسا شخص تھا جو ایکٹر بھی تھا اور ایک با عزت سیاستدان بھی اور وہ تھا سُنیل دَت جس کی ہر بات کو امجد خان حکم کا درجہ دیتے تھے ۔علی پیٹر جون نے اپنے آرٹیکل میں ایک اور دلچسپ واقعہ بھی درج کیا ہے :”ہندوستانی سینما اور سنسر شپ کے عنوان سے ایک سیمینار ہورہا تھا جس کی صدارت یونین کے وزیر اطلاعات ونشریات کررہے تھے ،اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے امجد خان نے سینسر پالیسی کی کافی ایسی کی تیسی کی اور یہ بھی کہا کہ میری فلم ”چور پولیس“کا بھی سینسر نے کباڑہ کر دیا مگر جب انہوں نے ڈائس کی طرف دیکھا تو وزیر موصوف ،جنہوں نے کالا چشمہ لگا یا ہوا تھا ،سورہے تھے جس پر وہ حاضرین سے مخاطب ہوئے اور کہا ہم حکومت سے کوئی مثبت رویے کی کیسے توقع کر سکتے ہیں جس کے وزیر ایسے ہوں ؟میں یہاں اپنے مسائل بیان کررہاہوں اور انصاف کا تقاضا کررہا ہوں جبکہ وزیر صاحب خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔


میری تقریر پروزیر کے اس رد عمل سے خود وزیر اور ان کی حکومت کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے ۔یہ سُن کر وزیر کے اسسٹنٹ نے وزیر کو جگایا اور امجد خان نے جو کچھ کہا وہ انہیں بتایا ۔وزیر صاحب اس وقت تو کچھ نہ بولے مگر اس کا بدلہ اُس وقت لیا جب امجد خان کی اگلی فلم ”امیر آدمی غریب آدمی “ان کے سامنے سینسر کیلئے پیش ہوئی ۔مذکورہ وزیر کے حکم پر اس فلم کے حصے کاٹ کاٹ کر اس کا ستیانا س کر دیا گیا مگر امجد خان کا دلیرانہ انداز زندگی کے آخری لمحے تک اُن کی ذات کا حصہ رہا تا ہم اپنی دو فلموں کی پے درپے ناکامی نے انہیں توڑ کے رکھ دیا تھا اور وہ دلبرد اشتہ ہو کر پہلے جیسے امجد خان نہیں رہے تھے ۔


انہوں نے اپنی آخری فلم ”رودالی “(Rudaali) میں ایک بیمار نواب (مہاراجہ )کا کردار ادا کیا جو بسترِ مرگ پر پڑا ہو تا ہے ۔ان کے تھیٹر کے زمانے کے دوست سنجیو کمار اکثر اپنے گہرے دوستوں کو کہا کرتے تھے کہ امجد خان پچاس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس دُنیا سے چلا جائے گاور پھر ایسا ہی ہوا ،ایک شدید دل کے دورے کے نتیجے میں وہ اس دُنیا ئے فانی سے منہ موڑ گئے ۔


اب ذرا امجد خان کی فلموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ابتدائی سالوں میں اُن کی اِکادُکا فلمیں ہی منظر عام پر آئیں جن میں شامل ہیں ”نازنین “(1951)ء پھر 6سال بعد آئی ”اب دلی دور نہیں “(1957ء) پھر 4سال بعد ایک فلم ”مایا“(1961ء)۔یہ فلمیں انہوں نے بطور چائلڈسٹار کی تھیں ۔اس کے بعد 1973ء میں”ہندوستان کی قسم“اور دو سال بعد یعنی 1975ء میں آئی فلم ”شعلے “جس نے اچانک امجد خان کو سُپر سٹار بنا دیا۔


اس کے بعد 1976ء میں دو فلمیں ”چرس“ اور ”دحنی اور جانی “آئیں ۔اس کے بعد تو امجد خان پر فلموں کی بارش ہو نے لگی ۔1977ء میں ان کی 9فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں ”آفت ،آخری گولی ،چکر پہ چکر ،ہم کسی سے کم نہیں ،قسم خون کی ،پلکوں کی چھاؤں میں ،پرورش ،رام بھروسے اور شطر نج کے کھلاڑی “۔1978ء میں ان کی پندرہ فلمیں منظر عام پر آئیں جن میں ”اپنا خون ،بے شرم ،بندی،بھوک،دیس پردیس،گنگا کی سوگند ،ہیرالال پنا لال،انکار،قسمیں وعدے ،خون کی پکار،مقدر ،
مقدر کا سکندر ،پھول کھلے ہیں گلشن گلشن،رام قسم اور ساون کے گیت “شامل ہیں ۔


1979ء میں امجدخان کی 13فلمیں نمائش کے لئے پیش ہوئیں جن میں شامل تھیں ” احساس ،آتما رام ،چمبل کی رانی ،دادا ،دو شکاری ،ہمارے تمہارے ،ہم تیرے عاشق ہیں ،لوک پر لوک ،مسٹر نٹور لال ،
راکھی کی سوگند ،سرکاری مہمان اور سہاگ “۔ اس کے بعد 1980ء میں ان کی دس فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں ”ممبئی 420میل ،جوالا مکھی ،خنجر ،لہو پکارے گا،لوٹ مار،پیارا دشمن،قربانی ،رام بلرام اور یاری دشمنی “۔


1981ء میں تو امجد خان نے 26فلموں میں کا م کرکے ایک ریکارڈ قائم کر دیا،ا ن فلموں میں شامل تھیں ”انو شاندن ‘برسات کی ایک رات ،چہرے پہ چہرہ ،کمانڈر ،دھواں ،گہرے زخم ،ہم سے بڑھ کر کون ،
جیل یا ترا،کنہیا ،پانچ قیدی ،کالیا،قاتلوں کے قاتل ،لیڈیز ٹیلز ،لاوارث ،لوسٹوری ،مان گئے اُستاد ،
نصیب ،پلاٹ نمبر 5، پروفیسر ،پیارے لال ،راکی ،شمع ،وقت کی دیوار ،یارانہ اور زمانے کو دکھانا ہے “۔


1982ء میں ان کی دس فلمیں دیکھنے کو ملیں جن میں شامل تھیں ”ستے پہ ستہ ،بغاوت ،دولت ،دیس پریمی ،دھرم کا نتا،انسان ،سمراٹ ،تیسری آنکھ ،تقدیر کا بادشاہ اور تیری مانگ ستاروں سے بھردوں ۔“
1983ء میں 9فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں ”اچھا بُرا ،بڑے دل والا،چور پولیس ،ہمت والا ،
ہم سے ہے زمانہ ،ہم سے جیتا کوئی،جانی دوست مہمان اور ناستک“۔


1984ء میں 8فلمیں منظر عام پر آئیں جن میں شامل تھیں ” بندیا چمکے گی ،دھوکے باز،کامیاب ،
تیرے میرے بیچ میں ،مٹی مانگے خون ،موہن جوشی حاضر ہو اور باپ اور اُستاؤ۔“1985ء میں 8فلمیں آئیں جن میں شامل ہیں”امیر آدمی غریب آدمی ،ایک ڈاکو شہر میں ،ایک سے بھلے دو ،ماں قسم ،تیرے ساتھی ،محبت اور پاتال بھیروی۔“1986ء میں 13فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں ”اندھیری رات ،میں رہا تیرے ہاتھ میں ،چنبیلی کی شادی ،جیوا،لواینڈ گاڈ ،محبت کی قسم ،نصیحت ،پہنچے ہوئے لوگ ،پیچھا کرو،تیلیگو فلم سمہا ز نم(Simhasanam)،سنگھاسن ،وکرم اور زندگانی ۔

“1987ء میں امجد خان کی 5فلمیں منظر عام پر آئیں جن میں شامل تھیں ”احسان ،انسانیت کے دشمن ،جاگو ہوا سویرا،
معشوقہ اور سیتا پور کی گیتا۔“1988ء میں ان کی 9فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں ”بیس سال بعد ،دووقت کی روٹی ،انتقام ،قبرستان ،کنور لال ،مالا مال،پانچ فولادی ،قاتل اور دی پرفیکٹ مرڈر“۔ 1989ء میں بھی ان کی 5فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں شامل تھیں ”دوست ،کُھلی کھڑکی ،میری زبان ،
نقاب ”اور ”سنتوش“۔


1990ء میں 3فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ”لیکن ،مہا سنگرام اور ”پتی پتنی اور طوائف“شامل تھیں ۔
1991ء میں ان کی چار فلمیں دیکھنے کو ملیں جن میں ”لو،عزت ،رام گڑھ کے شعلے اور یارا دلدار “شامل تھیں ۔1992ء میں بھی صرف 6فلمیں آئیں جن میں شامل تھیں ”آسمان سے گرا،دل ہی تو ہے ،علی مائی فرینڈ ،سالی آدھی گھر والی ،وقت کا بادشاہ اور ورودھی “۔


1983ء میں 5فلمیں منظر عام پر آئیں جن میں شامل ہیں ”بے چین ،ان کسٹڈی ،رودالی “
،کناڈازبان میں بننے والی فلم ”بناداجی جے “اور تیلیگو فلم ’پریما یودھم “۔ 1995ء میں ان کی تین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ”اتانک ،حکمنامہ اور سوتیلا بھائی“شامل تھیں ۔ناقدین نے دس فلموں کو امجد خان کی بہترین فلمیں قرار دیا ہے جن میں پہلی بہترین فلم تو بلاشبہ ’شعلے“ہے جس کے بارے میں کچھ زیادہ کہنے کی گنجائش ہے نہ ضرورت ۔


اس بات پر بھی اتفاق رائے ہے کہ اگر اس فلم میں سے امجد خان کو نکال دیا جائے تو اس کی کامیابی کا کوئی جواز نہیں رہتا ،جب بھی گبر سنگھ سکرین پر نمودار ہوتا تو شائقین فلم نعرے لگانے اور سیٹیاں بجانے لگتے ۔
امجد خان نے ایک ڈاکو کے کردار میں نہ صرف جان ڈال دی بلکہ اسے ایک یاد گار پر فارمنس کا درجہ بھی دلوادیا۔اس فلم کی ریلیز کے صرف دو سال بعد 1977ء میں ریلیز ہوئی فلم ”شطر نج کے کھلاڑی“جسے عالمی حیثیت کے حامل ڈائریکٹر ستیہ جیت رے نے ڈائریکٹ کیا تھا۔

اس فلم میں امجد خان نے اودھ کے نواب واجد علی شاہ کا کردار کیا،اس پر فارمنس کو بھی بجاطورپر بہترین اداکاری کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے ۔
یہ ایک ایسے حکمران کا کردار تھا جو اپنے اقتدار کے آخری لمحات میں اپنا تخت تاج برطانیہ کے حوالے کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ امجد خان نے ایک مجبور اور لا چار نواب کی اداکاری کو لاجواب بنا دیا۔اگلے سال یعنی 1978ء میں ریلیز ہوئی فلم ”مقدر کا سکندر “جسے پر کاش مہرہ نے بنایا تھا اور اس میں امجد خان کے علاوہ ریکھا ایک طوائف کے کردار میں امیتابھ بچن کے عشق میں گرفتار دکھائی دیں جس کا والہانہ پن تینوں کی بتاہی کا باعث بنتا ہے۔


دو سال بعد 1980ء میں ریلیز ہوئی فلم ”قربانی “جس میں زیادہ تر دلکشی تو زینت امان کی بے باکی کی وجہ سے تھے مگر چیو نگم چباتے پولیس آفیسر کے کردار میں امجد خان کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔
1981ء میں منظر عام پر آئی فلم ”لاوارث “جس میں امجد خان کا کردار سونے کی کان میں کھدائی کرنے والے ایک کارکن کا تھا جو دولت کی خاطر اپنی حاملہ گرل فرینڈ کو چھوڑ دیتا ہے مگر کئی دہائیوں کے بعد اسے اپنے اس عمل پر پچھتا وا ہوتا ہے تو وہ اپنے ناجائز بیٹے کو اپنانے کی جدوجہد کرنے لگتا ہے ۔

اس فلم میں ایک بوڑھے باپ کا کردار امجد خان نے کمال مہارت سے کیا ہے ۔
اسی سال ریلیز ہوئی ایک اور فلم ”کالیا “جس میں امجد خان نے ایک سمگلر کاکردار کیا جو بظاہر ایک بزنس مین کا روپ دھارے ہوتا ہے ،وہ شابانی سیٹھ کا کردار تھا جو ہر طرح کی برائی میں ملوث ہورتا ہے ۔
امیتابھ بچن نے اس فلم کمال کے مکالمے بولے ہیں مگر امجد خان کا یہ جملہ لوگوں کو آج بھی یاد ہے :
”کتوں اور بھکاریوں کا اندر آنا منع ہے “اسی سال تیسری فلم تھی ”یارانہ “ گزشتہ دو فلموں کی طرح اس
 کے ہیرو بھی امیتابھ بچن ہی تھے ۔

اس فلم میں امیتابھ اور امجد دوستوں کے روپ میں نظر آئے ۔کشن (امیتابھ )کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے دوست بشن (امجد خان )کو اس کا حق ملے۔دوستی کے حوالے سے اس فلم کا گانا“تیرے جیسا یار کہاں “بھلا کون بھول سکتا ہے ۔1984ء میں ریلیز ہوئی فلم ”اُتساؤ“(Utsav)جس میں امجد خان نے کاما سوترا کے مصنف کا کردار کیا۔یہ کردار نبھانا بھی اعلیٰ صلاحیتوں کی دلیل ہے ۔اسی طرح 1986ء میں ریلیز ہونے والی فلم ”چنبیلی کی شادی “اور 1993ء میں بننے والی فلم ”رودالی“(Rudaali) میں بھی امجد خان نے یاد گار کر دار کئے۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments