نامور بالی وڈ اداکار بھی بکاؤ مال بن گئے

کو براپوسٹ کے اسٹنگ آپریشن میں انکشاف بھاری معاوضے کے عوض مودی کی سیاسی تشہیر کیلئے تیار

جمعہ مارچ

naamwar Bollywood adakar bhi bikao maal ban gaye
 رابعہ عظمت
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جس طرح بھارتی میڈیا نے جنگ کا سا ماحول بنائے رکھا اور
 پاکستان کے خلاف زہر یلا پروپیگنڈ ہ جاری رکھا اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارتی متعصب میڈیا صرف اور صرف مودی کی زبان بول رہا ہے اور سنگھ پر یوار کے زیر اثر بھارتی شہریوں کو ورغلانے کا بیڑا اٹھار کھا ہے ۔گزشتہ سال ہندوستان کے معروف میڈیا گروپ نے ایک اسٹنگ آپریشن کے ذریعے بھارتی بکا و میڈیا کا بھانڈا پھوڑ دیاتھا۔

جس نے مودی اور بی جے پی کی مداح سرائی کے لئے کروڑوں روپوں کی ڈیل کی تھی ۔اسی سودے کے تحت اپوزیشن لیڈروں بالخصوص راہول گاندھی ،مایا وتی اور دیگر سیکولر پارٹیوں کے خلاف اشتعال انگریزی بھی انہی نیوز چینلز کے کام میں شامل تھیں ۔
اب حال ہی میں کو براپوسٹ نے اپنے ایک خفیہ مشن ”آپریشن کراؤ کے “کے مطابق انکشاف کیا ہے کہ الیکشن2019ء میں جیت کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس نے بالی وڈ فنکاروں کو بھی کثیر معاوضے پر رکھ لیا ہے اور ان کا کام صرف اور صرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جی حضور ی کرنا اور ان کی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنا ہے ۔

(جاری ہے)

مذکورہ آپریشن کے ذریعے جن بالی وڈ فنکاروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں سے بیشتر سوشل میڈیا پر بہت سر گرم ہیں ۔
کو براپوسٹ نے سوشل میڈیا پر ان فنکاروں کی اس سر گرمی کو الیکشن کے دوران بی جے پی کے حق میں ماحول سازی کے لئے استعمال کرنے کی پیشکش رکھی جسے ان فنکاروں نے بھارتی معاوضے کے عوض قبول کر لیا اس اسٹنگ آپریشن میں جن فنکاروں نے بی جے پی کے حق میں سوشل میڈیا کے ذریعے ماحول سازی کرنے کا سودا کیا ان میں سے بیشتر نے معاوضے کی رقم کا 60سے80فیصد نقد کا مطالبہ کیا ۔

ان فنکاروں کا مطالبہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ملکی مسائل پر ان کی فکر مندی کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔یہ فنکار ایک جانب تو بد عنوانی کی روک تھام کے لئے حکومت کے نوٹ بندی جیسے اقدام کی تائید کرتے ہیں تو دوسری طرف خود ایسے کاموں میں ملوث ہیں جس سے بد عنوانی اور کرپشن کو فروغ مل رہا ہے ۔
ان معروف فلمی اداکاروں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عموماً کو گمراہ کرنے کے لئے لاکھوں کی فیس کی مطالبہ بھی کیا اور بعض نے تو صرف ایک ٹویٹ کرنے کے لاکھوں روپے مانگے ۔

یہ اداکار اپنی انتہائی پر تعیش زندگی کی تکمیل کے لئے ہندوستانیوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق گزشتہ کچھ مہینوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں منظر عام پر آئیں اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان ملاقاتوں کے پس پر دہ کیا محرکات ہیں اور یہ کہ ان کا استعمال سیاسی فائدے کے لئے کیا جائے ۔

یہ وجہ ہے کہ کسانوں اور بے روز گار نوجوانوں کے بجائے بھارتی وزیر اعظم کو فلم انڈسٹری کے مسائل کی زیادہ فکر لاحق ہے اور اسی لئے اپنے مصروف شیڈول میں سے قمتی وقت نکال کر فلمی وفد سے ملاقاتیں کیں ۔
اس سلسلے میں بھارتی فنکار انو پم کھیر کی مثال سب کے سامنے ہے جنہوں نے بھگواپارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پنڈتوں کی ہجرت کا مسئلہ اٹھایا ۔

ظاہر ہے اس حوالے سے کی گئی بیان بازی کا مقصد صرف اپنے مفاد کے لئے ساز گار ماحول بنانا ہے ورنہ اگر وہ وادی کے حالات وواقعات کو سنجیدگی سے لیتے تو اس حوالے سے کوئی ٹھوس حل پیش کرتے ۔
اس اسٹنگ آپریشن سے قبل بھی کئی فنکاروں نے مودی کی حکومت میں حمایتی بیانات دےئے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کل تک جس فلم انڈسٹری کے متعلق بڑے وثوق سے یہ کہا جاتا تھا کہ اس سے وابستہ افراد سیکولر افکار واقدار کو کسی بھی طرح کی عصبیت پر ترجیح دیتے ہیں اب ان کے خیالات بھی مذہبی اور قومی عصبیت کے رنگ میں ڈھل چکے ہیں ۔

فلمی شخصیات کی سیاست سے اس نوعیت کی دلچسپی آئندہ انتخابات میں کسی خاص پارٹی کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کا ایک حربہ ہے صریحاً جمہوریت کے منافی ہے ۔بالی وڈ ایکٹرز کو دولت کی ہوس نے اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ عوام کے جذبات کا ناجائزفائدہ اٹھانے کو بھی غلط نہیں سمجھے بلکہ اسے اپنا حق مانتے ہیں اور بھارتی جمہوریہ کے دامن کو بھی داغدار کر دیا ہے ۔


علاوہ ازیں بھارتی اداکار انوپم کھیر کا تعلق انتہا پسند جماعت شیو سینا اور بی جے پی کے ساتھ ہے ان کی اہلیہ کرن کھیر بھی بی جے پی کی ٹکٹ پرالیکشن لڑتی ہیں اور رکن پارلیمنٹ بھی ہیں ۔مذکورہ فلمی اداکار پاک بھارت کرکٹ سیریز کی مخالفت میں بھی سب سے آگے ہیں اور انہوں نے بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اور عدم برداشت کے خلاف اپنے ایوارڈ واپس کرنے والی شخصیات کی بھی شدید مخالفت کی تھی ۔

کو براپوسٹ کے اسٹنگ آپریشن کے مطابق ایک دو نہیں پورے 36فنکاروں کے نام سامنے آئے ہیں جو پیسوں کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں وہ لوک سبھا انتخابات میں کسی بھی پارٹی کے موافق ماحول بنانے کے لئے وہ سب اپنے سوشل اکاؤنٹ پر پوسٹ کریں گے جو انہیں دیا جائے گا مگر انہیں پہلے پیسے چاہئیں ۔
ان فنکاروں میں مشہور سنگرز بھی شامل ہیں جن میں پلے بیک سنگرابھی جیت بھٹا چارچہ ،میکا سنگھ ،بابا سہگل شامل ہیں اور اداکاروں میں جیکی شروف ،شکتی کپور،وویک ابرائے ،سونو سود ،امیشا پاٹیل ،ماہیما چودھری ،شریس تلپڑے ،سریندر پال، پنکج دھیر اور ان کے بیٹے نکتن دھیر ،ٹسکا چوپڑا ،روہت رائے ،راہل بھٹ ،سلیم زیدی ،راکھی ساونت ،امن ورما،ہیتن تیجوالی اور ان کی بیوی گوری برہان ،ایولین شرما،منیشالا مبا،کونا مترا،پونم پانڈے،کامیڈین راجو شیر یوا ستو ،سنیل پال،راجہ پال یادیو،کرشنا ابھیشک ،کوریو گرافر گنیش اچاریہ اور ڈانسر سبھا ونا سیٹھ ہیں ۔


کو براپوسٹ کے رپورٹروں نے ان شخصیات سے ملاقات کرکے انہیں اپنا ایجینڈ ابتایا تو یہ سب تیار ہو گئے۔یہ لوگ ایک پارٹی کی حمایت پوسٹ تحریر کریں گے اور انہیں فیس بک ،ٹویٹر اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کرنا ہے ۔یعنی پوسٹ کے ذریعے انہیں ایک پارٹی کو پروموٹ کرنا ہو گا۔تاکہ 2019ء کے انتخابات سے قبل اسے سیاسی پارٹی کے لیے ماحول بہتر ہو جائے ان سب کو ہر مہینے الگ الگ ایشوز پر مواد ملے گا جسے انہیں اپنے الفاظ اور انداز میں لکھ کر اپنے فیس بک ،ٹویٹر اور انسٹا گرام پر پوسٹ کرنا ہو گا۔

حیران کن انکشاف یہ ہے کہ ان اعلیٰ فلمی شخصیات نے پیسوں کی خاطر تمام شرائط مان لیں ۔
ان فنکاروں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس ،عام آدمی پارٹی ،خواہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہوا نہیں اس سے کوئی غرض نہیں وہ سب بھاری معاوضے کے عوض سیاسی پارٹیوں کی تشہیر کرنے کے لیے تیار ہیں ۔کسی نے ایک ماہ میں ایک میسج کے لئے دو لاکھ تو کسی نے ڈھائی کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔

اور ان کا اصرار تھا کہ کنٹر یکٹ کی رقم انہیں کیش میں ملے۔بھارتی اداکار جیکی شروف کے اسٹنٹ نے کہا کہ 80فیصد نقد دیا جائے اور کم ازکم 20فیصد GSTاکاؤنٹ میں ظاہر کرنا پڑے گا۔
وویک ابرائے نے 180لاکھ روپے میں ڈیل کی ۔فیس کی بات کرنے پر سونو سود نے کہا کہ اس کے بارے میں منیجر بتائے گا اور منیجر کے ساتھ بات چیت میں فی گھنٹہ 80لاکھ روپے جس سے 12ملین روپیہ ہی ایگریمنٹ دکھایا جائے گا اور باقی168لاکھ روپے کیش میں ہر ماہ دیا جائے گا ۔

کو براپوسٹ کے رپورٹر نے جب سنی لیون سے رابطہ کیا تو ان کے ساتھ یہ معاملہ دو مہینوں میں 75لاکھ روپے کے عوض طے پایا۔
پاکستان مخالف بیانات دینے میں مشہور بھارتی سنگر ابھی جیت نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے مودی کی جھوٹی تعریف کی تشہیر کے لئے نت نئے آئیڈیاز بھی پیش کیں ۔
کو براپوسٹ کے مطابق زیادہ تر معروف فلمی شخصیات نے ایسا کرنے کی حامی بھری اور ان کی دلچسپی صرف پیسہ کمانے میں زیادہ نظر آئی۔

کو براپوسٹ نے دعویٰ کیا کہ اس کے نمائندوں نے اداکاروں سے ملاقات کو آرڈینیٹر س کے ذریعے کی ۔ویب سائٹ نے ان کو آرڈ ینیٹر وں کے ناموں کا بھی انکشاف کیا ہے اور ساتھ ہی ان اداکاروں کے کہے گئے الفاظ کو بھی واضح طور پر دکھایا ۔
مثال کے طور پر بھارتی اداکار ماہیما چودھری کا کہنا تھا کہ ”بی جے پی تو کچھ بھی کر سکتی ہے وہ تو ایک مہینے کا ایک کروڑ دیں گے۔

“کوریو گرافر نے کہا ”میں تو جو بھی میسج ڈالوں وہ ڈانس اسٹائل میں ہو گا تو اس کے کروڑوں لگیں گے ۔کو براپوسٹ کا کہنا کے اپنے اسٹنگ کے دوران ایسے بھی اداکار تھے جنہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔
حقوقی انسانی کی تنظیموں نے بالی وڈ اداکاروں کی نریندر مودی سے ملاقات پر لی گئی سلیفی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کے مطابق اس وقت ہندوستان کے تمام طبقوں کے مسائل کا حل ضروری ہے لیکن نریندر مودی فلمی صنعت کے لئے تشویش مند دکھائی دے رہے ہیں ۔

ایک بھارتی اداکار نے کہا دکہ اپنی برادری کے لوگوں کو اس طرح وزیر اعظم کی سوچی سمجھی پبلسٹی مہم کا حصہ بنتے ہوئے دیکھ کر افسوس ہوا۔
میں دعا کروں گی کہ سچ سامنے آئے اور بند دروازے کے پیچھے جو تقسیم کرو اور راج کرو،کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے وہ لوگوں کی سمجھ میں آئے ۔میں بھارت کے ہر آئینی شہرے کے حقوق کے لیے فکر مند ہوں ۔
میں گجرات فسادات کے وقت وہاں موجود تھی اور اس حقیقت کو میں کبھی نہیں بھولوں گی۔

مزید بالی ووڈ کے مضامین :

Your Thoughts and Comments